آسیہ مسیح، سلمان تاثیر اور ممتاز قادری کیس-چندحقائق

 

 

 

 

photo_1735697340000224

4 جنوری 2011ء کی شام 5 بجے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد میں انکے گارڈ ممتاز قادری نے قتل کیا ۔ ممتاز قادری کا موقف یہ تھا کہ اس نے یہ قتل خالصتاً ذاتی نیت اور اِرادے سے کیا اور سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ اس نے ‘قانونِ امتناع توہین رسالت’ کو ‘کالا قانون’ کہا اور توہین رسالت کے مجرموں کی تائید اور پشت پناہی کی۔ سلمان تاثیرکے اس قتل کے بعد ملک میں ایک نظریاتی جنگ شروع ہوگئی , ٹی وی واخبارات پر موجود جدت پسندوں کو مذہبی طبقے کو کوسنے دینے کا بھرپور موقع ملا اور اانکی طرف سے قانون توہین رسالت کے خلاف کئی قسم کے اعتراضات بھی اٹھائے گئے ۔چند دن پہلے 29 فروری 2016 کو جب ممتاز قادری کوپھانسی دے دی گئی, ہر دم دوسروں کو راواداری کی تلقین کرنے والا یہ طبقہ اس موقعہ پر بھی شدید عدم برداشت کا مظاہرہ کرتا نظر آیا، اپنی تحریروں میں بالخصوص انہوں نے جو زبان استعمال کی ،الزامات دہرائے، اور جیسے اس پھانسی پر خوشیاں منائیں اس سے انکے راواداری اور برداشت کے فلسفے کی حقیقت پوری طرح عیاں ہوئی ۔ قانون توہین رسالت کے متعلق سیکولر لابی کے اٹھائے گئے اعتراضات سے بہت سے لوگ کنفیوز نظر آئے ، اسکو دیکھتے ہوئے اس امر کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ان اعتراضات/وساوس کا جائزہ پیش کیا جائے۔ ہمارے اس تحریر ی سلسلہ میں اُن اعتراضات وشبہات کا جواب دیا جائے گا جو میڈیا پر بطورِ خاص ان دنوں اس واقعہ کے حوالہ سے نمایاں ہوئے: مثلا
کیا آسیہ مسیح بے گناہ ہے
کیا سلمان تاثیر کا قتل ایک مظلوم عورت آسیہ مسیح کی مدد کی سزا ہے؟
سلمان تاثیر اورآسیہ کیس کی جنید جمشید کے ساتھ مشابہت کا فریب
حضور صلی اللہ کی رحمت کی مثالیں اور گستاخ رسول
قانون توہین رسالت اور فقہ حنفی
پاکستانی معاشرہ اور انتہاپسندی
قانون کی رٹ کا مسئلہ اور ناموس رسالت

>>آسیہ بی بی/سلمان تاثیر/ممتاز قادری کیس<<
کیا آسیہ مسیح بے گناہ ہے؟
سوشل میڈیا پر بہت سے رائٹرز نے اس مفروضے کی بنیاد پر تحاریر لکھیں کہ آسیہ مسیح تو مظلوم تھی اور سلمان تاثیر کی اسکو آزاد کرانے کی کوشش اک نیک عمل تھا۔حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ آن دی ریکارڈ باتوں اور عدالتوں سے سزا یافتہ مجرموں کے متعلق بھی کس طرح جھوٹ بھول جاتے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔آسیہ کے کیس کی حقیقت کیا ہے ؟ معروف صحافی حامد میر کے کالم سے اقتباس پیش ہے:
آسیہ بی بی کا تعلق ننکانہ صاحب کے نواحی علاقے اٹانوالی سے ہے۔ پانچ بچوں کی 45 سالہ ماں آسیہ بی بی کو مقامی سیشن عدالت سے توہین رسالت کے الزام میں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ سال کئی افراد کی موجودگی میں توہین رسالت کی جس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت اس کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس مقدمے کی تفتیش ایس پی انویسٹی گیشن شیخوپورہ محمد امین شاہ بخاری نے کی اور ان کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش آسیہ بی بی نے مسیحی برادری کے اہم افراد کی موجودگی میں اعتراف جرم کیا اور کہا کہ اس سے غلطی ہو گئی ہے۔
لہٰذا اسے معاف کر دیا جائے۔ آسیہ بی بی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال کچھ مسلمان خواتین نے اس کے سامنے کہا کہ قربانی کا گوشت مسیحیوں کیلئے حرام ہوتا ہے جس پر غصے میں آکر اس نے کچھ گستاخانہ کلمات کہہ ڈالے جس پر وہ معافی مانگتی ہے۔ آسیہ بی بی نے اپنے خلاف مقدمے کے مدعی قاری سالم سے بھی معافی مانگی لیکن اس کا موقف یہ تھا کہ توہین رسالت کے ملزم کو معافی نہیں مل سکتی۔ ایڈیشنل سیشن جج ننکانہ صاحب نوید اقبال نے گواہوں کے بیانات اور واقعاتی شہادتوں کو سامنے رکھتے ہوئے 8 نومبر 2010ء کو آسیہ بی بی کیلئے سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا کا اعلان کیا۔
(حامد میر کالم آسیہ بی بی اور قانونِ توہین رسالت 25 نومبر2010، روزنامہ جنگ)
http://www.deeneislam.com/ur/horiz/halate_hazra/666/article.php?CID=666
سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نےفالسے کے کھیت میں پانی پر جھگڑےکی کہانیاں گھڑیں ، انکی ان کہانیوں کا ثبوت وکی پیڈیا کے علاوہ کہیں نہیں ملتا۔ ۔ باالفرض اگر پانی پر جھگڑے کی بات کو بھی سچ مان لیا جائے تو بھی کیس پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ملزمہ نے عدالت کے سامنے خود قبول کیا ہے کہ اس نے ایسے گستاخانہ الفاظ کہے اور انہی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی۔
آسیہ مسیح توہین رسالت ، توہین قرآن اور توہین ازواجِ مطہرات کی مرتکب ہوئی اور کئی بار اس کا اعتراف کرچکی تھی ، سیشن کورٹ کے جج نے سال بھر کی تفصیلی سماعت کے بعد اس کو توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر، ایک لاکھ روپے جرمانہ اور موت کی سزا سنائی ، اس سزا کے بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر کا اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسکو آزادی دلوانے کی کوششیں شروع کرنا اور قانون توہین رسالت کی سخت الفاظ میں مذمت کرنا،قانون توہین رسالت کو کالا قانون کہنا انتہائی اشتعال انگیز تھا۔ ان بیانات میں دستور اور قانون کی بھی توہین تھی جس کی پاسداری اور احترام کا حلف اٹھا کرہی سلمان تاثیر گورنر جیسے اہم منصب پر فائز ہوئے ۔ گورنر جو کسی صوبے کا آئینی سربراہ ہے، وہ ملک کے نظام عدل کا محافظ ہوتا ہے۔ اگر وہ اس اہم منصب پر بیٹھ کر پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین اور نظامِ عدل کی توہین شروع کردے تو اس سے عوام میں کیسی قانون پسندی کو رواج ملے گا؟ دیکھا جائے تو مقتدر طبقے کا یہی رویہ پھر عوام کو بھی قانون شکنی پر مجبور کرتا ہے ، ممتاز قادری کے قانون ہاتھ میں لینے کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی۔

کچھ لوگ یہاں نکتہ ترازی کرتے ہیں کہ یہ شریعت ِاسلامیہ کی توہین نہیں، بلکہ چند انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی توہین ہے، جس کی سنگین سزا نہیں ہوسکتی۔ حقیقت میں یہ ایک عذرِ لنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 295 سی میں درج تین سطروں پر مشتمل قانون توہین رسالت کوئی انسانی قانون نہیں بلکہ شرعی قانون ہے اور براہ راست قرآن وسنت سے اخذ کیا گیا ہے۔اس قانون پر وفاقی شرعی عدالت کے فاضل جج صاحبان ملک بھر کے جید علما ے کرام کی تفصیلی معاونت سے نظر ثانی کرچکے ہیں ،پھرپاکستان کے دونوں ایوانوں نے 1992ء میں متفقہ منظوری دے کر اس پر مہر تصدیق ثبت کی ہوئی ہے۔
جہاں تک انسانی الفاظ کی بات ہے تو شریعت کے احکام علما اورفقہاے کرام اپنے الفاظ میں بیان کرتے ہیں ۔ کیاان احکام کا محض اس بنا پر انکار کیا جاسکتا ہے کہ یہ ہو بہو قرآن یا رسول کریم ﷺکے اپنے الفاظ نہیں ہیں؟ ان حالات میں شریعت ِ اسلامیہ پر عمل کیسے کیا جائے؟ قرآن کے کسی حکم کو جب ہم اپنے الفاظ میں بولیں گے تو کیا محض اس بولنے کی بنا پر وہ قرآنی حکم نہیں رہ جائے گا۔؟
جب قانون توہین رسالت اور شریعتِ اسلامیہ کے مقصود ومدعا میں معمولی فرق بھی نہیں ہے ، اور ماضی میں جو معمولی فرق تھا، اس کو طویل عدالتی جدوجہد کے بعد رفع کردیا گیا ہے توپھر یہ دعویٰ کیا حقیقت رکھتا ہے کہ میں تو چند انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی مخالفت کررہا ہوں؟ پاکستان میں کسی قانون کو شریعت ِاسلامیہ کے عین مطابق کرنے کی جو زیادہ سے زیادہ ممکنہ اورمعیاری ترین صورت ہے، قانون توہین رسالت ان تمام معیارات کو سوفیصد پورا کرتا ہے۔اس کے بعد اس کو چند انسانوں کا قانون کہہ کر تختہ تمسخر و مذاق نہیں بنایا جاسکتا بلکہ اسے شریعت ِاسلامیہ کی ہی توہین قرار دیا جائے گا۔ قانونِ امتناع توہین رسالت کا متن حسب ِذیل ہے:
”جو کوئی الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا نقوش کے ذریعہ، یا کسی تہمت، کنایہ یا در پردہ تعریض کے ذریعے بلا واسطہ یا بالواسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے پاک نام کی توہین کرے گا تو اسے موت کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔”
ناموس رسالت کے اس قانون کو کالا قانون کہنا، گستاخ رسول کو علی الاعلان تحفظ فراہم کرنا اور پوری قوم کے سامنے یہ اعلان کرنا کہ اگر عدالت نے اس مجرم کو سزا دے بھی دی تو میں اسے صدر سے معافی دلاؤں گا، یہ انتہائی غلط طریقہ تھا جو شہبازبھٹی اور سلمان تاثیر نے اختیار کیا ، اگر یہ اپنی دانست میں آسیہ بی بی کو بے گناہ سمجھتے ہیں تو ان کے پاس مناسب راستہ موجود تھاکہ یہ کسی اچھے وکیل کا انتظام کرتے اور آسیہ بی بی کے خلاف سزا کو ہائی کورٹ میں چیلنج کردیتے۔ ماضی میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ہائی کورٹ نے توہین رسالت کے ملزمان کو رہا کردیا، کیونکہ ان پر الزام ثابت نہ ہوسکا۔ سلمان تاثیر نے ایسا کچھ کرنے کے بجائے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے ناصرف آسیہ بی بی کو بچانے بلکہ ۲۹۵سی کو ہی ختم کرنے کی کوشش شروع کردی ۔اس سلسلے میں وہ قانون توہین رسالت کے خلاف باقاعدہ عملی کوششیں کرتے اور اسکے لیے غلط الفاظ کا استعمال بھی کرتے نظر آئے۔
جو شخص کھلے عام اتنی گستاخانہ اور اشتعال انگیز بیانات دے سکتا ہوں وہ نجی محافل میں کیسی زبان استعمال کرتا ہوگا، شاید نجی محافل میں کی جانے والی یہی شدید گستاخیاں تھیں کہ اسکے ذاتی گارڈ نے اتنا شدید ردعمل ظاہر کیا ، دیکھا جائے تو ممتاز قادری نے صرف اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اپنے بھرپور غم و غصہ کا اظہار اس پر 26 گولیوں کا برسٹ مار کر کیا ہے۔ سلمان کے محافظوں نے اس کو نہ روک کر اوراقدامِ قتل کے بعد اس پر کسی جارحیت نہ کرکے بہت سے پیغامات دیے ہیں۔کسی دفاعی یا جوابی گولی کے بغیر ممتا ز کو گرفتار کرنے میں بہت سی عبرتیں پوشیدہ ہیں۔ کیا ممتاز قادری کی کوئی ذاتی دشمنی گورنر سے تھی جس کے لئے اس نے یہ بے دردانہ رویہ اختیار کیا۔ان محافظوں کی اس سے وہ کونسی دلی ہم دردی تھی کہ اُنہوں نے اس پر معمولی سی جارحیت بھی نہ کی اور محافظوں کی جانب سے کسی گولی یا معمولی مزاحمت کا بھی سامنا نہ کرنا پڑا۔ وقوعہ قتل کا یہ نقشہ قتل سلمان تاثیر کے جرم اور اس کے بارے میں رائے عامہ کو ظاہر کرتا ہے۔ ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *