حضرت ام حرام ؓ بنت ملحان کی حضورﷺ کیساتھ رشتہ داری

aa

حدیث ام حرام بنت ملحان :
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے،تو ام حرام آپ کو کھانا کھلاتیں تھیں۔اور ام حرام عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ایک دن آپ ان کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو کھاناکھلایا اور آپ کے سرمیں جوئیں تلاش کرنے لگیں۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم سوگئےاورکچھ دیربعد ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔حضرت ام حرام فرماتی ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟آپ نے فرمایاکہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئےجو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اس سمندر کی پشت پر بادشاہوں کی طرح تخت پر سوار ہوں گے۔شک اسحاق(مطلب یہ ہے کہ حدیث میں ملوکا علی الاسرۃ،اومثل الملوک علی الاسرۃ جو شک کے ساتھ بیان ہوا یہ حضرت انس کے شاگردحضرت اسحاق بن عبداللہ کو ہوا ہے)۔حضرت ام حرام فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ رسول!آپ میرےلیے دعاکیجیے کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعافرمائی۔پھر دوبارہ آپ ﷺ سوگئے،پھر ہنستے ہوئے جاگےتو میں نے کہایارسول اللہ آپ کیوں ہنسے ہیں؟آپ نے پہلے والے قول کی طرح فرمایاکہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئےجواللہ کے راستے میں جہادکرتے ہوں گے۔حضرت ام حرام کہتی ہیں کہ میں نے کہایارسول اللہ میرے لیے لیے دعاکیجیے کہ میں بھی ان میں شامل ہوجاؤں۔آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تم پہلے فریق کے ساتھ ہوگی۔چنانچہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سمندری جہاد پر گئیں،واپسی پر سواری سے گرپڑیں اور شہید ہوگئیں۔(بخاری،کتاب التعبیر،حدیث نمبر:6600،یادرہے یہ حدیث امام بخاری نے دیگرجگہ بھی ذکر کی ہے)

اعتراض: مستشرقین نے مختلف روایات کے سہارے حضور ﷺ پر بہت سے اعتراضات کیے ، اک اعتراض اس روایت کو لے کر بھی کیا گیا، جسے برصغیر میں انکار حدیث کے علمبرداروں نے سب سے پہلے کاپی کیا اور پھر وہی اعتراض انکی کتابوں کے ذریعے آج کے متشککین و ملحدین کے ہاتھ لگا ہے۔ ایک متشکک لکھتے ہیں :
ملحدین اس حدیث کو لے کر آپ ﷺ کی ذات پر حملہ کرتے ہیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ کے نبی ایک اجنبی عورت کے گھرجاکرسوئیں اور اس سےجوئیں نکلوائیں،کیا آپ کی9 بیویاں اس کام کے لیے نہیں تھیں؟نیز موصوف فرماتے ہیں کہ واقعہ افک میں بدری صحابہ کی رعایت نہیں رکھی گئی اور انہیں سزادی گئی،تو اس طرح کی حدیثیں بیان کرنے والے روایوں کی توقیر کرنے اور انہیں شہد لگاکر چاٹنے کی بجائے80 کوڑے مارنے چاہییں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

جواب :
کیا واقعی اس حدیث کی راویوں نے کذب بیانی کی ہے کہ انہیں کوڑے مارےجائیں؟اس کے لیے ہمیں اس حدیث کے بارے میں چند ضروری باتیں سمجھنا ہوں گے،تاکہ حقیقت حال واضح ہوسکے۔
(1)اس حدیث کو چار روای روایت کرتے ہیں۔جن میں حضرت انس بن مالک،عمیربن الاسود،یعلی بن ثابت،عطاءبن یسار شامل ہیں۔ان میں حضرت انس اس حدیث کے مشہورترین راوی ہیں،آپ حضرت ام حرام بنت ملحان کے بھانجے بھی ہیں۔پھر حضرت انس سے چار روای اس حدیث کو نقل کرتے ہیں۔اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ،محمد بن یحیی بن حبان،ابوطوالہ عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری اور مختار ابن فلفل۔اس کی بیان کردہ روایت من جملہ ایک ہی ہے۔ان میں سے اسحاق بن عبداللہ کی بیان کردہ متن کے لحاظ سے تمام الفاظ کو جامع ہے۔یہی ایک روایت ہے جس میں(وجعلت تفلی راسہ)یعنی ام حرام کاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوئیں نکالنے کا ذکرملتاہے۔
(2)اس حدیث کو بڑے بڑے محدثین نے نقل کیا ہے۔چنانچہ امام مالک،امام بخاری،امام مسلم،اما ابوداؤد،امام ترمذی،اما نسائی،محدث جلیل عبداللہ ابن المبارک،محمد بن سعد، اما احمدبن حنبل،ابوعوانہ،ابن حبان،ابونعیم،امام بیہقی اورامام ابن عساکر وغیرہ نے اپنی اپنی کتابوں میں ان احادیث کو نقل کیا ہے۔نیز محدثین عظام نے اس حدیث کو صحیح بھی قراردیاہے۔
(3)اس حدیث سے کئی احکام ثابت ہوتے ہیں،جن میں اہم ترین،جہاد کی فضیلت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقبل کے حوالے سے پیشین گوئی فرمانا ہے،جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت کا بھی پتہ چلتاہے۔حدیث میں موجود پیشن گوئی کا بعد میں اسی طرح پورا ہونا ہی اس حدیث کے سچا ہونے کے لیے کافی ہے۔
(5)احادیث کے تعارض کے وقت قرائن وشواہد کی بنیاد پر ان احادیث کی صحت کوپرکھا جاتاہے اورحتی الامکان احادیث میں تطبیق کی کوشش کی جاتی ہے۔

سوالات :
1. اس حدیث کےظاہری الفاظ سے ایک وہمہ یہ پیدا ہوتا ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم معاذاللہ اکیلے میں اجنبی عورت یعنی ام حرام سے ملتے تھے۔یہ بالاتفاق حرام ہے چہ جائیکہ اس کا ارتکاب اللہ کے رسول کریں۔
2. دوسر اسوال یہ پیداہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی عورت کو اپنا جسم چھونے دیتے تھے کہ وہ جوئیں تلاش کرے۔حالاں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بعید ہے۔حضرت عائشہ تو فرماتی ہیں کہ آپ صلی علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کو چھونے نہیں دیا۔
3. حضور ﷺ کی ام حرام کے ساتھ رشتہ داری
ان تینوں سوالات کا جواب پیش خدمت ہے

کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی عورتوں کے گھر جاتے تھے؟
مذکورہ حدیث پر وار ہونے والے اشکالات کے محدثین نے مختلف جوابات دیے ہیں۔
پہلا اعتراض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی میں اجنبی عورت سے ملے۔اس اعتراض کے بارے میں محدثین کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث(بلکہ کسی بھی صریح حدیث) میں اس کی وضاحت نہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام کےگھر گئے تو وہاں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔بلکہ حدیث اس بارے میں خاموش ہے کہ وہاں ام حرام کے علاوہ کوئی اور تھا یانہیں تھا۔اس لیے جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی میں ام حرام سے ملے انہیں اپنے اس دعوی پر دلیل پیش کرنی چاہیے۔
علامہ ابن عبدالبر یہی فرماتے ہیں کہ خلوت میں آپ اجنبیہ سے کیسے مل سکتے ہیں جب کہ خود آپ نے کئی احادیث میں اجنبی عورت سے تنہائی میں ملنے سے روکا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں آپ نے فرمایا
جواللہ اور آخرت پرایمان رکھتا ہے وہ کسی اجنبی عورت کو تنہائی میں نہ ملے کیوں ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے (رواه أحمد 14651)
کو ئی آدمی کسی شادی شدہ(اور کنواری)کے پاس رات میں نہ ٹھہرے الا یہ کہ وہ اس کا شوہر ہو یا اس کا محرم ہو۔ (مسلم 2171)
ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا کہ
تم(اجنبی)عورتوں سے تنہائی میں نہ ملو،ایک انصاری شخص نے پوچھا کہ یارسول دیور کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں آپ نے فرمایا دیور(اور جیٹھ) توموت ہے۔ (البخاري 4934)
محدث علامہ دمیاطی بھی یہی فرماتے ہیں کہ حدیث میں اس بات کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ آپ نے خلوت میں ام حرام کے ہاں گئے ہوں گے ،ممکن ہے کہ وہاں ام حرام کے شوہر عبادہ بن صامت ،حضرت انس،یاگھر کے دوسرے افراد موجود ہوں۔کیوں کہ عموما جب مخدوم کسی کے گھر آتا ہے تو خادمین سب مخدوم کے آس پاس موجود ہوتے ہیں۔علامہ ابن حجر کہتے ہیں یہ قوی احتما ل ہے۔میں کہتا ہوں کہ ایک دوسری حدیث میں وضاحت ہے کہ حضرت انس فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے،گھرمیں،میں ،میری والدہ اور میری خالہ کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔۔۔۔۔(مسلم،کتاب الصلوۃ)۔
اور اگر خلوت کسی روایت سے ثابت بھی ہو تب بھی یہ خلوت نقصان دہ یا حرام نہیں ہے۔کیوں کہ ام حرام بنت ملحان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محرم تھیں۔(محرم کی دلیل آگے آرہی ہے)

کیا حضور ﷺ کے جسم کو اجنبی عورت نے چھوا؟
دوسرا سوال کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجنبی عورت سے جوئیں نکلوائیں۔اس اشکال کے بارے میں محدثین کی کئی آرا ہیں۔واضح اور راجح رائے یہ ہے کہ حضرت ام حرام بنت ملحان آپ صلی اللہ کی محرم تھیں بایں طور کہ یہ آپ صلی اللہ کی رضاعی خالہ تھیں۔ظاہر بات ہے کہ خالہ بھانجے کی محرم ہوتی ہے اور محرم محرم کو چھو سکتی ہے۔
یاد رہے لوگوں کا یہ اعتراض کرنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمیں جوئیں کیسے پڑ سکتی ہیں؟تو اس کے جواب میں محدثین نے لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے جوئیں کسی اور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمیں آگئیں ہوں،یا ہوسکتا ہے کہ گرد وغبار کی وجہ سے سر مبارک میں خارش ہورہی ہو ،اس کو تفلی راسہ سے تعبیر کردیا۔

حضرت ام حرام کی حضور ﷺ کے ساتھ رشتہ داری :
سارے اعتراضات کی بنیاد حضرت ام حرام کی حضور ﷺ کے ساتھ رشتہ داری کا علم نا ہونا ہے۔ ہم اسکی وضاحت کیے دیتے ہیں :
یہی مذکور روایت ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ ابن عساکر کی کتاب تاریخ دمشق میں بھی ہے ، اس میں حضرت انس کی واضح گواہی موجود ہے کہ کہ ام حرامؓ حضور ﷺ کی خالہ تھیں ۔ مکمل حدیث ملاحظہ فرمائیے
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ رَأْسَهُ فِي بَيْتِ أُمِّ مِلْحَانَ ، وَهِيَ إِحْدَى خَالاتِهِ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَضَحِكَ ، فَقَالَتْ : مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : ” أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الأَخْضَرَ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ ” ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : فَدَعَا اللَّهَ لَهَا أَنْ يَجْعَلَهَا مِنْهُمْ ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ ، ثُمَّ رَفَعَهُ فَضَحِكَ ، فَقَالَتْ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الأَوَّلِ ، فَقَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : ” أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ ، وَلَسْتِ مِنَ الآخِرِينَ ” ، قَالَ : فَتَزَوَّجَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ بِنْتَ مِلْحَانَ ، فَرَكِبَ بِهَا الْبَحْرَ ، فَقَفَلَتْ ، فَلَمَّا كَانَتْ بِالسَّاحِلِ رَكِبَتْ دَابَّةً فَوُقِصَتْ فَصُرِعَتْ ، فَمَاتَتْ
. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر (آرام کیلئے ) لیٹے۔ ام حرامؓ حضور ﷺ کی خالہ تھیں۔ کچھ دیربعد نبی پاک ﷺ ہنستے ہوئے بیدار ہوئے۔ ام حرامؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ کس چیز نے آپ کو ہنسایا؟آپﷺ نے فرمایاکہ میری امت کے کچھ لوگ سمندر کی پشت پر بادشاہوں کی طرح تخت پر سوار ہوں گے۔ ام حرامؓ نے کہا کہ اے اللہ رسول!آپ میرےلیے دعا فرمائیں کہ میں بھی ان لوگوں میں شامل ہوجاؤں،چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعافرمائی۔دوبارہ آپ ﷺ پھر سوگئے،پھر ہنستے ہوئے جاگےتو ام حرامؓ نے پوچھا یارسول اللہ آپ کیوں ہنسے ؟ آپ نے پہلے والی بات پھر ارشاد فرمائی۔ام حرام نے کہا یارسول اللہ میرے لیے دعا فرمائیں کہ میں بھی ان میں شامل ہوجاؤں۔آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں تم پہلے فریق کے ساتھ ہو، دوسرے فریق کے ساتھ نہیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبادہ بن صامت ؓ نے ام حرامؓ سے نکاح کیا۔ ام حرامؓ کے ساتھ عبادہؓ نے سندری سفر کیا۔ پھر جب وہ ساحل پر پہنچیں تو سواری پر سوار ہوئیں، سواری بدکی، ام حرام ؓ گریں اور انتقال فرما گئیں۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر، حدیث 74127)
محدیثین کی تحقیقات :
محدث کبیر علامہ ابن وہب بن مسلم قرشی(متوفی 196)فرماتے ہیں کہ ام حرام آپ کی رضاعی خالہ تھیں۔ (التمہید:1\226،الاستذکار:5\125)۔
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محدثین میں سے ابوالقاسم بن جوہری،داؤدی اور مہلب نے علامہ ابن وہب کی راجح قرار دیا ہے،نیز فرماتے ہیں کہ محدث جلیل علامہ ابن جوزی نے فرمایا ہے کہ ہم نے بعض حفاظ حدیث سے سنا ہے کہ ام حرام اور ان کی بہن والدہ انس بن مالک ام سلیم دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ آمنہ بنت وہب کی رضاعی بہنیں تھیں۔(فتح الباری:11\87)۔
اسی طرح علامہ عینی نے بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں محدث جلیل علامہ ابن تین رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام اور ام سلیم کے گھر اس لیے آتے تھے کہ ان سے آپ کی رضاعی قرابت داری تھی۔نیز یہ بھی یادرہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کی والدہ سلمی بنت عمر حضرت ام حرام بنت ملحان کے قبیلے کی تھیں۔اس لیے بنونجار میں آپﷺ کی قرابتداری کا واضح ثبوت ملتا ہے۔

معترض نے ان گواہیوں سے حضورﷺ کی والدہ کے بجائے خود حضور ﷺ کا دودھ پینا سمجھا اور لکھا کہ
” حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانے والی عورتیں معلوم تھیں،ثابت کیجیے کہ یہ ان میں سے کس کی بہن تھی،دوسرا اعتراض یہ کیا کہ یہ دونوں بہنیں ام حرامؓ اور ام سلیؓم مدینے کے انصار میں سے تھیں اور حضور جب مدینہ تشریف لائے تو وہ دودھ پینے کی عمر سے نکل آئے تو اور 53 سال کے تھے ،جبکہ ام سلیم کا دس سال کا بچہ انس بن مالک حضور ﷺ کا خادمِ خاص تھا “۔
رضاعت کے لیے یہ کوئی ضروری نہیں کہ رضاعت بس اسی عورت سے ثابت ہوگی جس کا انسان دودھ پیے۔بلکہ جس لڑکے یا لڑکی نےکسی عورت کا دودھ پی لیا اور رضاعت تمام شرائط کے ساتھ متحق ہوجائے تو وہ دودھ پلانے والی عورت اور اس کے اصول وفروع(یعنی ماں،باپ،دادا،دای،بیٹا بیٹی ،بہن ،بھائی وغیرہ)ان دودھ پینے والوں کے محرم بن جاتے ہیں۔نیز رضاعت کامعاملہ عموما مخفی ہوتا ہے،عام لوگ اس سے واقف نہیں ہوتے۔جیسا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ،گھر میں ایک آدمی تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر غصہ ہوگئے، حضرت عائشہ نے فرمایا یارسول اللہ یہ میرارضاعی بھائی ہے۔آپ نے فرمایا”تم رضاعی بھائیوں کو دیکھ سکتی ہو۔۔۔”(بخاری)۔
اسی طرح ایک دوسری روایت میں حضرت عقبہ کا واقعہ مذکور ہے کہ انہوں نے ایک خاتون سے شادی کی،ایک عورت آکر کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا،حضرت عقبہ نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے مجھے بتایا ہے،بعدازاں حضرت عقبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔۔۔آپ نے فرمایا اگرایسی بات نہیں ہے تو وہ عورت پھر کیوں کہہ رہی۔۔۔حضرت عقبہ نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی۔(بخاری)۔
مذکورہ بالا اصولوں کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ اگرچہ آپ کو دودھ پلانے والی عورتیں معلوم ہیں اور آپ53سال کی عمر میں دودھ بھی نہیں پی سکتے،لیکن اس سے یہ کہاں لازم آتا ہے کہ آپ کی کوئی رضاعی خالہ نہیں بن سکتی؟ممکن ہے کہ ام حرام کو دودھ پلانے والی کسی عورت نے آپ کی والدہ یا والد کو بھی دودھ پلایاہو یا اسی طرح آپ کی والدہ یا والد کو دودھ پلانے والی عورت نے ام حرام اور ام سلیم کو بھی دودھ پلایا ہو۔اگرکوئی کہے کہ آپ کی والدہ یا والد تو مکہ میں رہتے تھے جب کہ ام حرام مدینہ میں تو ایک ہی عورت دونوں کودودھ کیسے پلاسکتی ہیں؟تو کہا جائے گا کہ کیا دودھ پلانے والی کے لیے مکہ اور مدینہ جانا ناممکن ہے،جب کہ مکہ مقدس ترین اور حجاج کی آمد ورفت کی جگہ بھی ہو؟
اس کے علاوہ بہت ساری احادیث سے شواہد وقرائن ملتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ام حرام اور ام سلیم سے محرمیت کا رشتہ تھا۔ورنہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ اجنبیوں کے گھر جائیں اور انہیں اپنے جسم کو مس کرنے دیں۔
انصاف کے ساتھ فیصلہ کیجیے :
1. اگر ام حرام اور ام سلیم آپ کے محرمات نہ ہوتیں اور پھر بھی آپ ان کے گھر آتے جاتے،کیا آپ کی ازواج مطہرات اس بات کو برداشت کرسکتی تھیں،؟َ
2. آپ کی ازواج کیا کوئی بھی صحابی اس بات کو برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ آپ معاذاللہ”غیر محرم” کے ہاں آنا جانا رکھیں؟
3. یہی نہیں مدینہ کے منافقین جنہوں نے آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو معمولی سے واقعے کی بنا پر مطعون ومتہم کیا،کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح اجنبیوں کے ہاں آنے جانے پر وہ خاموش رہ سکتے تھے؟؟؟
یہ آپ کا حضرت انس،حضرت ابوطلحہ انصاری(خاوند ام سلیم)،حضرت عبادہ بن صامت(خاوند ام حرام)اور جلیل القدر صحابیات ام حرام اور ام سلیم کے ساتھ کوئی خصوصی تعلق تھا تو ان کے ہاں آتے جاتے تھے۔
خلاصہ بحث:
بعض نافہم لوگ کہتے ہیں کہ سرے سے ان روایات ہی کا انکارکردو تاکہ آپ کی طرف انگلی نہ اٹھے،میں کہتا ہوں اگر انگلی اٹھنے اٹھانے والی بات ہوتی تو اللہ کے رسول کے دور میں منافقین اٹھاتےیا صحابہ کرام کے دور میں فتنہ پرداز اٹھاتے،حالاں کہ کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بہنوں کے گھر آنے جانے پر اعتراض نہیں کیا،سوائے آج کے مستشرقین،ملحدین اور ان کے ہمنوا نام نہاد مسلمین کے۔کیوں کہ وہ سب جانتے تھے کہ آپ قانونی طور وطریقے سے ان کے ہاں آتے جاتے ہیں۔
لوگ اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ اگر ہم محدثین کرام( جنہوں نے حدیث کو سمجھا اور اس کی خدمت کے لیے ساری زندگیاں لگائیں) کی باتوں کو مانتے ہیں تو ملحدین ہمیں جینے نہیں دیتے،میں کہتا ہوں ناماننے والے ضدی لوگ کبھی کسی حال میں راضی نہیں ہوں گے،آپ چاہے ان کے سامنے دلائل کا انبار لگادیں،ختم اللہ علی قلوبہم۔انہیں آپ کیسے مطمئن کرسکتے ہیں جب کہ ان کا کام ہی انکار کرنا اور نہ ماننا ہے،
ملحدین اور مستشرقین کے مقاصد پر غور کرکےدیکھیے کہ وہ اس طرح کے اعتراضات کیوں اٹھاتے ہیں،صاف پتہ چل جائے گا کہ ان کا مقصود بس دین اسلام میں شکوک وشبہات پیدا کرکے اس کی ترویج کو روکنااور مسلمانوں کو اس سے دور کرنا ہے۔مجھے حیرت ہے کہ لوگ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود کیوں کر مسلمانوں میں فتنے پھیلاتے ہیں۔آپ خود سوچیں کہ معترض نے جس طرح پیچیدہ مسائل اور رویات کو برسرعام ملحدین کا نام لے کر پیش کرنا شروع کیا ہے اس سے کسی ملحد یا کسی مستشرق کو فائدہ ہوا؟الٹا اس طرح کی باتوں سے ان باتوں کو ناسمجھنے والے لوگوں کے دلوں میں دین اسلام کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوگئے ہیں۔بتائیے کیا یہ دین اسلام کی خدمت ہے؟کیا دین کی دعوت کا یہی طریقہ ہوتا ہے؟کیا اس طرز سےموصوف مسلمانوں کی خدمت کررہے ہیں یا کافروں کی؟

(تحقیق وتخریج:غلام نبی مدنی،مدینہ منورہ)
بتغیر قلیل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *