سبعہ احرف – حقیقت کیا ہے ؟

12974502_1751811288388829_4162055196107302460_n

’سبعۃ احرف ‘ کے صحیح مفہوم تک پہنچے کے لیے ضروری ہے کہ ان احادیث کا مطالعہ کیا جائے جن میں اس کا تذکرہ آتا ہے اور ان حالا ت کو بھی پیش نظر رکھا جائے جن میں میں یہ بات کہی گئی ہے۔
مد نی معاشرہ ایک ایسا معا شرہ تھاجن میں مختلف رنگ، نسل اورقبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بستے تھے۔ اور جزیر ۃ العرب کے اطراف سے اورر اس کے باہر سے بھی لوگ کثرت سے اسلام قبول کرنے کے ارادہ سے آتے رہتے تھے۔ ( تاریخ القرآن۔ ڈاکٹر شاہین ص ۴۲)
اس معاشرہ میں قبائل کے مابین زبان و بیان اور الفاظ و لہجات کا اختلاف قرآن کریم کی قراء ت و تلاوت میں مانع بن رہا تھا جو کہ ایک فطری امر تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف قبائل میں ہر عمر اور ذہنی سطح کے لوگ جن میں بالخصوص بچے اور ضعیف العمر مرد و خواتین کی موجودگی کا انکار نہیں کیا جا سکتا، اور پھر جب نبی کریم ﷺ نے اپنے عہد کے معاشرہ کی تصویر ان الفاظ میں بیان کی ہو کہ “نحن أمة أمية لا نكتب ولا نحتسب” (ہم تو ایک اُمی یعنی ناخواندہ جماعت ہیں نہ حساب جانیں نہ لکھنا)،[ بخاری، محمد بن اسماعیل. جامع صحیح. مترجم : مولانا امجد العلی و غیرہم. کتاب الصوم، باب: قول النبی ﷺ لا نکتب ولا نحتسب، ط: ۲۰۰۳ء، ادارہ اسلامیات، لاہور،۱/ ۹۰۷]
اس معاشرہ میں قرآن کریم کی قراء ت و تلاوت ناممکن نہ سہی, مشکل ضرور تھی۔ اس لیے آپ ﷺ نے اللہ کی بارگاہ میں درخواست کوشرفِ قبولیت حاصل ہو ااور ان کے لیے بڑی آسانی کردی گئی ۔
احادیث:
عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ لوگوں کو جب لغت واحدہ پر قرآن پڑھایا کرتے تھے تو یہ بات بعض لوگوں پر گراں گزرتی تھی۔ جس پر جبرئیلؑ تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کریم ﷺ کو قبیلہ کے افراد کے لیے اپنی لغت میں پڑھنے کی رخصت عنایت فرمائی۔[ ابو شامہ، عبدالرحمن بن اسماعیل. المرشد الوجیز الیٰ علوم تتعلق بالکتاب العزیز. تحقیق : طیار آلتی قولاج. ط۲: ۱۹۸۶ء، دار وقف الدیانۃ الترکی، انقرہ، ص ۹۶-۹۷]
اسی طرح اس موضوع سے متعلق دوسری روایت کچھ اس طرح نقل کی گئی ہے کہ اُبی بن کعبؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی جبرئیلؑ سے جب ملاقات ہوئی تو آپ نے جبرئیلؑ سے فرمایا کہ میں ایک ناخواندہ قوم کی طرف بھیجا گیا ہوں جن میں بوڑھے، غلام مرد اور لونڈیاں اور ایسے ان پڑھ افراد ہیں۔ تو جبرئیلؑ نے فرمایا کہ یا محمد ﷺ! قرآن کریم تو سات احرف پر نازل کیا گیا ہے۔[ ترمذی، ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ.جامع صحیح. أبواب القراء ات عن رسول اللہ ﷺ، باب : ما جاء أن القرآن أنزل علیٰ سبعۃِ أحرفٍ۔ یہ روایت علامہ ابن جریر طبری نے بھی بیان کی ہے، احمد محمد شاکر نے اس روایت کے بارے میں کہا ہے کہ : “وھذا اسناد صحیح” [طبری، محمد بن جریر. جامع البیان عن تأویل آي القرآن. تحقیق : محمود محمد شاکر. تخریج: احمد محمد شاکر.روایت نمبر ۲۹، ۱/ ۳۵]]

اس حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ایک نا خواندہ قوم کی طرف ہوئی تھی ۔ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو قرآن کے تلفّظ کو صحیح طریقے سے ادا کرنے سے قاصر تھے۔ بد یہی طورپر معلوم ہوتاہے کہ یہ واقعہ قراء ت قرآن کے معاملے میں رخصت دینے اور آسانی پید اکرنے کا آغاز تھا ۔ بعد میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قراء ت قرآن کے سلسلے میں بعض صحابہ کے اختلافات پیش کیے گئے تو آپﷺ نے بھی یہی بات فرمائی ۔ اگرچہ ان روایات سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اختلافات کی نوعیت کیا تھی؟
اگر اس کے ساتھ بعض لغوی حقائق کا بھی اضافہ کرلیں تو 7واضح ہوجائے گا کہ یہ لوگ نصّ قرآنی کی صحیح طریقے پر ادائیگی سے کیوں قاصر تھے؟اہل عرب کی زبانیں ایک ایسی ’’ ٹکسالی ‘‘ زبان میں ڈھل گئی تھیں جسے قریش نے مختلف قبائل کی زبانوں سے منتخب کیا تھا اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے ان کے خواص (نہ کہ عوام) نے اپنی محفلوں اور بازاروں میں اسے اپنے مافی اضمیر کے اظہار کا ذریعہ بنا یا تھا اور اسی میں وہ اشعا رکہتے اور خطبے دیتے تھے۔ اسی ٹکسالی زبان سے اسلام ہم آہنگ ہو ااوراور اسی میں قرآن نازل ہوا۔ اس سے اس زبان کی وحد ت مضبوط ہوئی اور اس کی جامعیت میں اضافہ ہوا۔ لیکن اس لغوی وحدت سے ان مختلف لہجوں کا خاتمہ نہیں ہو اجو ماقبل اسلام سے رائج تھے وہ اسلام کے بعد بھی مختلف قبائل میں باہم گفتگو کے ذریعہ کی حیثیت سے باقی رہے اور جو شخص کسی وجہ سے اس ٹکسا لی زبان میں گفتگو نہ کرسکتا تھا وہ اپنے قبیلے میں رائج لہجے کا سہارا لیتا تھا۔
چونکہ مختلف قبیلوں میں ان کے اپنے لہجے رائج تھے اوردوسری جانب عوام قرآن کی تلاوت کے دوران قرآن کی ٹکسالی زبان کی ادائیگی میں دشواری محسو س کرتے تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ وہ جس معاملے میں ان کے لیے آسانی پید ا کی جائے ۔ چنانچہ انھیں اجازت دی گئی کہ وہ جس طرح قرآن کو بسہولت پڑھ سکتے ہوں پڑھیں اوران کی زبانیں جس لہجے سے مانوس ہیں اس کے علاوہ دوسرے لہجے میں بتکلف تلاوت کرنے کی زحمت نہ کریں۔( ملاخط کیجئے فقہ اللغۃ، ڈاکٹر صالح ص۔۵ اور فی اللہجات العربیہ۔ ڈاکٹر ابراہیم انیس ص ۴۳)
تمام علماء نے اس چیز کو (سبعۃ احرف کی تشریح میں اپنے نقطہ ہائے نظر کے اختلاف کے باوجود) رخصت کا سبب قرار دیا ہے۔ ابو شامہ کہتے ہیں :
’’قرآن کو قریش کی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں میں پڑھنے کی اجازت دی گئی ۔ یہ اجازت تمام اہل عرب کے لیے تھی۔ اس لیے کہ یہ مناسب نہیں تھا کہ کسی قبیلہ کو اس کی اجازت دی جائے اور کسی کو نہ دی جائے اور یہ کسی شخص کو اس کی استطاعت سے زیادہ مکّلف قرار دیا جائے۔ مثلاً جس شخص کی زبان میں امالہ یا ہمز ہ کی تخفیف یا ادغام کیا جاتا ہویا میم جمع کو پیش دیا جاتا ہویا ہائے کنایہ کو ملا یا جاتا ہوا سے اس سے مختلف چیز کا کیوں کر پابند کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کی زبان ایسی ہو مثلاً لفظ’اشدق‘ کہنے میں اس کے منہ سے’ش‘ کے بجائے ’ج‘ نکلتا ہو یا’مصدر‘ کہنے میں ’ص‘ کے بجائے ’ز‘ نکلتا ہو وہ اس شخص کے درجے میں ہے جس کی زبا ن میں لکنت اور ہکلاپن ہو ۔ اسے اس کی استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں کیا جاسکتا ۔ ہاں اس پر لازم ہو گا کہ وہ قرآن کو صحیح طریقے سے پڑھنے کی کوشش کرتا رہے۔( المرشد الوجیز ص ۹۷)
یہی بات پہلے ابن قتیبہؒ بھی کہہ چکے تھے۔ انھوں نے لکھا ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے یہ آسانی پیدا کردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ہر قبیلے کو اس کی اپنی زبان میں ،جس سے وہ مانوس ہے، قرآن پڑھا ئیں ‘ چنانچہ قبیلہ ہذیل سے تعلق رکھنے والا ‘ حتیّٰ حین’ کو’ عتّی حین’ پڑھتا ہے ۔قبیلہ اسد کا آدمی’ تعلمون’ کوت کے زیر سے پڑھتاہے۔ تمیمی ہمزہ کے ساتھ بولتا ہے اور قریشی ہمزہ کے ساتھ نہیں بولتا۔ اگرہر قبیلے والوں کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنی زبان ترک کردیں جسے بولتے ہوئے ان کا بچپن اور جوانی گزری ہے اور بڑھا پا گزررہا ہے تو اس میں انھیں سخت دشواری پیش آتی اور انتہا ئی زحمت ہوتی۔ چنانچہ اللہ تعالےٰ نے اپنی رحمت اور لطف وکرم سے جس طرح دین کے معاملے میں ان کے لیے آسانی فرمائی اسی طرح زبانوں اور حرکات کے سلسلے میں بھی انھیں رخصت دی ‘‘ ۲؂(تاویل مشکل القرآن ص ۳۹۔۴۰)
یہاں اس حقیقت کا اطہار ضروری ہے کہ علماء نے اپنے بیانات میں صحیح لغوی اصطلاحات کا استعمال نہیں کیا ہے ۔ وہ ’’لہجوں‘‘ کے لیے ’’زبانوں‘‘ (لغات) کا لفظ لائے ہیں ۔ اگرچہ بطور مجازیہ استعمال جائز ہے لیکن اس جگہ یہ غلط فہمی پید ا کرنے والی تعبیر ہے، اس لیے کہ ا س سے دولغوی مفہوم (یعنی زبان اورلہجہ) خلط ملط ہو جاتے ہیں ۔ اس جگہ لفظ’’لہجہ ‘‘ کا استعمال کرنا چاہیے نہ کہ لفظ’’زبان‘‘ (لغۃ) کا۔ اس لیے کہ رخصت مشقّت کو دور کرنے کے لیے دی گئی اوراس کاتعلق لہجوں سے ہے نہ کہ زبانوں سے ۔ لہجہ نام ہے ان صوتی اوصاف کا جن کا تعلق کی ادائیگی کے طریقے سے ہے اور اس معاملے میں مختلف قبیلوں میں اختلاف ہوتاہے۔مثلاً بعض قبائل زور سے آواز نکالتے ہیں تو بعض کی آواز وں میں کر ختگی ہوتی ہے تو بعض میں نرمی،بعض الگ الگ کرکے بولتے ہیں تو بعض ملاکر ،بعض ہمزہ کو مختلف کرکے بولتے ہیں تو بعض اسے ظاہر کرتے ہیں اور لفظ کے ذھانچے اور اعراب میں بھی ان میں اختلاف ہوتاہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جنھیں ترک کر کے دوسرے اوصاف اختیار کرنا دشوار ہوتاہے۔(فی اللجہات العربیہ ص ۱۶۔۱۹) جب کہ ’’زبان ‘‘(لغۃ) سے مراد الفاظ اوران کی دلالتوں کا اختلاف ہوتاہے۔ اس کی رعایت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس لیے کہ قرآن نے اس ٹکسالی زبان کے الفاظ استعمال کیے جو تمام اہلِ عرب کی زبانوں سے مل کربنی تھی۔( علوم القرآن۔ الصالح ص ۱۱۳۔۱۱۵)

اس تفصیل سے واضح ہواکہ ’’سبعتہ احرف ‘‘ کی قابل قبول تشریح یہ ہے کہ اس سے مراد الفاظ کی ادائیگی کے وہ طریقے ہیں جن سے عربوں کے لہجوں میں تبدیلی آجاتی ہے۔ اور’’ قرآن کے سات حروف پر نازل ہونے ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پڑھنے والے کو رخصت دی گئی ہے کہ جس طرح اسے پڑ ھنے میں آسانی ہو اور بغیر مشقت کے الفاظ ادا کرسکے، ویسے ہی پڑ ھے۔
لفظ’’سبعۃ‘‘ (سات ) اس مطلق اجازت میں رکاوٹ نہیں ہے ۔ اس لیے کہ یہ عربی زبان کا ’’عد د تام‘‘ ہے اور اس سے اہل عرب اچھی طرح واقف تھے۔ (ملاخط کیجئے اعجاز القرآن، رافعی ص ۶۸)
سیوطیؒ نے قاضی عیاضؒ کی جانب یہ قول منسوب کیا ہے کہ لفظ’’سبعۃ‘‘(سات )سے مراد حقیقی عدد نہیں ہے بلکہ اس سے مراد کائی میں کثرت ہے جس طرح دہائی میں کثرت کے لیے’’سبعین‘‘ (ستَر۷۰) اور سیکڑہ میں کثرت کے لیے ’’سبح ماتہ‘‘ (سات سو) استعمال کیا جاتا ہے۔ ۴؂(الاتقان ۱/۱۳۱)
لفظ’’سبعۃ‘‘ سے مراد مطلق رخصت ہے۔ اس کااشارہ حضرت ابن عباسؓ کی اس روایت سے ملتاہے کہ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایک ہی زبان (یعنی لہجہ) میں قرآن پڑھا تے تھے۔ اس سے انھیں زحمت ہوتی تھی۔اس پر جبرئیلؑ آئے اور انھوں نے فرمایا :
اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہر قوم کو اس کی زبان میں قرآن پڑ ھائیے،،(المرشد الوجیز ص ۹۶۔۹۷)
بعض علماء نے اس سے بھی زیادہ تو مّع اختیار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ’’ سبعۃ احرف ‘‘ کا اطلاق صرف عربی لہجات پر نہیں ہو گا، بلکہ اس میں دنیا کے تما م خطوں میں رہنے بسنے والے آج تک کیے مسلمانوں کے لہجے شامل ہیں ۔ مسلمان کو کوئی بھی لہجہ ہو ، کسی ماحول میں رہتا ہو ، وہ الفاظ وقرآن کو جس طرح بھی ادا کرسکتا ہو کرے ، نہ اس پر نکیر کی جائے اور نہ اس کا مذاق اڑایا جائے گا۔ ۲؂( اللجہات العربیہ ص ۵۷)
اس رخصت کو صرف عربی کے دائر ے میں اور اسلام کی اس روح کے تابع رکھنا ہی بہتر ہے کہ وہ معذوروں کے لیے آسانی پیدا کرنا چاہتاہے۔
اس تو سعّ کامطلب یہ نہیں ہے کہ قرآن پڑھنے والا الفاظ قرآن کو جس طرح چاہے ادا کرے ،کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آپﷺ نے ان لہجات کی نگرانی فرمائی ہے، ان میں سے فصیح لہجے میں پڑھنے کی اجازت دی ہے اور جن لہجوں کی وجہ سے نصّ قرآنی معیار فصاحت سے گرجاتا ہے ان میں پڑھنے سے منع کیا ہے مثلا الکشکشہ القسیۃ جس میں کا ف مؤنث (کِ)کو ’ش ‘پڑھا جاتا ہے جیسے آیت قدجعل ربک تحتک سریا ( مریم :۲۴) کے بجائے قدجعل رلبش تحتش سریا اور العنعنۃ التمیمیۃ جس میں ھمزہ ’ان ‘کو’ع‘ پڑھا جاتا ہے جیسے آیت’ عسی اللہ ان یاتی بالفتح'(المائد:۵۲) کے بجائے عسی اللہ عن یاتی بالفتح۔ ۳؂( المرشد ص ۱۰۱۔۱۳۱)
گویا قرآن کریم جس ٹکسالی زبان میں نازل ہواہے اور جن لہجات میں خودرسول اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے یا قراء صحابہ کو پڑھانے کی اجازت دی ہے، وہ اس معاملے میں برابر ہیں کہ ان میں سے کسی میں بھی قرآن کی تلاوت کی جاسکتی ہے۔ رہے ان کے علاوہ دوسرے لہجے توان میں پڑھنے کی رخصت عذرکی بنا پرہے اور یہ رخصت عارضی ہے اور صرف اس وقت تک ہے جب تک کہ پڑھنے والا سیکھ کر اورمشق کے ذریعے معیاری ادائیگی پر قادرنہ ہو جائے۔۱؂( علوم القرآن، ڈاکٹر صبحی صالح ص ۱۰۸)

یہی وہ معیار ہے جس کی بنا پرحضرت ابن مسعودؓ نے اس شخص کی قراء ت کو غلط قرار دیا تھا جس آیت ان شجرت الذقوم الثیم (لد خان : ۴۳۔۴۴۷) میں لفظ ’’اثیم ‘‘ کر ( ’ا‘ ی ‘ سے اور’ث‘ کو’ت‘ سے بدل کر) ’یتیم‘ ( ی کے زیر سے ) پڑھا تھا۔( بعض عرب قبائل ہمزہ کو’ی‘ سے بدل دیتے تھے، مثلاً تاثم کو تیثم کہتے تھے، اسی طرح فعیل، کے وزن پر آنے والے الفاظ کے ابتدائی حرف کو زیر دیتے تھے، بعض قبائل ’ث‘ کو ’ت‘ سے بدل دیتے تھے مثلاً خبیث کو خبیت، کہتے تھے، ملاخط کیجئے لسان العرب مادہ اثم، خبت، جلد اول ص ۲۲۔۷۸۱ اعداد یوسف خیاط)
اس طرح آیت کے معنی ہی بدل گئے تھے۔حضرت ابن مسعودؓ نے اسے سمجھانے کے لیے بتایا کہ ’ اثیم ‘ کے معنی ’فاجر‘ کے ہیں اس کا ’یتیم‘ سے کیا تعلق؟ حضرت ابن مسعودؓ کی جانب منسوب یہ روایت اگرصحیح ہوتو اس کی یہ توجیہ کی جاسکتی ہے، نہ کہ یہ انھوں لفظ ’اثیم‘ کی جگہ ’فاجر‘ پڑھ لینے کی اجازت دے دی تھی۔ جو شخص یہ بات کہتا ہے وہ حضرت ابن مسعودؓ پر جھوٹ باندھتاہے اور ’’سبعۃ احرف‘‘ کے معاملے میں رخصت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

ہم ان محققین کی تائید کرتے ہیں جنھوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ’’رخصت صرف قرآن کو زبانی پڑھنے کی حد تک تھی ،کتابت وحی کے معاملے میں کوئی رخصت نہ تھی۔ رسول صلی اللہ وسلم نے نصّ قرآنی کو اسی ٹکسالی زبان میں لکھوایا تھا جس میں وہ اتراتھا۔ اس لیے کہ تمام لہجات کو کسی ایک تحریرمیں جمع کرنا ممکن نہ تھا۔۳؂( تاریخ القرآن۔ ڈاکٹر شاہین ص ۵۴۔۵۵)
دوسرے یہ کہ کتا بتِ وحی کا کام مکہ ہی میں شروع ہوگیا تھا، جب کہ رخصت ہجرتِ مدینہ کے بعددی گئی تھی۔
اس مسئلے کی وضاحت کے لیے یہاں یہ صراحت مناسب معلوم ہوتی ہے کہ قرآن اور قراء تیں دوالگ الگ حقیقیں ہیں حقیقتیں ہیں جیسا کہ علمائے متقدمین نے لکھا ہے ۔ قرآں و حی ہے جونبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے اور قراء توں سے مراد الفاظ وحی کی ادائیگی کی کیفیت میں اختلاف ہے۔۱؂( ملاخط کیجئے البرہان ۱/۲۱۸)
اگر نصّ قرآنی کے سلسلے میں اختلاف کیفیتِ ادا تک منحصرنہ ہو بلکہ خدف و اضافہ یا اختلافِ حروف تک متجا وزہوجائے۔ مثلاًسورۂ تو بہ کی آیت ۱۰۰میں تجری تحتھا الالنھردوسرے مصحف میں تجری من تحتھا الانھر(من کے اضافے کے ساتھ ) اور سورہ الحجرات کی آیت۲ان جا ء کم فاسق بنبا فتبینیوا میں دوسرے مصحف میں تبینوا کے بجائے تثبتوا ہے ۔اور یہ دونوں تواتر سے ثابت ہوں تو ان کا شمار قراء توں میں نہیں ہو گا بلکہ دونوں نصوص کو قرآن قرار دیا جائے گا اور کہا جائے گا یہ آیتیں دونوں طرح سے اتری ہیں اورنبی صلی علیہ وسلم نے دونوں طرح سے کی کتابت کروائی ہے۔( المرشد الوجیز ص ۱۳۸)
اس بنا پر علماء نے ’سبعۃ احرف ‘ کی تشریح میں موجود اختلاف بیان کیے ہیں ،ان کے سلسے میں تین باتیں کہی جاسکتی ہیں : (1)یا تو ان کا شمار لہجات میں ہو گا ،مثلاً لفظ کی ساخت میں بعض حرکتوں یا اعراب کا اختلاف ،(2)یا دونوں نصو ص تو اترسے ثابت ہوں گی ۔ اس صورت میں دونوں کا شمار وحی ہو گا۔ (3)یا دوسری نص تو اتر سے ثابت نہیں ہوگی تو اس کاشمار قرآن میں ہوگا نہ قرأ ت میں ۔
ان حقائق کی روشنی میں ’’سبعۃ احرف ‘‘ کی رخصت الفاظ قرآن کی ادائیگی کے طریقوں تک محدود ہے۔ اوریہ ادائیگی مطلق نہیں ہے، بلکہ لازم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ویسا ہی پڑھایا اس طرح پڑھنے کی اجازت دی ہو اور اس سے وحی کا مفہوم نہ بدل جاتا ہو۔

اس رخصت کا تعلق اس مطلق آزادی سے نہیں ہے کہ قرآن کے کسی لفظ کو بدل کر اس کا مترادف لفظ استعمال کرلیا جائے، یا نص میں زیادتی یا کمی کردی جائے، یا اس کے نظم وترتیب کو بدل دیا جائے ،جیسا کہ مستشرقین نے اپنے نظر یہ ’’ قراء ت بالمعنی‘‘کے تحت خیال ظاہر کیا ہے ۔ ان روایات کو قراء توں کی جانب منسوب کرنا وہم ہے۔اسے مستشرقین نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے رواج دیا ہے ۔ ان کا قراء توں سے کوئی تعلق نہیں ،کیوں کہ وہ نہ تو الفاظ قرآن کی ادائیگی اختلاف کو ظاہر کرتی اورنہ ان کاثبوت تو اتر سے ہے کہ انھیں بھی قرآن قراردیاجائے۔
البتہ یہ روایات اگر صحیح ہو ں تو انھیں تفسیر قراردیاجاسکتا ہے جنھیں ان مصاحف کے مالک صحابہ نے نصّ قرآنی کے حاشیہ پر کسی مجمل کی وضاحت ،کسی محذوف کے بیان یا کسی لفظ کی تشریح کے لیے لکھ لیا تھا ، اس لیے کہ وہ حضرات اسباب نزول اور مقاصدِشریعت کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔
اس کام کا مقصد خواہ کتنا ہی پاکیزہ رہا ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ قرآنی پر اس کے سلبی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس لیے کہ ان مصاحف کے وارثین یا ان سے اخذ واستفادہ کرنے والوں نے گمان کرلیا کہ ان میں جو کچھ درج ہے سب وحی قرآنی کے الفاظ ہیں ۔ تاریخ جمع تدوین قرآن کے ساتھ کتنی زیادتی ہوئی ہے کہ متقدمین کی کتابوں میں اضافات کو ’’سبعہ احرف‘‘ قرار دے کرانھیں وحی کی طرف منسوب کردیا گیاہے اور متاخرین نے بغیر بحث وتحقیق کے انھیں جوں کا توں نقل کرلیا ہے۔( ملاخط کیجئے کتاب من قضایا القرآن ص ۷۶)

اب ان وجوہ قرأ ت کی طرف اشارہ کرنا رہ گیا جومصحفِ عثمانی کے نقطوں اور اعراب سے خالی ہونے کی وجہ سے پید ا ہوئے ہیں ،جیسا کہ مستشرقین دعویٰ ہیں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی بھی حقیقت واضح کردی جائے۔اس سلسلے میں ابتداء ہی میں یہ جان لینا ضروری ہے کہ بغیر نقطوں کے قرآن کی کتابت کروانے کا مقصد یہ تھاکہ اگر کسی نقط کی متعد د قراء تیں ہوں توان کے لیے ایک ہی رسم الخط اختیار کیاجاسکے۔ بعض مواقع پرایسا ممکن نہ ہوسکااور مختلف قراء تیں ایک رسم الخط کے تحت نہ آسکیں توبعض مصاحف میں ایک قرا ء ت لکھی گئی اور بعض دیگر مصاحف میں دوسری قرأت۱؂ (کتاب المصاحف ص ۴۰۔۴۹)
ایسا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ قرآن کومختلف لہجات میں پرھا جاسکے اور لوگ اس رخصت سے فائد ہ اٹھاسکیں جو اللہ تعالیٰ نے انھیں عطافرمائی ہے۔ مثال کے طور پرسورۂ قصص کی آیت نمبر۲۹؂ یہ ہے ‘او جذوۃ من النار’ لفظ ’جذوۃ کو اہل حجاز ’ ج‘ کے زبر سے پڑھتے تھے چنانچہ عاصم رحمہ اللہ نے اسی طرح قرأت کی ہے بنو تمیم ’ ج‘ کے پیش سے پڑھتے تھے، چنانچہ حمزہ رحمہ اللہ نے اسی طرح قرأت کی ہے۔ ۲؂ (البحر المحیط ۶/۳۲۲)
بنو اسد ’ ج‘ کے زیر سے پڑھتے تھے چنانچہ بقیہ ساتوں قراء نے اسی طرح قرأت کی ہے۔
حضرت عثمانؓ نے لوگوں کو آزاد نہیں چھوڑدیا کہ وہ جس طرح چاہیں نصِّ قرآنی کو پڑیں، بلکہ ہر علاقے میں مصحف کے ساتھ ایک قاری قرآن پڑھانے والے) کو بھیجا چنانچہ مصحف مدنی کو پڑھانے کیلئے حضرت زید بن ثابتؓ مصحف مکی کو پڑھانے کیلئے حضرت عبداللہ بن سائبؓ ، مصحف شامی کو پڑھانے کیلئے حضرت مغیرہ بن شہابؓ ، مصحف کوفی کو پڑھانے کے لئے حضرت ابو عبدالرحمن سلمیؓ اور مصحف بصری کو پڑھانے کیلئے حضرت عامر بن عبدالقیسؓ کو بھیجا۔(ملاخط کیجئے۔ مناہل العرفان ۱/۳۹۶)
ایسا کرنا دو وجوہ سے ضروری تھا:
پہلی وجہ یہ کہ اس بات کا اندیشہ تھا کہ مخصوص رسم الخط کی بنا پر بعض الفاظ کو نا مطلوب صورت میں ادا کیا جائے۔ مثلاً والامیین ( آل عمران۲۰۰) کو والا میں ( ایک ی سے) النبیین ( آل عمران ۲۱) کو الس( ایک ی سے) اور لا ذبحنہ، ( النمل۲۱) کو لا ادبحہ ( الف کے اضافہ کے ساتھ) لکھا جاتا تھا۔ اسی طرح آیت والسماء بنینا ھا باید ( لذرایات ۔۴۷) میں لفظ باید کو دو’ی’ کے ساتھ) لکھا جاتا تھا۔
ایسے الفاظ کی تعداد تقریباً دو سو چالیں ہے۔ (کتاب المصاحت ص ۱۰۵۔۱۱۶)
دوسری وجہ یہ تھی کہ اس طرح ہر علاقہ کے باشندوں کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ جو مصحف ان کے پاس بھیجا گیا ہے اس کے رسم الخط سے جو قرائتیں مختلف ہیں، انہیں ترک کردیں، چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا، عربی لہجات میں بعض آوازوں کو بعض پر ترجیح دی جاتی تھی، مثلاً بدودھیمی آوازوں کے مقابلے میں کرخت اور تیز آوازوں کو ترجیح دیتے تھے، چنانچہ شہری آیت من بقلہا و قثا ءھا و فومھا ( البقرہ۔ ۶۱) کو ’ف ‘ سے پڑھتا تھا تو بدو ثو مھا ( ث سے) پڑھتا تھا۔ اول الذکر حجاز کی لغت ہے اور موخر الذکر بنو تمیم کی۔( تفسیر القرطبی ۱/۳۳۱، اللہجات العربیہ ص ۱۱۶)
اس طرح لوگوں نے بہت سی صحیح قرائتیں چھوڑدیں جو مصحف عثمانی کے رسم الخط سے مطابقت نہ رکھتی تھیں تاکہ الفاظ میں اختلاف نہ ہو اور مختلف لہجوں میں قربت پیدا ہوجائے۔ ۲؂ (مقدمہ حجۃ قرأت ابی ذرعہ ص ۱۰ الابانۂ ص۱۰، المرشد ۵۳۔۵۴)
ایسی قرائتیں اگرچہ صحیح تھیں لیکن مصحف عثمانی کے رسم الخط سے مختلف ہونے کی بنا پر قراء کی اصلاع میں شاذ قرائتیں کہلائیں، اس طرح مصحف عثمانی کو قرارتوں کے سلسلے میں حکم کی حیثیت حاصل ہوگئی نہ کہ اس کی وجہ سے قرارتوں کا اختلاف رونما ہوا جیسا کہ مستشرقین دعوی کرتے ہیں۔
مستشرقین کے لئے کیو ں کر مناسب ہے کہ وہ ان مہمل اقوال کو قرآن کی بعض قراء تیں شمار کریں؟ اور قراء کی ان کوششوں اور ان کے طریقہ کار کو نظر انداز کرجائیں جو انہوں نے قرآن کی قراء توں اور ان کی تاریخ کو منضبط کرنے اور صحیح اور غلط کو الگ الگ کرنے میں صرف کی ہیں۔ ماہرین قرأت کا طریقہ کار انتہائی دقیق تھا انہو ں نے کسی قرأت کو قبول کرنے کیلئے تین شرطیں رکھی تھیں۔ (1) وہ مصحف عثمانی کے رسم الخط کے موافق ہو۔ (2) صحیح سند سے ثابت ہو اور (3) عربی زبان اور قواعد کے بھی خلاف نہ ہو۔
ان شرائط کے ساتھ عظیم قراء کے ذریعہ علم قرأت پروان چڑھا اور اس کی بنیادیں استوار ہوئیں۔
کیا اس تفصیل کے بعد بھی کسی انصاف پسند کے دل میں جمع و تدوین قرآن اور قراء توں کے سلسلے میں کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے۔،،؟؟

( ماخوذ از: حولیۃ کلیۃ الشریعۃ والدراسات الاسلامیہ۔ جامعہ قطر العدد الثالث ۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴ءڈاکٹر اسماعیل احمد الطحان ، مترجم: محمد رضی الاسلام ندوی
)
(اگلی تحریر: سبعہ لہجات یا سبعہ وجوہ- ایک جائزہ)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *