حضرت ابنِ عمرؓ اور قرآن کا کثیر حصہ ضائع ہوجانے کا جھوٹ

13178018_1764665327103425_7768105142173762985_n

اسلام اور اسکے ماخذ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا ملحدین اور عیسائی مشنریز کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے ۔ان کی غلطیوں اور غلط بیانیوں کا سالوں سے ہر فورم سے جواب دیا جا رہا ہے لیکن پھر بھی وہ اسی ٹیکنیک اور تراکیب کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں ؟ انکے تعلیمی اسناد وغیرہ تو کسی شک و شبہ کے بغیر قبول کیے جاسکتے ہیں مگر انکی ذہنیت اور مقصد کا اندازہ ان کے پھیلائے جانے والے جھوٹ اور دھوکے سے باآسانی کیا جا سکتا ہے۔انکی علمی اہلیت نا قابلِ اعتبار ہے ، جہاں بھی جاتے ہیں ان کے جھوٹ اور دھوکہ دہی کی شہرت ان کا ہمیشہ پیچھا کرتی ہے ۔ ماضی کے مستشر قین سے متاثر ہوکر کچھ مخلص (مگر جاہل) اور دوسرے تباہ کن ایجنڈے کے مبلغوں میں اس بات کی شدید کمی پائی جاتی ہے کہ وہ اسلام کو اخلاص کے ساتھ غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھیں۔۔ اسلام کے متعلق اپنی نفرت کی پیاس بجھانے کی خاطر انہوں نے قرآن مجید پر بہت غیر سنجیدہ اوربے وقو فانہ حملے کیے ہیں۔ اس کام کی خاطر انہوں نے کسی بھی قسم کا مبہم بیان یا معلومات دینے سے گریز نہیں کیا جس سے قرآن کی حقانیت اور قابلِ اعتماد ہونے میں شکوک و شبہات پیدا ہوسکیں ۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ کہ ان کی زیادہ تر تحقیقات تراجم اور وضاحتوں سے ماخوذ ہوتی ہیں۔ )۔ اس حقیقت کا سامنا نہ کر سکنے کہ موجودہ بائبل انسانی بہتان ہیں جنکو خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے’ انہوں نے اپنی اس شرمندگی اور ہزیمت کو چھپانے کی خاطر قرآن کریم کا رُخ کر لیا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق قرآن مجید کو ہر شک و تبدیلی سے محفوظ رکھا ہوا ہے: ” ہم نے اس قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنیوالے ہیں۔” (قرآن 15:9 )
حضرت ابنِ عمرؓ کی مذکورہ روایت جو کہ علامہ سیوطی نے اپنی کتاب الاتقان فی العلوم القران میں بیان کی ہے ، نے بہت سے مستشرقین ، مبلغوں اور دیوانوں کو جوش دلایا ہے۔ جیسا کہ سام شمعون ترجمہ کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

ابنِ عمر اور مسئلہ ضیاعِ قرآن
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ایک روایت جو حافظ السیوطی (المتوفی 911ھ) نے اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں نقل کی ہے ‘ کو دیکھ کر مستشرقین اور مشنریوں اور دوسرے متعصبین کافی جذباتی ہوئے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اس نے پورا قرآن پا لیا۔ اس نے کیسے جان لیا کہ سارا یہی تھا ذیادہ تر قرآن تو جا چکا ۔ اسے اسکے بجائے یہ کہنا چاہیے کہ میں نے وہ پایا جو محفوظ تھا ۔” (جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی، الاتقان فی علوم القرآن ، حلبی، قاہرہ 1935/1354ھ، جلد 2، ص 25)

روایت کے صحیح معنی:۔
قرآنی علوم کا طالب علم یہ بات جانتا ہے کہ کئی آیات ایسی تھیں جو کہ پہلے قرآن کا حصہ تھیں اوربعد میں انہیں منسوخ کردیا گیا تھا۔ آیات کے نسخ کی حکمت و آئیڈیا پر ہم پہلے مفصل بات کر چکے ہیں۔علامہ سیوطی نے ؒ اس مذکورہ روایت کو اپنی کتاب الاتقان میں ” باب سنتالیویں -قرآن کا ناسخ اور منسوخ آیات کے بارے میں ” کے تحت ذکر کیا ہے۔[ الاتقان فی العلوم القرآن، المصریہ العامہ للکتاب، مصر 1974، جلد 3، ص 66، 82-83]
اسی طرح یہ روایت نسخ کے بات میں علامہ سیوطی کی ایک اور کتاب میں بھی آئی ہے۔[ مطارقۃ الارکان فی اعجاز القرآن، دارالکتب العلیہ، بیروت، 1988 ج 1، ص 95]
ابو عبید (المتوفی 228 ھ) کی تحقیق ‘ جہاں سے علامہ سیوطی نے اسے لیا ہے یہ اس باب کی پہلی روایت ہے جس کا عنوان ہے “قرآن کے نزول کے بعد جو آیات منسوخ ہوئیں اور مصاحف میں نہ لکھی گئیں کا بیان” ۔[ فضائل القرآن، دار ابن کثیر، دمشق، 1995 ج1، ص 320]
اس بارے میں حافظ ا بن حجر عسقلانی (المتوفی 852ھ) کی پیش کی گئی ایک روایت بہت اہم ہے جو ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مطلب کی اچھی وضاحت کرتی ہے۔ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں:
وقد أخرج بن الضريس من حديث بن عمر أنه كان يكره أن يقول الرجل قرأت القرآن كله ويقول إن منه قرآنا قد رفع
ابن الضریس سے روایت ہے کہ ابنِ عمر اس شخص کو نا پسند کیا کرتے تھے جو یہ کہے کہ، ‘میں نے مکمل قرآن کی تلاوت کی’۔ وہ (ابن عمر) کہا کرتے تھے کہ (حقیقت یہ ہےکہ) قرآن میں سے کچھ حصہ منسوخ ہو چکا ہے’۔ [فتح الباری، دارالمعارفہ، بیروت 1379ھ، ج 9، ص 65]
یہ بیان اس حقیقت پر مہر ثبت کرتا ہے کہ موضوع بحث روایت میں ابن عمر کا اشارہ ان آیات کے متعلق تھا جو منسوخ ہوچکی ہیں ۔
ابو بکر بن طیب الباقلانی (المتوفی 403ھ) اپنی مایہ ناز تالیف الانتصار القرآن (قرآن کے دفاع میں) اسی طرح کی ایک اور روایت نقل کرتے ہیں اور بعد میں دونوں کی مجموعی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
ونحوُ روايةِ عبدُ الله بنُ عباسِ عن أبي أنه سمعه وقد قال له رجل: “يا أبا المنذر إني قد جمعت القرآن، فقال له: ما يدريكَ لعله قد سقطَ قرآن كثير فما وُجد بعد”.
اور اسی طرح کی ایک روایت عبد اللہ بن عباس کی ہے جو ابی(بن کعب) سے روایت کی ہے، کہ انہوں نے ایک شخص کو سنا جو ان سے کہہ رہا تھا ، “اے ابومنذر! بے شک میں نے تمام قرآن جمع (حفظ) کر لیا ہے۔ اس (ابی) نے اس کو کہا کہ تمہیں نہیں معلوم (کہ مکمل قرآن کیا تھا) ۔ کیونکہ قرآن کے بہت سا حصہ منسوخ ہوگیا تھا اور یہ بعد میں نہ ملا ۔ [الانتصار القرآن، دارالفتح/دار ابن حزم، عمان/بیروت 2001، ص 406]
اس کے بعد اسی کی تفصیل میں لکھتے ہیں:
“اور یہ کسی کیلئے ممکن نہیں کہ وہ دعوی کرے کہ اس نے (سب) یاد کر لیاجو کہ قرآن کے طور پر نازل ہوا _ناسخ اور منسوخ حصہ ۔ اور اس کے الفاظ’ یہ بعد میں نہ ملا ‘ ہم نے اپنے زمانے کوئی ایک شخص ایسا نہیں دیکھا جس نے وہ تمام حفظ کیا جو کہ منسوخ ہو چکا تھا اور جس کی تلاوت ترک کر دی گئی تھی۔ اور یہ سب کچھ تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو کر رہنا تھا۔[ الانتصار، ص 408]

نبی کریمﷺ کے چھوڑے ہوئے (قرآن) میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوا۔
عبدالعزیز بن الرفاعی سے روایت ہے کہ، ” میں اور شداد بن معقل ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے ۔ شداد بن معقل نے ان سے پوچھا” کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس قرآن کے سوا بھی(قرآن کا ) کچھ چھوڑا تھا ۔ انہوں نے جواب دیا ” حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے سوا کچھ نہیں چھوڑا جو (قرآن کے ) ان دو گتوں کے درمیان میں محفوظ ہے ۔پھر ہم محمد بن حنیفہ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے اور ان سے بھی یہی پوچھا ۔ انہوں نے جواب دیا ” کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی وحی متلو چھوڑی وہ سب دو گتوں کے درمیان ( قرآن مجید کی شکل میں ) محفوظ ہے ۔”[ صحیح بخاری، کتاب 61، حدیث 537]
یہ حدیث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہوا کیوں کہ رسول اکرمﷺ نے جو کچھ بھی اپنی امت کیلئے چھوڑا تھا وہی گتوں کے درمیان محفوظ کیا گیا تھا۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں:
”یہ باب ان( لوگوں ) کے رد میں باندھا گیا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ قرآن کا بیشتر حصہ اُن کی موت کے ساتھ ضائع ہوگیا تھا جو اسے (قرآن کو) جانتے تھے”۔[ فتح الباری، ج 9، ص 65]
العینی (المتوفی855ھ) نے بھی بالکل یہی نقطہ پیش کیا ہے۔[ عمدہ القاری، داراحیا التراث العربی، بیروت، ج 20، ص 36]
شہاب الدین آلوسی ؒ(المتوفی 1270ھ) کا تبصرہ اس سارے مسئلے کو سمجھنے میں بہت مددگار ہے، لکھتے ہیں۔
“بیشک ان(اہلِ سنت) کا اس بات پر اجماع ہے کہ قرآن میں کسی قسم کا ضیاع نہیں ہوا کیونکہ یہ (قرآن ) اسی طرح متواتر منقول ہوا ہے جس طرح ہم آج اسے دو گتوں کے درمیان پاتے ہیں ۔ ہاں (ابوبکر) صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جو حصہ تواتر سے ثابت نہیں تھا اور منسوخ ہو چکا تھا، اسکو (اصل مصحف) سے خارج کر دیا گیا تھا۔۔۔ اور اسی سے متعلق ابنِ عمر کی روایت ہے جو کہ ابو عبید نے نقل کی ہے کہ، “حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا: ” حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اس نے پورا قرآن پا لیا۔ اس نے کیسے جان لیا کہ سارا یہی تھا ذیادہ تر قرآن تو جا چکا ۔ اسے اسکے بجائے یہ کہنا چاہیے کہ میں نے وہ پایا جو محفوظ تھا ۔” “[ تفسیر روح المعانی، دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415ھ، ج1، ص 26]
صحیح بخاری کی درج بالا حدیث مبارکہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ ایک ابن عباس کی ہے جو بتاتی ہے “نبی کریم ﷺ نے کچھ نہیں چھوڑا سوائے (اس کے کہ) جو دو جلدوں میں ہے” اور الباقلانی کی پیش کردہ روایت میں ہم انہیں اپنے استاد ابی بن کعب کا موقف سنتے اور بیان کرتے دیکھتے ہیں جو کہ وہی جو ابن عمر کا بھی موقف ہے ۔ تمام نقاط کو آپس میں ملانے سے یہ بآسانی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ابی کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ جو قرآن نبی کریم ﷺ نے امت کیلئے چھوڑا تھا، اس کے کچھ حصے کھو گئےہیں، اور کوئی بھی شخص جو یہ دعویٰ کرے کہ میں نے مکمل قرآن حفظ کر لیا ہے، اسے حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ابن عباس مکمل طور پر اس بات سے آشنا تھے کہ ابی کا اشارہ اس کے علاوہ تھا جو کہ رسولﷺ نے امت کی ابدی رہنمائی کیلئے چھوڑا تھا (یعنی یہ منسوخ شدہ حصہ تھا)۔ اور ہم پہلے دیکھ چکے ہیں ابن حجر کی نقل کردہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت جسے وہ ابن ضریس کی اتھارٹی سے بیان کرتے ہیں واضح طور پر یہی بات بیان کرتی ہے ۔
صحیح بخاری کی روایت کے متعلق ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دو حضرات جنہوں نے قرآنی تحفظ کی گواہی دی ابنِ عباس جو کہ علی ابن ابی طالب کے چچا زاد اور محمد بن حنفیہ جو کہ علی بن ابی طالب کے صاحبزادے ہیں (رضی اللہ تعالیٰ عنہما)۔ ان کی گواہی ان غالی شیعہ حضرات کی شیخی کم کرنےکیلئے کافی ہے جو کہ قرآن مجید پر قیاس آرائیوں پر مبنی الزامات لگاتے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تائید میں اتری آیات تبدیل کردی گئی تھیں ۔ کیا اس صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دو قریبی رشتہ دار اس کا ذکر کرنے میں ناکام نہیں ہو گئے۔

دو اعتراضات کا جواب۔
اس روایت کو بیان کرتے ہوئے اب ہم دو ممکنہ سوالات کی طرف آتے ہیں۔
1. ابن عمر نے منسوخ شدہ آیات کا بطور قرآن حوالہ کیوں دیا؟ (منسوخ آیات کو قرآن کیوں کہا؟)
اس بات کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ہم ایک مرتبہ پھر ابن ضریس کی روایت کو دیکھتے ہیں
ابن ضریس سے روایت ہے کہ ابنِ عمر اس شخص کو نا پسند کیا کرتے تھے جو یہ کہے کہ، ‘میں نے مکمل قرآن کی تلاوت کی’۔ وہ (ابن عمر) کہا کرتے تھے کہ،'(حقیقت یہ ہےکہ) قرآن کا ایک حصہ(چند آیات) منسوخ ہو چکا ہے’۔
زیر بحث روایت پر ہماری وضاحت کی طرح یہ روایت واضح کرتی ہے کہ ابن عمر نے منسوخ شدہ آیات کی طرف اشارہ کیا تھا ۔ اس روایت کے آخری الفاظ سے اس سوال کی ساری اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور یہ محض ایک عبارت رہ جاتی ہے جس کی بنا پر پیش کردہ تشریح کی صحت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر سعد بن عبداللہ الحمید اپنی تحقیق سنن سعید بن منصور میں اس روایت کے حوالے سے لکھتے ہیں:
“ابن عمر کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی رائے میں منسوخ شدہ آیات کو منسوخ ہونے کے بعد بھی قرآن کہا جاسکتا ہے یا (ایسا کہا جا سکتا ہے کہ) جیسے وہ پہلے کبھی تھیں “۔[ سنن سعید بن منصور، دارالصمیعی، بیروت، 1993، ج 2، ص 433]
اس کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن کلام الہٰی کے علاوہ کچھ نہیں، منسوخ شدہ آیات کو اگرچہ یاد کرنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں لیکن انکی وحی کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم ، اس معاملے میں ابن عمر اور بعد کی (ہماری) نسل میں ایک نہایت اہم فرق ہے۔ چونکہ ہم تک ان آیات کی کوئی متواتر سند نہیں پہنچی ، ہم ان کی طرح سے ان منسوخ الفاظ جو کبھی قرآن کا حصہ تھے، کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے(کہ یہ قرآن ہیں)۔ ہم ثبوت کی عدم دستیابی کی بنیاد پر تعلیمی مقاصد میں اسے انہی کی طرف سے بیان کرتے ہیں۔ لیکن ابن عمر کیلئے صورت حال یہ نہ تھی کیونکہ انہوں نے خود رسول اکرمﷺ سے آیات سنی تھیں جنکے متعلق بعد میں بتایا گیا کہ وہ (آیات ) منسوخ ہو چکی ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے دور میں ان الفاظ کو جو قرآن کی حیثیت سے نازل ہوئے تھے لیکن بعد میں منسوخ ہوگئے تھے ‘ بہت اہمیت دیتے تھے ۔
مزید یہ ایسے معاملات میں نہایت احتیاط کی جانب اشارہ کرتی ہے جن میں ذاتی نیکی عجب میں مبتلا کرسکتی ہے۔ مندرجہ ذیل حدیث سے یہ بات اور واضح ہو سکتی ہے؛
ابو بکرہ سے روایت ہے: رسول اکرمﷺنے فرمایا:” تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے پورے رمضان کے روزے رکھے ، اور پورے رمضان کا قیام کیا “مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعریف کو پسند نہیں کرتے تھے یا وہ (راوی)کہتے ہیں کہ اس وجہ سے تھی کہ وہ لازمی طور پر کچھ نہ کچھ سویا ضرور ہو گا ( اس طرح یہ غلط بیانی ہو جائے گی )۔[ سنن ابو داؤد، کتاب 23، حدیث 2409]
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی امر ہے کہ جس(شخص ) نے تمام رمضان کے روزے رکھتا ہے، وہ رات کو افطار بھی کرتا ہے اور قیام اللیل کے ساتھ وہ (رات کے) پچھلے پہر کو سوتا بھی ہے، لیکن پھر بھی معمول سے ہٹ کر تربیت کیلئے اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ کوئی ایسا دعوئ کرے ۔ ابن عمر کی روایت کی بھی حقیقت میں اسی حدیث سے مماثلت رکھتی ہے اوراس سے ہمیں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں اصل پیغام کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

2. کیا قرآن کا “زیادہ” حصہ منسوخ ہواتھا؟
ہم جانتے ہیں کہ اصل متن میں لفظ”قرآن کثیر” استعمال ہوا ہے اسی لیے کوئی شخص اس کا ترجمہ “قرآن کا بہت سا حصہ ” کر سکتا ہے(بہت زیادہ پر زور دیتے ہوئے)۔ ایک مشنری سام شمعون (Sam Shamoun) نے بھی ایسا ہی کیا ہے اور سوال کیا ہے کہ “یہ کیسی وحی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ (نہ کہ کم ) ایسی آیات پر مشتمل ہے جو کہ منسوخ ہو چکی ہیں”؟ بظاہر یہ ایک بہت مضبوط نقطہ لگتا ہے لیکن حقیقت میں زبان کے بارے میں کم فہمی پر دلالت کرتا ہے ۔
عربی میں لفظ”کثیر” تقابلی معاملے میں ذیادہ کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔ تقابلی معانی میں لفظ “کثیر ” اس چیز سے کم کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے، جس سے اس کا موازنہ کیا جارہا ہو جیسا کہ نیچے دکھایا جارہا ہے۔ یہی معاملہ ناسخ و منسوخ کے حوالے سے ہے، جو کہ ہمارے زیرِ بحث ہے۔ قرآن کا منسوخ شدہ حصہ یقینی طور پر بقیہ بچنے والے حصے سے کم ہے۔
اس بات کا ایک سادہ سا ثبوت وہ روایت ہے جس میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے رسول اکرمﷺ سے پوچھا کہ مجھے اپنی جائیداد میں سے کتنے حصے صدقہ کرنا چاہیے جب مجھے اندیشہ ہو کہ میں مرنے والا ہوں۔ حضرت سعد ، رسول اکرمﷺ کے ساتھ اس مکالمہ کو روایت کرتے ہیں۔
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ؟ قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: فَالشَّطْرُ، قَالَ: «لاَ» ، قُلْتُ: الثُّلُثُ، قَالَ: فَالثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ
“میں نے کہا ؛ ‘کیا میں اپنی دو تہائی جائیداد صدقہ کر دوں’؟ انہوں (رسولﷺ) نے کہا، ‘نہیں’۔ میں نے کہا، ‘آدھی’؟ انہوں (رسولﷺ) نے کہا، ‘نہیں’۔ اور پھر (رسول اکرمﷺ نے) فرمایا، ‘ایک تہائی، اور ایک تہائی بہت ہے’ (و الثلث کثیر)۔[ صحیح بخاری، کتاب 23، حدیث 383]
صحیح مسلم کے مترجم یہی بات اس طرح لکھتے ہیں:
“آپ (رسول اکرمﷺ) نے کہا کہ: (ہاں) ایک تہائی، اور ایک تہائی کافی ہے۔ (والثلث کثیر)”۔ [صحیح مسلم، کتاب 25، حدیث 3997]
بلاشبہ ایک تہائی باقی کی نسبت ذیادہ نہیں ہے اور کوئی بھی صاحب عقل ایسا دعوی نہیں کرسکتا ۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فقط یہ حقیقت آشکار کرنے کی کوشش کی ہے کہ قرآن کی آیات منسوخ ہوچکی تھیں اور کوئی شخص یہ دعویٰ نہ کرے کہ اس نے تمام قرآن حفظ کر لیا ہے (بشمول منسوخ آیات کے)۔ جو قرآن (نسخہ کی صورت میں ) آج ہمارے درمیان موجود ہے ، قرآن جو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عطا کیا، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا جمع کردہ، وہی ہے جو اللہ نے انسانیت کی اصلاح کیلئے نازل اور اسکا حکم دیا اور یہ بروز قیامت تک بغیر کسی کمی، بیشی اور تبدیلی کے موجود رہے گا۔

خلاصہ و حاصل کلام:
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں صرف قرآن کے منسوخ شدہ حصہ کی طرف اشارہ کیا ۔ابن عمر کی دوسری روایت، جسے حافظ ابن حجر نے ابن ضریس کی سند پر نقل کیا ہے’ واضح طور پر یہی مطلب بتائی ہے ۔
ابو عبید اور امام سیوطی، دونوں نے اس روایت کو ناسخ و منسوخ والے باب میں رکھا ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے بھی اس بات کو اسی طرح سمجھا ۔ البقلانی اور آلوسی کا تبصرہ بھی اسی بات کے حق میں ہے۔
تقابلی معاملے میں عربی میں لفظ”کثیر” زیادہ کیلئے استعمال نہیں ہوتا۔
استفادہ تحریر: http://www.letmeturnthetables.com/2012/10/ibn-umar-irreparable-much-quran-loss.html

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *