‘کیوں’ اورلادینیت کی بے بسی

.

اللہ کو ماننا ایک ڈسپلن کو قبول کرنا ہوتا ہے۔

اگر کوئی نہ ماننا چاہے تو نہ مانے۔۔۔ مگر،

جو خدا کو نہیں مانتا وہ یہ بتادے کہ:

کائنات کیوں بنی؟

زندگی کا ظہور  کیوں ہوا؟

زندگی لاکھوں کروڑوں شکلیں بدل کر انسان کے روپ میں کیوں عیاں ہوئی؟

ارتقاء کے عمل میں ابتدائی  اور پچھلے آثار ِزندگی کیوں معدوم نہیں ہوئے اور آبی حیات آج بھی کیوں زندہ ہے۔

حشرات الارض معدوم کیوں نہیں ہوئے؟

شعور  کیا اورکیوں ہے؟

اچھائی اور برائی ہیں ہی کیوں؟

زندگی باہر کے ماحول کی محتاج کیوں ہے، خود روزندگی آزاد کیوں نہیں؟ کیوں ہر نفس سانس لیتا ہے؟

کیوں درخت زندہ رہنے کے لیئے آکسیجن نہیں لیتے؟

کیوں رات اور دن ایک نظام کے تحت آتے اور جاتے ہیں؟

کیوں سب انسان  تمام رنگ ایک سا دیکھتے ہیں؟

کیوں ہر پھل اور سبزی اپنا بیج لیکر پیدا ہوتے ہیں؟

کیوں سب انسانوں کا خون سرخ ہوتا ہے؟

کیوں خون کے گروپ ہوتے ہیں؟

کیوں ہر انسان کا دل ایک ہی طرح دھڑکتا ہے؟

کیوں ہر انسان کا دماغ بھی ایک جیسا ہوتا ہے؟ مگر کیوں انسان مختلف طرح سوچتے ہیں؟

کیوں ہر انسان جین میں وراثت لیکر پیدا ہوتا ہے؟

جذبات کیوں ہوتے ہیں؟

کیوں حیوان اور انسان کی مادہ  میں ممتا کا جذبہ موجزن ہوتا ہے؟

انسان اور ہر جاندار کے جوڑے کیوں ہوتے ہیں اور ان میں آپس میں کشش کیوں ہوتی ہے؟

۔۔۔۔۔۔

یہ ہزاروں سوالات میں سے چند ہیں، جن کے جوابات کے لیئے ایک منکر خدا مجبور ہے کہ سائنس کا سہارا لے۔

کیونکہ سائنس ہی ہمارے اطراف موجود  عظیم تر سائنس کی تشریح کرتی ہے،

لیکن سب جان لیں کہ سائنس صرف ‘کیا’  یعنی واٹ  اور ‘کیسے’  یعنی ہاؤ  کا جواب دے سکتی ہے مگر کیوں کاحتمی جواب  نہیں۔۔۔۔

اسکی وجہ یہ ہے کہ ہر کیوں کے  جواب  کے اندر مزید کیوں بھی چھپے ہوتے ہیں۔

گویا سائنس کے پاس  ‘کیوں’ کے جوابات نہیں ہوتے بلکہ   کیا اور ‘کیسے’ کے ہوتے ہیں۔!

لیکن متجسّس ذہن صرف  کیا اور کیسے کا ہی نہیں بلکہ کیوں  کے جواب کا بھی متلاشی  ہوتا ہے،

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم سائنس  پر انحصار کرکے  ہر ‘کیوں’ سے کنارہ کش ہوجائیں؟

تو ادھورے جوابات ،مغالطوں، وسوسوں اور شک کی بنیاد پر  اندھی زندگی گزارنی ہے تو سائنس کو رہبر بنائیں ورنہ اپنی عقل استعمال کریں۔

کیا ہم ا پنی ز ندگیوں سے ‘کیوں’  کو خارج کرسکتے ہیں؟ نہیں!

 پھرآخر کیوں کا جواب کس کے پاس ہے؟

اسلام ایمان بالغیب کی تعلیم دیتا ہی اسی لیئے ہے کہ انسان کو ہر طرح سے مطمئین کیا جائے۔

  انسان کے اطراف موجود سپر سائنس   ایک خالق کی تخلیق ہے اور ہر’ کیوں’  کا جواب اس سپر سائنس کے  خالق کے پاس ہے۔۔۔۔

 وہ  خالق ۔۔۔ جو حواس سے تو اوجھل مگر شعور میں جگمگاتا  ہے۔

جو اللہ ہے۔۔۔۔۔

 اور لادینیت کے پرچارک دوستوں!

اور اگر خدا نہیں ہے تو پھر  خالق کا متبادل بتلادیں! بے شک آپ  سائنس کا سہارا بھی لے لیں۔۔

اور اگر آپ نہ بتا سکیں تو یہ خیال رہے کہ کہ اس میں بیچ کی کوئی راہ ہے نہیں۔  یا تو  خالق کو قبول کرو یا دلیل سے مسترد کرو۔

 اور یہ بھی واضح رہے کہ۔۔اللہ کو خالق قبول کرنا۔۔    پورا پیکج  لینا ہوتا ہے، ادھورا نہیں۔

  لو تو پورا ۔۔۔پیکج ۔۔ورنہ ادھورے میں نقصان ہی نقصان۔۔۔۔

سیکولر ازم، لبرل ازم،  سوشلزم اورروشن خیالی وغیرہ ۔۔ یہ سب ادھورے پیکج ہیں جن کی نظریاتی بنیادیں ہیں ہی نہیں۔

اگر تخلیق کے حوالے سے  سائنس ، لبرلز اور سیکولرز کے پاس پختہ  نظریات ہیں تو سامنے لائیے ۔

ورنہ سادہ لوح مسلمانوں  اور کم علم نوجوانوں کو ورغلائیں نہیں۔

روشن خیالی کے نام پر دین کو مسخ نہ کریں اور نہ اپنی خواہشات کا غلام بنائیں۔

اللہ کے دین میں پورا کا پورا داخل ہو نے کی کوشش کریں۔۔۔

اگر نہ کرسکیں تو  اپنی اس کمزوری کا  انتقام اسلام سے نہ لیں۔ اسکا حلیہ نہ بدلیں اپنے آپ کو بدلیں۔

اپنی خواہشات کو خدا کے دین کا نام نہیں دیں۔ قرآن کے احکامات کہ متنازعہ نہ بنائیں۔

کچھ کہنے اور لکھنے سے پہلے سوچیں کہ اللہ کیا چاہتا ہے، اسکی خواہش جاننے کا ذریعہ یا واسطے کیا ہیں۔

ان   واسطوں کو تلاش کیجئے۔

بے دین ہونے سے بچیں کیونکہ جو نظریہ اللہ کو نظر انداز کرے وہی لادینیت کاٹھکانہ ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *