سلمان تاثیر کا قتل یا ایک پروگرام کا قتل ؟!

photo_1738483133054978

ایلیٹ فورس کے ایک باریش جواں مرد کی صرف ایک نپی تلی ضرب… اور اس سے اگلے ہی لمحے آپ میڈیا میں بیٹھے کچھ زنادقہ کو اُس زخمی ناگن کی طرح پھنکارتا ہوا دیکھ رہے تھے جس کے سیئے ہوئے بہت سے انڈے کسی ابن آدم نے یکلخت توڑ ڈالے ہوں!
بڑی محنت سے ان کو اب وہ پوری ”سیچوایشن“ ازسرنو ’’کری ایٹ‘‘ کرنا تھی، جو ”توہین رسالت“ پر سزا دینے والے قوانین کو مسلم معاشروں کے اندر سے حرفِ غلط کی طرح مٹا کر رکھ دینے کی اساس بنے…!
یہ ایک دیوانہ جس نے صورتحال کا دھارا لمحوں میں بدل کر رکھ دیا، اِس پوری ’سیچو ایشن‘ میں کہاں سے آٹپکا؟ ایک الجھے ہوئے مسئلے کا ایسا لمحاتی ڈراپ سین کیا کسی کے سان گمان میں تھا؟! دوست دشمن سبھی ہکابکا دیکھ رہے تھے…
ایک جانب۔۔۔ اِس مسئلہ کا وہ کمزور، لاغر اور تہی دست فریق جو میدان ہی میں نہیں تھا اور جوکہ بالعموم تماشائیوں میں شامل رہتا ہے اور سوائے دعاؤں، فریادوں (اور کچھ ’قراردادوں‘ اور ’اپیلوں‘) کے کچھ ہاتھ میں نہیں رکھتا… عرفِ عام میں ’دینی قوتیں‘ کہلانے والا یہ فریق مبتلائے تشویش تھا کہ مخالف ٹیم جو توہینِ رسالت پر سزا کا قانون کالعدم ٹھہرانے کےلیے کسی آندھی کی طرح بڑھتی چلی آرہی ہے، اپنے اُس ’سنٹر فارورڈ‘ (سلمان تاثیر) کی مدد سے جو بےحد آگے آچکا تھا، عنقریب گول کردینے کو ہے۔ ایک طرف ہمارا یہ بنجارہ تہی دست فریق، جو اِس یکایک واقعے کے بعد ’ممتاز قادری‘ کو ’غیبی امداد‘ کا کوئی ہم معنیٰ لفظ جاننے لگا تھا…!
تو دوسری جانب۔۔۔ وہ بااثر اور کہنہ مشق فریق، جس کو اِس ملک میں وسائل کی ریل پیل اور ذرائع کی بہتات حاصل ہے، اور جوکہ نبیؐ کے نام پر بننے والے ایک ملک میں نبیؐ کی توہین پر سزا کا قانون موقوف کرانے کے درپے تھا، اس یکایک سامنے آنے والے ’بحران‘ کے ڈانڈے پاکستان میں بڑھتی ہوئی ’مذہبی انتہاپسندی‘ میں ڈھونڈنے لگا! یہ خرانٹ فریق آخر اِس نتیجے پر پہنچا کہ نبیؐ کے نام پر پائی جانے والی وہ حمیت جو لمحوں میں جنونیت کا رنگ دھارلیتی ہے اور جوکہ اِس قوم کی رگ رگ میں سرایت کیے ہوئے ہے، اس حمیت کو دلوں سے کھرچ دینے کا وہ ہدف ابھی ڈھیروں ’تیزاب‘ کا ضرورتمند ہے؛ یعنی اِس قوم کے ’دماغ کا علاج‘ کرنے پر ابھی ان کو اور محنت کرنا ہے! لاالٰہ الا اللہ محمدٌرسول اللہ کا وہ ’جنونی‘ سبق بھُلانے کےلیے جو پل میں مرنے مرانے تک چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ملک تقسیم کروا دیتا اور وطن چھڑوا دیتا ہے، اِس قوم کو ابھی بہت کچھ ’پڑھنا لکھنا‘ ہوگا! اُن کے کچھ جغادریوں کا ماتھا ٹھنکا کہ شرعِ محمدؐ کے خلاف اُن کی اِس ’گلوبل وار‘ میں پاکستان کا وہ طبقہ بھی بقیہ امت کے شانہ بشانہ آکھڑا ہوا ہے بلکہ اوروں سے آگے بڑھنے کو ہے، جس کو عرف عام میں ’بریلوی‘ کہا جاتا ہے اور جس کی بابت بڑی دیر سے اُن کی رال بہہ رہی تھی کہ ’باغی اسلام‘ کے خلاف اُن کی اِ س عالمی جنگ میں شاید یہ طبقہ اُن کے طرفداروں میں کھڑا ہوگا! یا خدایا! یہاں کا کوئی بھی مذہبی طبقہ اپنے نبیؐ کے ساتھ وفاداری چھوڑنے پر آمادہ نہیں! وفاداری اور وہ بھی اِس سطح کی! دین اور نبیؐ کے نام پر مرنا مرانا کیا اِس دور میں اور اِس گلوبل بستی میں؟!!!
ممتاز قادری نامی ایک دیوانے نے تن تنہا ’’ناموسِ رسالت بہ مقابلہ توہین رسالت‘‘ کا یہ پہلا راؤنڈ پلک جھپکتے میں ختم کر ڈالا تھا، جبکہ اُن کی کوشش تھی کہ یہ معاملہ ہمیشہ کےلیے اُن کے حق میں بیٹھ جائے، اور اب تو اُن کو امید بھی ہوچلی تھی کہ یہ پورا کھیل اِس پہلے ہی راؤنڈ میں ختم ہو جانے والا ہے! ہمارا ایک ہی بچہ جو یہاں غازی علم الدین کا علم اٹھا کر میدان میں آیا تھا ، کم از کم یہ اندازہ کرادینے میں کامیاب رہا کہ صاحبو یہ کھیل اتنا مختصر نہیں ہے!
یہاں بغیر کہے، لوگ ’راجپال‘ تک کا ذکر کرنے لگے، جس کے ایک کالے کرتوت کے محض دو عشرے بعد نبیؐ کا کلمہ پڑھنے والی قوم ہند کے شرق سے غرب تک اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور اپنے اُس پیارے نبیؐ کے نام پر پورا ایک ملک تراش ڈالا تھا۔ میڈیا جغادری خود ہی باربار کہہ رہے تھے کہ یہ کیس ’راجپال‘ جیسا ہرگز نہیں ہے! ’جناب بڑا فرق ہے اِس کیس میں اور راجپال بہ مقابلہ علم دین والے واقعے میں‘… گویا راجپال والے مسئلے میں تو ’’ایماں کی حرارت والوں‘‘ کی جانب سے جو ’جنونی‘ ردِعمل سامنے آیا وہ بالکل صحیح تھا! اور گویا یہ لبرل زنادقہ بھی کم از کم غازی علم الدین والے اقدام کو توصحیح ہی سمجھتے ہیں!!! قدرت کے کیا کیا رنگ ہیں جو اُن دنوں ہم ہر چینل پر بےتحاشا دیکھ رہے تھے!
آخر چند گھنٹے نہ گزرنے پائے کہ سمبڑیال کا ایک مشکوک مذہبی پس منظر کا حامل وزیر کیمروں کے سامنے کھڑا روہانسی حالت میں اعلان کرتا دیکھا گیا: ”ناموسِ رسالت قانون میں ترمیم کا کوئی بل پیش نہیں کیا جا رہا“… کیوں بھائی کیا سقم نکل آیا تمہاری اِس مجوزہ قانونی ترمیم میں؟!
قانون دانوں کی اتنی محنت کیوں اکارت کرائی جارہی ہے؟! کیا یہ ملک ایک اتنی اہم قانونی ترمیم کا ضرورتمند نہیں رہا؟!!
تمہاری اِن قانون ساز صلاحیتوں سے ملک کو کیونکر محروم رکھا جائے گا؟!
لیکن یہ کون بتائے کہ قوم کے بااختیار طبقوں کو یکایک یہ ’’احساس‘‘ ہونا شروع ہوگیا تھا کہ ’قوم میں ایک مسئلہ پر یک گونہ بےچینی پائی جاتی ہے‘!
ممتاز قادری! تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو! دیکھو تو سہی کیسے کیسے لوگ سمجھداری کی باتیں کرنے لگے! کیسی کیسی مخلوقات ہم کو ’حالات کی نزاکت‘ سمجھانے لگیں!
عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بےبنیاد!
یہ اتنی بڑی ڈیویلپمنٹ ایلیٹ فورس کے ایک خاموش طبع نوجوان کے دست پر رونما ہوئی جس نے تن تنہا، اور فی الحال ایک غیر معینہ مدت کےلیے، اِس پورے کھیل کی بساط الٹ کر رکھ دی۔ کہاں اتنے دانشور دماغوں کی رَت جگوں کی محنت اور کہاں ایک ہی گبھرو کا ایک نپا تلا اقدام! سب ’بنا بنایا‘ معاملہ ایک عرصے کیلئے پیچھے چلا گیا! نہ جانے کیوں اِس موقعہ پر عربی ادب سے شغف رکھنے والوں کو عباسی شاعر ابو تمام کے وہ چند شعر یاد آگئے جو اُس نے، عموریہ کی ایک بےبس مسلم خاتون کی چیخ ”وامعتصماہ“ کا خلیفہ معتصم کی طرف سے ”جواب“ دیا جانے پر، نظم کئے تھے: (1)
السَّیْفُ أصْدَقُ إنْبَاءً مِن الْکُتُب… فِیْ حَدِّہِ الْحَدُّ بَیْنَ الًجِدِّ واللَّعِب
تلوار جس طریقے سے بات دماغ میں بٹھاتی ہے وہ کتابوں اور چٹھوں کے بس میں کب ہے؟کیا چیز مذاق ہوا کرتی ہے اور کیا چیز مذاق نہیں ہوتی، یہی فرق سمجھانے کیلئے تو دنیا کے اندر تلوار کی دھار بنی ہے!
بِیْض الصَّفَائِحِ لا سُوْد الصَّحَائِفِ فِی… مُتُوْنِھِنَّ جَلَاءُالشَّکِّ وَالرِّیَب
ارے بھائی صفائح (تلواروں) کی سفیدی چاہیے نہ کہ صحائف (جریدوں اور کتابچوں) کی سیاہی، کہ جن کے اندر سوائے شکوک اور شبہات کے کچھ واضح نہیں کیا جاتا!
لَوْ بیَّنْتَ قَطُّ أمْراً قَبْلَ مَوْقِعِہ… لَمْ تُخْفِ مَا حَلَّ بِآل الأوْثَانِ وَالصُّلَب
اگر کہیں تو نے اپنا کوئی ارادہ اس کے واقع ہو جانے سے پہلے ظاہر کر دیا ہوتا تو وہ حالت جو بعد ازاں بتوں اور صلیبوں پر گزری، صیغۂ راز میں نہ رہ پاتی۔
أبْقَیْتَ جِدَّ بَنٍی ال إسْلامِ فِیْ صَعَدٍ… وَالْمُشْرِکِیْنَ وَدَارَ الشِّرْکِ فِیْ صَبَب
میرے ممدوح! تو نے فرزندانِ اسلام کی عزت وعظمت کو اوپر جانے کی ایک سمت دے ڈالی۔ جبکہ مشرکین اور دارِ شرک کا رخ پستی کی جانب کرڈالا۔
***********
جہاں تک اِس کو محض ایک وقوعہ کے طور پر لینے کا معاملہ ہے، تو اس پر بولنے والے خاصا کچھ بول چکے کہ ممتاز قادری نے کتنا صحیح کیا اور کتنا غلط۔ اب بھی آپ اِس پر جس قدر طویل بات کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔ یقینا ہر مسئلہ کو دیکھنے کا ایک ”مائکرو لیول“ بھی ہو سکتا ہے جہاں اس کو ’’دو اشخاص کے مابین پیش آنے والے ایک واقعے‘‘ کے طور پر لیا جائے گا۔ البتہ وہ لوگ بہت کم رہے جو اِس مسئلہ کو ایک عالمی سیناریو میں رکھ کر دیکھتے اور جس میں اس کو ’’دو ملتوں کے مابین پیش آنے والے ایک واقعے‘‘ کے طور پر بھی لیا جاتا ہے…
کون نہیں جانتا، ”ناموسِ رسالت“ Vs ”توہینِ رسالت“ اِس لحظہ کا سب سے بڑا عالمی میچ ہے؛ بلکہ اِس وقت کا وہ سب سے سنسنی خیز نقطہ جس پر کئی سال سے دو ملتوں کا پورا زور لگ گیا ہوا ہے۔ یہ بھی لاہور یا اسلام آباد کے کسی ایک محلے کا کھیل تھوڑی ہے؛ اِس پر بھی تو، بلکہ اِس پر ہی تو، عالمی سطح کے مہرے اور عالمی سطح کی چالیں چلی جا رہی ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات تو نہیں ہے، مسئلے کی جہتیں واضح طور پر سات سمندر پار تک جاتی ہیں۔
ٹھیک ہے مرنے والا ایک ”فرد“ بھی تھا۔ لیکن اِس کے ساتھ، مرنے والا ایک ”ایجنڈا“ بھی تو تھا۔ یہ ضرور ہے کہ اِس واقعہ میں ایک ”شخص“ (سلمان تاثیر) کی بھی موت واقع ہوئی، لیکن جس آدمی کی نظر مسئلہ کے ”اسٹرٹیجک“‘ پہلوؤں پر ہو، وہ یہاں پر پورے ایک ”پروگرام“ کی موت بھی ساتھ ہی واقع ہوتی ہوئی دیکھتا ہے۔
اور جب اس کی نظر اُس ”گریٹ گیم“ پر جاتی ہے جس پر ملت کفر کے سب بڑے بڑے جغادریوں کی راتیں جاگی جا رہی ہیں اور درجنوں تھنک ٹینکس کی مدد سے اِس بساط پر ایک ایک مہرہ ہلایا جاتا ہے.. تو اِس ایک واقعہ کے اندر وہ پورے ایک ”پروگرام“ کو بھی خون میں لت پت دیکھتا ہے.. ایک ایسے ”پروگرام“ کو جو لازماً ایک واقفِ حال کی پوری کی پوری توجہ لے لیتا ہے، یہاں تک کہ اُس کو یاد دلانا پڑتا ہے کہ اِس ”پروگرام“ کے ساتھ ساتھ یہاں ایک عدد ”شخص“ کا قتل بھی واقع ہو گیا ہے۔
چنانچہ جس کسی کو یہ ایک ”شخص“ کا قتل نظر آیا اُس نے اِسی حوالے سے اس کا شرعی حکم بیان کرنے کی کوشش کی اور بلا شبہ یہ بھی اِس مسئلہ کو دیکھنے کی ایک جہت تھی۔ لیکن جس کسی نے اِس واقعہ کے اندر ایک عالمی ”ایجنڈا“موت کے گھاٹ اترتا دیکھا، لازم تھا کہ اُس کو یہ اختلاف اور یہ بحث کچھ غیرضروری نظر آتی۔
*****
کم ہی کسی نے سوچا ہو گا – اور ہمارے دین کے مسلمات کے ساتھ کھیلنے والے چاہیں تو اس سے بے شمار سبق کشید کر سکتے ہیں – آخر وہ کونسی بات تھی جو لوگوں کو مجبور کررہی تھی کہ وہ اِس ایک گمنام شخص کو اپنے کاندھوں پر اٹھا کر پھریں؟ کیا اِس سانولے سلونے لڑکے کے ساتھ یکدم ان کی کوئی رشتہ داری نکل آئی تھی یا مرنے والے کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی عداوت تھی؟ قتل ایسے خوفناک واقعہ کو بھی امن پسند عوام الناس میں بھلا کب پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؟! آخر کیا وجہ تھی کہ لمحوں میں ایلیٹ فورس کے ایک زیرِحراست اہلکار پر لوگ بےقابو پھول برسانے لگے؟
میڈیا نے لاکھ چاہا کہ اِس واقعہ کی اصل جہت پر پردہ ڈالا جائے اور اس کو ’قانون‘ اور ’دستور‘ کے فریم میں ہی رکھ کر دیکھے اور دکھائے، مگر حالات نے اس بار خود بول کر دکھایا کہ قوموں کی عزت اور ناموس پر حرف آئے تو مسئلے ’قانون‘ اور ’دستور‘ سے عظیم تر کسی فریم میں رکھ کر دیکھے جاتے ہیں!

تحریر حامد کمال الدین

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *