خلفائے راشدین کے عہد کے بعد قرآن کی تدوین وکتابت

111

دور ِعثمانی میں مصاحف کی جو نقلیں تیار کرکے مختلف بلادِ اسلامیہ کو بھیجی گئیں تھیں، وہ ایسے رسم الخط پر مشتمل تھیں جو ساتوں حروف کا متحمل ہو سکے ۔ اسی مقصد کے پیش نظر ان مصاحف کو نقطوں اورحرکات سے خالی رکھا گیا تاکہ ان حروف کی تمام متواتر قراء ات __ جو عرضۂ اخیرہ کے وقت باقی رکھی گئی تھیں اور ان کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی __ ان میں سما جائیں۔
یہ مصاحف ایک زمانہ تک بلادِ اسلامیہ میں رائج رہے، لیکن جب اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہوگیا، بے شمار عجمی ممالک اسلام کے زیر سایہ آگئے اور عربی اور عجمی زبانوں کا باہم اختلاط بڑھا توعربی زبان میں لحن عام ہوگیا۔ اوریہ خدشہ پیدا ہوا کہ کہیں فصیح عربی زبان عجمی اثرات سے ناپید نہ ہوجائے۔ مزید یہ کہ عجمی لوگوں کے لئے قرآنِ کریم کو بغیر نقطوں اور حرکات کے پڑھنا کافی دشوار تھا ۔چنانچہ اسلامی حکومت کے سامنے یہ خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں یہ صورت حال کتاب اللہ میں لحن اور لفظی تحریف پر منتج نہ ہو۔ لہٰذا اُنہوں نے اس صورت حال کے ممکنہ نتائج و اثرات سے نمٹنے کے لئے اس میں نقطوں اور حرکات کا اضافہ کیا جائے؛ تاکہ تمام لوگ آسانی سے اس کی تلاوت کرسکیں، اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کئے گئے، جن کی مختصر تاریخ درجِ ذیل ہے:

نقطے
اہلِ عرب میں ابتداً حروف پر نقطے لگانے کا رواج نہیں تھا اور پڑھنے والے اس طرز کے اتنے عادی تھے کہ انھیں بغیرنقطوں کی تحریر پڑھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی اور سیاق وسباق کی مدد سے مشتبہ حروف میں امتیاز بھی بہ آسانی ہوجاتا تھا، خاص طور سے قرآن کریم کے معاملے میں کسی اشتباہ کا امکان اس لیے نہیں تھا کہ اس کی حفاظت کا مدار کتابت پر نہیں؛ بلکہ حافظوں پر تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو نسخے عالم اسلام کے مختلف حصوں میں بھیجے تھے ان کے ساتھ قاری بھی بھیجے گئے تھے، جو اسے پڑھنا سکھاسکیں۔
نقطے کے دو مفہوم ہیں :
1. اس سے مرادوہ علامات ہیں جو کسی حرف پر حرکت و سکون اور شدومد وغیرہ کی شکل میں لگائی جاتی ہیں۔ چنانچہ بعض لوگوں نے ان نقطوں کو نقط الإعراب کا نام دیا ہے۔
2. اس سے مراد وہ نشانات ہیں جو ایک جیسے رسم والے حروف،مثلاً ب، ت، ث وغیرہ پر لگائے جاتے ہیں، تاکہ معجم اور مہمل حروف کے درمیان امتیاز ہوسکے۔ چنانچہ ب کے ایک نقطے نے اسے اس کے ہم رسم حروف ت اور ثسے ممیز کردیاہے اور ج کے نقطے نے اسے اس سے ہم رسم حروف حاور خ سے ممیز کردیا ہے۔ اسی طرح د اور ذ اور ر، ز وغیرہ کا معاملہ ہے۔ بعض لوگوں نے ان نقطوں کو نقاط الأعجام کا نام دیا ہے۔
اس میں روایات مختلف ہیں کہ قرآن کریم کے نسخے پر سب سے پہلے کس نے نقطے ڈالے؟ بعض روایتیں یہ کہتی ہیں کہ یہ کارنامہ سب سے پہلے حضرت ابوالاسود دؤلی رحمہ اللہ نے انجام دیا (البرہان: ۱/۲۵۰) بعض کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ کام حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلقین کے تحت کیا (صبح الاعشی:۳/۱۵۵) اور بعض نے کہا ہے کہ “کوفہ” کے گورنر زیاد بن ابی سفیان نے ان سے یہ کام کرایا اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ کارنامہ حجاج بن یوسف نے حسن بصری رحمہ اللہ، یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ اور نصر بن لیثی رحمہ اللہ کے ذریعہ انجام دیا۔
(تفسیرالقرطبیؒ: ۱/۶۳)

حرکات
نقطوں کی طرح شروع میں قرآن کریم پر حرکات (زیر، زبر، پیش) بھی نہیں تھیں اور اس میں بھی روایات کا بڑا اختلاف ہے کہ سب سے پہلے کس نے حرکات لگائیں؟ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ کام سب سے پہلے ابوالاسود دؤلی رحمہ اللہ نے انجام دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ کام حجاج بن یوسف نے یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ اور نصر بن عاصم لیثی رحمہ اللہ سے کرایا۔
(قرطبی: ۱/۶۳)
اس سلسلے میں تمام روایات کو پیشِ نظر رکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حرکات سب سے پہلے ابوالاسود دؤلیؒ نے وضع کیں؛ لیکن یہ حرکات اُس طرح کی نہ تھیں جیسی آجکل رائج ہیں؛ بلکہ زبر کے لیے حرف کے اوپر ایک نقطہ ( .—) زیر کے لیے حرف کے نیچے ایک نقطہ ( .—) اور پیش کے لیے حرف کے سامنے ایک نقطہ (.—) اور تنوین کے لیے دو نقطے ..—) یا ..— یا (..— مقرر کیئے گئے بعد میں خلیل بن احمد رحمہ اللہ نے ہمزہ اور تشدید کی علامتیں وضع کیں (صبح الاعشی: ۳؍۱۶۰، ۱۶۱) اس کے بعد حجاج بن یوسف نے یحییٰ بن یعمر رحمہ اللہ، نصر بن عاصم لیثی رحمہ اللہ اور حسن بصریؒ سے بیک وقت قرآن کریم پر نقطے اور حرکات دونوں لگانے کی فرمائش کی، اس موقع پر حرکات کے اظہار کے لیے نقطوں کے بجائے زیر، زبر، پیش کی موجودہ صورتیں مقرر کی گئیں؛ تاکہ حروف کے ذاتی نقطوں سے اُن کا التباس پیش نہ آئے۔

عباسی دورِ حکومت
اس دور میں علم نحو کے عظیم ماہرخلیل بن احمد فراہیدی نے ابواسود ؒکے نقط الشکل کو سامنے رکھتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے مطابق نئی علامات ِضبط ایجاد کیں اور یہی وہ علاماتِ ضبط ہیں جو آج تک رائج چلی آرہی ہیں۔ اس نے الشکل بالنقاط کی بجائے الشکل بالحرکات کا طریقہ ایجاد کیا ،یعنی اس نے ضمہ (پیش) کے لئے حرف کے اوپر چھوٹی سی واؤ ، فتحہ (زبر) کے لئے حرف کے اوپر ترچھی لکیراور کسرہ (زیر)کے لئے حرف کے نیچے ایک ترچھی لکیر اورشد(ii) یا تشدید کے لئے حرف کے اوپر س کا سرا اور جزم کے لئے ج کا سرا اور مد ّکے لئے حرف کے اوپر آ کی علامت کو اختیار کیا۔اسی طرح اس نے اصطلاحاتِ وقف ‘رَوم’ و ‘اشمام’ کی دیگر علامات وضع کیں۔ پھر خوبصورتی اور اختصار کی خاطر ان علامات میں مزید اصلاحات و ترمیمات کی گئیں۔ اور ارتقا کے ان مختلف مراحل کے بعد علاماتِ ضبط کا یہ طریقہ رائج ہوا جو اس وقت ہمارے سامنے موجود ہے۔

مصحف کی اَجزا ( پاروں) میں تقسیم
مصاحف ِعثمانیہ جس طرح نقطوں اور اِعراب سے خالی تھے، اسی طرح ان میں اَجزا اور پاروں کی تقسیم بھی نہیں تھی۔ پھر بعض لوگوں نے آسانی کے خیال سے مصحف ِعثمانیہ کو ۳۰ حصوں میں تقسیم کردیا اور ہر حصے کو جز (پارے) کا نام دیا۔ پھر جز کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا گیا اور پھر ان کو مزیدچار حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر حصہ کو رُبع کا نام دیا گیا۔ قرآنِ کریم کی یہی تقسیم شروع سے مشہور چلی آرہی ہے ۔

آیات: دور ِاوّل کے بعض کاتبینِ مصاحف آیات کے مابین فاصلوں میں سے ہر فاصلہ کے بعد تین نقطے ڈالتے تھے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں یہ آیت ختم ہوچکی ہے۔ نیز وہ سورہ کی ہر پانچ آیات کے اختتام پر (حاشیہ میں) لفظ خمس اور ہر دس آیات کے اختتام پر (حاشیہ میں) لفظ عشر لکھتے تھے۔ چنانچہ قتادہ ؒفرماتے ہیں:
بدأوا فنقطوا ثم خمسوا ثم عشروا
”پہلے پہل اُنہوں نے نقطے لگائے۔ پھر خمس کا نشان اور پھر عشر کا نشان لگایا۔”
اسی طرح بعض کاتبین خمس کی بجائے خ اور عشر کی بجائے ع کا سرا استعمال کرتے تھے۔ اوران میں سے بعض سورت کا نام بھی لکھتے تھے اور ساتھ یہ بھی لکھتے کہ یہ سورت مکی ہے یا مدنی۔ نیزسورہ کے آخر میں آیات کی تعداد بھی تحریر کرتے تھے۔ بعد میں تلاوت اور تجوید کی آسانی کے لئے کچھ مزید رموزو اوقاف بھی وضع کئے گئے جن کی تفصیل مطبوعہ قرآنی نسخوں کے آخر میں دیکھی جا سکتی ہے ۔
ان تمام اُمورکے متعلق علما کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے کراہت کے ساتھ اس کی اجازت دی ہے، لیکن دیگر کے نزدیک اس میں کراہت کا کوئی پہلو نہیں ہے اور یہی موقف زیادہ راجح ہے، کیونکہ اس طرح کے رموزو اوقاف قارئ قرآن کے لئے سہولت اور قراء ت میں مزید اشتیاق کا باعث بنتے ہیں۔

منزلیں
صحابہ اور تابعین کا معمول تھا وہ ہرہفتے ایک قرآن ختم کرلیتے تھے اس مقصد کے لیے انہوں نے روزانہ تلاوت کی ایک مقدار مقرر کی ہوئی تھی جسے “حزب” یا “منزل” کہا جاتا ہے، اس طرح پورے قرآن کو کل سات احزاب پر تقسیم کیا گیا تھا۔
(البرہان: ۱/۲۵۰)

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*

Forgot Password