طبیعی اصول وقوانین (Physical Laws)اور خدا

2

کائنات میں موجود طبعی قوانین کو ملحدین نے اتنا بڑھایا کہ اسے خدا سمجھ لیا، طبیعی اصولوں کے کسی نظام کے پائے جانے کی وجہ سے خدا کی ضرورت کا ہی انکار کر بیٹھے ، انکی دلیل یہ ہے کہ جب ہر واقعہ کچھ لگے بندھے اصولوں کے تحت انجام پارہا ہے تو خدا کا ارادہ ہرواقعے کے پیچھے تو کارفرما نہ ہوا! یہاں جو واقعات ہو رہے ہیں وہ ایک متعین قانون فطرت کے مطابق ہو رہے ہیں اس لئے ان کی توجیہہ کرنے کیلئے کسی نامعلوم خدا کا وجود فرض کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ معلوم قوانین خود اس کی توجیہہ کیلئے موجود ہیں۔ سٹیون ہاکنگ اپنی نئی کتاب ’ دی گرینڈ ڈیزائین` میں اپنے نظریے کی دلالت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
آفاق میں موجود کشش ثقل کے قانون کے مطابق دنیا بغیر کسی مصمم ارادے یا منصوبے کے وجود میں آسکتی ہے۔ کائنات کی تخلیق میں کسی ’ان دیکھے تخلیق کار‘ کا تصور سائنس کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔حوالہ
http://www.bbc.com/urdu/science/2010/09/100902_universe_without_god.shtml
ان دلائل کا جواب ہم یہاں ‘قوانین فطرت اور خدا کی ضرورت’ کی بحث میں دے چکے ہیں۔
http://ilhaad.com/2015/06/phylosphy/
سٹیفن ہاکنگ کے علاوہ ملاحدہ کی ایک اور قسم بھی ہے جو کائنات میں ڈیزائن اور ربط کے پائے جانے سے ہی انکاری ہے۔ کیونکہ کائنات میں ربط مان لینے کے بعد ‘ کسی ربط والے ‘ کو ماننا ربط کے خودبخود وجود میں آنے کے مقابلے میں ذیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے ۔۔۔!
لہذا یہ لوگ ایڑھی چوٹی کا زور لگاتے ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ربط یا تو نہیں اور اگر ہے بھی تو کامل نہیں ، کائنات میں امپرفیکشن کی مثالیں دینے لگتے ہیں مثلا مخلوق میں نقص ہے، زلزے آرہے ہیں، تباہی ، بیماری ہے وغیرہ۔جیسا کہ رچرڈ ڈاکنز کے آرگیومنٹ سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں پر ڈیزائن ہوگا وہاں پر پرفیکشن ہونا ضروری ہے… حالانکہ یہ ضروری نہیں ۔کائنات میں کسی جگہ مصلحت کے تحت کمی کا ہونا اور کاملیت کا نا ہونا سرے سے ربط کے ہی نا ہونے کی نشانی نہیں .. پھر اہل مذہب کا دعوی کائنات میں پرفکیشن کا نہیں ڈیزائن اور ربط کا ہے ، پرفیکشن وہ اس جہاں میں صرف خدا میں ہی مانتے ہیں۔۔!

اسی طرح کچھ (مذہبی )لوگ بھی موجود ہیں جو طبیعی اصولوں کے کسی نظام میں پائے جانے کو تسلیم کرلینے کو ہر ایک واقعہ میں ارادہ خداوندی کے الگ سے موجود ہونے کا انکار سمجھ بیٹھتے ہیں۔ یعنی جب ہر واقعہ کچھ لگے بندھے اصولوں کے تحت انجام پارہا ہے تو خدا کا ارادہ ہرواقعے کے پیچھے تو کارفرما نہ ہوا! چنانچہ ایک کو دوسرے کا نقیص سمجھتے ہوئے انہیں ان اصولوں کے کائنات میں پنہاں ہونے کا ہی انکار کرنا پڑجاتا ہے۔..
جب ایسے کوئی اصول موجود ہی نہیں تو اشیاءوواقعات کے ہونے اور عمل کرنے میں ان کا باہمی کوئی ربط اور تعلق نہیں! کیونکہ اس ربط وتعلق سے ہی تو یہ اصول وجود پاتے ہیں اور اس تعلق کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس طرح انہیں یہ ماننا پڑجاتا ہے کہ ہر ایک انفرادی وقوعہ تنہا ارادۂ خداوندی کا نتیجہ ہونے کے ناتے گردوپیش کے باقی تمام واقعات واشیاء سے آزاد اور لاتعلق ہوکر انجام پاتا ہے۔ یوں مشیئت الٰہی نے جب وقوعات کے درمیان کوئی طبیعی ربط نہیں رکھا تو حوادث کے وقوع پذیر ہونے کے طبیعی اصول نام کی کسی شے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رکھی۔ جب یہ اصول فطرت میں پائے ہی نہیں جاتے تو ان کو ضبط میں لانا چہ معنی دارد؟ یوں انکار کا یہ سلسلہ دراز ہوتے ہوتے بالآخر سائنسی طریقۂ علم ہی کے انکار پر جامنتج ہوتا ہے۔
اسی طرح انکے مطابق واقعات میں ربط اور تسلسل ، اور ان کے رُو پذیر ہونے کے طبیعی اصولوں کو تسلیم کرلینے سے یہ ماننا لازم آسکتا ہے کہ خدا نے اس کائنات اور اس کے نظام کو کچھ مخصوص اصولوں کے تحت بناکر چھوڑدیا ہے۔اور اب کائنات کا نظام خود بخود خالق کی منشا سے لاتعلق ہوکر ان اصولوں کے تحت چلا جارہا ہے، جس طرح گھڑی ساز گھڑی کو بناکر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے تیار کرنے والے سے آزاد طور پر چلتی رہتی ہے۔۔ ظاہر اس طرح کی سوچ رکھنا سراسر الحاد وکفر ہے لیکن ان کے حق میں جو پہلے سے ہی ملحد ہیں۔ مسلمانوں پر یہ کفر تو تب لازم آئے جب ان طبیعی اصولوں کے وجود اور اثر پذیری کو ماننے سے واقعی خالق کائنات کے ہمہ وقت کارفرما ارادے سے بالاتر ی اور بے نیازی کا تصور لازم آتا ہو۔۔۔
خالق کے قائم کردہ ان طبیعی اصولوں کو ماننا نیچریت نہیں ہے۔ کیونکہ نیچرسٹ تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان اصولوں کو غیر استثنائی مانتے ہیں اور خود خالق کوایک طرح سے ان اصولوں کے آگے مجبور۔ جبکہ ایمان والے تو ہر ایک وقوعے کی نسبت خدائے علیم وحکیم کی طرف ہی کرتے ہیں۔اس کی انفرادی حیثیت میں بھی اور کسی سلسلۂ واقعات میں ایک کڑی کی حیثیت میں بھی۔ کیونکہ اللہ کی قدرتِ مطلقہ وکاملہ پر ایمان رکھنے والے اس کی حکمتِ واسعہ وبالغہ پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ اور ان دونوں کے آثار وہ زمین وآسمان میں خدا کی جاری کردہ بے شمار سنتوں میں واضح طور پر دیکھتے ہیں۔ ۔
یہ سنتیں خواہ بندوں کے اعمال کے نتیجے میں ظاہر ہوں یا کائنات کے ”افعال“ کی صورت میں، ہر طرح سے یہ خدا ہی کے بنائے ہوئے اصول وقوانین کو واضح کرتی ہیں۔ البتہ استثناء ہر دو اقسام کی سنتوں میں پایا جاسکتا ہے ، جو ہر ایک انفرادی معاملے میں خدائی ارادے کی برتری اور غلبہ کو ظاہر کرتا ہے۔ استثناءات البتہ کہیں بھی ہوں، اصول وقوانین کی ضبط وتدوین میں آڑے نہیں آتے۔

خدا کی فرمانبرداری یا نافرمانی کی جانے کے حوالے سے جو خدائی سنتیں ازل سے چلی آرہی ہیں ، جن کے تحت کبھی انسان کی بداعمالیوں کے سبب خشکی اور تری میں فساد پھیل جاتا ہے اور کبھی اس کی فرمانبرداری کے صلہ میں زمین وآسمان سے برکات کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں،وغیرہ وغیرہ، تو جب ان ”شرعی اسباب“ پر مبنی خدائی سنتوں کے اصول وقوانین طے شدہ ہوجانے سے ارادۂ خداوندی کا معطل ہوجانا لازم نہیں آتا تو مادّی اور طبیعی اسباب پر مبنی خدا ہی کی طے کردہ سنتوں اور اصولوں کے متعین ہوجانے سے(خداوندی کا معطل ہوجانا) کیونکر ایسا لازم آسکتا ہے؟؟
مزید کسی قسم کے فطری اصولوں اور قوانین کے وجود رکھنے کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ لازماً قرآن وحدیث میں بیان ہوئے ہوں۔قرآن وسنت بنیادی طور پر شرعی اصولوں اور شرعی اسباب سے بحث کرتے ہیں۔ تاہم وہ مادی اور طبیعی اصولوں اور ان کی اہمیت سے انکار بھی نہیں کرتے۔ یہ تو علوم شرعیہ کی اپنی منہاج کا تقاضا ہے کہ وہ کچھ خاص قسم کے اصولوں سے ہی بحث کریں۔ چنانچہ طبیعی علوم ان کی راہ میں آڑے نہیں آتے اور یہ خود طبیعی علوم کے آگے رکاوٹ نہیں ڈالتے۔ شرعی علوم اور طبیعی علوم دونوں فطرت کے علوم ہیں۔ ان دونوں کی منہاج کا فرق یہی ہے کہ شرعی علوم عقل سے نہیں گھڑے جاتے، بلکہ ان کے لیے وحی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ طبیعی علوم کے لیے وحی کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ وہ عقل کے ذریعے معلوم ودریافت کیے جاسکتے ہیں۔

طبیعی اصول و قوانین _ جو خداوند فطرت نے ہی کائنات کے وقوعات میں اثر پذیر فرمائے ہیں، لیکن یہ کسی انفرادی وقوعہ میں ارادۂ خداوندی کے الگ سے پنہاں ہونے میں مانع نہیں ہیں _ یہ طبیعی اصول اگر اس کائنات میں پنہاں ہیں تو پھر محال ہے کہ انسانی عقل کبھی اِن کو دریافت ہی نہ کر سکے۔ یعنی شب و روز صدیوں سے مادّی عوامل وامور انسان کے سامنے رُونما ہوتے رہیں اور عقل کی نعمت غیر مترقبہ رکھنے والی یہ اکلوتی مخلوق کبھی یہ معلوم کرنے پر ہی نہ آسکے کہ یہ طبیعی عوامل کیسے اور کیونکر واقع ہوتے ہیں۔!
یا اگر معلوم کرے بھی تو بھی صدیوں کے سفر اور ذہنی و مادّی ارتقاءکے باوجود ہمیشہ غلط اندازوں اور نتائج ہی تک پہنچے۔! یا کبھی اگر ”بظاہر“ درست اندازوں تک پہنچ بھی جائے تو بھی اس کا نتیجہ کبھی حتمی نہ ہو۔ اور یہ جہان اور اس کے مظاہر انسانی عقل کے لیے ہمیشہ ایک دھوکا، سراب اور گورکھ دھندہ یا ایک ”شجر ممنوعہ“ کی سی حیثیت اختیار کیے رکھیں۔ اس طرح حقیقت تو کجا، ”حقیقت کے مظاہر“ ہی انسانی عقل کی ضبط بندیوں سے بالا تر قرار پائیں۔ پھر سوائے اس ایک بات کے انسانی عقل کسی حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہو کہ مظاہرِ کائنات اور عقل، ہر دو کی کوئی ضرورت ہے نہ مقصد! اور باقی حقیقتوں کے لیے کسی ”الہام“ کا منتظر رہنا پڑے۔
رہا یہ کہ تاریخ کے سفر میں انسان بہت سے اپنے ہی سائنسی نظریات بدلتا اور ردّ کرتا چلا آیا ہے، تو اِس سے یہ کہاں طے پا گیا کہ ہمیشہ ہی ایسا ہوتا رہے گا، اور کبھی کوئی نظریہ حتمی شکل اختیار ہی نہیں کر سکے گا؟ جب تک نظریات، مفروضہ (Hypothesis) کے phase میں ہوتے ہیں، اور ان کو تجربات کی مدد سے پرکھا اور جانچا نہیں گیا ہوتا، یا تجربات سے ان کی تصدیق نہیں ہوئی ہوتی، تب تک تو اس بات کی گنجائش موجود ہوتی ہے کہ کسی phenomenon کی تشریح کرنے والے کسی سائنسی نظریے کی جگہ کوئی اور نظریہ لے آیا جائے۔ لیکن تجربات سے بار بار ثابت ہو جانے کے بعد جب وہ مفروضہ، تھیوری کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پھر یہ گنجائش قریب قریب ختم ہو جاتی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ مزید سائنسی ترقی کے نتیجے میں پہلے سے ثابت شدہ کسی نظریے میں کوئی پیشرفت کرلی جائے، یا اس میں کوئی بہتری لے آئی جائے۔ سائنسی نظریات کی صداقت یا صحت دنیا میں پائی جانے والی سائنسی و ٹیکنالوجیکل ترقی کی صورت میں بہ آسانی بچشم سر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
طبیعی اصول و قوانین عالَم میں اگر کارفرما نہیں ہیں، یا اگر کارفرما تو ہیں مگر صحت و یقین کے ساتھ معلوم نہیں کیے جاسکتے، تو دنیا میں ایجاد کردہ ہزارہا آلات، پرزے، مشینیں، مصنوعات اور پلانٹس انسانیت کو کیونکر اپنی پیداوار، ثمرات اور مضمرات بہم پہنچا رہے ہیں؟؟ یا یہ بھی محض فریبِ نظر، اور فہم کا دھوکا ہے؟ یا یہ کہ یہ ایجادات اور دریافتیں بھی صرف الہامات کا نتیجہ ہیں، اور عقل نے بہر صورت لبِ بام تماشا ہی دےکھنا ہے؟؟؟

کائنات میں کارفرما طبیعی اصولوں میں یک رنگی و استمرار (uniformity) ، ان کی مدد سے طبیعی واقعات اور اشیاء کے وقوع پذیر ہونے کی بابت ٹھیک ٹھیک اندازہ کیا جانا (predictability) اور ان کی مقداری و تحسیبی حیثیت(computability) کا ہونا دنیا کا ایک مسلّمہ واقعہ بن چکا ہے۔ یعنی سائنسی نظریات کو اس قدر ترقی یافتہ شکل دی جا چکی ہے کہ انہیں اب بہ آسانی ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے بیان کیا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ اور عالم ِ واقعہ میں اِن اصولوں کا اِطلاق و استعمال (یعنی ٹیکنالوجی کا حصول) اِن فارمولوں کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔ بعض سائنسدانوں کے بقول، طبیعی اصول (physical laws) تو وہی ہوتے ہیں جنہیں فارمولوں کی زبان میں ڈھالا جا سکے۔ فارمولوں کی شکل اختیار کر لینے کے بعد طبیعی اصولوں کی مذکورہ تینوں خصوصیات یعنی uniformity ، predictabilityاور computability انتہائی واضح طور پر ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ اِس کے بعد اِن فارمولوں کی پشت پر پائے جانے والے سائنسی نظریات کے تبدیل یا ردّ ہونے کے اِمکانات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
اس کی ایک انتہائی سادہ مثال سورج گرہن اور چاند گرہن ہونے کی سائنسی پیشینگوئیاں ہیں۔ فلکیات اور ہیئت کے علوم سے تعلق رکھنے والے سائنسدان اپنے علم کی مدد سے مہینوں پہلے اِن واقعات کی جو پیشینگوئی کر دیتے ہیں، وہ بعد ازاں اپنے وقت اور مقام کے اعتبار سے بالکل درست اور صحیح (exact & accurate) نکلتی ہیں۔ جدید دنیا کے باسیوں کے لیے یہ بات تقریباً معمول کا ایک واقعہ بن چکی ہے، کہ وہ اِن فلکیاتی پیشینگوئیوں کی صداقت اور صحت بارہا ملاحظہ کرتے رہے ہیں۔ یہ سائنسدان اتنی درست پیشینگوئی کیسے کر جاتے ہیں؟ کیا اُن کے ہاتھ علمِ غیب کا کوئی سرا لگ جاتا ہے، یا یہ کہ وہ اجرامِ فلکی سے متعلق طبیعی اصولوں پر مبنی ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے اِن اجرام کی حرکت و رفتار وغیرہ کی تحسیب کے ذریعے ان نتائج تک پہنچتے ہیں؟ درحقیقت ایسے محض ایک واقعے کی درست اور مکمل prediction کے لیے کئی ایک ریا ضیاتی تخمینات (Mathematical Calculations) کی مدد لی جاتی ہے۔ پھر ہر ایک تخمین اورفارمولے کے ساتھ کئی ایک سائنسی نظریات متعلق ہوتے ہیں، جن میں سے کسی ایک جگہ بھی ذرا سی غلطی نتائج میں بہت بڑا فرق لے آنے کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نتائج مذکورہ مثال کے حوالے سے درست نکلتے ہیں۔
اِ س مثال سے کم اَز کم یہ ضرور ثابت ہو جاتا ہے کہ بہت سے پیچیدہ طبیعی اصول _ جو خالقِ کائنات نے ہی وضع فرمائے ہیں _ اِنسانی عقل سے بالکل صحیح صحیح طور پر معلوم و دریافت کیے جا سکتے ہیں۔
پھر جب خلا میں موجود اجرام سے متعلق اتنے درست سائنسی نظریات قائم کیے جا سکتے ہیں جو اِنسان کی پہنچ اور رَسائی سے حقیقتاً بہت ہی دور ہیں تو انسان خود اپنی دنیا کے کرّۂ حیات (Biosphere) سے متعلق سائنسی نظریات رکھنے میں درستی اور صحت کے مقام پر کیوں نہیں پہنچ سکتا؟!

مظاہرِکائنات اور ان کے طبیعی اصول _ یعنی سائنس_ اگر خود حقیقت نہیں ،تو حقیقت سے جدا اور منقطع بھی نہیں ۔ حقیقت سے ہی پھوٹنے اور اس سے ایک زبردست تعلق و ہم آہنگی رکھنے کے ناتے یہ اِنسان کو حقیقت ہی کی طرف پلٹاتے اور اسی کا سرا تھماتے نظر آتے ہیں۔ کوئی تھامنے پر آئے تو۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *