ممتاز قادری کیس-جسٹس(ر) نذیر اختر کے تاثرات

photo_1735935616643063

جسٹس (ر) میاں نذیر اختر ایک عشرے سے زیادہ تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے ۔ اس سے پہلے پچیس سال تک وکالت سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ سولہ سال تک قانون کے استاد کے طور پر یونیورسٹی لاء کالج میں پڑھاتے رہے۔ ملک کے بڑے نامور وکلا اور جج حضرات ان کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ میاں نذیر اختر ممتاز قادری کیس میں پہلے دن سے بطور وکیل منسلک رہے ۔ کچھ عرصہ پہلے ممتاز قادری کیس کے حوالے سے روزنامہ امت کراچی نے ان سے انٹرویو لیا تھا، اس میں ان کی گئی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔
قانون کی بالادستی کا معاملہ
ممتاز قادری کیس کے حوالے سے عمومی تاثر یہ بنا ہے کہ یہ قانون کی بالادستی کا معاملہ ہے۔ میری رائے میں اگر ملک میں واقعی قانون کی بالادستی ہوتی تو ممتاز قادری آج جیل میں ہوتا نہ اسے عدالتوں سے سزا ملتی۔ بلکہ وہ بری ہوچکا ہوتا۔ قانون کی حکمرانی کی بات کرنے والوں کو یہ سمجھ نہیں ہے کہ پاکستانی قانون میں اسلامی قانون بدرجہ اولیٰ شامل ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بات کو درست طور پر سمجھا ہی نہیں گیا۔ عدالت میں جب ہم سے یہ سوال کیا گیا تو میں نے عرض کیاتھا کہ تمام جرائم کی بنیاد قانون کو اپنے ہاتھ میں لیناہوتاہے۔ ہر جرم کی بنیاد یہی چیز بنتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر طرح کے جرائم میں ملوث ملزمان کو کم سے کم سزا دینے کی کوشش کی جاتی ہے یا انہیں بری کردیا جاتا ہے۔ کسی کیس میں اس انداز فکر کی بنیاد پر فیصلہ کم ہی ہوتا ہے کہ یہ قانون کی بالادستی کا معاملہ ہے۔ عدالتوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جہاں سے بھی ملزم کو ریلیف مل سکتا ہو،اسے دیاجائے۔ لیکن اس خاص مقدمے میں یہ معاملہ بالکل الٹ نظر آیا۔ اگر بطور ایک قانون دان میری رائے آپ جاننا چاہیں تو میں تو یہ کہوں گا کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا قانونی اور شرعی جواز موجود تھا۔
قتل کے حوالے سے موجودہ دفعہ کو اسلامی قانون قصاص ودیت کی صورت میں ڈھالا گیا ہے۔ یہ دفعہ تعزیرات پاکستان کے باب سولہ میں موجود ہے۔ اس میں دفعہ 338 ایف ت پ، میں واضح طور پر کہاگیاہے کہ اس باب کے تحت تمام مقدمات میں قانون کے اطلاق اور اس کی تعبیر کے حوالے سے عدالتیں لازمی طور پر اسلامی قانون سے رہنمائی حاصل کریں گی۔ یعنی قرآن وسنت کے احکامات کے مطابق پاکستانی عدالتیں فیصلے کریں گی۔
عدالت نے عملاً اس دفعہ کو نظر انداز کیاہے۔ اسی طرح دفعہ 89 ت پ کو بھی نظر انداز کیاگیا۔ دفعہ اناسی کے تحت ایسا کوئی فعل جرم کے زمرے میں نہیں آتا،جو کوئی واقعاتی غلطی کرنے والا دیانتداری سے سمجھتاہو کہ وہ قانوناً ایسا کرنے کا حق رکھتاتھا۔اس لیے میں ایک قانون دان کے طور پر سمجھتاہوں کہ قانون ناموس رسالت پر حملہ آور ہونے والے کو قتل کرنے کا قانون حق دیتاہے۔ اس ناطے ممتاز قادری نے اپنی قانونی ذمہ داری انجام دی ہے۔ اگر عدالت ان دونوں دفعات کی روح کے مطابق فیصلہ کرتی تو ممتاز قادری کو مجرم قرار نہ دیتی۔ خطا فی القصد دفعہ نواسی کی روح کے مطابق ہے۔

غازی علم دین کیس – مماثلت اور فرق
غازی علم دین شہید کے حوالے سے کیس کا فیصلہ برطانوی قانون کے تحت غیرمسلم ججوں نے دیاتھا۔ جبکہ ممتاز قادری کیس کا فیصلہ پاکستان میں رائج اسلامی قانون کے تحت مسلمان ججوں نے کرناتھا۔ توقع تھی کہ ہمارے محترم جج صاحبان ملک میں نافذ العمل اسلامی قوانین اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ کریں گے ۔ کیوں کہ اسلام میں شاتم رسول کو ختم کردینا جائز ہے۔ میں نے عدالت کے سامنے اس مفہوم کی کم وبیش پندرہ احادیث پیش کیں۔ ان میں سے پہلی یہ تھی کہ” جوکوئی تعزیر میں حد کی مثل سزا دے وہ ظالموں میں سے ہے۔”(ممتاز قادری کو قانون کو میں ہاتھ میں لینے کی وجہ سے تعزیری سزا ہی دی جاسکتی تھی ) جج صاحبان نے جب یہ حدیث سنی تو مجھے کہا ” آپ ہمیں ظالم قرار دے رہے ہیں؟” میں نے کہا کہ یہ حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں۔ میں ان میں تبدیلی نہیں کرسکتا ہوں۔ لیکن بعد ازاں جب عدالت نے فیصلہ لکھا تو اس حدیث یا کسی دوسری پیش کردہ حدیث کا فیصلے میں ذکر تک نہیں کیا۔
ایک قانونی اور عدالتی اصطلاح ہے ” فیورٹ چائلڈ”۔ میں اس کا ترجمہ طفل پسندیدہ کے طور پر کرتا ہوں۔ اس کی روح یہ ہے کہ جرم سے نفرت تو جائز ہے ، جرم کرنے والے سے نفرت مناسب نہیں۔ اسی وجہ سے کسی بھی مقدمے کو ملزم سے نفرت ، تعصب یا بغض کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھایا جاتا۔یہ بھی عام عدالتی روایت ہے کہ جب کسی مقدمے میں موجود حقیقت کے دومفاہیم نکلتے ہوں تو جو تعبیر یا مفہوم ملزم کے حق میں جاتاہو، اسی کو اختیار کیا جاتاہے۔ لیکن ممتاز قادری کے مقدمے میں پاکستان کی 65 سالہ عدالتی تاریخ اور روایت کے برعکس انداز اختیار کیا گیاہے۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ عدالت کو ہروہ بات زیادہ اپیل کرتی تھی ، جو استغاثے کے حق میں جاتی ہو۔ قانونی اور عدالتی مشاہدے یاتجربے میں اس طرح کی مثال اس سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ عدالت نے اس کیس میں استغاثہ (سلمان تاثیر اینڈ کمپنی) کو اپنے ” فیورٹ چائلڈ” کے طور پر رکھا۔ اگر میرے اس نکتہ نظر پر کسی کو شبہ ہو تو وہ عدالتی فیصلے اور اس کیس کی پروسیڈنگ کے ریکارڈ پر نظر ڈال لے۔ ممتاز قادری کے خلاف سامنے آنے والا فیصلہ صاف طور پر ” پرو پراسیکیوشن” فیصلہ ہے۔ اس طرح کے فیصلے کی پہلے شاید کوئی نظیر نہیں ہو۔
ایک مسلمہ ضرورت ہوتی ہے کہ استغاثہ اپنے مقدمے کو ہر قسم کے شک وشبہے سے بالاتر ثابت کرے۔ استغاثہ کا فرض ہوتاہے کہ وہ گواہوں خصوصاً عینی شاہدین کو پیش کرے۔ لیکن اس مقدمے میں عجیب بات ہوئی کہ ایک طرف ایلیٹ فورس کے انتیس گواہوں کو پیش نہیں کیاگیا اور دوسری طرف سلمان تاثیر کے دوست وقاص شیخ ، جو ان کے ساتھ کھانا کھانے کے لیے ہوٹل گئے تھے اور آخری وقت تک ساتھ رہے، کو بھی بطور گواہ پیش نہیں کیاگیا۔ اس کے باوجود فیصلہ ممتاز قادری کے خلاف آگیا ہے۔ واضح رہے کہ وقاص شیخ کو استغاثہ کی طرف سے پیش کیے گئے ابتدائی نقشے میں سلمان تاثیر کو گولی لگتے وقت صرف پانچ فٹ کے فاصلے پر پوائنٹ نمبر تین پر دکھایا گیاتھا۔ اِس قدر اہم گواہ، سلمان تاثیر کا انتہائی قریبی دوست اور موقع کا عینی شاہد بھی گواہ کے طور پر پیش نہیں کیاجاسکا۔
اسے اِس لیے استغاثے نے پیش کرنے سے گریز کیا کہ اسے پیش کیا گیا تو وہ سلمان تاثیر کے اس آخری مکالمے کے بارے میں سب کچھ اگلنے پر مجبور ہوسکتاہے ، جو سلمان تاثیر اور ممتاز قادری کے درمیان ہوا، اور جس میں سلمان تاثیر نے تحفظ ناموس رسالت قانون کے بارے میں انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی تھی۔ شاید استغاثہ کو خطرہ تھا کہ وقاص شیخ کی گواہی ممتاز قادری کے حق میں چلی جائے گی۔
عدالت نے ہر بوجھ ملزم پر ڈالا اور استغاثہ کو اپنا کیس ثابت کرنے کے بوجھ سے آزاد کردیا۔29 گواہوں کی گواہی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے ترک کردیا اور وقاص شیخ کے بارے میں کوئی وجہ نہیں بتائی گئی کہ ان کا نام گواہوں سے کیوں خارج کیاگیا۔

اشتعال اور غیرت کی بنیاد پر ہونے والے قتل کے مقدمات:
عمومی طور پر غیرت اور اشتعال کی بنیاد پر ہونے والے جرائم میں ملزمان کو انتہائی سزا نہیں دی جاتی۔ اس بات کو سمجھانے کے لیے میں آپ کو دو مقدمات قتل کی مثال دیتا ہوں۔ ایک عورت نے اپنے داماد کو کسی بات پر سرزنش کی تو داماد نے اسے اپنی توہین سمجھا اور اس توہین کا بدلہ لینے کے لیے وہ بازار گیا اور چھری لاکر اپنی ساس کو قتل کردیا۔ لیکن سپریم کورٹ نے اسے اشتعال میں آکر قتل کرنے کا مجرم مان کر پھانسی کے بجائے عمر قید کی سزا دی۔ ایک اور مقدمہ قتل جس میں ایک صاحب نے ایک شخص کو صرف اس بنیاد پر قتل کردیا کہ مقتول نے پشتو زبان میں کچھ ایسا کہا جسے وہ سمجھ نہیں سکتاتھا۔ لیکن اسے محسوس ہوا کہ اس نے اسے برا بھلا کہاہے۔ عدالت نے اس قاتل کو بھی سزائے موت نہیں دی کہ ہوسکتاہے کہ مقتول نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی،جس سے اسے اشتعال آیا، لہٰذا عدالت نے قاتل کو سزائے قید سنائی۔
موکل ممتاز قادری ناموس رسالت قانون کے بارے میں سلمان تاثیر کے موقف سے مشتعل ہوا تھا۔ ہمارا تو پورا کیس ہی یہ تھا۔ عدالت کو بھی خوب علم تھا۔ یہ بھی عدالت کےسامنے عرض کیاگیا کہ رسول اکرمؐ کی شان میں توہین کسی مسلمان کو سب زیادہ مشتعل کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ ایک مسلمان کے لیے غیرت کے حوالے سے بھی سب سے زیادہ اہم بات ہے ۔ جبکہ عام طور پر اشتعال اور غیرت کی بنیاد پر ہونے والے قتل کے واقعات میں عدالتیں سزائے موت نہیں دیتی ہیں۔لیکن یہاں الٹ ہوا ذاتی توہین اور نجی غیرت کے معاملے میں انتہائی اقدام کی سزا کم ،جبکہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون کی توہین پر سزائے موت سنادی گئی۔
ہم نے اسلامی قانون کی مثالیں اور عدالتی فیصلوں کے حوالے دیے اور یہ ثابت کیا اسلامی قانون ہی ملک کا قانون ہے، جسے آئین نے تحفظ دے رکھا ہے۔ نفاذ شریعت ایکٹ 1991ء کا حوالہ بھی دیا، جس کے تحت اسلامی قانون ہی ملک کا حقیقی اور موثر قانون ہے اور دیگر تمام ملکی قوانین اس کے تابع ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے دیگر قوانین اور عدالتی فیصلوں کے بھی ہرممکن حوالے پیش کیے۔ لیکن عدالت نے ہر پہلو سے بلا جواز طور پر استغاثہ کے حق میں بات کرنے کی کوشش کی۔ عدالت نے ممتاز قادری کو غیرت اور اشتعال کے حوالے سے ریلیف نہ دینے کا جواز یہ بنایا کہ مقتول کا توہین رسالت سے متعلق قانون کو ” کالا قانون” کہنا ثابت نہیں ہوتاہے۔ اس سلسلے میں عدالت کے سامنے ایکسپریس ٹربیون اور ایکسپریس کو مارک”اے ” اور “بی” کے طور پر پیش کیاگیا۔ لیکن عدالت نے کہہ دیا کہ یہ صرف بیانات ہیں۔ یہ کافی نہیں ، اور یہ کہ اخبار نویسوں کو عدالت نہیں لایا گیا۔ ہم نے عدالت کے سامنے کئی عدالتی فیصلوں کے حوالے پیش کیے۔ ولی خان کیس، بے نظیر کیس اور نواز شریف سمیت کئی کیسز میں عدالتی فیصلوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں عدالتیں یہ فیصلہ دے چکی ہیں کہ جس بیان یا خبر کی متعلقہ شخص تردید نہ کرے ، تو ان اخباری بیانات کو درست سمجھا جائے گا۔ لیکن عدالت نے ان فیصلوں کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا وہ سیاسی نوعیت کے کیس تھے۔ حالانکہ اصول یہ ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہوتا ہے، سیاسی لوگوں اور عوام کے علیحدہ لاگو نہیں کیاجاسکتا۔ عدالت کی جانب سے اس بنیادی اصول کی بھی فیصلے میں خلاف ورزی ہوئی ہے۔ اسی مقدمے میں اخبارات کو استغاثہ کے حق میں استعمال کیاگیا۔
عدالت کی طرف سے ریمارکس دیے گئے کہ سلمان تاثیر نے ضیاءالحق کے بنائے ہوئے قانون کو کالا قانون کہاتھا اور اس تنقید کا حق موجود ہے۔ جب عدالت کے توجہ اس جانب دلائی گئی کہ یہ قانون ضیاءالحق کی ذہنی اختراع نہیں تھا، بلکہ یہ قانون قرآن وسنت سے لیا گیاتھا، اس لیے اسے تنقید کا نشانہ بنانا جائز نہیں ہوسکتا ہے۔ نیز یہ بھی دیکھا جانا چاہیے تھا کہ سلمان تاثیر کی طرف سے اس قانون پر تنقید نہیں بلکہ اس کی مذمت کی جارہی تھی۔ لیکن قابل احترام عدالت کے ججوں نے اس پر توجہ نہ کی اور عدالت کے سامنے پیش کردہ احادیث کو بھی فیصلہ لکھتے وقت نظر انداز کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پوچھا گیا کہ خلفائے راشدین کے دور میں اس طرح کے معاملات کو کیسے ڈیل کیاجاتاتھا؟ اس پر عدالت کو بتایاگیا کہ خلفائے راشدین کے دور میں بھی توہین رسالت کرنے والوں کا انجام برا ہوتارہا۔ بحرین کے ایک گستاخ پادری کی طرف سے توہین رسالت کرنے پر نوعمر لڑکوں کے ہاتھوں اس کے قتل کا معاملہ حضرت عمر فاروقؓ کے سامنے پیش ہوا تو آپؓ نے اس قتل کو درست قرار دیا۔ اس حوالے سے عدالت کے سامنے کئی تاریخی حوالے بھی پیش کیے گئے۔
سلمان تاثیر کے بیٹے نے ایف آئی آر میں درج کرائی تھی کہ اس کے والد کو مخصوص خیالات کی وجہ سے مارا گیا اور ملزم نے مذہبی گروہوں کے ایما،انگیخت،معاونت اور سازش سے بہیمانہ طور پر قتل کیا۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس حوالے سے صرف دو علماء کو شامل تفتیش کیاگیا۔ ان میں سے ایک علامہ امتیاز تھے اور دوسرے علامہ محمد حنیف قریشی۔ ان دونوں کا جو بیان تفتیشی افسر نے عدالت میں ” پی ڈبلیو14″ کے طور پر پیش کیا، اس کے مطابق ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کا قتل کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے طور پر کیاہے۔ یعنی یہ اس کا ذاتی فعل تھا۔ لیکن اس کے باوجود قابل احترام عدالت کے ججوں نے لکھ دیا کہ وجہ عناد ثابت ہوگئی ہے۔ صرف یہی نہیں ، سپریم کورٹ کے سامنے میں نے موقف پیش کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیرا 28 اور 29 میں حضوراکرمؐ کے فیصلوں کو سنت نبوی نہیں مانا۔ یہ نکتہ نظر سراسر غیر شرعی ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم ان پیرا جات کو حذف کردیں گے۔ لیکن اسے بعد ازاں وعدے کےمطابق حذف نہیں کیاگیا۔ صرف یہی نہیں، عدالت نے تو اس کیس میں ہمارا موقف سننے کے لیے مناسب وقت بھی نہیں دیا۔ حد یہ ہوئی کہ کہاگیا کہ اپنا بیان تحریری طور پر دے دیں، بعد میں پڑھ لیں گے۔ لیکن بیان جمع کرانے کے بعد سماعت کے اختتام کو صرف بیس منٹ گزرے تھے کہ عدالت نے اپنا مختصر فیصلہ سنادیا اور تین پیپر بکس کمرہ عدالت میں پڑے رہ گئے۔ یوں ہمارے دلائل کو سُنے اور پڑھے بغیر مختصر فیصلہ دے دیاگیا۔ اس مختصر فیصلے میں تفصیلی فیصلے کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیاگیا۔ حکومتی پراسیکیوٹر کا معاملہ یہ تھا کہ ایک روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں جب اسے بولنا تھا تو اس کی حالت دیدنی ہوگئی، اس سے بات نہیں ہوپارہی تھی۔ اس پر عدالت کے فاضل جج صاحبان نے پوچھا کیا ہواہے آج آپ کو؟ تو پراسیکیوٹر کا جواب تھا کہ ڈر رہاہوں کہیں کوئی ایسی بات زبان سے نہ نکل جائے جو نبیؐ کی شفاعت سے محرومی کا سبب بن جائے۔

میرے ساتھ لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف، چوہدری غلام مصطفٰی صاحب، محمد طاہر سلطان کھوکھر،عامر لطیف سبحانی، چوہدری خالد محمود،سید حبیب الحق،راجہ نوید عارف، ملک خالد اکمل اور چوہدری رمضان شامل تھے۔ ان سب دوستوں نے اپنے انداز میں خوب محنت اور اِخلاص کے ساتھ کام کیا۔یہ میرے لیے اور میرے ساتھی وکلاء کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ اس پہلو سے بھی میرے لیے خوشی کی بات تھی کہ اللہ مجھ سے وہ کام لے رہا جو اس سے پہلے قائد اعظم بھی کر چکے ہیں۔ قائداعظم نے اپنے موکل غازی علم دین شہید کی تحسین ہی نہیں کی تھی بلکہ ان پر رشک کا اظہار کیاتھا۔ میں نے تو اپنے لیے یہ معاملہ آسان سمجھاتھا کہ قائداعظم کو تو غیر مسلم ججوں کا سامنا تھا جبکہ میرے سامنے مسلمان ججوں کا بنچ تھا۔ چنانچہ مجھے بڑی اچھی توقعات تھیں کہ اس مقدمے کا فیصلہ ملکی قانون اور قرآن وسنت کے مطابق ممتاز قادری کے حق میں آئے گا۔ ہم نے یہی بات عدالت سےبھی کہی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تو جزوی طور پر درست فیصلہ دیا اور ممتاز قادری پر دہشت گردی کی دفعہ ختم کردی۔ لیکن دفعہ تین سو دو “بی” کے تحت ممتاز قادری کو سزائے موت سنادی۔ بعد ازاں جب معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے گیا تو سلمان تاثیر کے اہل خانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دہشت گردی کی دفعہ ختم کیے جانے کو چیلنج نہیں کیا، تاہم حکومت نے اسے چیلنج کردیا۔ جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کردیا اور دہشت گردی کی دفعہ کے تحت سزائے موت سنادی۔ جبکہ مقدمے کے ریکارڈ میں دہشت گردی کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *