لونڈیوں کے متعلق بعض تفصیلات کا پس منظر

3

جس دور میں غلاموں کا ستر سمیت کوئی حق ہوتا ہی نہیں تھا ایسے دور میں اسلام نے غلاموں کے ذاتی اور معاشرتی حقوق متعین کئے۔ ماضی کی دیگر اقوام (بشمول ہیومن رائٹس کی چمپین اقوام) نے غلاموں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ سب پر واضح ہے۔ البتہ یہ سب الگ بحثیں ہیں جو فی الوقت گفتگو کا اصل تناظر نہیں۔
شرع میں آزاد لوگوں کے مقابلے میں غلاموں سے متعلق بہت سے احکامات میں جس بنا پر فرق روا رکھا گیا ہے ان میں سے اہم تر “تخفیف” اور “مجبور طبقے کی رعایت” کا اصول ہے۔ انسانی نفسیات سے واقف حضرات یہ جانتے ہیں کہ دشمن کے جو لوگ جنگ میں قیدی بن کے آتے ہیں انکا معاشرتی مقام کبھی دوسرے لوگوں کے مساوی نہیں ہوا کرتا۔ لونڈیاں ان معاشروں میں جس قسم کی عمومی سروسز مہیا کرنے پر مامور ہوا کرتی تھیں اس کے پیش نظر ہی قرآن نے زنا کے معاملے میں ان کی سزا میں تخفیف کی ہے، کیونکہ معاشرتی طور پر زیادہ ایکسپوزڈ اور مجبور ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ vulnerable تھیں لہذا ان سے ایسا گناہ ہونے کا خدشہ زیادہ تھا۔
اسی اصول کے پیش نظر شرع نے لونڈی کے ستر میں بھی تخفیف سے کام لیا ہے۔ ستر میں اس تخفیف کو سمجھنے کے لئے یہ ذھن نشیں رہے کہ لونڈیاں بالعموم ادنی درجے کی خواتین سمجھی جاتی تھیں جن کی طرف لوگوں کی ایسی توجہ نہیں ہوتی تھی (مثلا سمجھنے کے لئے یوں کہ جیسے گھروں میں کام کرنے والی عام سی خدو خال والی خواتین)۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا شخص جس نے کسی آزاد خاتون سے نکاح کیا ہو فقہاء اسے لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ یہ اس آزاد خاتون کے لئے باعث عار تھا۔
تصور کیجئے کہ دیار غیر میں بھٹے پر کام کرنے والی کسی مجبور خاتون کو ستر و پردے کے ان احکامات کا پابند بنانے کی کوشش کتنی ممکن ہوسکتی ہے جو مؤمن آزاد خواتین کے لئے مشروع کئے گئے ہیں۔ پس لونڈیوں سے متعلق ان احکامات کو بیان کرنے کا مقصد اگر تو غامدی صاحب کے مؤقف کو قابل غور بتانا ہے ۔۔۔۔۔ جو شاید نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔ تو پھر بھٹے پر کام کرنے والی مجبور و مقہور خواتین کے احکامات میں تخفیف کی بات شاید قابل غور ہو نہ کہ کالج و یونیورسٹیوں میں پڑھنے والی آزاد بچیوں کی۔
بعض اقوال سے لوگوں نے تصور قائم کرلیا ہے گویا لونڈیاں بس ناف سے گھٹنے تک ملبوس بازار میں سر عام گھوما پھرا کرتی ہونگی۔ فقہ میں مرد کا ستر ناف سے گھٹنے تک بیان کیا جاتا ہے مگر کیا ہمارے ارد گرد ہر طرف بشمول مساجد سب مرد اتنے ہی لباس میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں؟ انسانی معاشرے بالعموم قانونی زبان میں بیان کردہ “کم از کم ایسا مطلوب جس کے بعد جرم و گناہ کی حد شروع ہوجاتی ہے” کے ارد گرد تشکیل نہیں پاتے۔ سرکاری قانون کہتا ہے کہ 33 فیصد نمبر لینے والا کامیاب ہوگا۔ فرض کریں مستقبل یا کسی دوسرے معاشرے کے نظام تعلیم میں کامیابی کا معیار یا طریقہ کچھ مختلف ہو اور اس کا باسی کہنے لگے “دیکھو یہ سب کے سب 33 نمبر لیا کرتے تھے”۔ جس طرح اس کا یہ تصور غلط ہے اسی طرح باندیوں سے متعلق کچھ احکامات سے قائم کیا جانے والا تصور بھی غلط ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں غلام اور لونڈی کے معاشرتی کردار و حیثیت ہم میں سے کسی نے دیکھی ہی نہیں اور جس کا تصور کرنا بھی شاید ہمارے لئے بہت مشکل ہے، ایسے ماحول میں برادر عمار خان نے لونڈیوں سے متعلق بعض فقہی اقوال کو جس طرح بیان کیا ہے اس کے بعد آج کا جدید طبقہ آنکھیں بند کرکے یہ تصور باندھے بیٹھا ہے گویا “فنکاروں کے ایوارڈ” نامی کسی پروگرام یا “ماڈلنگ کے کسی شو” میں بالی وڈ کی حسین و جمیل ھیروئنز جیسی لونڈیاں فقہاء کے بیان کردہ ان قانونی احکامات کے مطابق کیٹ واک کرتی جیو ٹی وی پر نشر کی جارہی ہیں اور لوگ گھر بیٹھے اس سے محظوظ ہورہے ہیں۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *