غزوہ بدر اور ملحدین کے مغالطے

12079154_1691443734425585_5823601980781904900_n

ملحدین کے بقول مسلمانوں کو تاریخ کا ایک رخ دکھلایا جاتا ہے ، مسلمان غزوہ بدر میں ابو سفیان کے پر امن تجارتی قافلے کو لوٹنے نکلے تھے ، زیادتی مسلمانوں کی طرف سے ھوئی تھی، کفار قریش نے بدلے کے طور پہ مسلمانوں پر چڑھائی کی ۔۔

غزوہ بدر سے پہلے کے سرایا کا پس منظر :
ملحدین کا یہ عام علمی ذوق اور دیانت ہے کہ وہ ہر اسلامی واقعہ کو سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنی مرضی کے ٹائٹل کے ساتھ پیش کرتے ہیں، انہیں کسی واقعہ کے پس منظر سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ، یہاں بھی انہوں نے یہی کیا۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ہجرت مدینہ سے پہلے یہ کفار مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتے رہے ،مسلمانوں کو کس طرح 13 سال انکے ظلم و ستم کی چکی میں پسنا پڑا اور معاشی بائیکاٹ جیسے عذاب سے گزرنا پڑا۔ گلیوں میں گھسیٹے گئے، قتل کیے گئے، شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں بھوکے رہنے پر مجبور ہوئے۔۔ آخر حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی اور پھر مدینہ کی طرف۔۔ ہجرت مدینہ کے دوران بھی انہیں کس طرح اپنے آبائی گھر، مال و دولت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے جانے پر مجبورکیا گیا ۔ ۔ کفار اگر مسلمانوں کو ہجرت مدینہ کے بعد تنگ نا کرتے تو بھی مسلمانوں کو طاقت ملنے کے بعد انکو کفار سے بدلہ لینے کا حق پہنچتا تھا۔۔۔ لیکن مدینہ آنے کے بعد بھی مسلمانوں کو آرام سے رہنے نا دیا گیا بلکہ یہ دیکھ کر کفار مکہ کا جوشِ غضب اور بھڑک اُٹھا کہ مسلمان ان کی گرفت سے چھوٹ نکلے ہیں اور انہیں مدینے میں ایک پُر امن جائے قرار مل گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عبد اللہ بن اُبی کو خط لکھا جو اس وقت تک کافر تھا اور انصار کی ایک بڑی جماعت رسول اللہﷺ کی تشریف آوری سے پہلے اسکو سردار بنانے جانے پر متفق ہوچکی تھی، .مشرکین نے اس خط میں عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے مشرک رفقاء کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک لفظوں میں لکھا :
”آپ لوگوں نے ہمارے آدمی کو پناہ دے رکھی ہے ، اس لیے ہم اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یاتو آپ لوگ اس سے لڑائی کیجیے یا اسے نکال دیجیے یا پھر ہم اپنی پوری جمعیت کے ساتھ آپ لوگوں پر یورش کرکے آپ کے سارے مردانِ جنگی کو قتل کردیں گے اور آپ کی عورتوں کی حرمت پامال کرڈالیں گے۔” (ابوداؤد : باب خبر النضیر ۲/۱۵۴)
اس خط کے پہنچتے ہی عبد اللہ بن اُبیّ مکے کے اپنے ان مشرک بھائیوں کے حکم کی تعمیل کے لیے اٹھ پڑا۔ اس لیے کہ وہ پہلے ہی سے نبیﷺ کے خلاف رنج اور کینہ لیے بیٹھا تھا کیونکہ اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی تھی کہ آپﷺ ہی نے اس سے بادشاہت چھینی ہے ، چنانچہ جب یہ خط عبد اللہ بن اُبی اور اس کے بت پرست رفقاء کو موصول ہو ا تو وہ رسول اللہﷺ سے جنگ کے لیے جمع ہوگئے۔ جب نبیﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : ”قریش کی دھمکی تم لوگوں پر بہت گہرا اثر کر گئی ہے تم خود اپنے آپ کو جتنا نقصان پہنچادینا چاہتے ہو قریش اس سے زیادہ تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ تم اپنے بیٹو ں اور بھائیوں سے خود ہی لڑنا چاہتے ہو؟ نبیﷺ کی یہ بات سن کر لوگ بکھر گئے۔ (ابوداؤد: باب مذکورہ ۲/ ۵۶۳)
اس کے بعد ایک دفعہ حضرت سعد بن معاذؓ عمرہ کے لیے مکہ گئے اور اُمَیّہ بن خلف کے مہمان ہوئے۔ انہوں نے اُمیہ سے کہا : ”میرے لیے کوئی خلوت کا وقت دیکھو ذرا میں بیت اللہ کا طواف کر لوں۔” اُمیّہ دوپہر کے قریب انہیں لے کر نکلا تو ابوجہل سے ملاقات ہوگئی۔ اس نے (اُمیہ کو مخاطب کرکے ) کہا : ابوصفوان تمہارے ساتھ یہ کون ہے ؟ اُمیہ نے کہا: یہ سعد ہیں۔ ابوجہل نے سعد کو مخاطب کرکے کہا: ”اچھا ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بڑے امن واطمینان سے طواف کررہے ہو حالانکہ تم لوگوں نے بے دینوں کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ زعم رکھتے ہو کہ ان کی نصرت واعانت بھی کرو گے۔ سنو ! اللہ کی قسم! اگر تم ابوصفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامت پلٹ کر نہ جاسکتے تھے۔” اس پر حضرت سعدؓ نے بلند آواز میں کہا :”سن ! اللہ کی قسم اگر تو نے مجھ کو اس سے روکا تو میں تجھے ایسی چیز سے روک دوں گا جو تجھ پر اس سے بھی زیادہ گراں ہوگی۔” (یعنی اہل مدینہ کے پاس سے گزرنے والا تیرا۔ (تجارتی ) راستہ ۔ (بخاری ، کتاب المغازی ۲/۵۶۳)

ان واقعات کی بنا پر ضروری تھا کہ اسلام اور دارالاسلام کی حفاظت کے لئے ضروری تدبیریں اختیار کی جائیں اس سلسلہ کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ خبر رسانی اور جاسوسی کا انتظام وسیع پیمانہ پر کیا جائے۔ چنانچہ ابتدا ہی سے آنحضرت ﷺ نے اس انتظام پر توجہ کی’ وقتاْ فوقتاْ کثرت سے چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں بنا کر مختلف مقامات پر بھیجتے رہتے تھے۔ یہ ٹکڑیاں گو محض خبر رسانی کے لئے جاتی تھیں’ لیکن حفاظت کی غرض سے مسلح اور جمعیت کی صورت میں جاتی تھیں۔
یہی واقعات ہیں جن کو مورخین “سرایا” سے تعبیر کرتے ہیں۔ایک بڑا قرینہ اس بات کا کہ ان دستوں کے بھیجنے سے حملہ کرنا مقصود نہیں ہوتا تھا۔ یہ ہے کہ دستے اکثر دس دس بارہ بارہ آدمیوں سے زیادہ نہیں ہوتے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ اتنے تھوڑے سے آدمی لڑنے کے لئے نہیں بھیجے جاسکتے تھے’ مثلاْ ۲ھ میں آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن حجش کو بارہ آدمیوں کے ساتھ مکہ کی طرف بھیجا اور ایک سربمہر تحریر دی کہ دو دن کے بعد اس خط کو کھولنا۔ دو دن کے بعد انہوں نے کھولا تو اس میں یہ الفاظ تھے۔
{فَسِر حتّٰی تنزل نخل بین مکۃو الطائف فتر صد بھا قریشا و تعلم من اخبارھم})طبری صفحہ۱۲۷۴(
برابر چلے جاو یہاں تک کہ نخلہ میں جاکر ٹھہرو جو مکہ اور طائف کے بیچ میں ہے اور قریش کی دیکھ بھال کرتے رہو اوران کی خبریں دریافت کرو۔
ان فوجی دستوں کا مقصود یہ تھا کہ :
1۔مدینہ کے گرد وپیش کے راستوں پر عموماً اور مکے کے راستے پر خصوصاً نظر رکھی جائے اور اس کے احوال کا پتا لگایا جاتا رہے ۔ اردگرد کے قبائلی مخالفین کو اپنی طاقت کا احساس دلایا جائے۔
2۔قریش کو ان کے بے جا طیش اور تیور کے خطرناک نتیجے سے ڈرایا جائے تاکہ جس حماقت کی دلدل میں وہ اب تک دھنستے چلے جارہے ہیں اس سے نکل کر ہوش کے ناخن لیں اور اپنے اقتصاد اور اسبابِ معیشت کو خطرے میں دیکھ کر صلح کی طرف مائل ہو جائیں، مسلمانوں کے خلاف اپنے جارحانہ عزائم رکھتے ہیں ان سے باز آجائیں ۔

غزوہ بدر کا پس منظر
حضورﷺاور مسلمانوں کو قریش کے مزموم جنگی عزائم کے بارے میں کوئی شک نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ قریش مناسب تیاری اور وقت کے منتظر ہیں اس لیے حضور ﷺنے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ قریش کو سیاسی طور پر اس قدر مرعوب کر دیا جائے کہ وہ مدینہ پر حملے کا ارادہ ترک کر دیں اور معاشی طور پر اس قدر مفلوج کر دیا جائے کہ وہ اس اقدام کے قابل ہی نہ رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نخلہ کے بعد اس تجارتی قافلہ کا قصد فرمایا جو جنگی تیاریوں کے سلسلے میں ابو سفیان کی قیادت میں شام واپس آ رہا تھا۔
علامہ شبلی نعمانی فرماتے ہیں کہ اہل مکہ نے اس تجارت میں اپنا زیادہ سے زیادہ مال لگایا یہاں تک کہ غیر تاجر عورتوں تک نے اپنے زیورات اور اندوختے لا لا کر دیے۔ ابن سعد نے بھی ابوسفیان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ”مردوزن میں کوئی ایسا نہ تھا کہ جس نے اس موقع پر حصہ نہ لیا ہو۔ مدعا یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگا کر زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جائے اور اس کی آمدنی سے ریاست مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے۔”
قریش اس قافلے سے بڑی امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ اس میں ایک ہزار اونٹ تھے جن پر کم از کم چالیس ہزار دینار )دوسو ساڑھے باسٹھ کلو سونا( کی مالیت کا سازوسامان بار کیا ہوا تھا۔ قریش کا یہ قافلہ تجارت کے بجائے خود جنگی کاروائی کا دیباچہ تھا۔ یوں کہیے کہ اسلامی تحریک کا گلا کاٹنے کے لیے یہ قافلہ سونے کا خنجر لینے نکلا تھا اس لیے اہل مدینہ کے لیے بڑا زریں موقع تھا جبکہ اہل مکہ کے لیے اس مال فراواں سے محرومی بڑی زبردست فوجی ، سیاسی اور اقتصادی مار کی حیثیت رکھتی تھی اس لیے رسولﷺنے مسلمانوں کو اس قافلہ کی طرف جانے کی ترغیب دی: “یہ قریش کا قافلہ مال و دولت سے لدا چلا آرہا ہے۔ اس کے لیے نکل پڑو۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالٰی اسے بطور غنیمت تمہارے حوالے کر دے۔” اس روایت کو ابن ہشام اور ابن سعد کے علاوہ دیگر مورخین نے بھی روایت کیا ہے۔ آپ نے طلحہ بن عبیداور سعید بن زید کو اس قافلہ کی کھوج میں بھیجا تھا۔
‘ قریش پر کاروانِ تجارت کی روک ٹوک کا اس قدر اثر پڑتا تھا کہ )حضرت ابوذر غفاری نے مکہ میں جب اپنے اسلام کا اعلان کیا اور قریش نے اس جرم میں ان کو مارنا پیٹنا شروع کیا اور حضرت عباس نے کہا کہ غفار کا قبیلہ تمہارا کاروانِ تجارت کے سرراہ واقع ہے’ تمہاری اس حرکت سے برہم ہو کر وہ راستہ نہ روک دے’ تو تدبیر پوری کار گر ہوئی اور انہوں نے ڈر کر حضرت ابوذر کو چھوڑ دیا۔مسلمانوں نے انہیں اپنے ارادوں سے باز رکھنے کے لیےانکی اسی دکھتی رگ پر سب سے پہلے ہاتھ رکھا۔
مسلمانوں کے یہ اقدامات کہ جنگوں میں اقتصادی حرج اختیار کرنا اور اقتصادی طور پر اپنے دشمن کو کمزور کرنا غیر شرعی یا غیر قانونی نہیں ہے۔ آج کل دور جدید کی ساری جنگیں اقتصادی بنیادوں پر ہی لڑی جا رہی ہیں،” اس قافلہ پر ہاتھ ڈالنے کے لیے اگر مسلم طاقت میں کچھ داعیہ موجود تھا تو وہ اپنی جگہ بالکل بجا تھا” )محسن انسانیت ص۳۷۵(

سَریہ عبد اللہ بن جحش کے بعد مشرکین کی سمجھ میں آگیا کہ ان کی شامی تجارت اب مستقل خطرے کی زد میں ہے لیکن اس سب کے باوجود اپنی حماقت سے باز آنے اور قبیلہ جُہَینہ او ربنو ضمرہ کی طرح صلح وصفائی، معاہدہ کی راہ اختیار کرنے کے بجائے وہ اپنے جذبۂ غیظ وغضب اور جوشِ بغض وعداوت میں کچھ اور آگے بڑھ گئے، یہی تکبر اور طیش انہیں پھر ایک دن میدانِ بدر تک لے آیا۔ یہی تجارتی روک ٹوک جس کی بنا پر بعد میں قریش نے بالاآخر حدیبیہ کی صلح کر لی جس کے رو سے مسلمانوں کو چند خاص پابندیوں کے ساتھ حج کی اجازت مل گئی۔
یہ اس پس منظر کا مختصر تذکرہ ہے جس کو ملحدین کے علامہ صاحب نے جان بوجھ کر چھپایا اور جان بوجھ کر اپنی اس کہانی میں مسلمانوں کی کاروائیوں کو ڈاکہ ڈالنے اور لوٹ مار کرنے کے رنگ میں دکھایا ۔ ۔ ان سرایا اور غزوات کی تفصیل زاد المعاد ۲/۸۳-۸۵ ابن ہشام ۱/۵۹۱ – ۶۰۵ میں دیکھی جاسکتی ہے۔

کیا آنحضرت ﷺ نے لوٹ مار کی اجازت دی :
ملحدین نے غزوہ بدر کو لوٹ مار کا نتیجہ قرار دیا ہے، اوپر کی تفصیل سے واضح ہے کہ یہ بات حقائق کے بالکل خلاف ہے، حضورﷺ نے کبھی مسلمانوں کو لوٹ مار کی اجازت نہیں دی بلکہ ایسے کسی بھی عمل سے سختی سے منع کیا ۔ سیرت سے دو مثالیں پیش خدمت ہیں:
1۔ خیبر کی لڑائی میں امن کے بعد لوگوں نے یہودیوں کے جانور اور پھل لوٹ لئے۔ اس پر آنحضرتﷺ کو نہایت غصہ آیا آپ نے تمام صحابہ کو جمع کیا اور فرمایاخدا نے تم لوگوں کے لئے یہ جائز نہیں کیا کہ اہل کتاب کے گھروں میں گھس جاو )مگر بہ اجازت( اور نہ یہ کہ ان کی عورتوں کو مارو نہ یہ کہ ان کے پھل کھا جاو جب کہ وہ تم کو وہ ادا کریں جو ان پر فرض ہے۔ )سنن ابی داودباب فی تعشی الذمۃ اذا اختلفو فی التجارۃ(
2۔ ابودواد میں ایک انصاری سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم لوگ ایک مہم پر گئے اور غایت تنگ حالی اور مصیبت پیش آئی ۔اتفاق سے بکریوں کا ریوڑ نظر آیا سب ٹوٹ پڑے اور بکریاں لوٹ لیں آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی آپ موقع پر تشریف لائے تو گوشت پک رہا تھا اور ہانڈیاں ابال کھا رہی تھیں آپ کے ہاتھ میں کمان تھی آپ نے اس سے ہانڈیاں الٹ دیں اور سارا گوشت خاک میں مل گیا پھر فرمایا” لوٹ کا مال مردار گوشت کے برابر ہے۔”
(ابوداد کتاب الجہاد جلد ثانی باب الرجل یکری وامہ علی النصف او السھم “س”(

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *