شرعی علوم اور سائنسی علوم

3

علم شرعیہ یعنی وحی سے حاصل ہونے والا علم اور طبیعی علوم یعنی سائنس دونوں ہی فطرت کے اصولوں کی دریافت وتحقیق پر موکوز ہوتے ہیں۔ فطرت کے کئی پہلو اور جہتیں ہوسکتی ہیں۔ فطرت اپنی حقیقت وماہیت کی بنیاد پر بنی نوع انسان سے جن مقاصد کی تکمیل ہوتے دیکھنا چاہتی ہے اس کے لیے وہ اس کو عالمِ طبیعی کا میڈیم فراہم کرتی ہے،جس کے دائرے اور قاعدے میں رہتے ہوئے انسان نے فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کرنی ہوتی ہے۔ چنانچہ فطرت کی کنہ اور اس کے مقاصد کے اصول اپنی جگہ ، اور ان مقاصد کے حصول کے لئے فراہم کردہ میڈیم کے عمل کرنے کے اصول وقوانین اپنی جگہ۔ شرعی علوم فطرت کے پہلی قسم کے اصولوں سے بحث کرتے ہیں اور سائنسی علوم دوسری قسم کے۔
پہلی قسم کے اصول خداوندِ فطرت نے وحی کے ذریعے انسان تک پہنچائے اور ان کا جاننا اور ماننا انسانیت پہ فرض کردیا، کہ یہ حقیقت کی ”اصل“ اور اس کے مقاصد سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ دوسری قسم کے اصولوں کو سمجھنے اور ان سے تفاعل کرنے کے لئے انسانی عقل کو آزاد چھوڑ دیا۔ البتہ چونکہ ہر دو قسم کے اصول وقوانین کی پنہائی، فطرات کی مشّاطگی سے ہی ودیعت کردہ ہے، اس لئے اسی کی طرف سے طبیعی اصولوں کے نظام کو شرعی اصولوں کے نظام یا مبداء(origin) کے لئے ایک طرح سے ایک نشانی اور indicator بنایا گیا۔ پھر انسانی قلب وذہن میں حقیقت کی کنہ کی جستجو لگا کے دہر میں وَحی کا ڈنکا بجادیا۔ یعنی ایک طرف طبیعی ومادّی امور سے غیر طبیعی وغیر مادّی امور کے ہونے کی نشانیاں دکھلائیں ، پھر طبیعی اصولوں کے نظام سے اس طرف راہ سجھلائی کہ اس سے بھی بالاتر اور عظیم تر اصولوں کا کوئی ایسا نظام بھی ضرور موجود ہے جو مادّی وطبیعی امور سے بلند تر معاملات کو کنٹرول اور طے کرتا ہے، اور یہ کہ انسانیت کے وجود کا مقصد اور غرض وغایت کسی ایسے ہی نظام سے پتہ چل سکتی ہے، اور اس کے بعد انسانوں میں سے ہی اپنے نیک طینت وپاک فطرت فرستادوں کے ذریعے وحی کی شکل میں یہ پورا نظام انسانیت کے سامنے اُس کے ایمان و تسلیم اور نتیجتاً اُس کی وسیع تر فلاح و کامیابی کے لیے پیش کر دیا۔ اور اِس سارے عمل کو اِنسانیت کی آزمائش قراردے کر اس کی پیدائش کا ہی اصل مقصد ٹھہرادیا۔
اس طرح طبیعی اصول اور شرعی اصول ایک ہی سلسلے کی دو باہم منسلک کڑیوں کے طور پر ترتیب پاتے ہیں۔ چنانچہ یہ طبیعی اصول ، شرعی اصولوں سے انتہائی مختلف نوعیت رکھنے کے باوجود بطور ایک نظام ان کے ساتھ ایک گونہ استنتاجی ربط وتعلق کے حامل ہوتے ہیں۔طبیعی اصول اگر کائنات میں کارفرماہی نہ ہوتے تو دوسری بات تھی لیکن اس طرح معاذاللہ خداوندِ فطرت کا غیر حکیم ہونا لازم آتا۔ اصول تو وہی ہوتے ہیں جن میں ایک باہمی ربط ، نظم، توازن، ہم آہنگی اور یک رنگی پائی جاتی ہو۔ اصولوں کاکوئی نظام انہی خصوصیات کی بناء پر تشکیل پاتا ہے۔ یعنی اصول الگ الگ انفرادی حیثیت میں نہیں پائے جاتے بلکہ اپنی قبیل کے دیگر اصولوں کے ساتھ ایک مکمل نظام کی صورت میں وجود رکھتے ہیں کہ جن کے درمیان زبردست ہم آہنگی اور یک رنگی پائی جاتی ہے۔پھر کسی نظام کا پایا جانا اس کے کسی یکہ وتنہا سرچشمہ کے ہونے پر دلالت کرتا ہے جو درحقیقت اس نظام کو برپا اور قائم کیے ہوئے ہے۔ اس کے برعکس کائنات میں ہمہ وقت جاری طبیعی حوادث وواقعات کے پیچھے طبیعی اصولوں کے کارفرمانہ ہونے کے تصوّر سے کائنات میں توازن ، نظم اور یک رنگی (uniformity)پائے جانے کی نفی ہوتی ہے، جس سے خالق کا حکمت سے خالی ہونا تو، معاذاللہ ، لازم آتا ہی ہے، طبیعی واقعات وحوادث کا بے ہنگم،بے ڈھب، بے نظم اور بے ربط طور پر واقع ہونا بھی لازم آتا ہے جو ”فساد“ کے لوازمات میں سے ہے،جس سے درپردہ اس نظریے کو تقویت مل سکتی ہے کہ کائنات میں بیک وقت کئی مختلف قوتوں کے سرچشمے برسرِ عمل ہیں۔! جن میں سے ہر ایک دوسرے سے جداوبیگانہ ہے۔
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ ”اگر آسمان وزمین میں اللہ کے سوا اور بھی الٰہ ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہوجاتے ۔ پس اللہ، عرش کا رب ، ان چیزوں سے پاک ہے جو یہ (اُس کے لیے) بیان کرتے ہیں۔“ (الانبیاء۔22)
گویا کائنات میں توازن و یک رنگی اور اُس کے جاری وساری ہونے میں طبیعی اصولوں کے کسی نظام کا پنہاں ماننا وحدانیت ِ خداوندی کا ایک تقاضا ہے۔
کیا شک ہے کہ کائنات کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا یا بڑے سے بڑا وقوعہ بغیر ارادۂ الٰہی ومنشائے خداوندی کے انجام نہیں پاسکتا۔اس کی مرضی ،اختیار اور علم کے بغیر پتّا بھی نہیں ہلتا اور ذرہ بھی نہیں سرکتا۔ وہ زبردست قدرت والا غالب وقاہر ہے۔البتہ وہ قادر ہے حکیم وداناہونے کے ساتھ، اور غالب وقاہر ہے علیم وخبیر ہونے کے ساتھ۔ بے مقصدیت اس کو روا نہیں۔ بے معنی کام اس کو زیبا نہیں۔ ”عبثیت“ سے وہ پاک ہے۔ لہو ولعب ہر گز اس کے شایان شان نہیں۔
”ہم نے زمین اور آسمانوں اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ۔ بلکہ ہم نے انہیں درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ (الدّخان ۔38،39)
اسی نے جب اپنے بندوں کو کائنات میں اس کی نشانیاں دیکھنے اور ان میں فکر وتدبرکرنے کا حکم دیا ہے تو ضرورکائنات اور عقل ِانسانی میں کوئی ربط وتعلق رکھا ہے۔اور عقلِ انسانی کی یہ خاصیت ہے کہ وہ ہرشے کو اس کے اطراف اور ساتھ پائی جانے والی اشیاء کے حوالے اور تعلق سے دیکھتی اور سمجھتی ہے۔ یوں اشیاء میں خود بخود ایک خاص ربط اور ہم آہنگی کا ہونا ناگزیر ٹھہرتا ہے،ایسا ربط وتعلق جو انسانی عقل کی گرفت میں آسکتا ہو۔ اشیاء کے باہمی ربط وتعلق سے ان کے عمل کرنے اور واقعات کے ظہور پذیر ہونے کے کچھ اصولوں کا پایا جانا بھی پھر ضروری ٹھہرجاتا ہے،ایسے اصول جو انسانی عقل سے دریافت کیے جاسکتے ہوں۔
پس کائنات میں ایک طرف طبیعی امور وواقعات کے رونما ہونے کے لئے خدا ہی کی طرف سے مقررکردہ طبیعی اصولوں کے کسی نظام کا ہونا، اور دوسری جانب ہر ایک انفرادی واقعہ میں ارادۂ الٰہی کا الگ سے کارفرماوپنہاں ہونا ایک زبردست حکمت الٰہیہ کا مظہر ہے، جس کی بدولت نہ تو یہ کائنات ہی ایک بے نظم، بے ڈھب، ناقابل ضبط اور عقل انسانی سے بے تعلق شے قرارپاتی ہے اور نہ کوئی بھی چیز ایک لمحہ کے لئے بھی غلبہ وقدرت خداوندی سے آزاد ٹھہرتی ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *