مکہ کا تاریخی وجود اور ملحدین کے آرکیالوجیکل مفروضے

12743774_1729599093943382_7075845887874909947_n

ملحدوں کے ایک گروپ میں آجکل ایک ملحد صاحب چند ذومعنی تاریخی روایات سے اپنے مرضی کے مطالب اور مفروضے نکالنے کو آرکیالوجی اور خود کوآرکیالوجسٹ سمجھے بیٹھے ہیں، صاحب مکہ اور کعبہ کے تاریخی وجود پر کرسچین مشنریز کا گھسا پٹا اعتراضی میٹریل اردو میں ٹرانسلیٹ کرکے اپنے نام سے پبلش کررہے ہیں اور اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق ، سب فری بلنکرز ان کے علم پر عش عش کررہے ہیں۔ ہم گزشتہ تین تحاریر میں مکہ ، کعبہ اور آب زم زم کے وجود پر تاریخی دلائل پیش کرچکے ہیں، اس تحریر میں ان علامہ ملحد صاحب کی تحقیقات کا سرسری جائزہ پیش ہے۔ ان چند چاولوں سے ہی ملحد صاحب کی پکائی کھچڑی کی پوری دیگ کا اندازہ ہو جائے گا۔
علامہ ملحد صاحب نے اپنے مقدمے کی بنیاد جس آیت پرکھی وہ سورۃ الشوریٰ کی آیت ہے جس میں قران مکہ کو “ام القریٰ” کے نام سے پکارتا ہے۔ اور اس آیت سے ان صاحب نے اخذ کیا کہ قران چونکہ مکہ کو شہروں کی ماں قرار دے رہا ہے اسکا مطلب ہے کہ قران مکہ کے قدیم ترین ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے ، اس سے انہوں نے جو مفروضے اور مطالب اخذ کیے انکی وہ کوئی دلیل نہیں پیش کرسکے لا سکے ۔ انکے ان دعووں کی کوئی صراحت قران سے بھی نہیں ملتی۔
سوال یہ ہے کہ قرآن نے کس بنیاد پر مکہ کو ام القری کہا ، علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ” مکہ ام القریٰ اس لئے ہے کیونکہ یہ خدا کی نظر میں افضل ہے۔ کیونکہ بہت سے انبیاء یہاں تشریف لائے، نبیﷺ بھی یہاں ہی پیدا ہوئے اور خدا کی عبادت کے لئے بنایا گیا گھر بھی اسی شہر میں تھا تو اسکی حرمت اور قدر تو خود ہی ہوگئی۔ (تفسیر ابن کثیر )
قران نے شراب کو ام الخبائث سے تعبیر کیا ہے۔ اب اگر اس سے کوئی استدلال کرے کہ قران کا مقصود یہ بتانا کہ شراب بہت پرانا مشروب ہے تو اسکے بارے میں خود ہی فیصلہ فرما لیں کہ وہ کس جگہ کھڑا ہے اور اس پہ بلند و بانگ دعویٰ جات۔۔اب آپ خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں جس بندے کے مقدمے کی بنیاد ہی ایک علمی بد دیانتی پہ ہو وہ آگے کیا بیان کرے گا۔
ایک اور ملحد صاحب نے وہاں سورہ آل عمران آیت نمبر 96 ( ان اول بیت وضع للناس للذی ببکته) پیش کی کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کو قران قدیم ترین شہر قرار دے رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے قرآن نے یہاں بھی مکہ کے بارے میں بات نہیں کی۔ بلکہ اس آیت میں بھی صرف خانہ کعبہ کا ذکر فرما رہا ہے کہ اللہ کے لئے یہاں سب سے پہلا عبادت خانہ بنا…. کب؟ اس کی کوئی صراحت نہیں کی گئی .

جناب نے ایک قسط میں ابن اسحاق اور طبری کی ایک روائت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ (حضرت عبداللہ حضرت آمنہ کے پاس پہنچے تو باہر کھیتوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان پر کچھ مٹی لگی ہوئی تھی)… علامہ ملحد صاحب کا مسخرہ پن ملاحظہ کیے اس سے جناب نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس سے مکہ شہر کا کوی زرعی شہر ہونے کا تاثر ابھرتا ہے جہاں چار سو کھیت اور فصلیں لہلہاتی ہوں جو کہ مکہ میں ممکن نہیں بلکہ پترا میں ممکن ہےلہذا وہ مکہ میں نہیں پترا میں آباد تھے …. یہ ہے انکی آرکیالوجیکل تحقیق کا معیار!!
بات یہ کہ مذکورہ روایت میں شہر کی زرعی حیثیت کا ذکر نہیں… بلکہ مزرعہ کی بات ہے.. ہر وہ جگہ جہاں چند کھجور کے درخت اور کچھ گھاس پھونس اگائی گئی ہو اسے مزرعہ کہتے ہیں…. اور خطہ عرب میں مزرعہ جات کوئی لمبے چوڑے مربع ایکڑ پر مشتمل زرعی میدان نہیں ہوتے… اور اس دور میں تجارت کے علاوہ فرصت کے دنوں میں یہی چھوٹا موٹا کام ہوا کرتا تھا…. اب ایسے کسی چھوٹے سے باغیچہ میں بھی کام کرنا ہو تو انسان پر مٹی کا لگنا ایک عام سی بات ہے… اس کے لئے کسی بڑے زرعی رقبہ میں کدال سے کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں…
پھر جناب نے مکہ کے راستوں پر مفروضہ باندھا ہے کہ یہ مکہ کے داخلی راستے دروں کی صورت ہونے چاہئے تھے اور اس کی دیواریں ہونی چاہئیں تھیں.. اور یہ کہ مکہ میں کسی طرف سے بھی پہاڑ پر چڑھ کر درے کے ذریعے نیچے اترنے کی ضرورت نہیں ہے… جناب کا آرکیالوجیکل نالج ملاحظہ کیجیے جناب کو یہ بھی نہیں پتا درہ ہوتا کیا ہے اور کیسا ہوتا ہے ۔؟درہ دو پہاڑوں کے درمیان سے گزرے والا راستہ ہو تا ہے… نا کہ پہاڑ پر چڑھ کر واپس اترنا درہ کہلاتا ہے…
مکہ کے راستوں کے متعلق ایک روایت ملاحظہ کیجیے
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خاتم بن اسماعیل نے ہشام سے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے بالائی علاقہ کداءکی طرف سے داخل ہوئے تھے۔ لیکن عروہ اکثر کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا۔(کداءبالمد ایک پہاڑ ہے مکہ کے نزدیک اور کدیٰ بضمِ کاف بھی ایک دوسرا پہاڑ ہے جو یمن کے راستے سے ہے۔)
مکہ کے بالائی اور زیریں راستے برساتی نالوں کے حساب سے ہی سمجھے جاتے ہیں… پہاڑوں میں وہ سمت جس طرف سے وادی (برساتی نالہ) آ رہا ہے وہ بالائی حصہ ہوتا ہے اور جس طرف کو یہ وادی جا رہی ہے وہ زیریں حصہ ہوتا ہے… اور یہ بات اٹل ہے کہ زمین کی زیریں حصہ سمندر کی طرف ہوتا ہے… اور سطح سمندر سے دور ہٹتے ہوئے ہم بالائی حصہ کی طرف جا رہے ہوتے ہیں.. لیکن اس صورت میں بھی س یہ بات بچگانہ سی ہے کہ بالائی درہ کوئی پہاڑ پر چڑھ کر اترنے کو کہتے ہیں

علامہ صاحب کا اک اور مفروضہ ملاحظہ ہو کہ جناب نے لکھا کہ مکہ کیونکہ ایک بڑا تجارتی شہر گردانا جاتا تھا جس میں اتنے بڑے بڑے تاجر تھے جن کے ایک وقت میں پچیس سو اونٹ تک قافلے میں شامل ہوتے تھے… اتنی بڑی آبادی میں مکہ کے لوگ کھاتے کیا تھے…. کیونکہ مکہ پہاڑوں میں گھرا ہو شہر ہے جس میں کوئی زراعت نہیں ہے…. اور اس شہر میں ایسا کیا پیدا ہوتا تھا جسے یہ لوگ مال تجارت کے طور پر دوسرے علاقوں میں بیچتے تھے….
پہلی بات کا جواب تو جناب کے سوال میں ہی ہے کہ مکہ والے تاجر تھے تو دوسرے ممالک سے اپنے لئے خوراک کا سامان لانا کوئی انہونی بات نہیں ہے… اس کے علاوہ جانوروں کی پرورش اور دودھ اور کھجور ان کی بنیادی غذا تھی… یہ اونٹ صرف بار برداری کے ہی نہیں ہوتے تھے، ان اونٹوں کی خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، یہ جانور فروخت کرتے… وہاں سے ان کے عوض دیگر سامان تجارت خریدتے اور اس سامان کو آگے کی منڈیوں میں بیچ دیتے… ملحد صاحب کو اتنی عرق ریزی کے بعد اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ خوراک کے لئے اپنے ہی علاقہ میں ذراعت کوئی مسلمہ اصول نہیں ہے دنیا کا…. اگر ایسا ہوتا تو وینس شہر کا تو دنیا میں نام و نشان ہی نا رہتا… وہ لوگ تو بھوکے ہی مر جاتے… کیونکہ سمندر کی بیچ بسے اس شہر میں ذراعت کا تو ذکر بھی ممکن نہیں……
اور تجارت کے لئے مال کا بھی پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پالے ہوئے جانور یعنی بھیڑ بکریاں اور اونٹ وغیرہ….اور دوسرے ممالک سے خریدا گیا سامان تجارت آگے کی منڈیوں میں فروخت کرنا، اس پر منافع کمانا اور اپنے لئے سامان خورد و نوش خریدنا… یہ سب مکہ والوں کی تجارت کا احوال تھا۔۔

علامہ آرکیالوجی ایک اور سوال پیش کرتے ہیں کہ مکہ والے پہلے تو دور سے گزر کر مدینہ کے شمال میں جاتے تھے، اور پھر مشرق کی طرف “بائیں” مڑ کر مدینہ کے شمال میں پہنچ کر گھوم کر مدینہ پر حملہ کرتے تھے.. یہاں جناب اندازہ لگوا رہے ہیں کہ حجاز کے ان دشوار گزار راستوں میں جہاں پانی کا ملنا انتہائی مشکل ہے مکہ کی فوج ریگستان میں چلتے ہوئے مدینہ کے شمال مشرق سے جاکر حملہ کرتے ہیں۔۔۔ علامہ صاحب نے بجائے کوئی مستند حوالہ دینے کے محض اپنے اس مفروضے سے کہ وہ مدینہ کے شمال سے حملہ آور ہوتے تھے’ یہ نتیجہ نکالا کہ قریش مکہ کے بجائے پترا کے رہائشی تھے ۔ ۔
ملحدوں نے آرکیالوجی کا بھی بیڑا غرق کرنے کی قسم اٹھائی ہوئی ہے۔۔بندروں کے ہاتھ استرا آگیا ہے۔۔
مکہ سے چلنے والا لشکر جس کی بنیادی ضرورت اس سفر میں پانی کا حصول اور نسبتا ہموار راستہ ہے جس پر وہ اپنے جانوروں اور سامان کے ساتھ چلتے ہوئے مدینہ پہنچ جائیں.. اس لشکر قریش نے مدینہ کے قریب جاتے ہوئے پہاڑوں سے بچنے اور نسبتا ہموار راستے پر چلتے ہوئے وادی العقیق کا انتخاب کیا… یہ برساتی نالہ ان کی پانی کی ضرورت کے لئے بھی بہتر تھا کیونکہ پہاڑوں میں ایسے برساتی نالوں میں تھوڑی سے کھدائی سے پانی حاصل کیا جا سکتا ہے….
وادی العقیق کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے لشکر کفار مدینہ کے مغرب سے گزرتے ہوئے شمال مغرب میں پہنچا… جہاں وادی العقیق اور وادی قناة جو کہ مدینہ کی طرف سے آ رہی ہے اکٹھا ہوتی ہیں… اور آگے یہ دونوں مل کر وادی الحمض کی شکل آگے نکل جاتی ہیں… وہاں سے وادی العقیق کو چھوڑ کر انہوں نے وادی قناة کے ساتھ ساتھ واپس مدینہ کی طرف سفر شروع کیا اور مشرکین نے شمال مغرب سے بل کھاتے ہوئے مڑ کر جنوب مغرب میں چلتے ہوئے وادی کے ساتھ ساتھ سفر کیا… اس وادی کے ساتھ آگے بائیں گھوم کر جنوب مشرق کی سمت چلتے ہوئے موجودہ العیون کے مغرب سے گزر کر جبل احد کے جنوب میں پہنچ گیا جو کہ مدینہ کے شمال میں واقع ہے… اس طرح لشکر مکہ شمال مغرب سے جبل احد کے دامن میں داخل ہوا… اور لشکر مدینہ جنوب سے شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے میدان احد پہنچا… وہ دور افواج کی حرکت کے لئے اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں وغیرہ پر انحصار کرنے کا تھا… پیرا ٹروپنگ کا تصور بھی نہیں تھا، اس لئے مکہ سے چلنے والا لشکر مدینہ کے تین اطراف پھیلے پہاڑوں پر چڑھنے کی غلطی کرکے مرنے کی بجائے ان وادیوں (برساتی نالوں) کے ساتھ ساتھ لمبا چکر کاٹ کر گھومتا ہوا ہموار راستے سے مدینہ کی طرف اترا اور بھاگنے کے لئے بھی انہیں اسی راستے پر جانا تھا… ناکہ پہاڑوں ہر چڑھ کر پتھروں میں مر جاتے..
ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ ملحد صاحب نے جو نقشہ بنا کہ احد کی جنگ کو دکھایا ہے اسمیں احد پہاڑ کو اٹھا کہ وہ کوسوں دور لے گئے ہیں تاکہ انکے گوگلی امر کی وضاحت ہوسکے۔۔۔ حالانکہ احد پہاڑ اور مدینہ بلمقابل ہیں اور موصوف نے جو نقشہ پیش کیا ہے اسکے مطابق مدینہ وہ کہاں پیچھے جبکہ احد کا میدان بہت آگے نکل جاتا ہے۔۔۔۔ تھوڑا عرصہ ہے موصوف اس پہاڑ کو جلد پترا واپس پہنچا کہ دم لیں گے، جنگ احد کا یہ نقشہ کسی نا سمجھ بچے کے لئے تو شائد قابل قبول ہو، کسی بھی سمجھدار انسان کے لئے ہنسنے کا ہی مقام ہے… جناب لشکر قریش کا جو روٹ دکھا رہے ہیں وہ موجودہ مدینہ کی مکمل آبادی سے باہر سے نکال کر لائے ہیں اور جبل احد کی شمالی سمت جا کر پہاڑ کے پار میدان جنگ سجا دیا ہے… جبکہ میدان جنگ جبل احد کی جنوبی سمت مدینہ کی طرف ہے… اپنی لائن ڈرا کرتے ہوئے حاجی صاحب یہ بھول گئے کہ جنگ احد دسمبر 2015 میں نہیں لڑی جا رہی جو محترم کفار کے روٹ کو موجودہ مدینہ کی آبادی سے باہر نکال کر جبل احد کے بھی پار پہنچا رہے ہیں… بلکہ اس وقت مدینہ کی مرکزی بستی موجودہ مسجد نبوی کے رقبہ کے ہی برابر تھی… اور باقی بستیاں الگ الگ تھیں جو مختلف قبائل کا مسکن تھیں… اور قریش مدینہ کی مرکزی بستی پر حملہ آور تھے جہاں خود محمد الرسول اللہ موجود تھے..
اسی طرح صاحب نے جنگ خندق کا نقشہ پیش کیا ہے ،اسکے میدان جنگ کے حوالے سے صرف اپنی مرضی کی کانٹ چھانٹ کر کے چند چیزیں دکھائیں اور ان پر مفروضہ باندھ لیا…ہمیں اس کا جواب دینا بھی ایک بچگانہ عمل اورملحدوں کی چولیات کو بلاوجہ کی اہمیت دینے جیسا لگتا ہے۔۔

ملحد صاحب کے مکہ پہ اعتراض کے سلسلے میں پٹالومی کا ذکر کیا ، پٹالومی کے حوالے سے مشہور ہے کہ اس نے اپنے نقشے میں جس شہر کا ذکر کیا جسے اس نے مکروبہ کا نام دیا تھا۔ وہ شہر اصل میں مکہ تھا۔ اس پر گزشتہ تحاریر میں ہم تفصیل پیش کرچکے مزید پانچ تاریخ دانوں کی شہادتوں کے حوالے پیش ہیں۔
Cyril Glassé: The New Encyclopedia of Islam By Cyril Glassé page 302
(Ilya Pavlovich Petrushevsky (1898–1977): Islam in Iran by I. Pavlovich Petrushevsky page 3
Michael Wolfe:One Thousand Roads to Mecca: Ten Centuries of Travelers Writing about the Muslim pilgrimage Michael Wolfe introduction xv
Paul Wheatley:Paul Wheatley The Origins and Character of the Ancient Chinese City: volume 11 page 288
Mogens Herman Hansen: A Comparative Study of Thirty City-state Cultures: An Investigation, Volume 21 by Mogens Herman Hansen page 248 NOTE 24

بقول علامہ ملحد صاحب کہ یہ تمام عیسائی مورخین تھے اور ایک پروپگنڈہ کے طور پہ انہوں نے یک زبان جھوٹ لکھا۔ اور علامہ صاحب چونکہ ملحد ہیں اس لیے وہ سچے مفروضے قائم کررہے ہیں یہ مکہ والی حقیقت ابھی چند سالوں پہلے کھلی ہے کیونکہ اسوقت ابھی سٹلائٹ ایمجری اور دوسری سہولیات میسر نہی تھیں۔۔۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اتنی بھی کم سہولیات نہیں تھیں۔ مکروبہ کے بارے میں انکا کہنا تھا یہ کوئی بستی تھی جو اب ختم ہوچکی ہے۔ اس لئے مکروبہ مکہ نہیں ہے۔ مکہ کے تاریخی وجود کے متعلق چند اور مورخین کا حوالہ دیکھیے
Reverend Charles Augustus Goodrich:
Whatever discredit we may give to these, and other ravings of the Moslem imposter concerning the Caaba its high antiquity cannot be disputed; and the most probable account is, that it was built and used for religious purposes by some of the early patriarchs; and after the introduction of idols, it came to be appropriated to the reception of the pagan divinities. Diodorus Siculus, in his description of the cost of the Red Sea, mentions this temple as being, in his time, held in great veneration by all Arabians; and Pocoke informs us, that the linen or silken veil, with which it is covered, was first offered by a pious King of the Hamyarites, seven hundred years before the time of Mahomet۔
(Religious Ceremonies and Customs, Or: The Forms of Worship Practised by the several nations of the known world, from the earliest records to the present time, Charles Augustus Goodrich [Hartford: Published by Hutchinson and Dwine 1834] page 124)

John Reynell Morell:
…historically speaking, Mecca was a holy city long before Mohammed. Diodorus siculus, following agatharcides, relates that not far from the red sea, between the country of the Sabeans and of the Thamudites there existed a celebrated temple, venerated throughout Arabia.
(Turkey, Past and Present: Its History, Topography, and Resources By John Reynell Morell page 84)

Colin Macfarquhar:
The reign of the heavenly orbs could not be extended beyond the visible sphere; and some metaphorical powers were necessary to sustain the transmigration of the souls and the resurrection of bodies: a camel was left to perish on the grave, that he might serve his master in another life; and the invocation of departed spirits implies that they were still endowed with consciousness and power. Each tribe, each family, each independent warrior, created and changed the rites and the object of this fantastic worship; but the nation in every age has bowed to the religion as well as to the language, of Mecca. The genuine antiquity of the Caaba extends beyond the Christian era: in describing the coast of the Red Sea, the Greek historian Diodorus has remarked, between the Thamaudites and the Sabeans a famous temple, whose superior sanctity was revered by ALL THE ARABIANS: the linen or silken veil, which is annually renewed by the Turkish Emperor, was first offered by a pious King of the Homerites, who reigned 700 years before the time of Mahomet.“
(Encyclopaedia Britannica: Or, A Dictionary of Arts, sciences and Miscellaneous Literature Constructed on a Plan Volume 2, by Colin Macfarquhar page 183 – 184)

Andrew Crichton:
“From the celebrity of the place, a vast concourse of pilgrims flocked to it from all quarters. Such was the commencement of the city and the superstitions fame of Mecca, the very name of which implies a place of great resort. Whatever credit may be due to these traditions, the antiquity of the Kaaba is unquestionable; for its origin ascends far beyond the beginning of the Christian era. A passage in Diodorus has anobvious reference to it, who speaks of a famous temple among the people he calls Bizomenians, revered as most sacred by all Arabians.”
(The history of Arabia, ancient and modern Volume 1 [second edition] By Andrew Crichton page 100)

یہ آٹھ سے نو مورخین اور جغرافسٹ ایک بات کر رہے ہیں جو ملحد صاحب کو اپنے الحاد اور مفروضوں کے خلاف سازش محسوس ہورہی ہے۔
جہاں تک پٹالومی میں ذکر نا آنے کی بات ہے پہلے تو یہ واضح ہو کہ پٹالومی کے کوآرڈینٹس کو آج کے کئی جغرافسٹ جھٹلا چکے ہیں۔ اسکے کوآڈینیٹس صحیح نہیں تھے۔ اسکے علاوہ اس نے جو نقشہ بنایا وہ نقشہ بھی خود دیکھ کہ نہیں بلکہ قافلوں سے معلومات اور مطالعے کے بعد ترتیب دیا تھا۔ اس بنیاد پہ پٹالومی کے نقشے پہ انکو انکے صحیح مقام پہ ڈھونڈنا بے فائدہ ہے۔ اس سلسلے میں ملحد صاحب ہی کا ایک کمنٹ ملاحظہ ہو۔
/////پٹالمی کے نقشے کو صیحح کرکے پڑھنے میں سینکڑوں سال لگ گیے ، انیس سو پچاس سے کئی عیسائی آرکیا کوجسٹس نے بائیبل میں موجود مقامات کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ، اور ان کے پاس سواۓ اس ایک نقشے اور مختلف قدیم تاریخ دانوں کے بیان کردہ لوکشنوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا ، ان سب کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ، لیکن جب سے اس نقشے کو اچھی طرح ٹرانسلیٹ کیا گیا اوراور اس کی زمینی پیمائش کو کومپیوٹر کے توسط سے صحیح کیا گیا ہے ، تب سے ہمیں اس نقشے میں موجود شہروں کی جغرافیائی لوکیشنوں ڈھونڈنے میں آسانی ہو رہی ہے ، پٹولمی نے عرب کے علاقوں کو تین حصوں میں تسیم کیا تھا ، پٹالمی نے یہ سب نقشے خود ہر جگہہ دیکھنے کے بعد نہیں بنائے بلکہ اس نے مختلف سوداگروں سیاحوں وغیرہ کی انفرمیشن سے ان کو بنایا تھا ، اور ان نقشوں کو بناتے وقت کئی غلطیاں کیں اور کونفیگریشن درست نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر بہتے دریاؤں کی لوکیشزکو بہت زیادہ شمال کی طرف دھکیل دیا گیا ، اس کا تقریبن ہر نقشہ پہلے ولے سے تھوڑا مختلف ہے ،جیسا کہ اوپر نقشے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مقروبا کے اوپر ایک دریا نظر آ رہا ہے لیکن یہ دریا کبھی یہاں تھا ہی نہیں یہ دریا نیچے یمن وا لے ایریے میں بہتا ہے ا، لیکن ان غلطیوں کو سدھار نے کے لئے ماڈرن آرکیالوجسٹس نے طریقے نکال لئے ہیں////

اس تنقیدی سلسلے میں ملحد صاحب نے دو دلائل دیے۔
اول: پٹالومی کے نقشے کو دوبارہ جغرافسٹ نے محنت سے صحیح ترتیب دیا ہے۔
اسکا مطلب ہے کہ صیح ترتیب شدہ نقشے پہ مکہ اب موجود نہی ہے۔ عمدہ بہت عمدہ، اسی طرح کے بہت سے ترتیب شدہ نقشے موجود ہیں جن پہ نبیﷺ سے بہت پہلے مکہ کی موجودگی کا ذکر موجود ہے۔ وہ بھی ترتیب شدہ ہے۔
دوم: مکہ پہاڑیوں کے بیچ موجود ہے وہ پہاڑیوں سے باہر رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ ملحد صاحب اپنی بات میں خود مان چکے ہیں کہ پٹالمی نے مکروبہ کے اوپر ایک دریا دکھایا تھا لیکن یہ دریا کبھی بھی یہاں نہیں تھا بلکہ یہ دریا بہت نیچے یمن کے علاقہ میں بہتا ہے، اس ہزاروں کلومیٹر کے فرق کو ملحد صاحب بیک جنبش کی بورڈ نظر انداز فرما دیتے ہیں لیکن جہاں بات مکہ کی آتی ہے تو ملحد صاحب اس بات پہ اٹکے ہوئے ہیں کہ مکروبہ پہاڑوں سے باہر دکھایا گیا ہے جبکہ موجودہ مکہ پہاڑوں کے اندر وادی ہے اور یہ کوسٹل بیلٹ سے اسی پہاڑی سلسلہ سے الگ ہوتی ہے۔۔
یہاں صاحب کا مکر اور ضد ملاحظہ ہو کہ یمن کا دریا مکروبہ سے اوپر دکھانے کی غلطی کوئی معنی نہیں رکھتی لیکن مکروبہ کو پہاڑوں کے اندر دکھانے کی بجائے باہر دکھایا گیا ہے اس لئے مکروبہ مکہ ہے ہی نہیں……
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کر
پٹالومی کو آرڈینیٹس میں غلطی کا شکار تھا کیونکہ اس نے بہت سے قافلے والوں کی مدد سے اس نقشے کو ترتیب دیا تھا۔ اس سے مکروبہ کی جگہ آگے پیچھے تو ہوسکتی ہے لیکن اسکے وجود کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ مکروبہ ضرور موجود تھا ‘ پلاٹومی سے اسے نقشے پہ رکھنے میں غلطی سرزد ہوگئی۔ اس لئے نقشے میں اسکا ذکر تو آیا لیکن اسکی جگہ صحیح متعین نہ ہوسکی۔

پٹالمی کے کوآرڈینیٹس کی غلطی اس کے علاوہ بھی دیکھی جاسکتی ہے ، مثلا مشرق کی سمت پورا خطہ عرب ہزاروں کلومیٹر اوپر نیچے کیا ہوا ہے.. آج کے جدید نقشہ جات سے خلیج فارس و عمان کو دیکھا جائے تو عمان اور متحدہ عرب امارات کا حصہ کچھ سمندر میں آگے کو بڑھا ہوا نظر آتا ہے اس سے آگے خلیج پھر تھوڑی سی چوڑی ہوتی نظر آتی ہے… لیکن پٹالمی نے اپنے نقشہ میں موجودہ متحدہ عرب امارات کے علاقہ میں خلیج کو ایک نہائت تنگ آبی گزرگاہ دکھایا یے جو آگے جا کر دوبارہ تقریبا دائرے کی صورت کھل جاتی ہے…. یہ بہت بڑا بلنڈر ہے اس نقشہ کا اور یہ نقشہ ثابت کرتا ہے کہ یہ سب سنی سنائی باتوں پر ہی مشتمل تھا اسی لیے اس میں ایسی جغرافیائی غلطیاں تھیں۔

لفظ مکروبہ کی بحث:
اس سلسلے میں مکروبہ کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مکروبہ کے مطلب اصل میں بنتا ہے “خدا کا گھر” اس بنا پہ اس لفظ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں یہ بحث ملاحظہ ہو
” claiming that Macoraba is derived from Makka-Rabba which means great Makkah is untrue. The correct translation is “Lord’s Makkah” or “Allah’s Makkah”; because the root “mkk” consists of consonant letters meaning “house” in Babylonian and “Rabba” meaning “the Lord” or “Allah” in Southern Arabia, that is, “Allah’s House”. This linguistic structure is a possessive form and not a derivative one”

جناب نے ایک اور یہ دعوی کیا کہ اس دور (نبیﷺ سے پہلے) کے اور بھی بہت سے جغرافیہ دان تھے جنہوں نے مکہ کا ذکر نہی کیا۔۔
اس پر ہم گزشتہ تحاریر میں بھی تبصرہ پیش کرچکے ، مزید عرض ہے کہ مکہ ایک دشوار گذار راستے پہ پہاڑیوں کے درمیان گھری ہوئی جگہ ہے۔ مکہ تک پہنچ جانا ہر کسی کے بس کے بات نہی اور ابراہیم ء السلام سے پہلے تک تو یہ بیابان تھی۔ اس وجہ سے بہت کم لوگ اس تک پہنچ سکے۔ یہاں تک کہ ابراہیم ء سے پہلے کوئی مشہور عبادت (زمانے کے حساب سے مشہور) گاہ بھی نہی تھی۔تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے ذکر ہے کہ ابراہیمؑ اللہ کے حکم سے اپنی بیوی ہاجرہ اوربچے اسماعیل کو اس بیابان میں چھوڑ گئے تھے ، یہاں سے زم زم کا چشمہ نکلا اور چند قبائل یہاں سے گزرتے ہوئے آب زم زم کا پانی دیکھ کے ٹھہر گئے اور اس کے گرد بس گئے۔بعد میں حضرت ابراھیم ؑ اورحضرت اسماعیل ؑ نے اللہ کی طرف سے غیبی امداد و نشاندہی سے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا، یہ اس جگہ آبادی کا ابتدائی دور تھا ۔ یہاں ملحد صاحب نے دوبارہ تجارتی مشہور مقام ہونے اور اسکے تجارتی گذر گاہ ہونے کوبطور دلیل پیش کیا حالانکہ یہ بہت بعد کی باتیں ہیں ، ایک جگہ جو ابراہیم کے آنے کے ایک عرصے کے بعد آباد ہوئی، پھر انکی تجارت شروع ہوئی ، پھر بعد میں کہیں جا کے اسکا تعلق مہذب دنیا سے جڑا اور تجارتی گزر گاہ اور مقدس مرکز بنا ، اس لیے ملحد صاحب کا یہ فرمانا رہے کہ یہ تجارتی شہر ابراھیم ؑ کے دور کے تاریخ دانوں کو کیوں نظر نہیں آیا، کم عقلی کی بات ہے۔۔ دور ابراھیم کے بعد یہ عبادت گاہ ضرور تھی اور حج بھی ہوتا تھا لیکن اسکا حج اور طواف وہیں کے لوگ کرتے تھے یا جو قبائل اسکے گرد آباد تھے اور بعد میں انہی قبائل کی یہ آماجگاہ بن گیا۔

اس سارے سلسلے میں ملحد صاحب نے اپنے طور پر آرکیالوجی کو حتمی حجیت کے طور پہ پیش کیا ہے اور سارے مقدمے کا بوجھ اسکے کندھوں پہ لاد دیا۔ ہم انکی نظر آرکیالوجی کی بہن پیلونٹولوجی کی مثال پیش کرتے ہیں جس کا طریق تحقیق ملتا جلتا ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں کہ وہ کیسے خود اپنی حجیت کا منہ چڑا رہی ہیں۔
“1922 میں امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ڈائریکٹر، ہنری فیئر فیلڈ اوسبورن نے اعلان کیا کہ اس نے مغربی نبراسکا میں اسنیک بروک کے قریب سے ڈاڑھ (molar tooth) کا رکاز دریافت کیا ہے جو پلیوسینی عصر (Pliocene Period) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دانت مبینہ طور پر بیک وقت انسان اور گوریلوں کی مشترکہ خصوصیات کا حامل دکھائی دیتا تھا۔ اس کے بارے میں سائنسی دلائل کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ بعض حلقوں نے کہا کہ یہ دانت ’’پتھے کن تھروپس ایریکٹس‘ ‘(Pithecanthropus Erectus) سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ یہ دانت، جدید انسانی نسل کے زیادہ قریب ہے۔ مختصراً یہ کہ اس ایک دانت کے رکاز کی بنیاد پر زبردست بحث شروع ہوگئی اور اسی سے ’’نبراسکا آدمی‘‘ کے تصور نے بھی مقبولیت حاصل کی۔ اسے فوراً ہی ایک عدد ’’سائنسی نام‘‘ بھی دے دیا گیا: ’’ہیسپیروپتھے کس ہیرلڈ کوکی‘‘!متعدد ماہرین نے اوسبورن کی بھرپور حمایت کی۔ صرف ایک دانت کے سہارے ’’نبراسکا آدمی‘‘ کا سر اور جسم بنایا گیا۔ یہاں تک کہ نبراسکا آدمی کی پورے گھرانے سمیت تصویر کشی کردی گئی۔
1927ء میں اس کے دوسرے حصے بھی دریافت ہوگئے۔ ان نودر یافتہ حصوں کے مطابق یہ دانت نہ تو انسان کا تھا اور نہ کسی گوریلے کا۔ بلکہ یہ انکشاف ہوا کہ اس دانت کا تعلق معدوم جنگلی سؤروں کی ایک نسل سے تھا جو امریکہ میں پائی جاتی تھی، اور اس کا نام ’’پروستھی نوپس‘‘ (Prosthennops) تھا۔”
ان علوم سے استفادہ کرنا ایک اچھی بات ہے لیکن اسے حتمی حجت کے طور پہ پیش کرنا ایک علمی بد دیانتی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت آپکے سامنے موجود ہے۔
تحقیق محمد حسنین اشرف، میاں عمران (بتغیر قلیل)
بشکریہ پیج
https://www.facebook.com/ReasonandAtheism

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *