شاتم رسول اور حنفی فقہاء کا موقف-عرفات مظہر کےدعووں کا جائزہ

photo_1736892433214048

ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بہت مشہور ہوئی جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ حنفی فقہاء شاتم رسول کے لیے موت کی سزا کے قائل نہیں، اس ویڈیو کی ڈسکرپشن میں ڈان اخبار کی ویب سائٹ پر عرفات مظہر صاحب کےقانون توہین رسالت کے موضوع پر شائع ہونے والے مضامین کا حوالہ دیا گیا کہ ویڈیو کی تیاری میں ان سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ہم نے صرف ویڈیو کا جواب دینے کے بجائے اصل سورس کی مکمل تحقیقات کا جائزہ لینا ہم نے ضروری سمجھا ہے ، تحریر ضروری تفاصیل تک محدود ہونے کے باوجود فیس بک کے حساب سے طویل ہے، اس لیے تین قسطوں میں پیش کی جارہی ہے۔

عرفات مظہر صاحب کا دعوی :
توہین رسالت کے مسئلے پر حنفی علماء کا “اصل” موقف یہ ہے کہ گستاخی کرنے والے کو معافی مل سکتی ہے اور اسلامی ریاست میں غیر مسلم گستاخ رسول کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ ان کا مزید یہ بھی دعوی ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے دیوبندی اور بریلوی مسلک کے اکابرین سمیت حنفی علماء کا اس مسئلہ پر “با قاعدہ” اجماع ہو چکا ہے۔

عرفات مظہر کا مختصر تعارف:
عرفات مظہر صاحب بنیادی طور پر ایک کمپیوٹر انجینیئر ہیں، ۲۰۰۷ میں انہوں نے FAST یونیورسٹی سے بی ایس سی کمپیوٹر سائنس کی ڈگری حاصل کی اور گزشتہ پانچ سال کے عرصے سے قانون توہین رسالت پر ‘ریسرچ’ میں مصروف عمل ہیں۔ حال ہی میں موصف نے ‘انگیج پاکستان’ کے نام سے ‘ریسرچ’ اور ‘ایڈووکیسی’ ادارہ قائم کیا ہے جس کا مقصد پاکستان میں لاگو قوانین توہین رسالت میں ‘ترامیم’ کروانا خصوصا غیرمسلم شاتم رسول کےلیے موت کی سزا ختم کروانا سرفہرست ہے۔ ایک عدد میوزیکل بینڈ کے بانی ہونے کے علاوہ موصوف ‘آوازاٹھےگی’ نامی تحریک کے بانی اورقائدبھی رہے ہیں۔ اپنی اس تحریک کا تعارف وہ کچھ اس طرح کرواتے ہیں:
Awaz Uthey Gi is a movement which is rooted firmly in pro-faith ideologies۔ The religious clergy has become, we believe, one of the most corrupt institutions in the society۔ https://www۔facebook۔com/augpk
آواز اٹھے گی’مذہب دوست’ نظریات کی حامل تحریک ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری ‘مذہبی قیادت’ معاشرے کے کرپٹ ترین اداروں میں سے ایک ادارہ ہے۔ ‘

عرفات مظہر کی تحریک کے مقاصد
اواخر فروری میںLUMSیونیورسٹی میں”From Condemnation to Action: A Conversation with Jibran Nasir and Arafat Mazhar ” کےعنوان سےایک خصوص پروگرام کیا انعقاد کیا گیا جس میں محترم عرفات مظہر، سابق گورنر سلمان تاثیر کے فرزند شان تاثیر اور پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے ‘حقوق’ کے داعی جبران ناصر نے یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کیا۔ عرفات صاحب کی تقریر کے چیدہ چیدہ نقات پیش خدمت ہیں:
قانون توہین رسالت کو اگر اس ملک سے ختم کرنا ہے تو اس کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسلام کے فقہی ذخیرے کو استعمال کیا جائے اور صرف اسی کو اپنی بنیاد بنایا جائے ۔ ‘سیکولر اور انسانی حقوق کے پیراڈائم سے یہ قانون نہیں بدلا جا سکتا، گو کہ یہ قانون انسانی حقوق کے خلاف ہے، لیکن ہم ہیومنسٹ اور سیکولر بنیادوں پر اس قانون کو نہیں بدل سکیں گے۔ اس سے پہلے اس قانون کو بدلنے کی جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں چاہے وہ شیری رحمن کی سن ۲۰۱۰ میں کی جانے والی کوششیں ہوں یا کوئی اور ، وہ اسی وجہ سے ناکام ہوئیں۔ ہمیں اسلامی فقہی روایت کو ہی استعمال کرنا ہوگا۔ یہ قانون اسلامی فقہ کی بنیاد پر بنا ہے، اس کو اسلامی فقہ کی بنیاد پر ہی مات دینی ہوگی۔
قانون توہین رسالت دو ستونوں پر کھڑا ہے۔ نمبر ایک یہ کہ اس قانون کے مطابق شاتم رسول کی سزا ‘حد’ کے زمرے میں آتی ہے اور دوئم یہ کہ اس قانون کے تحت اس سزا کے ‘حد ‘ ہونے پر فقہاء کا ‘اجماع’ ہے۔ ان دو چیزوں سے یہ قانون خدا کا دیا ہوا قانون بن جاتا ہے، یعنی اس میں انسان ترمیم نہیں کر سکتے۔ ہمارا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ شاتم رسول کی سزا سیاسہ شرعیہ کے باب سے ہے نہ کہ حد کے باب سے اور یہ کہ اجماع غیر مسلم کو سزائے موت دینے پر نہیں، بلکہ اسکے برعکس غیر مسلم کو معافی دینے یا زیادہ سے سے زیادہ موت کے علاوہ کوئی اور سزا دینے پر ہے۔ البتہ کسی بھی صورت میں غیر مسلم شاتم رسول کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم اس قانون کے یہ دو ستون گرا دیں، یعنی اسکا حد ہونا اور اسکے حد ہونے اور سزائے موت کے برحق ہونے پر اجماع ہونا، تو ہمارے لیے اس قانون کو تبدیل کروانا اور غیرمسلم شاتم رسول کیلئے سزائے موت ختم کروانا بہت آسان ہو جائے گا۔ اور یہی ہمار ا مشن ہے۔ اس کے یہ دو ستون گرا دینے سے یہ قانون خود بخود ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ اس طرح خدا کے قانون کی بجائے انسانوں کا بنا یا ہواقانون بن جائے گا۔
خوش قسمتی سے اس معاملے میں ‘اسلامک ٹریڈیشن’ یعنی کلاسیکل اسلامی فقہ ہمارے ساتھ ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام طحاوی غیر مسلم شاتم رسول کو سزائے موت دینے کے قائل نہیں تھے۔ یہ تو بعد میں علماء احناف نے اپنا موقف بدلا۔ تو ہمار مطالبہ یہ ہے کہ ‘اصل حنفی’ موقف کو پاکستان میں نافذ کرو کیونکہ پاکستانی تو حنفی ہیں۔یہ جو بعد میں پاکستانی علماء اور مفتیان نے سیاسی وجوہات کی بنا پر دھوکہ دہی کی اور اس کو حد اور نا قابل معافی جرم کہا ہے، اس کو چیلنج کرنا ہمارا مقصد ہے۔ دیوبندی، بریلوی ، جماعت اسلامی کے اکابر کا موقف تو آج کے علماء کے بالکل برعکس تھا۔ یہ جن کو لوگ یہا ں اپنا بزرگ مانتے ہیں انکا موقف امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف والا تھا اور ہم نے ریسرچ سے ثابت کیا ہے کہ اصل حنفی موقف ، یعنی امام ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور امام طحاوی کا موقف آج کل بیان کیے جانے والے موقف کے بالکل برعکس ہے ۔اس بات کا پول عوام کے سامنے کھولنا چاہیے۔ یہ جو بیچ میں تاریخی موقف خراب ہوا ہے اس پر ابن عابدین نے بہت لمبی بحث کی ہے۔ آپ خود ریفرنسز دیکھ لیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اصل حنفی موقف کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے اوراحناف کے اس دیس میں فقہ حنفی کےدرست موقف کو نافذ کیا جائے۔ اصل اجماع تو موت کی سزانہ دینے پر ہے ! انکو کہا جائے کہ بھائی قانون توہین رسالت تو فقہ حنفی کے ہی خلاف ہے، فقہ حنفی کا اور امام ابو حنیفہ کا جو موقف ہے وہ نافذ کرو یہاں۔
اس پر جبران ناصر اور LUMS کے ایک پروفیسر نے سوال کیا: اگر اس طرح کل کو مولویوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اس قانون کو ہم فقہ حنفی کے اور علماء احناف کے ‘حقیقی اجماع’ اور امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق کر دیتے ہیں پر تم دیگر قوانین میں بھی ترامیم کرو اور ان کو امام ابو حنیفہ کے اقوال کے مطابق کرو اور اسی طرح کل کو وہ کوئی اور اجماع نکال لائے اسلامی فقہی ذخیرے سے جو کہ رکیک ہو جیسے فقہ حنفی میں جب کسی ‘بچی’ کو حیض آنے لگ جائیں چاہے وہ پانچ سال کی ہی کیوں نہ ہو تووہ نکاح کے قابل مانی جاتی ہے، تو اگر انہوں نے کہا کہ شادی کی عمر اٹھارہ سال سے کم کرو وتو پھر ہم کیا کریں گے؟
اس کا آسان حل عرفات مظہر صاحب نے یہ بتا یا:
تب بھی ہم اسلامی روایت میں سے ہی حل نکالیں گے، اسلام کا فقہی ذخیرہ بہت وسیع ہے۔ ہو سکتا ہے feminism اور عورتوں کے حقوق اور بہت سے چیزوں میں مسئلہ پڑے، پر تب ہم نوادر العلما یعنی اسلامی فقہ میں موجود شاذ اقوال کا سہارا لیں گے۔ ریفرنس پھر بھی فقہ ہی ہو گی، حل یہیں سے نکالیں گے، کیثہ علی جوکہ امریکہ میں ہوتی ہیں، انہوں نے اس پر بہت کام کیا ہے۔اس لیے ایسے مسائل میں ہم شاذ اقوال سے فائدہ اٹھایں گے ۔ پریفرنس اسلامی فقہی روایت کو ہی بنائیں۔ راستہ یہیں سے نکلے گا۔ اسلامی فقہی روایت بہت زرخیزہے۔
میری ڈاکٹر خالد مسعود صاحب سے بات ہوئی ہے، وہ سپریم کورٹ کے شریعت بینچ پر ہیں ، انہوں نے خود اس قانون کو غلط قرار دیا ہے اور اسکے خلاف ناروے کی ایک این جی او کےلیے رپورٹ بھی لکھی ہے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تم یہ کیس سپریم کورٹ میں لے آؤ میں تمہارے حق میں فیصلہ دے بھی دوں گا پر اگر اس قانون کے ہوتے ہوئے اگر آج ۵۰۰ قتل ہوتے ہیں تو اس قانون کے ختم ہو جانے کے بعد ۵۰۰۰ ہوں گے۔
مجھے بھی اس بات کا پتہ ہے کہ اس قانون کے خاتمے کے بعد قتل و غارت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ پر یہ ہمیں برداشت کرنا پڑے گی۔ انصاف کے تقاضوں کیلئے اسکو برداشت بہر حال کرنا پڑے گا۔ دور رس تبدیلی کیلئے یہ ناگزیر ہے۔

ہمیں فنڈنگ کی آفر ہوئی تھی، ہم نے کہا کہ ہم USAID یا LUMS یا کسی ایسی جگہ سے فنڈ نہیں لینا چاہتے جس سے ہم مدارس اور دار اافتاء یا مذہبی طبقے میں مشکوک ٹھہرائے جائیں۔ ہمیں عمار خان ناصر اور مولانا زاہد صاحب سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں کہا کہ اگر امریکی فنڈنگ لی تو ہم پیچھے سے ہٹ جائیں گے۔ اس لیے ان کے کہنے پر اب ہم عوامی چندہ مہم شروع کر رہے ہیں۔ یعنی عام لوگوں سے پیسے مانگ رہے ہیں کہ آپ سٹوڈنٹس ہمیں فنڈ کریں۔

عرفات مظہر صاحب کی تحقیق کا اصول اور مقصد:
عرفات مظہر صاحب اور ان کی اس تحریک کے اس تعارف کے بعد آئیے غور کرتے ہیں کہ ان صاحب کی تحقیق اور تحریک کا مقصد کیا ہے اور اصول، اگر کوئی ہیں بھی تو کیا ؟
١۔ کیا یہ شخص چاہتا ہے کہ ہر مسئلہ میں امت کے جمہور علماء کی رائے کے مطابق قانون سازی ہو؟
٢۔ کیا اس کی تحریک کا مقصد پاکستانی قوانین کو فقہ حنفی کے مطابق بنانا ہے؟
٣- کیا مقصد قانون کے غلط استعمال کو روکنا اور بے گناہ ملزمین کی مدد ہے؟
٤- یا اس کا مقصد محض یہ ہے کہ رسول الله اور دین کے بارے میں ہرزہ سرائی کی روکت ھام کے لئے بنائے گئےقانون کو ختم یا ترمیم کے ذریعے عملا معطل کیا جاۓ اور اس کےلئے جیسے بھی ہو کچھ دلائل اکھٹے کئے جائیں؟
عرفات مظہر کا مقصد یہ تو ہر گز نہیں کہ سب مسائل میں قانون سازی جمہور امت کے مؤقف کے مطابق ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ توہین رسالت کے بارے میں قانون کے خلاف ایسی مذموم مہم ہی نہ شروع کرتے کیونکہ موجودہ قانون میں گستاخ رسول کی سزا جمہور امت کے مؤقف کے عین مطابق ہے۔ اورLUMS میں جناب یہ فرما چکے ہیں کہ اور مسائل پر بات ہو تو شاذ آراء کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔
ان مقصد یہ بھی نہیں کہ قانون سازی فقہ حنفی کے مطابق ہو کیونکہ LUMSمیں اپنی گفتگو میں صاحب یہ فرما چکے ہیں کہ دیگر مسائل میں فقہ حنفی پر چلنے کا کہا جاۓ تو اس اسے اعراض کریں گے اور ان مسائل میں اپنے مطلب کے موافق آرا مجموعی فقہی روایت میں تلاش کریں گے یعنی ان کی نظر میں فقہ حنفی پہ چلنے کا اصول بھی نہیں۔
اگر ان کا مقصد قانون کے غلط استعمال کو روکنا یا بے گناہوں کی خلاصی ہوتا تو وہ قانون کی تنفیذ کی تفصیل اور متعلقہ انتظامی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے لیکن LUMSمیں ہی اپنی گفتگو میں وہ کہہ چکے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ قانون کے ختم ہونے یا بدلنے کی صورت میں خطرہ ہے کہ لوگ خود ہی ملزمین کو قتل کرنا شروع کر دیں گے لیکن وہ اس کے سد باب کی فکر کئے بغیر ٥٠٠٠ لوگوں تک کے خون کو نا گزیر سمجھتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کے پیش نظر معاشرے کا امن و سکون یا بے گناہ ملزم بھی نہیں۔
اس ساری تفصیل کے بعد ایک ہی صورت سمجھ میں آتی ہے کہ موصوف اس قانون کو جس کی اصل دین کی تعظیم میں اور دین کی توہین کی حوصلہ شکنی میں ہے کو تمام شرعی اور معاشرتی دلائل سے قطع نظر کرتے ہوۓ کسی بھی صورت میں ختم کروانا چاہتے ہیں۔
مزید وہ یہ بھی واضح کر چکے ہیں کہ اگر خدانخواستہ وہ قانون تحفظ ناموس رسالت کو ختم کرانے یا اس میں ترمیم کروانے میں کامیاب ہو گئے تو ان کا اگلا ہدف دوسری آئینی ترمیم ہو گی جس کی رو سے قادیانوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ یہ اعتراف اور اظہار تمام دینی قوتوں کو اس فتنے کی سرکوبی کے لئے متحد کرنے کے لئے کافی ہے اگر وہ صاحبان نظر ہونے کا ثبوت دیں۔
اور جیسا کہ وہ آخر میں فرما چکے ہیں اس مقصد کے لئے وہ امریکی ادارے سے بھی امداد لینے کے خواہاں تھے اور شاید اب تک امریکیوں سے امداد کی اپیل کر بھی چکے ہوتے اگر تحفظ ناموس رسالت کے اس قانون کے بعض ہوشیار مخالفین (جیسے عمار خان ناصر) انہیں اس سے باز نہ رکھتے۔ اس سیاق میں یہ بات اہم ہے کہ جب حدود آرڈیننس پر بحث ہو رہی تھی تو ایک اہم امریکی عہدہ دار نے بیان دیا تھا کہ امریکہ پاکستان میں تین قوانین کو ختم کروانا چاہتا ہے یعنی حدود آرڈیننس، تحفظ ناموس رسالت کا قانون اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوانے کا قانون۔

photo_1737424886494136

عرفات مظہر کے دلائل کا مختصر جائزہ
١۔ عرفات مظہر کا پہلا دعوی یہ ہے کہ فقہ حنفی میں بزازی سے پہلے کسی نے شاتم رسول کیلئے قتل کی سزا تجویز نہیں کی اور خود بزازی ابن تیمیہ اور قاضی عیاض سے متاثر تھے یا انکے بیان کو غلط سمجھے۔
یہ دعوی بنیادی طور پر ہے ہی غلط۔ فقہ حنفی کی مشہور اور معتمد کتاب خلاصہ الفتاوی مصنفہ افتخار الدین طاہر بن احمد البخاری المتوفی ٥٤٢ ھ- میں لکھا ہے۔
جس شخص نے رسول الله پر شتم کیا، آپ کی توہین کی، دینی یا شخصی اعتبار سے آپ پر عیب لگایا، آپ کی صفات میں سے کسی صفت پر نکتہ چینی کی تو چاہے یہ شاتم رسول مسلمان ہو یا غیر مسلم، اہل کتاب ہو یا غیر اہل کتاب، ذمی ہو یا حربی، خواہ یہ شتم و اہانت عمدا ہو یا سہوا، سنجیدگی سے ہو یا بطور مذاق، وہ دائمی طور پر کافر ہوا اس طرح کہ اگر ہو توبہ بھی کر لے تو اس کی توبہ نہ عنداللہ قبول ہو گی نہ عند الناس۔ اور شریعت مطہرہ میں متاخر و متقدم تمام مجتہدین کے نزدیک اس کی سزا اجماعا قتل ہے۔ (خلاصہ الفتاوی، جز ٤ صفحہ ٣٨٦، ناشر امجد اکیڈمی، لاہور اور مکتبہ رشیدیہ، کوئٹہ)
اس قول کا حوالہ ہمیں محقق علماء کے ہاں ملتا ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے اکفار الملحدین (ص١٣٦ مترجم) میں اس عبارت کا ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر محسن عثمانی ندوی نے وحید الدین خان کے جواب میں لکھی گئی کتاب “اسلام میں اہانت رسول کی سزا” (ص ٤٦) میں یہ عبارت نقل کی ہے۔ دار العلوم کراچی کے فتویٰ نمبر٨٥٩ /٢ مورخہ ٢٤-٢ ١٤٢٧ ھ میں بھی اسکا حوالہ ہے۔ اور مولانا سلیم الله خان بھی اسکا حوالہ اپنے ایک مضمون میں دے چکے ہیں۔ اسی طرح مفتی رفیع عثمانی صاحب نے اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کو جو جواب دیا، جسکا تذکرہ خود عرفات صاحب بھی کرتے ہیں، اسکے آخر میں بھی یہ عبارات نقل کی ہے۔ (اسلامی نظریاتی کونسل، سالانہ رپورٹ ٢٠٠٣-٢٠٠٤، ص ١٤٤)
امام افتخار الدین طاہر بن احمد البخاری جو کہ ایک معتبر حنفی فقیہ تھے انکی وفات ٥٤٢ھ میں ہوئی جبکہ امام ابن تیمیہ کی پیدائش ٦٦١ھ میں ہوئی لہذا یہ دعوی کہ ائمہ احناف کے ہاں یہ مؤقف ابن تیمیہ کی کتاب الصارم المسلول کو پڑھنے یا سمجھنے میں غلطی سے ہوا اور البزازی المتوفی ٨٢٧ھ سے پہلے کسی حنفی عالم نے ایسا نہیں کہا درست نہیں۔ مزید یہ کہ امام افتخار الدین البخاری اس پر علماء کا اتفاق نقل کرتے ہیں، اس سے کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ انکے دور میں یہ کوئی انوکھا موقف نہیں تھا۔

٢۔ فقہ حنفی کے موقف کے حوالے سے علامہ ابن عابدین الشامی کی تحقیق میں دو بنیادی نکات پر بات ہوئی ہے۔
الف: کیا شاتم رسولﷺ کی توبہ قبول ہو گی؟اس حوالے سے ایک تو علامہ ابن عابدین شامی کا دعوی ہے کہ بزازی سے پہلے کسی حنفی عالم نے توبہ کی عدم قبولیت کا موقف ظاہر نہیں کیا۔ اس ضمن میں ہم افتخار الدین طاہر بن احمد البخاری کی کتاب خلاصہ الفتاوی کا حوالہ ذکر کر چکے ہیں۔
یہاں یہ واضح رہے کہ علامہ ابن عابدین کی پوری بحث ایک مسلمان شاتم رسول کے بارے میں ہے نہ کہ ذمی (کافر)شاتم کے بارے میں کیونکہ اس مسئلہ کو مرتد کے مسئلے پر قیاس کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ خود علامہ شامی نے توبہ کی قبولیت کے حوالے سے مسلم اورغیر مسلم میں فرق پر فقہ حنفی کے موقف کی وضاحت کی ہے۔ (دیکھیے رسائل ابن عابدین، جلد ١ صفحہ ٣٥٥) لہذا قبولیت توبہ کی شق پر ابن عابدین کی تحقیق کو بہرحال غیر مسلم گستاخان رسول پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری بات جو انہوں نے یہ کہی ہے کہ بعد کے علماء یعنی الکمال ابن الھمام وغیرہ کی تحقیق قابل التفات نہیں اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ مقلد کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے فقہی مذھب کا ہی اتباع کرے جیسے کہ مجتہد کو لازم ہے کو وہ اپنے اجتہاد کا اعتبار کرے۔ (رسائل ابن عابدین، جلد ١ صفحہ ٣٤٣) یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ محقق الکمال ابن الھمام مرتبہ اجتہاد پر فائز تھے۔ خود علامہ ابن عابدین الشامی نے ابن الھمام کے مجتہد ہونے کا ذکر ایک مستقل فصل،مطلب على أن الكمال بن الهمام بلغ رتبة الاجتهاد، قائم کر کے کیا ہے۔ (رد المحتار على الدر المختار، جلد ٣ صفحہ ١٧٣) یہی بات مولانا تھانوی نے بھی لکھی ہے کہ ابن الھمام کو مرتبہ اجتہاد حاصل تھا۔ (امداد الفتاویٰ، جلد ٤ صفحہ ٥٧٠) اور مفتی تقی عثمانی نے لکھا ہے کہ ابن الھمام کو مجتہدین فی المذھب میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ (اصول الافتاء و آدابہ، صفحہ ١٠٠)
اس سے معلوم ہوا کہ ابن الھمام کا حنفیہ کے قدیم مشہور موقف سے اختلاف موجب الزام نہیں کیوں کہ وہ تو خود مجتہد تھے اور مجتہد فی المذھب (یا مجتہد مقید) فروع میں مجتہد مطلق سے اختلاف کر سکتا ہے۔ جہاں تک اس دعوی کا تعلق ہے کہ ابن الھمام نے یہ موقف محض البزازی کے تتبع میں اختیار کیا ہے تو یہ قول بے دلیل اور محقق ابن الھمام کے مقام و مرتبہ سے بے جوڑ ہے۔ مفتی امین الدین جن سے ابن عابدین نے یہ نقل کیا ہے وہ ابن الھمام کے ہم عصر نہ تھے۔ غالبا انہوں نے یہ دعوی البزازی اور ابن الھمام کی عبارات میں لفظی مماثلت کی بنیاد پر کیا تھا لیکن یہ بنیاد دعوی مضبوط نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ابن الھمام خود صراحت کر دیتے جیسے کہ وہ فتح القدیر میں دیگر مقامات پر البزازی سے نقل کرتے ہوے کرتے ہیں۔ غالبا اس بات کا ادراک علامہ شامی کو بھی تھا اس لئے انہوں نے خاص طور سے لکھا ہےکہ ابن الھمام حنفی مذھب کے معروف مسائل سے اختلاف کرتے ہیں اور اس طرح ان کے موقف کو کمزور دکھانے کی کوشش کی ہے۔ (رسائل ابن عابدین، جلد ١ صفحہ ٣٣٥)
باقی رہ گیا علامہ ابن عابدین کا ابن الھمام کے اجتہاد کو اختیار نہ کرنا تو یہ دوسرے علماء کو مانع نہیں کہ وہ ان کے اجتہاد کو اختیار کریں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابن نجیم، صاحب در مختار وغیرہ نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔

گستاخ رسول کی توبہ اور اسلامی نظریاتی کونسل میں مفتی رفیع عثمانی صاحب کا بیان
عرفات صاحب اسلامی نظریاتی کونسل کو دیے گئے مفتی رفیع عثمانی صاحب کے بیان کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے گستاخ رسول کی معافی کا طریقه بتایا ہے۔ حقیقت صرف یہ ہے کہ مفتی صاحب نے اس حوالے سے تمام فقہاء کے آراء کا اجمالا ذکر کیا ہے۔
مفتی صاحب نے توبہ کے حوالے سے جو بیان کیا اس کا خلاصہ خود انکے اپنے الفاظ میں یہ ہے؛
“استتابہ کے مسئلہ میں ائمہ مجتہدین کا اختلاف ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور مالکیہ کے راجح قول کے مطابق مسلمان (گستاخ)کی توبہ قابل قبول ہے اور امام احمد بن حنبل اور خود امام مالک رحمہما الله تعالی کے نزدیک اس کی توبہ قابل قبول نہیں اور ذمی کی توبہ کے بارے میں تین اقوال ہیں، اس لئے زمانہ کے حالات اور تقاضوں کے مطابق حکومت وقت ان دو میں کسی بھی موقف کے مطابق قانون بنا سکتی ہے۔” (اسلامی نظریاتی کونسل، سالانہ رپورٹ ٢٠٠٣-٢٠٠٤، ص ١٤١-١٤٢)
ذمی کے قبولیت توبہ کے بارے میں تین اقوال جو مفتی صاحب نے نقل کئے وہ یہ ہیں؛
“١۔ ذمی کو بہرحال قتل کیا جائے گا، اگرچہ گرفتاری کے بعد، توبہ بھی کر لے۔ یہ امام احمد اور امام مالک کا مشہور موقف ہے اور امام شافعی رحمہ الله کا ایک قول ہے۔
٢- ذمی اگر توبہ کرے اور توبہ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ہو جائے، تو اس کی یہ توبہ قبول کی جائے گی۔ یہ امام احمد اور امام مالک رحمہا الله تعالی سے ظاہر الروایہ ہے۔
٣- ذمی کو قتل کیا جائے گا مگر یہ کہ یا تو اسلام لے آئے یا حقیقی ذمی بن جائے اور اسی پر امام شافعی کا ظاہر کلام دلالت کرتا ہے۔ (خلاصہ ماخوذہ از الصارم المسلول ص ٣٣٠)” (ص ١٤١)
یہاں دو باتیں قابل توجہ ہیں۔ اول تو یہ کہ ایک حنفی عالم تو عدالتی معاملے میں تمام فقہاء کی آراء بیان کرتا ہے مفتی صاحب دیانت کے ساتھ مسئلے کی تفصیل بتا رہے ہیں اور عرفات صاحب اور ان کے ہم جولی فقہی آراء کو صرف ‘استعمال’ کرنا چاہتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ قبولیت توبہ کے حوالے سے مسلمان اور ذمی میں واضح فرق ہے۔ مسلمان اگر گستاخی کرے تو اسے مرتد ہونے کی بنا پر موت کی سزا دی جائے گی لیکن اگر وہ توبہ کر لے یعنی تجدید ایمان کر لے تو جس طرح دوسرے کسی مرتد کی توبہ قبول ہو گی اس کی بھی قبول کی جائے گی۔
پھر اس حوالے سے اختلاف ہے اور فقہی مسالک کے مابین ہی نہیں، خود انفرادی طور پر فقہی مسلک کے اندر بھی۔ جیساکہ ہم دیکھ چکے، متاخرین(بعد کے) حنفیہ کے ہاں بطور حد سزا دینے کا موقف مشہور ہے جس صورت میں توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔ اور اگر متاخرین مالکیہ کے ہاں قبولیت توبہ کا قول ملتا ہے تو خود امام مالک کے نزدیک گستاخ کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔ امام شافعی سے بھی دو روایات ہیں۔
ذمی کے بارے میں قبولیت توبہ کے حوالے سے فقہ حنفی میں متقدمین(قدیم) کے ہاں کوئی صراحت نہیں ملتی لیکن متاخرین کے موقف کے مطابق چونکہ سزا بطور حد ہو گی اس لئے توبہ کی قبولیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ اور دیگر ائمہ میں سے جن کے نزدیک توبہ قبول ہو سکتی ہے وہ بھی صرف ایسے شخص کے قبول اسلام کی صورت میں۔
اس تفصیل کا عرفات صاحب کے دعوؤں سے آخر کیا تعلق ہے؟ ان کے پاس زیادہ سے زیادہ اوپر ذکر کیا گیا تیسرا قول رہ جاتا ہے یعنی امام شافعی کے ظاہر کلام کی دلالت میں سے یہ بھی ہے کہ ذمی کی توبہ ‘حقیقی ذمی’ بن جانے پر بھی قبول ہ سکتی ہے۔ اول تو یہ کہ اس کے خلاف خود امام شافعی کا ایک قول یہ ہے کہ ذمی گستاخی کے بعد توبہ بھی کر لے تو اسے معافی نہیں ملے گی اور اسے بہرحال قتل کیا جائے گا۔ اور پھر حنفی فقہ کے نام پر چندہ مہم چلانے کے بعد عرفات صاحب کے پاس حنفی فقہ کے موقف، چاہے وہ متاخرین ہی کا ہو، کو چھوڑ کر شافعی فقہ کا موقف اختیار کرنے کا کیا اخلاقی جواز ہو گا؟

ب: کیا ذمی شاتم رسول کا ذمہ ٹوٹ جائے گا اور اسے قتل کیا جائے گا؟
اس حوالے سے علامہ شامی کی تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ حنفیہ کا مشہور موقف کے مطابق اس کا ذمہ نہیں ٹوٹے گا۔ اور جو بعض حنفی علماء یعنی علامہ عینی اور ابن الھمام وغیرہ سے منقول ہے کہ ایسے ذمی کا عہد ٹوٹ جائے گا وہ بھی خارج از مذھب نہیں گو خلاف مشہور ہے۔ (رسائل ابن عابدین، جلد ١ صفحہ ٣٥٤)
اس پر یہ اضافہ ضروری ہے کہ علامہ البزازی (المتوفی ٨٢٧ ھجری) سے قبل مفسر قرآن اور حنفی عالم امام النسفی (المتوفی ٧١٠ ھجری) اپنی تفسیر مدارک التنزیل میں لکھ چکے ہیں؛
“جب ذمی کھل کر اسلام کے خلاف طعن و تشنیع کرے تو اسکا قتل جائز ہو جائے گا کیونکہ اس سے عہد اس بات پر تھا کہ وہ زبان درازی نہیں کریگا۔ پس جب اس نے طعن و تشنیع کی تو عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ ذمہ سے نکل جائیگا۔” (تفسیر مدارک التنزیل، ج١ ص ٦٦٧ تحت سورہ توبہ آیت ١٢)
برصغیر کے علماء نے تھوڑی سی وضاحت کے ساتھ اسی عہد ٹوٹنے والے قول کو اختیار کیا ہے۔
سب و شتم سے عہد ٹوٹنے کے مسئلے میں شافعیہ اور حنفیہ کے مشہور موقف میں تطبیق دیتے ہوے مشہور حنفی عالم مولانا تھانوی فرماتے ہیں کہ شتم دو طرح کا ہے ایک بطور اپنے مذھب کی تحقیق کے، اس سے عہد نہیں ٹوٹتا اور دوسرا بطور طعن و اہانت، اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ (بوادر النوادر، صفحہ ١٠٨)
یہی بات مفتی محمد شفیع صاحب نے معارف القرآن میں سورہ توبہ کی آیت ١٢ کی تشریح میں لکھی ہے۔
‘طعنوا فى دينكم’ کے لفظ سے بعض حضرات نے اس پر استدلال کیا ہے کہ مسلمانوں کے دین پر طعن و تشنیع کرنا عہد شکنی کرنے میں داخل ہے، جو شخص اسلام اور شریعت اسلام پر طعنہ زنی کرے وہ مسلمانوں کا معاہد نہیں رہ سکتا، مگر با اتفاق فقہاء اس سے مراد وہ طعن و تشنیع ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی اہانت اور تحقیر کے طور پر اعلاناً کی جائے، احکام و مسائل کی تحقیق میں کوئی علمی تنقید اس سے مستثنیٰ ہے اور لغت میں اس کو طعن و تشنیع کہتے بھی نہیں۔ اس لئے دارالاسلام کے غیر مسلم باشندوں کو علمی تنقید کی تو اجازت دی جا سکتی ہے، مگر اسلام پر طعنہ زنی اور تحقیر و توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسی آیت میں فرمایا ‘انھم لا أیمان لھم ‘یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی قسم کوئی قابل اعتبار قسم نہیں، کیونکہ یہ لوگ قسم توڑنے اور اور عہد شکنی کرنے کے عادی ہیں، اور اس جمع کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی قسم توڑ دی تو اب مسلمانوں پر بھی ان کی قسم اور عہد کی کوئی ذمہ داری نہیں رہی۔(معارف القران، جلد ٤، ص ٣٢٤)
اسی طرح کعب بن اشرف کے قتل سے متعلق حدیث کی تشریح میں اسکے قتل کے سبب پر بحث کرتے ہوے مفتی تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں کہ، نبیﷺ کی شان میں گستاخی کے سبب وہ حربی بن گیا تھا (یعنی اسکا ذمہ ٹوٹ چکا تھا) اور اسکا قتل جائز ہو گیا تھا۔ (تکملہ فتح الملھم ج٣ ص ١٧٨)
یہاں دو باتیں قبل توجہ ہیں۔
ایک تو یہ نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے سے ذمہ ٹوٹ جانے کا موقف بھی حنفی مذھب کا ہی موقف ہے اور پاک و ہند کے حنفی علماء نے اسی کو اختیار کیا ہوا ہے جس کی صراحت پاکستان کے زیر بحث قوانین کے نفاذ سے پہلے لکھی جانے والی کتب میں موجود ہے۔ لہذا اگر قانون کی بنیاد اسی کو بنانا ہے تو پھر غیر مسلم گستاخان رسول کی سزا واضح ہے بلکہ اس سے تو یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ اگر کوئی شخص خود سے بھی کسی گستاخ کو قتل کر دے تو اس پر کوئی الزام نہیں، لیکن چونکہ مسئلہ غلط الزامات کا ہے اس لئے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملہ کی تحقیق کر کے مجرم کو موت کی سزا دے ورنہ معاشرے میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی ریت ایک نئی حد تک پہنچ جائے گی اور فساد بھی مچے گا۔ معاملہ کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوے اس پر یہ اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص قانون کو ہاتھ میں لے لے اور بعد میں مقتول کا شاتم ہونا ثابت بھی ہو جائے تو قاتل کو خلاف انتظام عمل کرنے پر کوئی سزا دے دی جائے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر وہ مقتول کا شاتم ہونا ثابت ہی نہ کر پاے تو اس کو قتل نا حق کی سزا دی جانی چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ ذمہ یا عہد ٹوٹنے کے بعد تو ذمی کا قتل جائز ہو ہی جاتا ہے، خود سزاۓ موت کے لئے ذمہ ٹوٹنا ضروری نہیں۔ دوسرے جرائم کی طرح ذمہ ٹوٹے بغیر بھی شاتم کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ شافعیہ کے ساتھ ساتھ بہت سے حنفی علماء نے بھی اس امر کی صراحت کی ہے۔ علامہ ابن عابدین نے جہاں حنفی عالم خیر الدین الرملی سے یہ بات نقل کی ہے وہاں خود بھی وضاحت کی ہے کہ “ولا يلزم من عدم نقض عهده عدم قتله” یعنی “ذمی کے عہد نہ ٹوٹنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو قتل بھی نہیں کیا جاسکتا۔” (رسائل ابن عابدین، جلد ١ صفحہ ٣٥٥)
اسی وجہ سے إعلاء السنن میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے حنفیہ کے موقف میں شاتم کے ذمہ نہ ٹوٹنے سے قتل کے عدم جواز کا نتیجہ نکالنے پر حافظ ابن حزم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ (إعلاء السنن، جلد ١٢ صفحہ ٥٤٠) اور یہ بھی لکھا ہے کہ قصاص اور دیگر معاملات کی طرح شاتم کو ذمہ کے ٹوٹے بغیر بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ (إعلاء السنن، جلد ١٨ صفحہ ٢٥٧)
رہی یہ بات کہ سزا حنفیہ کے قول کے مطابق بطور تعزیر ہو گی نہ کہ حد تو یہ کسی بھی طرح مروجہ قانون کو مضر نہیں کیونکہ کسی جرم کے لئے تعزیر کا تعین تو بہرحال کیا ہی جا سکتا ہے۔ اور اس جرم کے لئے تعزیر کا تعین کیا جانا تو وقت اور معاشرے کی اہم ضرورت بھی ہے جس کی تفصیل ہم آگے ذکر کریں گے۔ اور پھر یہ تفصیل تو صرف عہد نہ ٹوٹنے والے قول کو اختیار کرنے کی صورت میں اہم ہے وگرنہ یہ تو ہم دیکھ چکے ہیں طعن و اہانت کی صورت میں ذمی کے عہد ٹوٹ جانے کا موقف بھی کئی حنفی علماء بشمول مشاہیر علماء برصغیر نے اختیار کیا ہے۔

photo_1737425483160743

عرفات مظہر صاحب بڑی ڈھٹائی کے ساتھ دعوی کرتے ہیں کہ علماء کا اس بات پر “باقاعدہ اجماع” (systematic consensus) ہو چکا ہے کہ غیر مسلم شاتم رسول کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس کیلئے انکی دلیل انیسویں صدی کے اواخر میں لکھی گئی مولانا منصور علی کی کتاب “فتح المبین فی کشف مکائد غیر مقلدین مع ضمیمہ تنبیہ الوھابیین” ہے جس کی کئی علماء نے اجمالاًتوثیق و تصویب کی۔ (اس کتاب کو سیکولر مکتبہ فکر کی ایک سائیٹ کے رائٹر عدنان کاکڑ نےبھی دلیل بنایا ہے)معاملے کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ اس کتاب میں امام ابوحنیفہ پر مختلف مسائل میں احادیثِ نبوی سے ہٹ کر موقف اختیار کرنے کے الزام کا جواب دیا گیا ہے اور ہر ہر مسئلہ پر ان سے منسوب موقف کے دلائل دئیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ ایک الزامی کتاب ہےلہذا اسکو فقہ حنفی میں راجح و مرجوح آراء کے تعین کی بحث میں پیش کرنا جہلِ محض ہے یا حد درجہ سادگی۔
رہ گئی یہ بات کہ ٤٥٠ علماء نے اس کتاب میں گستاخِ رسول ذمّی کی بابت لکھے گئے موقف کی تصدیق کی ہے تو یہ بھی محلِ نظر ہے۔ ہمیں ٤٥٠ کے عدد کی تحقیق میں تو دلچسپی نہیں لیکن دو اعتبار سے اس دعوی کی حقیقت عرض کرنا مقصود ہے۔ اول تو یہ کہ علماء نے کتاب کے حوالے سے جو کچھ فرمایا وہ یقینا کتاب کے مقصدِ تصنیف کی حد تک تھا کہ امام ابو حنیفہ کے موقف حدیث سے ہٹ کر ہرگز نہیں اور ان کی بنیاد بھی حدیث ہی میں ہے۔ اور ہر انصاف پسند شخص یہ تسلیم کرتا ہے کہ سب ائمہ مجتہدین کی فقہی آراء کا خمیر حدیث سے ہی اٹھتا ہے، رہا باہم تقابل کے بعد ان میں سے سب سے مضبوط موقف کا تعین تو وہ ایک الگ اور مستقل باب ہے۔
مزید یہ کہ عرفات مظہر صاحب کے دعوی سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کتاب پر تقریظ لکھنے والے ہر عالم نے کتاب کا بالاستعیاب مطالعہ کیا اور ہر ہر مسئلہ بشمول ذمّی شاتمِ رسول کی سزا پر اس کی تصدیق کی۔ نہ صرف کہ یہ بات عادتاًمستبعد ہے اس کا خلاف واقعہ ہونا خود کتاب کے آخر میں دیے گئے علماء کے اقوال سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ شاید کسی عالم نے اسے حرف بہ حرف پڑھنے کا دعوی کیا بھی ہوا لیکن اکثر علماء کی بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے پوری کتاب ہر گز نہیں پڑھی۔ مثلا مولانا عبد الحی اللکنوی نے کتاب کو “جا بجا” دیکھ کر اپنی رائے دی۔(ص ٤٦٧) کسی نے “جا بجا چند اقوال دیکھے” (ص ٤٦٨، ٤٧٠) اورکسی نے “جو مضامین دیکھے صحیح پائے۔” (ص ٤٦٨)دیگر مبصرین میں سے بعض نے “مقاماتِ چیدہ” کے مطالعے کی بنیاد پر تبصرہ کیا تو کسی نے “متعدد” (ص ٤٧٦) یا “متفرق مقامات” (ص ٤٨٨، ٤٩٤) کو دیکھ کر۔ مولانا رشید احمد گنگوہی نے “اکثر مقامات” سے دیکھا (ص ٤٨٧)تو قاضی لاہور نے “مواضع مختلفہ” سے(ص ٥٠١)۔ ایک مفتی صاحب نے لکھا کہ انہوں نے کتاب کا “بنظرِ اجمالی ملاحظہ کیا۔” اور امام بادشاہی مسجد لاہور نے تو صراحتاً لکھ دیا کہ “پوری پوری واقفیت اس کتاب کی حاصل نہیں ہوئی۔” (ص ٥٠٢)مولانا احمد رضا خان بریلوی نے تقریبا چار صفحات لکھے (ص ٤٨٤-٤٨٧) مگر اس میں مولانا منصور علی کی کتاب کے بارے میں آخر میں صرف ایک جملہ ہے جس میں انہوں نے مصنف کے لئے دعائیہ کلمات کہے۔ اس کو مولانا موصوف کی طرف سے کتاب کے تمام مضامین کی توثیق تصور کرنا تحکم کے سوا کچھ نہیں۔اس کے برخلاف مولانا احمد رضا خان بریلوی نے علماء جونپور کے فتاویٰ کے تائید میں بعینہٖ وہی موقف اختیار کیا ہے جس کے انکار میں عرفات مظہر صاحب اپنی ساری “تک بندی” تحقیقات کر رہے ہیں۔ (دیکھئے فتاویٰ رضویہ، جلد ١٤ ص ٢٩٦-٣٠٤ )
اس تفصیل کو جاننے کے بعد عرفات مظہر صاحب کے دعوی کی حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔ جہاں یہ بھی معلوم نہیں کہ علماء نے اس خاص مسئلہ پر مصنف فتح المبین کا جواب دیکھا اور پڑھا بھی کہ نہیں وہاں عرفات صاحب یہ دعوی کر رہے ہیں کہ علماء کا انکی تحقیق پر “باقاعدہ اجماع”ہو گیا۔ جبکہ ان میں بعض علماء نے دوسری جگہ اس مسئلہ پر متاخرین حنفیہ کے موقف کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔
جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے

عرفات صاحب کے بے بنیاد دعوی کے بر خلاف برصغیر کے اکابر حنفی علماء ذمی کے عہد ٹوٹنے، اس کے موت کی سزا اور شاتم کی توبہ قبول نہ ہونے کا موقف کا اعاده کرتے آئے ہیں۔
١٧٣٤ میں لاہور میں ایک ہندو لڑکے حقیقت راے کو نبیﷺ اور سیدہ فاطمہ کی شان میں گستاخی کرنے پر قاضی نے موت کی سزا سنائی۔ (تاریخ لاہور، مصنفہ سید محمد لطیف، طبع تخلیقات لاہور، ص ٣٦٤؛ مزید دیکھئے ڈاکٹر بخشیش سنگھ نجار کی کتاب “Punjab Under the Later Mughals”، ناشر بک ٹریڈرز لاہور ص ٢٧٩ اور لاہور گائیڈ مرتبہ بزم اردو لاہور، رفاہ عام پریس لاہور، طبع ١٩٠٩ ص ٦١-٦٢)

شاہ ولی الله کے شاگرد اور معروف مفسر قرآن قاضی ثناء الله پانی پتی کے افادات میں سے رسالہ کلمات کفر ملحقہ ما لا بد منهمیں بطریق نقلیہ قول اختیار کیا گیا ہے؛
“ہر ملعون جو کہ حضور سرور کائناتﷺ کی شان مبارک میں گالی دے یا اہانت کرے یا دینی امور میں سے کسی امر میں یا آپ کے صورت مبارکہ یا اوصاف شریفہ میں سے کسی وصف میں عیب کا اظہار کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمی یا حربی، خواہ وہ بطور مذاق ہی ایسا کرے وہ کافر اور واجب القتل ہے، اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اسی بات پر امت کا اجماع ہے خواہ کرنے والا انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی بے ادبی اور توہین جائز سمجھ کر کرے یا حرام جان کر۔”(ما لا بد منہ، مطبع مجیدی کانپور ١٢٥٦ ھ، ص ١٨٨-١٨٩)
اسی طرح تفسیر مظہری میں بھی قاضی صاحب نے امام ابن الھمام کے موقف کو اختیار کیا ہے کہ شاتم رسول کو بطور حد قتل کیا جائے گا چاہے وہ توبہ ہی کر لے۔ (دیکھئے تفسیر مظہری، جلد ٧ صفحہ ٣٨١-٣٨٢ تحت سورہ الاحزاب آیت ٥٧)

نومبر١٩٣١ میں مولانا اشرف علی تھانوی سے ایک گستاخ کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس نے معافی مانگی اور آئندہ محتاط رہنے کی یقین دھانی کرائی تو مسلمانوں کا باہم اختلاف ہو گیا، مولانا تھانوی نے جواب میں فرمایا کہ صورت مذکورہ ظاہراتو معافی ہے در حقیقت صلح ہے اور جبکہ مسلمانوں کے پاس اقتدار نہیں استغاثہ کی صورت میں “سزاے موت کا تو احتمال بھی نہیں صرف قید یا جرمانہ ہو سکتا ہے” لہذا انہوں نے “فقدان السلطان المسلم” کی حالت میں مسلمانوں کے احتجاج پر کی گئی گستاخ کی پیشکش کو قبول کرنے کے موقف کی حمایت کی۔ (دیکھئے، امداد الفتاویٰ، جلد ٤، ص ١٦٦-١٦٧) اس سے معلوم ہوا کہ مولانا کے نزدیک گستاخ کو اصلا موت کی سزا ہی ملنی چاہیے۔
ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں مفتی کفایت اللہ دہلوی کے جواب سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ (کفایت المفتی، جلد ١ ص ٩٤-٩٥)

اسی طرح وسط ١٩٣٢ میں رنگون میں کچھ مسیحی مشنریوں نے نبیﷺ کے بارے میں گستاخانہ مواد شائع کیا تو مولانا دریابادی نے اس بارے میں مولانا تھانوی کو لکھا۔ مولانا تھانوی نے نہ صرف علماء رنگون کو اس حوالہ سے ضروری اقدامات اٹھانے کے لئے لکھنے کا عزم ظاہر کیا بلکہ ان کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا دریابادی کی طرح وہ بھی الشفا اور الصارم المسلول میں نقل کئے گئے جمہور امت کے موقف کے مطابق شاتم رسول کے لئے قتل کو ہی شرعی سزا سمجھتے تھے۔ (دیکھئے مولانا دریاآبادی کی کتاب “حکیم الامت: نقوش و تاثرات”، مقالہ ٤٤، ص ٢١٣-٢١٥)

اور علماء جونپور اور ان کی تائید میں مولانا احمد رضا خان بریلوی کے فتوے کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھی متاخرین حنفیہ کے موقف کو اختیار کیا۔ (دیکھئے فتاویٰ رضویہ، جلد ١٤ ص ٢٩٦-٣٠٤ )

اس تفصیل کو جان لینے کے بعد واضح ہو جاتا ہے کہ عرفات صاحب کی تحقیقات محض “تک بندی” ہے اور دلیل اور دیانت سے اسے دور کا بھی واسطہ نہیں۔

گستاخی کے ملزم کی نیت کا مسئلہ:
اگرچہ فی الحال عرفات صاحب نے گستاخی کے ملزم کی نیت کے حوالے سے کوئی خامہ سرائی نہیں کی لیکن چونکہ دیگر کچھ لوگ یہ مسئلہ اٹھاتے رہتے ہیں اسلئے اسپر بھی مختصراً بات ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر یونس شیخ کے حوالہ سے کئے گئے سوال کے جواب میں مفتی رفیع عثمانی صاحب لکھتے ہیں؛
“مرتکب توہین رسالت کا یہ اقرار کرنا کہ اس کا ارادہ توہین رسالت کے ارتکاب کا کبھی نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد کچھ اور تھا، یہ شرعی نقطہ نظر سے توبہ ہے ہی نہیں، بلکہ یہ تو ارتکاب جرم کا انکار ہے، اور اپنی غلطی تسلیم نہ کرنے پر اصرار ہے کہ ایک آدمی ایسا جملہ استعمال کرے، جس سے شان رسالت کی توہین ہوتی ہو اور پھر کہے کہ میرا ارادہ اس سے توہین رسالت کا نہیں تھا، لہذا اس بنیاد پر اس کو معاف کیا جائے، یہ ہرگز توبہ نہیں، لہذا اس بنیاد پر اس کو کسی بھی مذھب کے مطابق معاف نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ توہین رسالت کا مسلہ بہت ہی سنگین مسلہ ہے، اس میں فقہاء کرام نے قصد، ارادہ، مذاق، بلکہ نشہ کی حالت میں بھی اگر کوئی کلمہ منہ سے نکالے جس سے صراحتا توہین رسالت ثابت ہوتی ہو، تو اس کو قتل کیا جائے گا۔” (اسلامی نظریاتی کونسل، سالانہ رپورٹ ٢٠٠٣-٢٠٠٤، ص ١٤٣)
اور ویسے بھی اس طرح تو کسی بھی جرم میں ملوث شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی نیت جرم کے ارتکاب کی نہیں تھی۔ اس حوالے سے زیر غور مسلہ کو دیگر جرائم سے جدا طرز پر دیکھنا کسی طرح بھی درست نہیں ہو گا۔
کرنے کے کام:
اس سے انکار نہیں کہ دیگر قوانین کی طرح قانون توہین رسالت کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے جیسا کہ قتل، چوری اور دیگر جرائم کے حوالے سے غلط الزامات لگائے جاتے ہیں۔ لیکن دوسرے جرائم اور متعلقہ قوانین کی طرح اس معاملے میں بھی حل یہ نہیں کہ قانون کو ہی ختم کر دیا جائے۔
اگر ابھی جھوٹے الزامات لگتے ہیں تو قانون کو ختم ہونے کی صورت میں لوگ الزام لگا کر خود سے سزا بھی دینے لگیں گے۔ لہذا خود معصوم ملزمین کے حق میں یہی بہتر ہے کہ قانون باقی رہے۔ ہاں کرنے کا کام یہ ہے کہ انتظامی تفصیل بہتر بنائی جائے کہ پولیس اور بنیادی وضاحت کر دی جائے کہ کیا چیز گستاخی ہے اور کیا نہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم یہ کہے کہ نبیﷺ رسول بر حق نہیں تھے یا قرآن کلام الله نہیں، یا ایسے ہی کوئی اور بات جو اسکے غیر مسلم ہونے کا مقتضی ہے تو یہ گستاخی نہیں۔
استفادہ تحریر :قانون توہین رسالت اور مسٹر عرفات مظہر کا طرز تحقیق, احمد شامل, سہ ماہی ایقاظ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *