نبی ﷺ کی رحمت اللعالمینی اور توہین رسالت کی سزا

photo_1736482119921746

جہاں کہیں توہین رسالت کی سزا کی بات ہوتی ہے تو کچھ لوگ خصوصا سیکولرزیہ کہتے ہیں آپ ﷺ کی سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہےکہ آپ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کومعاف کردیا کرتے تھے۔ آپ پر بہت طعنہ زنی کی جاتی رہی، آپ کو ایذا دی گئی اور طائف کی وادی میں آپ پر پتھراؤ تک کیا گیا،حتیٰ کہ خونِ مبارک آپ کے جوتوں میں جم گیا، آپ نے تب بھی کسی کو سزا نہ دی تو پھر ایسے رحمۃ للعالمین اور محسن انسانیت ﷺ کی توہین پر قتل کی سزا کی ٹھیک نہیں
جواب:
آپ کی سیرتِ مطہرہ کا رحمت ، درگزر کا پہلو بڑا ہی واضح ہے جس کا اعتراف مسلمانوں کےعلاوہ غیر مسلموں نے بھی کیا ہے، تاہم قرآن وسنت کی نصوص اور صحابہ کرام کے واقعات سے یہ امر ایک مسلمہ اُصول کے طورپر ثابت شدہ ہے کہ نہ صرف شانِ رسالت میں گستاخی کی سزا قتل ہی ہےبلکہ نبی کریمﷺ نے خود مدینہ منورہ میں اپنے بہت سے گستاخان کو قتل کرنے کا براہِ راست حکم صادر فرمایا۔ اور صحابہ کرام کی مجلس میں اس دشنام طرازی کے جواب میں اُن کو قتل کرنے کی دعوتِ عام دی ۔ ایسے جانثار صحابہ کی آپ نے حوصلہ افزائی کی اور اُن کی مدد کے لئے دعا بھی فرمائی جیسا کہ خالد بن ولید، حضرت زبیر، عمیر بن عدی او رمحمد بن مسلمہ کے واقعات احادیث میں موجود ہیں کہ اِن کے ہاتھوں قتل ہونے والے گستاخانِ رسول کو قتل کرنے کے لئے آپ نے کھلی دعوت دی تھی ۔ محمد بن مسلمہ کو آپ نے خود کعب بن اشرف کے قتل کی مہم پر بھیجتے ہوئے اُن کے لیے اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعا فرمائی ، ایسے ہی حضرت حسان بن ثابت کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ
”روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما!”

جہاں تک سیرتِ نبوی کے اس پہلو کا تعلق ہے جس میں آپ نے اپنے دشمنوں کو معاف فرمایا، تو اس کی وضاحت یہ ہے :
1.یہاں دو امور الگ الگ دیکھنا ضروری ہے
1. پہلی وہ کیفیت جب آپ دعوت اسلامی کے ابتدائی دور میں ہوں اور ایک ابتدائی اسلامی معاشرت کی تشکیل ہونے جا رہی ہو چونکہ یہ دین کا ابتدائی دور ہے اور اس دور میں آپ کے پاس کوئی بھی قوت موجود نہ تھی اسلئے الله کے رسول علیہ سلام نے درگزر سے کام لیا ایسے تمام واقعات مکے کے ابتدائی دور سے متعلق ہیں …….
2. دوسری وہ کیفیت ہے جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آ چکا ہو اور شریعت کا قانون نافذ ہو اس کیفیت میں ریاست کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ریاست کے اور مسلمانوں کے حکمران اور ان کے مذہبی پیشوا کی ناموس کی حفاظت قوت کے ساتھ کرے …..
3. بعض آیاتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ مسلمان اس وقت خودایسے شاتمانِ رسالت کی سرکوبی کی قوت نہ رکھتے تھے، حتیٰ کہ بیت اللہ میں نماز سرعام پڑھنے سے بھی بعض اوقات گریز کرنا پڑتا تھا، سو اُس دور میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس اذیت پر صبر وتحمل کی تلقین کی او رنبی کریمﷺ کو خود دلاسہ دیا کہ آپ کی شان میں دریدہ دہنی کرنے والے دراصل اللہ کی تکذیب کرتے ہیں جنہیں اللہ ہی خوب کافی ہے عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب پتہ چل جائے گا کہ کون مجنوں اور دیوانہ ہے؟
4. 4. قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ۰۰۳۳
اور وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَۙ۰۰۹۷
﴿إِنّا كَفَينـٰكَ المُستَهزِءينَ ٩٥﴾…. سورة الحجر
﴿فَسَتُبصِرُ‌ وَيُبصِر‌ونَ ٥ بِأَييِكُمُ المَفتونُ ٦ ﴾….. سورة ن
چنانچہ مکہ مکرمہ اور مدینہ کے ابتدائی سالوں میں دشنام طرازی کرنے والے مشرکین کو اللہ تعالیٰ نے خود نشانِ عبرت بنا کر موت سےہم کنار کیا۔
5. قرآنِ کریم میں صحابہ کو ایسے وقت صبر وتحمل کی ہدایت کی گئی:
﴿لَتُبلَوُنَّ فى أَمو‌ٰلِكُم وَأَنفُسِكُم وَلَتَسمَعُنَّ مِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ مِن قَبلِكُم وَمِنَ الَّذينَ أَشرَ‌كوا أَذًى كَثيرً‌ا وَإِن تَصبِر‌وا وَتَتَّقوا فَإِنَّ ذ‌ٰلِكَ مِن عَزمِ الأُمورِ‌ ١٨٦ ﴾…. سورة آل عمران
”البتہ ضرور تم اپنے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمائے جاؤگے اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے اذیت کی بہت سی باتیں سنو گے۔ اگر تم صبر کرو او راللہ کا تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔”
سیدنا اُسامہ بن زید روایت کرتے ہیں کہ’نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم کی بنا پر ان کے بارے میں درگذر سے کام لیتے تھے حتیٰ کہ اللہ نے آپ کو ان کے بارے اجازت دے دی۔ پھر جب آپ نے غزوۂ بدر لڑا اور اللہ تعالیٰ نے اس غزوے میں قریش کے جن کافر سرداروں کو قتل کرنا تھا، قتل کرا دیا۔”(صحيح بخاری: رقم 5739)
گستاخانِ رسول کو نظرانداز کرنے کا دور مدینہ منورہ کے ابتدائی سالوں تک رہا، اس دور کے بہت سے واقعات جن میں آپ کو رَاعِنَا وغیرہ کہنا بھی شامل ہیں،
یہ وساوس پیدا کرنے والے یہی مغالطہ دیتے ہیں ‘ مکے کے ابتدائی دور کے واقعات کی مثالیں دیتے ہین اور اسلامی ریاست کے قیام عمل میں آنے کے بعد کے واقعات کو نظر انداز کردیتے ہیں ۔ مسلمانوں کو قوت مل جانے کے بعد کے ایسے واقعات پر حضور ﷺ کے ردعمل کی مثالیں حاضر ہیں
1.نبی کریم ﷺ نے خود کعب بن اشرف یہودی کو اپنی نگرانی میں قتل کرایا۔
2. ابو رافع سلام بن الحقیق یہودی کو اپنے حکم سےقتل کرایا۔ آپ نے عبد اللہ بن عتیک کو اس یہودی کو قتل کرنے کی مہم پر مامور کیا۔
3. حضرت زبیر کوآپ ﷺنے ایک مشرک شاتم رسول کو قتل کرنے بھیجا۔
4. عمیر بن اُمیہ نے اپنی گستاخِ رسول مشرک بہن کو قتل کیا اور آپ نے اس مشرکہ کا خون رائیگاں قرار دیا۔
5. بنوخطمہ کی گستاخ عورت عصما بنت ِمروان کو عمیر بن عدی خطمی نے قتل کردیا اور نبی کریمﷺ نے اس فعل پر عمیر بن عدی کی تحسین کی۔
6. دورِ نبوی میں ایک یہودیہ نبی کریم ﷺکو دشنام کیا کرتی اورگستاخی کرتی تھی۔ ایک مسلمان نے گلا گھونٹ کر اس کو قتل کردیا تو آپ نے اُس کا خون رائیگاں قرار دیا۔
7. سیدنا عمر بن خطاب نے اپنے دورِ خلافت میں بحرین کے بشپ کی گستاخی پر اس کے قتل پر اظہارِ اطمینان کیا۔
8. ۔عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کو قتل کیا جو آپ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں تھا
تفصیل کے لیے دیکھیے الصارم المسئول ابن تیمیہ رحمہ اللہ

معاملہ یہ ہے کہ ایک چیز ابھی دین میں آئی ہی نہیں تھی (مکہ کے اندر)۔ ہم تو بات کر رہے ہیں اس وقت کی جب ایک چیز دین میں آ چکی ہے۔ یہاں ’’مکہ‘‘ کو دلیل بنانا وہ روٹ ہوگا جو بہت سے فرائض کے اسقاط پر پہنچا کر دم لے گا، کچھ لوگوں کا ’’حالتِ مکہ‘‘ کی سحرانگیزی طاری کرکے ہمیں عین وہاں پہنچا آنا باقاعدہ مقصود بھی نظر آتا ہے۔ واضح رہے: ہمارے ائمہ و فقہاء ’’حالتِ مکہ‘‘ کو کئی ایک معاملہ میں دلیل کے طور پر لیتے ضرور ہیں مگر ’’استطاعت و عدم استطاعت‘‘ کا تعین کرنے کے باب سے نہ کہ ’’تشریع‘‘ کے باب سے۔ ’’تشریع‘‘ کے باب میں، ’’حالتِ مکہ‘‘ پر ضد کرنا، البتہ اِسقاطِ فرائض، تعطیلِ شریعت اور الحاد تک جا سکتا ہے۔ یہ ایک معلوم امر ہے کہ ’’تشریعات‘‘ کا ایک بڑا حصہ اترا ہی مدینہ میں ہے۔ اِس ’’تشریع‘‘ کی سوئی کو ’’مکہ‘‘ پر روک دینا اور ’’مدینہ‘‘ پر اس کو صرف وہاں جانے دینا جہاں آپ کی فکری اھواء اجازت دیں، اسقاطِ شریعت کی شاہراہ ہے۔

2.اس سلسلے میں آپ کو شخصی اذیت دینے والے اور آپ کی رسالت پر زبان طعن دراز کرنے والوں میں بھی فرق کرنا ہوگا۔ جن لوگوں نے آپ کو جسمانی اذیت دی آپ نے اپنی وسیع تر رحمت کی بنا پر ان کو معاف فرما دیا، لیکن جو لوگ آپ کے منصب ِرسالت پر حرف گیری کرتے تھے، اس کو طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے تھے، اُنہیں آپ نے معاف نہیں کیا کیونکہ منصب ِرسالت میں یہ گستاخی دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات پر زبان درازی ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں بیسیوں مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنا او راپنے رسول مکرم کا تذکرہ یکجا کیا ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *