سیکولرازم کے علمبرداروں کی دورخی

photo_1738877183015573

کب لباسِ دنیوی میں چھپتے ہیں روشن ضمِیر
جامۂ فانُوس میں بھی شعلہ عُریاں ہی رہا
ذوق کا یہ شعر ہے اور ہم ہیں۔ شاعر تلامیذ الرحمن کہلائے جاتے تھے، کیا غلط تھا۔ حالیہ واقعات کی ایک لہر ایسی اٹھی کہ سب کے چہروں سے نقاب اتار گئی۔ جو دوست دن رات محبت کا پرچار کرتے نہیں تھکتے تھے، ان آنکھوں نے ایک انسان کی موت پر انہیں شاداں و فرحاں دیکھ لیا۔ اپنے ہی جیسے لاکھوں انسانوں کے جذبات کا احترام نہ کر کے خدا جانے وہ کیا ثابت کرنے کے چکر میں ہیں۔
ہمارا میڈیا اس معاملے میں شدید کنٹرولڈ رہا۔ معاملہ ہی کچھ ایسی نوعیت کا تھا کہ جتنی کوریج دی جاتی اتنی ہی بے چینی اور نقض امن کا خطرہ ہوتا، قلعی مگر سوشل میڈیا پر کھل گئی۔ شقاوت قلبی کے ایسے اظہاریے نظر آئے کہ دور جاہلیت کی یاد تازہ ہو گئی۔
جو لوگ اس موقف کے حامی تھے کہ موت کی سزا کو ختم کر دینا چاہئیے، وہ حمایت موقوف کیے بیٹھے ہیں۔
جو لوگ اس اصول کے پرچارک تھے کہ ہمیں باہمی احترام کو فروغ دینا ہے اور اپنے لوگوں سے پیار اور محبت کی بات کرنی ہے، وہ مردہ دفنائے جانے کا انتظار بھی نہ کر سکے۔
جن کو امن کی بے لوث آشا تھی وہ بدامنی اور نفرت کے غوث بن گئے۔ فقیر سمیت جو ہر بات پر بیانیے کا رونا روتے تھے، انہیں آج کوئی بیانیہ نہیں سوجھتا، دانتوں میں انگلی دبائے بیٹھے ہیں اور دیکھتے جاتے ہیں کہ ردعمل کی خواہش کیا اتنی شدید ہو سکتی ہے؟
ایک محترم دوست کہنے لگے، یار ہم خود قبائلی ہیں، دشمن دار لوگ ہیں، لیکن جب ہمارے دشمن کا بھی جنازہ اٹھتا تھا تو ہمارے گھر میں سوگ ہوتا تھا، ایک وقت کھانا نہیں بنایا جاتا تھا۔ وہ لوگ جو رونا روتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے اقدار قبائلی ہیں، بات بات پر جھگڑتے مناظر عام ہیں، مبارک ہو، ان کا رونا بھی آج دفن ہوا۔ قبائل کے باسی بلاشبہ ہم سے بہت زیادہ مہذب ہیں۔ سیاست، نفرت کی سیاست، لاشوں پر بیان بازی، جنازوں کے اٹھنے سے پہلے ہی جھگڑے، یا خدا، اٹھارہ سو ستاون ہو، انیس سو سینتالیس ہو یا دو ہزار سترہ آ جائے، نہیں بدلنا ہم نے! نسلیں گزر گئیں، عمریں بیت جائیں گی، مہذب مکالمے کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ جو ہماری تحریر ایک برس سے پڑھتے آ رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ ہمارا موقف کیا ہو گا۔ اور اگر ہمارا موقف خود ہمارے اور ہمارے پڑھنے والوں کے ذہن میں واضح ہے تو اس قدر ہاہاکار مچانا چہ معنی دارد؟
اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم اصولی موقف، امن، سیکولرازم، محبت، رواداری وغیرہ کا راگ الاپتے الاپتے آ گئے اپنی اوقات پر۔ مہذب طریقے سے بات کیجیے، وقت کا انتظار کیجیے، ایک عدالتی فیصلہ تھا، اس پر عمل درآمد ہوا، لبرلز کے معاملے میں تو یہ ہے کہ اگر آپ فیصلے کے حق میں ہیں اور ساتھ ساتھ آپ پھانسی کی سزا کو درست بھی نہیں سمجھتے اور تمام عمر اس کے خاتمے کے لیے دہائی دیتے آئے ہیں، تو بھئی خاموش ہو جائیے یا کم از کم اپنے موقف کی پاس داری کیجیے، بقول ظفر اقبال
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئیے
یہ تو نری دوعملی ہے کہ آپ اسے اپنی اخلاقی فتح قرار دیں اور اگلے سال کسی پھانسی پر پھر سے موم بتیاں جلا لیں۔ بہ صد معذرت، فقیر اس معاملے پر اپنی کوتاہ فہمی کے ہاتھوں مجبور ہے شاید۔ ہمارے جن بھائیوں کا غم ابھی تازہ ہے، کیا یہی موقع تھا کہ آپ ان سے اس طرح کے مکالمے کرتے۔ بھئی سیدھی سی بات ہے، ہوا کسی کی نہیں ہوتی، چراغ آج کسی کے بجھتے ہیں کل کسی اور کی باری آ جاتی ہے، مکالمہ اس سطح پر رکھیے کہ کل کو مڑ کر دیکھیں تو آپ کو شرمندگی اور اگلی نسلوں کو حیرت نہ ہو۔
حسنین جمال

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *