غیرت کی عمرانیاتی تشریح، اسلام اور سیکولرزم – ذیشان وڑائچ

4

کبھی کبھی غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سننے میں آتے ہیں تو میڈیا میں غیرت کی حقیقت اور سماج پر اس کے اثرات کو نظر انداز کر کے عجیب و غریب قسم کی بحثیں شروع ہوجاتی ہیں. ان بحثوں میں سیکولر نظریے کے تحت ان واقعات کا تحلیل و تجزیہ کیا جاتا ہے اور اس معاملے میں اسلام کو ایک فریق بنا کر کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے. اسی وجہ سے ضرورت محسوس ہوئی کہ غیرت کی عمرانیاتی تشریح پر کچھ تحریر کیا جائے۔

اگر ہم معاشرتی رویے پر نظر ڈالیں تو مرد میں اپنی قریبی رشتہ دار عورتوں کے معاملے میں کچھ باتوں پر شدید طیش اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جسے عرف عام میں غیرت کہا جاتا ہے، اور کچھ معاملوں میں مرد اتنا طیش میں آتا ہے یا اتنی شرمندگی محسوس کرتا ہے کہ معاملہ قتل تک پہنچ جاتا ہے. جو لوگ مشرقی معاشروں کو نہیں سمجھتے، ان کے لیے “غیرت” نام کی کسی چیز کو سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے. جو لوگ مشرقی معاشروں کو سمجھتے ہیں لیکن ہر چیز کو مغرب کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اس کیفیت پر عجیب و غریب اور غیر منصفانہ تنقید کرتے ہیں۔

مشرقی معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ خاندانی نظام پر کھڑا ہے. مشرق میں جس قسم کا خاندان پایا جاتا ہے، اس میں مرد چھوٹوں اور عورتوں کی پوری ذمہ داری لیتا ہے جس میں ان کی کھانے پینے، رہائش، کپڑے، گھر بسانے اور دوسرے بہت سارے لوازمات کی ذمہ داری شامل ہے۔ عورتوں کے بارے میں اس قسم کی ذمہ داری لینے کے لیے مرد کے اندر ایک شدید قسم کا احساس بھی پایا جاتا ہے جسے آپ قابضیت (Possessiveness) یا محافظت (protectiveness) کہہ سکتے ہیں. یہ احساس ایک طرف شدید قسم کی اپنائیت اور ذمہ داری لیے ہوئے ہوتا ہے تو دوسری طرف حاکمیت کے بھی شدید احساس کے ساتھ ہوتا ہے. یہ حاکمیت کا احساس اپنائیت اور ذمہ داری کے احساس کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر آپ حاکمیت کے اس احساس کو نکالنا چاہیں گے تو اپنائیت اور ذمہ داری کے احساس میں بھی اسی نسبت سے کمی ہونی شروع ہوجائے گی

اس اعتبار سے ہمارے نزدیک لفط “غیرت” کا اگر کوئی قریب ترین انگریزی ترجمہ ہوگا تو وہ Possessiveness ہی ہوسکتا ہے۔ یہ غیرت کچھ لوازمات کا تقاضا کرتی ہے جس کے ٹوٹنے کی صورت میں مرد اپنی بے عزتی محسوس کرتا ہے، اس لیے لفظ غیرت اور عزت (Honor) ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں. اس بنا پر غیرت کے نام پر ہونے والے قتل کو انگریزی میں آنر کلنگ کہتے ہیں۔

اس غیرت نامی شے کے ممکنہ لوازمات کچھ یوں ہوتے ہیں۔

ایک مرد یہ سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی کا حسن جس میں اس کی جسمانی خوبصورتی، ادائیں، انداز دلربائی، اپنائیت، آواز کا لوچ، زیب و زینت سے استفادے کا حق صرف اسے حاصل ہے اور کوئی اور مرد جنسی طرز پر اس کے حسن اور لوازمات حسن سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ مغرب میں اس قسم کی غیرت کی بہت ہی ہلکی قسم پائی جاتی ہے جس میں مرد عورت سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ کسی سے جنسی تعلقات قائم نہیں کرے گی، یا اس کی بیوی کسی دوسرے مرد سے ایسی واضح حرکت نہیں کرے گی جو جنسی تلذذ یا فحاشی کی نوع میں شامل ہے. یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ بوسہ دینا، گلے لگانا یا خاص مواقع پر لپٹ جانا جنسی عمل نہیں سمجھا جاتا، بلکہ گرم جوشی اور جنسی عمل میں کبھی کبھی باریک سا فرق ہوتا ہے. ایک مغربی مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیوی پر اس معاملے میں سختی نہ کرے۔

ایک مرد کو جب ماں کی گالی دی جاتی ہے یعنی یہ کہا جاتا ہے کہ اس کی ماں کا کسی اور مرد سے جنسی تعلق رہا ہے تو بھی مرد کے اندر شدید قسم کی غیرت کا احساس پیدا ہوتا ہے. یہ گالی دراصل اس کے خاندانی پندار پر بہت بڑا وار ہوتا ہے. اس کی ماں کا خائن ہونا دراصل اس مرد اور اس کے اپنے بھائی بہنوں کی ولدیت پر ہی سوال کھڑا کرتا ہے اور ساتھ ہی اس کے باپ کی بے عزتی کا بھی احساس پیدا کرتا ہے. اور ایک خاندانی نظام میں ماں کی جو اساسی اہمیت ہے اس کی وجہ سے خاندان کی بنیاد پر ہی حملہ تصور ہوتا ہے. اس لیے کسی کی ماں کے کردار پر حملہ انتہائی شدید قسم کا حملہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہر مرد شدید قسم کی غیرت کا اظہار کرتا ہے.
اپنی بہن اور بیٹی کے معاملے میں مرد اپنے آپ کو اس کا ذمہ دار سمجھتا ہے کہ عورت ہونے کے ناتے اس کا گھر بس جائے، اور اس کے گھر بسنے کے معاملے میں جس قسم کی بھی رکاوٹ پیدا ہو، اسے دور کرنے کا باعث بنے. مرد اور عورت کے درمیان فطری طور پر کشش پائی جاتی ہے۔ عورت بھی جب جوانی کے قریب پہنچتی ہے تو اس کے اندر فطری طور پر جنسی جذبہ پیدا ہوتا ہے، ساتھ ہی اس کے اندر کسی کو اپنانے، محبت کرنے اور ایک مرد سے اپنی تحسین یا Admire کرانے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے. لیکن اس کے ساتھ فطری شرم و حیا مشرقی عورت کو ایک خاص حد پار کرنے نہیں دیتی. ایسے میں مرد اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اس کی بہن یا بیٹی کے یہ جذبات ایک خاندانی نظام بنانے میں تو کام آئیں لیکن عورت کے ان جذبات سے فائدہ اٹھا کر کوئی مرد اس کے جسم کا استحصال نہ کرے. عورت کے اندر جنسیت اور محبت کے یہ جذبات کچھ کیمیائی ہارمونز اور نفسیاتی تقاضوں کے تحت پائے جاتے ہیں جو کہ ایک فطری حیاتیاتی عمل ہے. اصل مقصود یہ ہوتا ہے کہ ان جذبات کو امانت سمجھ کر انسان کی حیاتیاتی شخصیت اور سماجی شخصیت میں ہم آہنگی پیدا کی جائے. بالفاظ دیگر لڑکی کے بھائیوں اور باپ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ لڑکی اپنی نادانی اور جذباتی اکساؤوں کے زور پر بغیر کسی عہد و پیمان اور معاشرتی بندھن کے اپنے ان جذبات اور اپنے جسم کو کسی مرد کے حوالے نہ کرے۔

جب ایک عورت بغیر شادی کے اپنی نسوانی شخصیت کو کسی مرد کی تسکین کا ذریعہ بناتی ہے اور خود بھی اس سے تلذذ حاصل کرتی ہے تو اس وقت صرف اس کی حیاتیاتی یا حیوانی شخصیت متحرک ہوتی ہے. ایک بھائی یا باپ کے لیے یہ انتہائی شرمناک ہوتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اس کی بہن یا بیٹی کو بغیر سماجی بندھن اور گھربسانے کے پورے انتظام کے بغیر صرف جسمانی لذت اور ہوس کے لیے استعمال کیا گیا. اس سلسلے میں اگر گھر کی ہی بچی اپنے سرپرستوں کے اعتماد کو دھوکہ دے کر خود اپنے آپ کو اس سطح تک گرادیتی ہے تو اس بچی پر طیش کھانا ایک فطری بات ہے۔

یہی چیز ایک اور سطح پر پائی جاتی ہے. گھر کے مرد اس بارے میں فکر مند ہوتے ہیں کہ ناتجربہ کاری اور عمر کے تقاضے کے تحت کہیں عورت ایسے مرد سے جذباتی وابستگی نہ پیدا کرے جو اخلاقی، معاشرتی یا معاشی اعتبار سے اس کی ازدواجی زندگی کے لیے غیر مناسب ہو. اس لیے کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسی کوئی صورت حال پیدا نہ ہوجائے کہ لڑکی اپنی مرضی سے کسی لڑکے کی محبت میں مبتلا ہو کر اس سے شادی کی ضد کرنے لگے. یہاں پر اگرچہ لڑکی اپنے آپ کو جنسی سطح تک نہیں گراتی ہے لیکن اس کے اندر پیدا ہونے والے جذبات خود اس کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ اس لیے گھر کے مرد اس معاملے میں بھی اپنی انا قائم رکھتے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا جس طرح عورت کے معاملے میں مرد کو غیرت آتی ہے اسی طرح عورتوں کو مردوں کے معاملے میں غیرت کیوں نہیں آنی چاہیے؟ ویسے ہر مشرقی معاشرے کی عورت اور مرد کو اس سوال کی لغویت کا اندازہ ہے لیکن پھر بھی وضاحت کے لیے کچھ عرض کرتے ہیں۔

اول یہ کہ ایک مشرقی اور مسلمان معاشرے میں خاندان کو چلانے اور سنبھالنے کے سلسلے میں عورت اور مرد کا کردار الگ ہوتا ہے. چونکہ غیرت کا معاملہ خاندانی نظام سے متعلق ہے اس لیے اس معاملے میں عورت اور مرد کے احساسات کو ملانا انتہائی لغو ہے. یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی مرد سے بھی عورت میں پائی جانے والی شرم و حیا کا مطالبہ کر ڈالے۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ معاملہ جنسی نفسیات سے بھی متعلق ہے. جنسیت کے معاملے میں مرد اور عورت کی نفسیات میں بڑا فرق ہوتا ہے اور اب تک مغرب میں جتنی بھی ریسرچ ہوئی ہے اس سے اس کی توثیق ہوتی ہے. اگرچہ اس قسم کی چیزوں کے ریسرچ کی ضرورت نہیں ہوتی. مرد اور عورت کی جنسی نفسیات کے درمیان پائے جانے والے فرق پر اچھا خاصا مواد لکھا جاسکتا ہے لیکن یہ مضمون اس موضوع کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

تیسرے یہ کہ کسی قسم کے جنسی تعلق کی صورت میں حاملہ ہونے اور اس کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی نتائج عورت اور اس کے خاندان کو بھگتنے پڑتے ہیں نہ کہ مرد کو۔

ان وجوہات کی بنا پر غیرت کے معاملے میں مرد اور عورت کے کردار کو مماثل گرداننا انتہائی لغو بات ہے.
اوپر بیان کردہ چیزیں ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی غیرت کی ایک عمرانیاتی تشریح ہے.
لیکن ایسی چیزوں میں توازن رکھنا بھی آسان نہیں ہے۔

غیرت کے نام پر بات اس سے بھی آگے نکل جاتی ہے. معاشرتی سطح پر عورت کو اس شر سے بچانے کے لیے جو انتظام ہے اس میں پردہ، مرد اور عورت کے اختلاط کا نہ ہونا جیسے انتظامات ہوتے تھے. لیکن یہ معاملہ پابندیوں سے مکمل طور پر قابو میں کبھی نہیں آیا اور آج کے دور میں اتنا اختلاط ہوتا ہے کہ اسے پابندیوں کے ذریعے قابو کرنا تقریباً ناممکن ہے. دوسری طرف مرد حضرات غیرت مندی کی حکمت کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے ایسے معاملوں کوصرف اپنی انا اور پندار کا مسئلہ بنا دیتے ہیں. کچھ استثنائی صورتیں تو بنیں گی، جب ایسا ہوگا کہ نامحرم لڑکے اور لڑکی کے درمیان اس قسم کا تعلق بن جائے. اب مسئلہ ان استثناءات سے نمٹنے کا ہے. جب مرد ایسی صورت حال کا سامنا کرتا ہے تو اپنی انا اور پندار کے چکر میں جس ردعمل کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ کبھی غیر دانشمندانہ اور کبھی متشددانہ اور غیر اخلاقی ہوتا ہے.اگر معاشرتی، معاشی اور اخلاقی اعتبار سے لڑکا مناسب بھی ہو تو بھی صرف اپنی انا کی خاطر لڑکی کی زندگی برباد کرنے پر تل جاتا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کی منہ زور جوانی کا مقابلہ نہیں کرپاتا اور مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

اس سلسلے کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوجاتی ہے تو اس حادثہ کا سماجی اظہار “عزت لٹ گئی” جیسے الفاظ سے ہوتا ہے. اور پھر اس بچی کے وجود کو خاندان کے لیےکلنک کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور پھر اس لڑکی کا اچھے گھرانے میں رشتہ ہونا مشکل ہوجاتا ہے. گویا کہ وہ صرف ایک جسم تھی اور چونکہ اس کے جسم کو کسی نے اپنی ہوس سے آلودہ کردیا تو اب اس کی کوئی عزت نہیں رہ گئی. حالانکہ اس قسم کی زیادتی میں بچی کی کوئی اخلاقی غلطی نہیں ہوتی. یہ بھی ایک طرح کی بے معنی غیرت ہے

غیرت اسلامی نکتہ نظر سے:

اسلام چونکہ خاندانی معاشرت کی تشکیل کا حامی ہے اور زنا و بے حیائی کے سخت خلاف ہے، اس لیے غیرت کا یہ احساس اسلام سے کسی حد تک ہم آہنگ ہے. جس طرح عورتوں کے اندر پائی جانے والی فطری شرم و حیا کچھ اسلامی مقاصد میں معاون ہے بالکل اسی طرح مردوں میں پائی جانے والی غیرت بھی کچھ اسلامی مقاصد میں معاون ہے، بلکہ دیکھا جائے تو مردوں کی غیرت دراصل نسوانی شرم و حیا کا ہی مردانہ اظہار ہے، لیکن بہرحال اسلام کسی بھی معاملے میں افراط و تفریط کا قائل نہیں ہے، اس لیے بے لگام اور لامحدود قسم کے غیرت کے جذبے کو اسلام کے مطابق نہیں سمجھا جاسکتا. اسلام میں اخلاقیات، قوانین اور حقوق کا ایک پورا نظام موجود ہے، غیرت کا یہ جذبہ ان میں سے کسی بھی چیز کا اسقاط نہیں کرتا.

غیرت کے نام پر قتل اسلامی نکتہ نظر سے ایک قتل ہی ہے اور دنیوی اعتبار سے اس کی سزا قتل کی ہی سزا ہے اور اللہ کے نزدیک اس گناہ کی حیثیت وہی ہے جو کہ ایک قتل مؤمن کی بیان کی گئی ہے. مسلمان معاشرے میں غیرت کے نام پر جو بچی قتل ہوتی ہے وہ مسلمان ہی ہوتی ہے، اس نے کسی کو قتل نہیں کیا ہوتا اور نہ اس کا جرم اس حیثیت کا ہوتا ہے جسے زمین میں فساد تعبیر کیا جائے. اور اگر بالفرض ایسے کسی معاملے میں زنا جیسا قبیح عمل سرزد ہوجائے تو بھی زنا کو باقاعدہ گواہوں کے ذریعے سے ثابت کیا جانا چاہیے اور یہ سب کچھ عدالت میں کیا جانا چاہیے۔ اور اگر زنا بھی ثابت ہوجائے تو چونکہ اس قسم کی حرکت غیر شادی شدہ لڑکے یا لڑکی کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے اس کی سزا بھی سو کوڑے ہے نہ کہ قتل. اسلام کے ساتھ غیرت کے تصور کی ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلام اس بارے میں قتل مؤمن جیسے قبیح ترین گناہ کا روادار ہو ۔

بلا کسی شرعی وجہ کے لڑکی یا لڑکے کی شادی میں تاخیر کرنا اسلام میں پسندیدہ نہیں ہے اور انہیں شادی سے روکنا ایک بہت بڑی زیادتی ہے. معاشرے میں خاندانی تفاخر کی وجہ سے لڑکی کی شادی میں تاخیر کی جاتی ہے یا شادی کی ہی نہیں جاتی. جائیداد دینے کے اسلامی حق کو روکنے کے لیے لڑکی کو عمر بھر کنواری رکھنے کی شکلیں پائی جاتی ہیں. اس کے نتیجہ میں اگر کوئی ایسا واقعہ پیش آئے جس سے مرد کی غیرت طیش میں آئے تو اس قسم کی غیرت کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے. یہ ایسی غیرت ہے جس میں اپنے گھر کی بچی کےساتھ محبت، اپنائیت اور ذمہ داری کا دور دور تک نام و نشان نہیں ہوتا. یہ خالص جاہلانہ قسم کی غیرت ہے.
اسلامی ماحول فراہم کرنے اور مرد و زن کے اختلاط کو روکنے کی پوری کوشش کے باوجود کبھی کبھی یہ ممکن ہوتا ہے کہ منہ زور جوانی اپنا راستہ نکال لیتی ہے اور لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی محبت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ محبت کا ہوجانا ایک حیاتیاتی اور نفسیاتی حقیقت ہے اور اس محبت کا کسی ذہن پر حاوی ہونے میں ان کے ارادے سے زیادہ عمر کی نفسیات اور جسم میں خارج ہونے والے ہارمونز کا کردار ہوتا ہے. باغیرت مردوں کو چاہیے کہ ایسی صورت حال کو صرف اپنی انا اور پندار کے نکتہ نظر سے نہ دیکھیں اور صورت حال کا صحیح تجزیہ کریں. اگر رشتہ مناسب ہو تو پھر صرف اپنی انا کی خاطر اپنی لڑکی کو جذباتی اور ذہنی اذیت دینے کے بجائے متوازن رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس قسم کی صورت حال کی وجہ سے اپنی اولاد یا اپنی بہن کو دشمن سمجھنے کے بجائے خیرخواہی کے جذبے سے فیصلے کرنے چاہییں چاہے اس سے مردانہ پندار کو ٹھیس پہنچے۔

اس بارے میں اسلامی قانون پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اسلام قریبی رشتہ دار کو ولی قرار دیتا ہے اور ولی کو قاتل کے معاف کرنے کا اختیار ہوتا ہے. چونکہ یہ قتل خاندان کے ہی کسی فرد کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے ولی کی معافی کی وجہ سے قاتل صاف بچ جاتا ہے. اس طرح اسلامی قانون کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے. یہ ایک جائز اعتراض ہے، لیکن اسلام میں ہمیں ایسی نظیریں ملتی ہیں کہ اگر کوئی قوانین کو اسلامی سپرٹ کے خلاف استعمال کرے تو حکومت اپنے اختیارات کو استعمال کر کے اس قسم کے غلط استعمال کو روک سکتی ہے. اسی وجہ سے اسلامی نظریاتی کونسل کے مولانا شیرانی نے یہ تجویز دی تھی کہ غیرت کے نام پر قتل کی صورت میں ریاست خود ولی بننے کا اختیار رکھتی ہے.

ایسا حادثہ جس میں کسی عورت کی “آبرو ریزی” ہوتی ہے، اسلامی نکتہ نظر سے اس سے عورت کی عصمت، عفت اور پاکیزگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا. وہ اسی طرح پاکیزہ ہے جس طرح اس زیادتی سے پہلے تھی. جو زنا کرتا ہے وہ قصور وار ہوتا ہے، اگر کوئی عورت کسی مرد کی ہوس و زیادتی کا شکار ہوجائے تو وہ قابل رحم ہے نہ کہ اس سے نفرت کی جائے. لیکن پورے معاشرے کی اور خودعورت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خود کو ایسی پوزیشن میں نہ ڈالے جس کے نتیجے میں کوئی مرد عورت پر زیادتی کر سکے

غیرت پرسیکولر بیانیہ:

مغرب زدہ سیکولر فکر نے پچھلی آدھی صدی میں غیرت کے نام پر قتل کے ایشو پر اچھا خاصا مقدمہ کھڑا کیا ہے جو کہ مشرقی معاشرت کے بھی خلاف ہے اور دینی فکر کے بھی. سیکولرزم کے نزدیک فرد کی آزادی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور خاندان نام کے کسی ادارے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے. اس لیے غیرت نام کے کسی خاص جذبے کو وہ تسلیم ہی نہیں کرتے. اس لیے قتل کے کسی واقعے کو استعمال کرکے بے غیرتی کے مقدمے کو پروموٹ کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوٹتا. ادھر مغرب سے آنے والے اعتراضات کی طرف نظر دوڑائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہیں قتل پر اعتراض کے بجائے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آنر (Honor) جیسی چیز کے نام پر قتل کیسے ہوسکتا ہے. واضح ہو غیرت کے نام پر قتل کو انگریزی میں آنر کلنگ (Honor Killing) کہتے ہیں. ورنہ اگر صرف قتل جیسے جرم پر ہی اعتراض ہوتا تو مغربی ممالک خصوصاً امریکہ قتل جیسے جرم میں پاکستان سے بہت آگے ہے. وہاں پر اگر غیرت سے ملتی جلتی کوئی چیز پائی جاتی ہے تو صرف یہ ہے کہ کسی کی گرل فرینڈ جو کہ حقیقتاً سیکس پارٹنر ہوتی ہے وہ کسی دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات بڑھاتی ہے جس کے نتیجہ میں بعض اوقات مرد کو غصہ آتا ہے. یا پھر یہ ہوتا ہے کہ کسی کی کم عمر بچی جو کہ اس ملک کے قانون کے مطابق رضامندی کی عمر (age of consent) تک نہیں پہنچی ہو، وہ کسی بالغ مرد کے ذریعے حاملہ ہوجائے تو اس بالغ مرد کے خلاف ریپ کا مقدمہ چلا کر اسے سزا دلائی جائے.
پاکستان کی سیکولر لابی قتل کو بہانہ بنا کر غیرت اور غیرت کے لوازمات کو ہی ختم کرنے کے درپے ہے. انہیں اس بات سے کوئی واسطہ نہیں ہے کہ پاکستان کا ایک خاندانی نظام ہے جو کہ کسی حد تک اسلام سے ہم آہنگ ہے اور اس نظام کے تحت ہی یہاں کا معاشرہ چلتا ہے. اس سلسلے میں پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اسلام کو ہی فریق بنا کر اسلام کو قاتل کی طرف اور خود کو مقتول کی طرف ظاہر کر کے خوب مظلومیت کا پراپیگنڈا کیا جائے حالانکہ ان کی اسی روش کی وجہ سے یہ مسائل حل ہونے کے بجائے اور زیادہ الجھ جاتے ہیں۔

پاکستان میں ایسے پیچیدہ معاملوں کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ حکومت اسلامی ذہن کے لوگوں کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کرے. لیکن جو کچھ نظر آتا ہے ہمیں نہیں لگتا ہے کہ پاکستان کی سیکولر لابی اس مسئلہ کو اصل میں حل کرنا چاہتی ہے. اگر یہ مسئلہ حل ہوجائے تو پھر پاکستانی معاشرے میں لڑنے کے لیے ایک ایشو کم ہوجائے گا جو کہ سیکولرزم کے جواز (legitimacy) کو مزید کم کر دے گا.

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *