مفتی تقی عثمانی صاحب کا بیان اور حنفی فقہاء کا موقف

photo_1738128209757137

ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد مفتى محمد تقي عثمانى صاحب کا ویڈیو فارمیٹ میں ایک آڈیو بیان سوشل میڈیا بہت مشہور ہوا ، اسے ان لوگوں نے جو سلمان تاثیر کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے ‘ بڑے زور و شور سے اپنے موقف کی تائید میں پیش کیا ، اس آڈیو بیان کا عنوان یہ دیا گیا کہ “مفتی صاحب کے بقول سلمان تاثیر کا قتل درست نہیں تھا اور شاتم رسول کی سزا فقہ حنفی میں سزائے موت نہیں ہے”۔ ہمارے پیج پر بھی بہت سے قارئین نے میسج اور کمنٹس میں اس آڈیو کو پیش کرکے اسکی حقیقت جاننا چاہی ۔ اسکو دیکھتے ہوئے ہم نے ضروری سمجھا کہ اس آڈیو بیان اور احناف کے موقف کی مختصر وضاحت پیش کردی جائے، احناف کے موقف پر تفصیلی تبصرہ گزشتہ تحاریر میں پیش کیا جاچکا ہے یہاں چند امور پر ضروری وضاحت پیش کی جائے گی ۔

مفتی صاحب جامعہ دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث ہیں، مدرسے میں بخاری کا درس انہی کے ذمہ ہوتا ہے ، یہ آڈیو ریکارڈنگ بخاری کے درس کا ہی ایک ٹکڑا ہے ، تمام مدارس میں درس نظامی کے آخری سالوں میں صحیح بخاری پڑھائی جاتی ہے اور اسکا طریقہ یہ هوتا هے كه استاد پهلے حدیث اور نفس مسئله سمجھاتے هيں پھر اس کے متعلق تمام ائمہ فقہ کا موقف، اقوال اور مذاہب تفصیل کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں پھر جو اپنا فقہ هوتا هے اسكو بيان كيا جاتا هے اور اسكو ترجیح دینے کی وجہ ذكر كي جاتی هيں اسکے بعد اس پر هونے والے سوالات كا جواب ديا جاتا هے ۔ اس بیان میں بھی مولانا نے اسی انداز میں حدیث ، فقہاء کے اقوال اورپھر اپنے فقہ کی رائے بیان کی، حدیث کا موضوع شاید توہین رسالت تھا یا کسی نے اس متعلق سوال کیا ، ان دنوں سلمان تاثیر کے قتل کی خبریں بھی مشہور تھیں اس لیے مولانا اس واقعہ پر اور ملک میں نافد قانون توہین رسالت پر بھی ہلکا پھلکا تبصرہ کرگئے ۔ یہ اس آڈیو بیان کی حقیقت ہے ۔ اس سے واضح ہے کہ یہ مولانا کی ایک خاص ماحول میں کی گئ عالمانہ اور درسی گفتگو تھی ، اسکو کچھ بددیانت اور فریبی لوگوں نے ممتاز قادری اور سلمان تاثیر کیس کے متعلق انکے عمومی تبصرہ اور فتوے کا نام دے کر پھیلایا ، کچھ نیوز سائیٹس نے اسے بریکنگ نیوز کے طور پر بھی چلایا۔

مفتی صاحب کے اس بیان کا خلاصہ پوری غیر جانبداری کے ساتھ پیش خدمت ہے،… اس میں شریعت میں گستاخ رسالت کے حوالے سے کیا احکام ہیں، اس پر صرف اصولی بات کی گئی ہے، بیان سے صاف ظاہر ہے کہ مفتی صاحب کو اسوقت تک سلمان تاثیر کی بات وضاحت سے نہیں پہنچی تھی ، اس لیے انہوں نے دیانت داری سے اپنے علم کےمطابق تمام احتمالات بیان فرما دیے…مگر ساتھ ہی نہایت وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ گستاخ کے قاتل کو سزائے موت نہیں ہو سکتی۔
مفتی تقی عثمانی مدظلہ نے فرمایا:
۱۔ حنفیہ کے نزدیک غیر مسلم کی شان رسالت میں گستاخی کرنے کی سزاقتل نہیں ہے، جب کہ اگر گستاخی کرنے والا بدبخت مسلمان ہے تو پھر اس کی سزا مرتد ہونے کی وجہ سے قتل ہے، کیوں کہ گستاخی کر کے وہ مرتد ہو گیا اور مرتد کی سزا قتل ہے۔جب کہ حنفی مسلک کے علاوہ باقی مسالک میں بہرحال گستاخ کی سزا قتل ہے۔
۲۔ پاکستان میں جو قانون توہین رسالت بنایا گیا، وہ جمہور کےقول پر ہے کہ گستاخی کرنے والا ہر صورت قتل ہے۔ اور چونکہ حاکم نے قانون بنا دیا اس لیے یہ قانون درست ہے۔
۳۔ سلمان تاثیر کے لیے فرمایا کہ اس کے آسیہ ملعونہ کے حوالے سے تبصرے، الفاظ واضح نہیں ہے {یعنی مفتی صاحب کو واضح نہیں ہوئے} اس لیے گستاخی بھی واضح نہیں ہے۔ قانون کو اگر غلط کہا ہے تو اس کے کئی احتمالات ہو سکتے ہیں۔
۴۔ ممتاز قادری کے حوالے سے فرمایا کہ اس نے بے شک نیک نیتی کے ساتھ، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سلمان تاثیر کو قتل کیا ہے۔ کیوں کہ اس کے نزدیک سلمان گستاخ تھا اوریوں مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کا مستحق تھا۔
۵۔ کسی انسان کو اس کی اجازت نہیں ہے کہ وہ خود قانون ہاتھ میں لے۔لیکن اگر کوئی شخص مشتعل ہو کر قانون ہاتھ میں لے لے، قتل کر دے تو اس پر قصاص نہیں ہے، یعنی وہ بدلے میں سزائے موت نہیں دیا جائے گا۔اس لیے کہ مقتول تو ویسے ہی واجب القتل{مباح الدم} تھا۔البتہ حکومت اسے کوئی اور سزا دے سکتی ہے۔

فقہائے احناف کے موقف کی وضاحت:
تقی عثمانی صاحب کی اس ویڈیو کے بعد فقہ حنفی کے کچھ نئے موسمی عشاق سامنے آئے ہیں ۔ ان عشاق کے مکمل موقف اور سیاق و سباق کا کھوج لگایا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے ان کو فقہ حنفی کی باقی کسی مسئلے میں تحقیق سے اتفاق تو دور اس مسئلے کی بھی پوری تفصیل سے اتفاق نہیں ، انہیں صرف اسی جملے سے عشق ہوگیا ہے کہ ” فقہ حنفی میں ذمی شاتم رسول کی سزا موت نہیں “۔ فقہائے احناف کا مکمل موقف کیا ہے ؟گزشتہ تحریر میں اس پر تفصیلی تبصرہ پیش کیاگیا تھا، یہاں خلاصہ پیش ہے:
فقہائے احناف کا موقف یہ ہے کہ ملزم کے مسلمان یا غیر مسلم ہونے سے اس جرم کی نوعیت پر فرق پڑتا ہے۔ اگر کسی مسلمان نے اس جرم کا ارتکاب کیا تو وہ مرتد ہوجاتا ہے اور اس فعل پر ان تمام احکام کا اطلاق ہوگا جو ارتداد کی صورت میں لاگو ہوتے ہیں ، جبکہ غیر مسلم چونکہ مرتد نہیں ہوسکتا اس لیے اگر غیر مسلم اس فعل کا ارتکاب کرے تو اسکے اثرات بھی مختلف ہونگے۔( مجموعہ رسائل ابن عابدین صفحہ 313 جلد 1)
جب مسلمان گستاخی کرئے تو وہ مرتد ھوجائے گا اسے توبہ کی تلقین کی جائے گی اور سوچ بچار کے لیے تین کی مہلت دی جائے گی اگر وہ اسکے بعد بھی اپنے قول و فعل سے رجوع کرکے اس سے مکمل براء ت کا اظہار نہ کرے تو اس کے لیے سزائے موت ہے۔
شاتم رسول اگر غیر مسلم ہو تو ظاہر ہے اسکے اس فعل کو ارتداد نہیں کہا جائے گا چنانچہ فقہاء اسے نقض عہد یا ذمہ کے عنوان کے تحت ذکرتے ہیں اور یہ متعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذمی کے اس فعل سے اسکا عقد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ۔ فقہائے احناف کا مسلک یہ ہے کہ اس فعل سے اسکا ذمہ یعنی دارالسلام میں سکونت کا حق ختم نہیں ہوجاتا لیکن چونکہ یہ فعل دارالسلام کے ملکی قانون کے تحت جرم ہے اس لیے اسے سزا دی جائے گی ۔ اس قسم کی سزا کو فقہائے احناف سیاسۃ کہتے ہیں ۔ سیاسۃ کی سزا کو اسلامی قانون کی اصطلاح میں حق الامام کہتے ہیں اس سزا کی کوئی کم یا ذیادہ حد شریعت نے مقرر نہیں کی بلکہ اسکی حد مقرر کرنے کا اختیار حکومت کو دیا ہے اور حکومت بعض شنیع صورتوں میں سزائے موت بھی دے سکتی ہے۔
اس باب میں ان کا اصول یہ ہے کہ وہ جرائم ، جن میں حد یا قصاص کے طور پر قتل نہیں کیا جاسکتا، اگر مجرم اس جرم کا باربار ارتکاب کرتا ہے تو امام اسے قتل کی سزا دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی راجح مصلحت کا تقاضا ہو تو امام مقررہ حد میں اضافہ بھی کرسکتا ہے۔ اسی لیے اکثر فقہائے حنفیہ نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ اگر اہل ذمہ میں سے کوئی شخص بہت کثر ت سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کرتا ہے، خواہ وہ گرفتار ہونے کے بعد مسلمان ہی کیوں نہ ہوجائے، اسے قتل کردیا جائے گا۔ یہ قتل مصلحت اور سیاست پر مبنی ہوگا۔ یہ ان کے اصولوں کے عین مطابق ہے۔( الصارم المسلول ، صفحہ 10، حاشیہ ابن عابدین، صفحہ3؍279)
اس طرح حنفی عالم امام النسفی (المتوفی ٧١٠ ھجری) اپنی تفسیر مدارک التنزیل میں لکھتے ہیں؛
“جب ذمی کھل کر اسلام کے خلاف طعن و تشنیع کرے تو اسکا قتل جائز ہو جائے گا کیونکہ اس سے عہد اس بات پر تھا کہ وہ زبان درازی نہیں کریگا۔ پس جب اس نے طعن و تشنیع کی تو عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ ذمہ سے نکل جائیگا۔” (تفسیر مدارک التنزیل، ج١ ص ٦٦٧ تحت سورہ توبہ آیت ١٢)
علامہ شامی لکھتے ہیں جب ایسا فعل تکرار سے ہوں تو حاکم اس کے فاعل کو قتل کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے او رحاکم کو یہ صلاحیت بھی حاصل ہے کہ مصلحت ِعامہ کا لحاظ کرتے ہوئے متعین حد پر سزا کا اضافہ بھی کرسکتا ہے۔اس کی دلیل نبی کریمﷺ او رآپ کے صحابہ کرام کا اس جیسے جرائم میں عوامی مصلحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے قتل کی سزا کا فیصلہ کرنا ہے۔ احناف میں ایسی سزائے قتل کو سیاستاً سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ (یعنی ایک تو وہ سزاے قتل جو شرعاً مقرر ہے او ردوسری جو شرعی مصلحت کی بنا پر دی جائے ،وہ ‘سزاے قتل سیاستاً ‘کہلائے گی) ( ردّ المحتار على الدر المختار: 4 /233)

فقہ حنفی چونکہ اقوال امام ابوحنیفہ کے مجموعے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک علمی روایت کا نام ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی تنقیحات کے بعد آراء میں ارتقاء ہوتا رہا ہے۔ اور اہل علم واقف ہیں کہ فقہ حنفی کے اکثر و بیشتر فتاوی جات امام کے اقوال پر نہیں دئیے جاتے کیونکہ بعد کے حنفی علماء کی بحثوں کے نتیجے میں ان آراء میں تبدیلی آتی رہی ہے، اسی مسئلے میں بھی متاخرین علمائے احناف کی آرا ء میں تحقیق کے نتیجے میں تبدیلی آئی ہے۔ چنانچہ سب و شتم سے عہد ٹوٹنے کے مسئلے میں متاخرین علماء کی آرا متقدمین سے مختلف ہیں ۔ شافعیہ اور حنفیہ کے مشہور موقف میں تطبیق دیتے ہوے مشہور حنفی عالم مولانا تھانوی فرماتے ہیں کہ شتم دو طرح کا ہے ایک بطور اپنے مذھب کی تحقیق کے، اس سے عہد نہیں ٹوٹتا اور دوسرا بطور طعن و اہانت، اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ (بوادر النوادر، صفحہ ١٠٨)
اسی طرح کعب بن اشرف کے قتل سے متعلق حدیث کی تشریح میں اسکے قتل کے سبب پر بحث کرتے ہوے مفتی تقی عثمانی صاحب نے لکھا کہ، نبیﷺ کی شان میں گستاخی کے سبب وہ حربی بن گیا تھا (یعنی اسکا ذمہ ٹوٹ چکا تھا) اور اسکا قتل جائز ہو گیا تھا۔ (تکملہ فتح الملھم ج٣ ص ١٧٨)

قدیم فقہائے احناف کا موقف کو بھی دیکھیے تو واضح ہوتا ہے کہ شاتم رسول کے بارے میں ان کا مسلک اور رویہ نرم ضرور ہے مگر وہ بھی مسلمان گستاخ کو مرتد اور سبِ رسول کے عادی مجرم کو چاہے وہ ذمی ہو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں۔

پاکستان میں قانون توہین رسالت:
مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی بیان میں فرمایا کہ پاکستان کا قانون متقدمین فقہائے احناف کی رائے پر نہیں بلکہ باقی اکثر فقہاء کی رائے پر ہے ۔ جن لوگوں کو فقہ حنفیہ کی تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ ہے وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ فقہ حنفی کے اصولوں کے تحت یہ قانون بھی بالکل درست ہے کیونکہ فقہ حنفی خود کچھ جگہوں پر امام ابو حنیفہ کے قول کو چھوڑ کر دیگر فقہا کے قول پر عمل کرتا ہے اور وہی قول فقہ حنفیہ کا مفتی بہہ قول بن جاتا ہے۔
لہذا اگر فقہ حنیفہ کے نزدیک، شاتم رسول کی سزا ہر صورت میں سزائے موت نہیں ہے تو اس سے بھی قانون پر فرق نہیں پڑتا کیونکہ احناف کے ہاں کئی مسائل میں باقی فقہاء کی رائے لی جاتی ہے اور مفتی صاحب نے بھی یہی فرما یا کہ اس توہین رسالت کے قانون کے مسئلے میں بھی باقی اکثرفقہاء کی تحقیق کو لیا گیا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ علمائے احناف کو تو اس قانون سے کوئی مسئلہ نہیں اور آئین پاکستان میں بھی ایسا کچھ لکھا ہوا نہیں کہ یہاں تمام قوانین فقہ حنفی کے مطابق ہونگے بلکہ یہاں اکثر قوانین میں فقہائے احناف کی رائے کو نہیں دیکھا گیا اسی سلمان تاثیر کے مسئلے میں جب اس کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانے کی کوشش کی گئی تو عدالت کی طرف سے جواب دیا گیا کہ بطور گورنر اسے ایمنسٹی حاصل ہے لہذا مقدمہ درج نہیں ہوسکتا۔ ۔ کیا یہ امام ابوحنیفہ کی رائے ہے ؟ لیکن کچھ جدید بزعم خویش اسلامی دانشوران اور مفکرین کو اس معاملے میں فقہ حنفی کی یاد ستانے لگی ہے اور یہ مطالبہ کررہے ہیں ‘اصل حنفی’ موقف کو پاکستان میں نافذ کرو کیونکہ پاکستانی تو حنفی ہیں۔ ۔ لیکن دوسری طرف ‘پاکستانی تو حنفی ہیں ‘ کی دلیل کی بنیاد پر یہ خود باقی کسی مسئلے میں بھی فقہائے احناف کی تحقیق کو قبول کو تیار نہیں۔!! مثلا فقہ حنفی کی تحقیق کے مطابق شادی شدہ زانی زانیہ کی سزا رجم ہے،گستاخ رسول مرتد ہے،مرتد واجب القتل ہے،خبر واحد حجت ہے،اجماع امت حجت قطعیہ ہے،ریاست شریعت کےتابع ہے،ذمی پر جزیہ ہے ،،جہاد قیامت تک فرض ہے، داڑھی منڈوانا کتروانا حرام ہے وغیرہ یہ جدید مفکرین ان مسائل کی بنیاد پر فقہ حنفی کو فرسودہ اسلام اور علماء کو تنگ نظری، جمود اور تعصب کے طعنے دیتے نظر آتے ہیں لیکن اس مسئلے میں امام صاحب کی رائے اختیار کرنا زمانہ فہمی اور روشن خیالی ٹھہری ہے۔۔ اس ساری زمانہ فہمی کا ادراک بھی صرف انہی کو ہوتا ہے، یہی لوگ بتاسکتے ہیں کہ کس جگہ امام ابو حنیفہ کی پیروی زمانہ فہمی ہوگی اور کس جگہ نہیں۔۔۔

سوال یہ ہے کہ اگر امام ابو حنیفہؒ کے قول پر ہی چلنے کی ضد ہے… تو کیا امام ابو حنیفہؒ کا یہ قول جس پر آپ ہمیں چلانا چاہتے ہیں، متفق علیہ اور مُجمَع علیہ ہے؟؟؟ بھئی جب اختلاف ہے، تو فقہاء کی آراء میں سے کوئی ایک رائے ہی تو اختیار کی جائے گی۔ جس پر اکثریت کا اتفاق تھا وہ اختیار کر لی گئی، مسئلہ کہاں ہے؟
عوام الناس کی سطح پر تو اس پر بےچینی پھیلانے کی کوئی تُک ہی نہیں ہے؛ خصوصاً اس لیے کہ یہاں پائے جانے والے سبھی مسالک کے علماء وفقہاء اس وقت ایک بات پر متفق اور یک آواز ہیں۔ دیوبندی، اہلحدیث، بریلوی کوئی ایک بھی اس رائے سے ہٹا ہوا نہیں۔ حتیٰ کہ (میرے علم کی حد تک) شیعہ کی طرف سے اس سے ہٹ کر رائے نہیں لائی گئی۔ یعنی سب نے ایک بات پر اتفاق کیا ہے۔ ایسا بھاری بھرکم اتفاق بجائےخود قابل ذکر اور واجب شکر ہے۔ اس مسئلے کو بھی متنازعہ بنانے کی وجہ ؟ یہ دانشوری کی شاید کوئی اعلیٰ قسم سمجھی جاتی ہو، ہماری نظر میں یہ صاف تخریب کاری ہے۔۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *