علم قراء ت اور قراء کرام

13001305_1755017861401505_4914952034311702321_n

’’ علم قراء ت ایسا علم ہے کہ جس میں قرآنی کلمات کوبولنے کی کیفیت اور انہیں اَدا کرنے کا مختلف فیہ اور متفقہ طریقہ ہر ناقل کی قر اء ت کی نسبت کے ساتھ معلوم ہوتاہے۔‘‘ (البدورالزاہرۃ: ۷)
علم قراء ت کا موضوع قرآ ن کریم کے کلمات ہیں، کیونکہ اس علم میں ان کلمات کے تلفظ کے حالات پرہی بحث کی جاتی ہے۔ (عنایات رحمانی:۱؍۱۳)

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی تلاوت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم (علی صاحبہا السلام) کو ایک سہولت یہ عطا فرمائی کہ اس کے الفاظ کو مختلف طریقوں سے پڑھنے کی اجازت دی.شروع میں چونکہ لوگ قرآنِ کریم کے اسلوب کے پوری طرح عادی نہیں تھے، اس لیے انہیں مختلف لہجات اوربلاغت کے متعدد اسالیب مثلا اسماء ، افعال ، الفاظ کی کمی ،تقدیم وتاخیر وغیرہ میں اختلاف کے ساتھ قرأتوں کی اجازت دیدی گئی تھی۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ ہرسال رمضان میں جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دَور کیا کرتے تھے، جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال آپﷺ نے دومرتبہ دَور فرمایا۔(السنن لکبری للنسائی،حدیث نمبر۲۷۹۴)اس دَور کو “عرصۂ اخیرہ” کہتے ہیں، اس موقع پر بہت سی قرأتیں منسوخ کردی گئیں اور صرف وہ قرأتیں باقی رکھی گئیں جو آج تک تواتر کے ساتھ محفوظ چلی آتی ہیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تلاوتِ قرآن کے معاملہ میں غلط فہمیاں رفع کرنے کے لیے اپنے عہدِ خلافت میں قرآن کریم کے سات نسخے تیار کرائے اور ان سات نسخوں میں تمام قرأتوں کو اس طرح سے جمع فرمایا کہ قرآن کریم کی آیتوں پر نقطے اور زیر زبر پیش نہیں ڈالے؛ تاکہ انہی مذکور قرأتوں میں سے جس قرأت کے مطابق چاہیں پڑھ سکیں، اس طرح اکثر قرأتیں اس رسم الخط میں سماگئیں اور جو قرأتیں رسم الخط میں نہ سماسکیں اُن کو محفوظ رکھنے کا طریقہ آپ نے یہ اختیار فرمایا کہ ایک نسخہ آپ نے ایک قرأت کے مطابق لکھا اور دوسرا دوسری قرأت کے مطابق، امت نے ان نسخوں میں جمع شدہ قرأتوں کو یاد رکھنے کا اس قدر اہتمام کیا کہ علم قرأت ایک مستقل علم بن گیا اور سینکڑوں علمائ، قرا اور حفاظ نے اس کی حفاظت میں اپنی عمریں خرچ کردیں۔
جس وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کریم کے سات نسخے مختلف خطوں میں بھیجے تو ان کے ساتھ ایسے قاریوں کو بھی بھیجا تھا جو اُن کی تلاوت سکھا سکیں؛ چنانچہ یہ قاری حضرات جب مختلف علاقوں میں پہنچے تو انھوں نے اپنی اپنی قرأتوں کے مطابق لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی اور یہ مختلف قرأتیں لوگوں میں پھیل گئیں، اس موقع پر بعض حضرات نے ان مختلف قرأتوں کو یاد کرنے اور دوسروں کو سکھانے ہی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کردیں اور اس طرح “علم قرأت” کی بنیاد پڑگئی اور ہرخطے کے لوگ اس علم میں کمال حاصل کرنے کے لیے ائمۂ قرأت سے رجوع کرنے لگے، کسی نے صرف ایک قرأت یاد کی، کسی نے دو، کسی نے تین، کسی نے سات اور کسی نے اس سے بھی زیادہ.

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں درج ذیل قرا بہت معروف ہوئے:
مہاجرین میں سے: سیدنا عثمان بن عفان، علی بن اَبی طالب ، عبد اللہ بن مسعود ، سالم مولیٰ اَبی حذیفہ ، حذیفہ بن یمان ، عبد اللہ بن عباس ، عبد اللہ بن عمر ، زبیر بن عوام، معاویہ بن اَبی سفیان وغیرہم رضی اللہ عنہم ، جبکہ انصار میں سے: سیدنا اُبی بن کعب ، معاذ بن جبل ، زید بن ثابت ، اَبو الدردا ، اَبو موسیٰ اشعری وغیرہم رضی اللہ عنہم
تابعین میں سے جو قرائے کرام بہت معروف ہوئے وہ درج ذیل ہیں:
مدینہ نبویہ سے: سیدنا سعید بن مسیب، مسلم بن جندب، ابن شہاب الزہری، عبد الرحمن بن ہرمز (اَعرج)، معاذ ابن الحارث جو معاذ القاری کے نام سے مشہور ہیں،
مکہ مکرمہ سے: عطا بن رباح، طائوس بن کیسان الیمانی، عبد اللہ ابن اَبی ملیکہ،
بصرہ سے: اَبو العالیہ ریاحی، اَبو رجا عطاردی، نصر بن عاصم، یحییٰ بن یعمر، حسن بصری، محمد بن سیرین، قتادۃ بن دعامہ،
کوفہ سے: علقمہ بن اسود، اسود بن یزید نخعی، مسروق بن اَجدع، عبیدہ بن عمرو سلمانی، عمرو بن شرحبیل، ربیع بن خیثم، حارث بن قیس
شام سے: مغیرۃ بن شہاب مخزومی صاحب مصحف ِعثمان، اَبو بحریہ عبد اللہ بن قیس حمصی، یحییٰ بن حارث الذماری، عطیہ بن قیس وغیرہم رحمہم اللہ ۔
درجِ بالا قرائے کرام وہ ہیں جن کا مشغلہ قرآنِ کریم کی تعلیم و نشر واِشاعت بھی تھا اور دوسرے علوم بھی۔ کچھ علما ایسے بھی تھے جنہوں نے خود کو علم قراء ات کی حفاظت اور نشر واشاعت کیلئے مختص کر لیا تھا، ان قرائے کرام کے نام درج ذیل ہیں:
مدینہ نبویہ سے: اَبو جعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن اَبی نعیم، مکہ مکرمہ سے: عبد اللہ بن کثیر، حمید بن قیس اَعرج، محمد بن محیصن، بصرہ سے: عبد اللہ بن اَبی اسحاق، عیسیٰ بن عمرو، اَبو عمرو بن العلا، عاصم جحدری، یعقوب حضرمی، کوفہ سے: یحییٰ بن وثاب، عاصم بن اَبن نجود، سلیمان اعمش، اَبو عمارہ حمزہ بن حبیب، علی بن حمزہ کسائی، جبکہ شام سے: عبد اللہ بن عامر، عطیہ بن قیس کلابی، اسمٰعیل بن عبد اللہ بن مہاجر، یحییٰ بن حارث ذماری اور شریح بن یزید حضرمی وغیرہم رحمہم اللہ
قرات کا ضابطہ شرائط:
اس سلسلے میں ایک اصولی ضابطہ پوری امت میں مسلم تھا اور ہرجگہ اسی کے مطابق عمل ہوتا تھا اور وہ یہ کہ صرف وہ “قرأت” قرآن ہونے کی حیثیت سے قبول کی جائے گی جس میں تین شرائط پائی جاتی ہوں:
(۱)مصاحفِ عثمانی کے رسم الخط میں اس کی گنجائش ہو۔
(۲)عربی زبان کے قواعد کے مطابق ہو۔
(۳)وہ آنحضرتﷺ سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہو اور ائمۂ قرأت میں مشہور ہو۔
جس قرأت میں ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو، اسے قرآن کا جزء نہیں سمجھا جاسکتا، اس طرح متواتر قرأتوں کی ایک بڑی تعداد نسلاً بعد نسلٍ نقل ہوتی رہی اور سہولت کے لیے ایسا بھی ہوا کہ ایک امام نے ایک یاچند قرأتوں کو اختیار کرکے انہی کی تعلیم دینی شروع کردی اور وہ قرأت اُس امام کے نام سے مشہور ہوگئی؛ پھر علماء نے ان قرأتوں کو جمع کرنے کے لیے کتابیں لکھنی شروع کیں؛ چنانچہ سب سے پہلے امام ابوعبید قاسم بن سلام رحمہ اللہ، امام ابوحاتم سجستانی رحمہ اللہ، قاضی اسماعیل رحمہ اللہ اور امام ابوجعفر طبری رحمہ اللہ نے اس فن پر کتابیں مرتب کیں جن میں بیس سے زیادہ قرأتیں جمع تھیں؛ پھر علامہ ابوبکر ابن مجاہد رحمہ اللہ (متوفی: ۳۲۴ھ) نے ایک کتاب لکھی، جس میں صرف سات قاریوں کی قرأتیں جمع کی گئی تھیں، اُن کی یہ تصنیف اس قدر مقبول ہوئی کہ یہ سات قراء کی قرأتیں دوسرے قراء کے مقابلہ میں بہت زیادہ مشہور ہوگئیں؛ بلکہ بعض لوگ یہ سمجھنے لگے کہ صحیح اور متواتر قرأتیں صرف یہی ہیں؛ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ علامہ ابن مجاہد رحمہ اللہ نے محض اتفاقاً ان سات قرأتوں کو جمع کردیا تھا، اُن کا منشاء یہ ہرگز نہیں تھا کہ ان کے سوا دوسری قرأتیں غلط یاناقابلِ قبول ہیں، علامہ ابن مجاہد رحمہ اللہ کے اس عمل سے دوسری غلط فہمی یہ بھی پیدا ہوئی کہ بعض لوگ “سبعۃ احرف” کا مطلب یہ سمجھنے لگے کہ ان سے یہی سات قرأتیں مراد ہیں جنھیں ابن مجاہد رحمہ اللہ نے جمع کیا ہے؛ حالانکہ پیچھے بتایا جاچکا ہے کہ یہ سات قرأتیں صحیح قرأتوں کا محض ایک حصہ ہیں؛ ورنہ ہروہ قرأت جو مذکورہ بالا تین شرائط پر پوری اُترتی ہو، صحیح، قابلِ قبول اور ان سات حروف میں داخل ہے جن پر قرآنِ کریم نازل ہوا۔

سات قرّاء
بہرِحال! علامہ ابن مجاہد رحمہ اللہ کے اس عمل سے جو سات قاری سب سے زیادہ مشہور ہوئے وہ یہ ہیں:
(۱)عبداللہ بن کثیر الداری رحمہ اللہ (متوفی: ۱۲۰ھ) آپ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی زیارت کی تھی اور آپ کی قرأت مکہ مکرمہ میں زیادہ مشہور ہوئی اور آپ کی قرأت کے راویوں میں بزی رحمہ اللہ اور قنبل رحمہ اللہ زیادہ مشہور ہیں۔
(۲)نافع بن عبدالرحمن بن ابی نعیم رحمہ اللہ (متوفی: ۱۶۹ھ) آپ نے ستر ایسے تابعین سے استفادہ کیا تھا جو براہِ راست حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے، آپ کی قرأت مدینہ طیبہ میں زیادہ مشہور ہوئی اور آپ کے راویوں میں ابوموسیٰ قالون رحمہ اللہ (متوفی: ۲۲۰ھ) اور ابوسعید ورش رحمہ اللہ (متوفی: ۱۹۷ھ) زیادہ مشہور ہیں۔
(۳)عبداللہ الحصبی رحمہ اللہ جو ابن عامر رحمہ اللہ کے نام سے معروف ہیں (متوفی: ۱۱۸ھ) آپ نے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ اور حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی زیارت کی تھی اور قرأت کا فن حضرت مغیرہ بن شہاب مخزدمی رحمہ اللہ سے حاصل کیا تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے، آپ کی قرأت کا زیادہ رواج شام میں رہا اور آپ کی قرأت کے راویوں میں ہشام رحمہ اللہ اور ذکوان رحمہ اللہ زیادہ مشہور ہیں۔
(۴)ابوعمرو زبان بن العلاء رحمہ اللہ (متوفی: ۱۵۴ھ) آپ نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور آپ کی قرأت “بصرہ” میں کافی مشہور ہوئی، آپ کی قرأت کے راویوں میں ابوعمرالدوری رحمہ اللہ (متوفی: ۲۴۶ھ) اور ابوشعیب سوسی رحمہ اللہ (متوفی: ۲۶۱ھ) زیادہ مشہو رہیں۔
(۵)حمزۃ بن حبیب الزیات مولیٰ عکرمہ بن ربیع التیمی رحمہ اللہ (متوفی: ۱۸۸ھ) آپ سلیمان اعمش رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں، وہ یحییٰ بن وثاب رحمہ اللہ عنہ کے، وہ زرّ بن حبیش رحمہ اللہ کے اور انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ سے استفادہ کیا تھا، آپ کے راویوں میں خلف بن ہشام (متوفی: ۱۸۸ھ) اور خلاد بن خالد رحمہ اللہ (متوفی: ۲۲۰ھ) زیادہ مشہور ہیں۔
(۶)عاصم بن ابی النجود الاسدی رحمہ اللہ (متوفی: ۱۲۷ھ) آپ زرّبن حبیش رحمہ اللہ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ اور ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ کے واسطہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں، آپ کی قرأت کے راویوں میں شعبہ بن عیاش رحمہ اللہ (متوفی: ۱۹۳) اور حفص بن سلیمان رحمہ اللہ (متوفی: ۱۸۰ھ) زیادہ مشہور ہیں، آجکل عموماً تلاوت انہی حفص بن سلیمان رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق ہوتی ہے۔
(۷)ابوالحسن علی بن حمزۃ الکسائی النحوی رحمہ اللہ (متوفی: ۱۸۹ھ) ان کے راویوں میں ابوالحارث مروزی رحمہ اللہ (متوفی: ۲۴۰ھ) اور ابوعمر الدّوری رحمہ اللہ (جو ابوعمرو رحمہ للہ کے راوی بھی ہیں) زیادہ مشہور ہیں،
مؤخرالذکر تینوں حضرات کی قرأتیں زیادہ ترکوفہ میں رائج ہوئیں؛ لیکن جیسا کہ پیچھے عرض کیا جاچکا ہے ان سات کے علاوہ اور بھی کئی قرأتیں متواتر اور صحیح ہیں؛ چنانچہ بعد میں جب یہ غلط فہمی پیدا ہونے لگی کہ صحیح قرأتیں اِن سات ہی میں منحصر ہیں تو متعدد علماء (مثلاً علامہ شذائی رحمہ اللہ اور ابوبکر بن مہران رحمہ اللہ) نے سات کے بجائے دس قرأتیں ایک کتاب میں جمع فرمائیں؛ چنانچہ “قرأت عشرہ” کی اصطلاح مشہور ہوگئی، ان دس قرأتوں میں مندرجۂ بالا سات قرّاء کے علاوہ ان تین حضرات کی قرأتیں بھی شامل کی گئیں۔
(۱)یعقوب بن اسحق حضرمی رحمہ اللہ (متوفی: ۲۰۵ھ) آپ کی قرأت زیادہ تربصرہ میں مشہور ہوئی۔
(۲)خلف بن ہشامؒ (متوفی: ۲۰۵ھ) جو حمزہ رضی اللہ عنہ کی قرأت کے بھی راوی ہیں، آپ کی قرأت “کوفہ” میں زیادہ رائج تھی۔
(۳)ابوجعفر یزید بن القعقاع رحمہ اللہ (متوفی: ۱۳۰ھ) جن کی قرأت مدینہ طیبہ میں زیادہ رائج ہوئی۔
اس کے علاوہ بعض حضرات نے چودہ قاریوں کی قرأتیں جمع کیں اور مذکورہ دس حضرات پر مندرجہ ذیل قرّاء کی قرأتوں کا اضافہ کیا:
(۱)حسن بصری رحمہ اللہ (متوفی: ۱۱۰ھ) جن کی قرأت کا مرکز “بصرہ” تھا۔
(۲)محمد بن عبدالرحمن ابن محیض رحمہ اللہ (متوفی: ۱۲۳ھ) جن کا مرکز “مکہ مکرمہ” میں تھا۔
(۳)یحییٰ بن مبارک یزیدی رحمہ اللہ (متوفی: ۲۰۲ھ) جو “بصرہ” کے باشندے تھے۔
(۴)ابوالفرج شنبوذی رحمہ اللہ (متوفی: ۳۸۸ھ) جو “بغداد” کے باشندے تھے۔
بعض حضرات نے چودہ قاریوں میں حضرت شنبوذی رحمہ اللہ کے بجائے حضرت سلیمان اعمش رحمہ اللہ کا نام شمار کیا ہے، ان میں سے پہلی دس قرأتیں صحیح قول کے مطابق متواتر ہیں اور ان کے علاوہ شاذ ہیں۔
(مناہل العرفان، بحوالۂ منجدالمقرنین لابن الجزریؒ)

(استفادہ :علوم القرآن ، از مفتی تقی عثمانی صاحب)

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *