ماخذومصادر سیرت اور سیرت نگاری کا صحیح منہج

 

12360051_1706767956226496_2855843749332553701_n

سیرت نویسی یا تحقیق و تصنیف میں اولین مرحلہ مواد کی نشاندہی، تعین اور تلاش و تدوین کا ہے۔ اہلِ سیر بالعموم صرف روایاتِ سیرت کتبِ سیرت سے اخذ کرتے ہیں اور اہلِ حدیث موجودہ ادعائی دور میں صرف کتب حدیث سے مجمع البحرین اور جامع حیثیات اہلِ قلم قدیم و جدید زمانے میں احادیثِ نبوی پر مشتمل صحائفِ مقدسہ سے بھی برابر استفادہ کرتے رہے ہیں اور سیرت نگاروں کی کتب و روایات سے بھی۔ امام بخاری (ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل 810-70 ع/194-256 ہجری) جیسی عظیم ترین حدیثی شخصیت بلکہ عبقری نے بابِ سیرتِ نبوی میں مستند ترین امامانِ سیرت حضرت عروہ بن زبیر اسدی (22-94ہجری/643-713) اما زہری (محمد بن مسلم بن شہاب (47-742/51-124 ہجری) کے علاوہ ابن اسحاق اور موسٰی بن عقبہ(55-141/675-758) کی روایات کا ذکر تراجمِ ابواب میں کیا ہے۔ مولانا شبلی، ان کے جامع و مرتب مولانا سید سلمان ندوی، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا مودودی اور متعدد اہلِ قلم سیرت نگاروں نے دونوں بحرینِ سیرت سے کسبِ نور کیا ہے اور قرآن مجید کے الٰہی سر چشمہ سے بھی۔
قدیم و جدید سیرت نگاروں نے بدیہی طور سے یا مضمر انداز میں تصادمِ روایات کی صورت میں روایاتِ سیرت پر روایاتِ حدیث کو ترجیح دینے کا اصول قائم کیا ہے جسے بالعموم سنہری، مطلق، ناسخ اور غیر مبدّل سمجھا جاتا ہے۔ مولانا شبلی و سلیمان ندوی کے مقدمئہ سیرۃالنبی نے اس اصول کو بیانگ دہل بیان کیا ہے اور واحد معیارِ حق قرار دیا ہے۔ خواہ ان روایاتِ حدیث کی بنا پر اسلام یا ذاتِ نبوی پر حرف آتا ہو، اور قواعدِ مسلمہ اور اصول ثابتہ کو زک پہنچتی ہو۔ حافظِ حدیث اور ماہرِ سیرت امام مغلطای نے اشارتاً و اختصارًا یہ اصول وضع کیا کہ اہلِ سیر کا اجماع و اتفاق عام منفرد روایات حدیث پر تصادم و تنافر کی صورت میں برہانِ قاطع ثابت ہو گا۔ حافظ ابن حجر عسقلانی (احمد بن ولی بن حجر773-852/1372-1449) نے اور بعض دوسرے ماہرینِ حدیث نے اہلِ سیر کی روایات کی تصدیق و ترجیح کے ذریعہ یا ان حدیث پر نقد و تبصرہ کے حوالہ سے اصولِ مغلطای کی بزبانِ خاموشی تصدیق و تائید کی ہے۔
تدبر و تدبیر، عقل و دانش،منطق و فلسفہ اوربتحر علمی و تخصیص ِفنی کے تقاضے بھی یہی مطالبہ کرتے ہیں کہ جس مسئلہ کی تعبیر و تفسیر پر ماہرینِ فن کا اجماعِ عام ہو یا ان کی اکثریت کا اتفاقِ عمومی ہو اسے ترجیح حاصل ہو۔ حضرات محدثینِ عظام کا مقصدِ تدوین اور مقصودِ تالیف سیرت نگاری یا حیاتِ طیبہ کی تفصیلات و جزیات فراہم کرنا نہیں تھا۔ ان کا مقصودِ اصلی سنتِ مطہرا اور حدیثِ طاہرہ اور سیرتِ پاک سے اور ان سے متعلق روایات و احادیث سے اسلامی حکم یا فقہی مسئلہ اخذ کرنا تھا۔ وہ دین و شریعت کے احکام نویسی اور قوانین کی تدقین کا فریضہ انجام دے رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کتب و ابوانِ فقہی کے تحت موادِ سیرت اور روایاتَ حیات سے تعرض کرتے ہیں، سیرتِ نبوی کی بازیافت یا اس سلسلے کی معلومات فراہم کرنا ان کے فنِ عظیم کے سلسلے میں شامل نہیں رہا ہے۔ اسی بنا پر ان کا اندازِ پیشکش خبر واحد، حدیثِ آحاد اور روایات غیر منسلکہ کی صورت میں الگ الگ ملتا ھے اور کسی موضوع پر خواہ وہ ان کا بنیادی دینی کام، فقہی استنباط اور حکمی تحقیق کا ہو، ایک مربوط و مسلسل بیانیہ نہیں ملتا۔ اس سے ذیادہ اہم اور نکتہ رس یہ حقیقت ہے کہ سیرتِ نبوی سے متعلق ان کے ہاں وہی احادیث و آثار اور روایات ملتی ہیں جن سے کوئی دینی مسئلہ، فقہی حکم، اسلامی قانون، تشریعی نکتہ، قانونی معاملہ اور مذہبی امر نکلتا ہو۔ اسی سبب سے ان کے ہاں پوری سیرتِ نبوی کا احاطہ و استقصار بھی نہیں ملتا۔
طریقِ محدثینِ کرام کے بالمقابل اہلِ سیر کا مقصودِ تدوینِ ذات و صفاتِ نبوی، حالات و اکتساباتِ عہد، واقعات و معاملاتِ عصر، امور و احکامِ دین اور تمام سوانح حیات اور کارناموں کے بارے میں معلومات و مواد جمع کرنا اور ان کو ایک مرتب و مسلسل بیانیہ کی صورت میں تمام شیفتگانِ راہِ الفت تک پہنچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا طریقِ تدوین و تصنیف محدثینِ کرام سے الگ ہے۔ وہ اخبارِ آحاد اور روایات و احادیث کو ان کے موضوعاتی مرتبہ و محل کے اعتبار سے اپنی طرف سے مرتب و مدون کرتے اور حیطئہ سوانح میں تاریخی ترتیب و واقوات کے مطابق گوندھ کر پیش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں سند کا اسی بنا پر اتنا اہتمام نہیں ہوتا کہ وہ اخبارِ آحاد کے تسلسل و ارتباط میں مانع ہوتی ہے۔ وہ مختلف رواۃ و اخباریوں کی متعدد روایات میں موضوعات و مضامین کے لحاظ سے ادخال واد غام کا کام بھی کرتے ہیں۔ گو ناگوں امور و واقعات پر مشتمل روایاتِ واحدہ اور خبرِ واحد کو مضمون و تاریخ کے لحاظ سے اجزاء میں منقسم کرتے ہیں اور پھر نقطہ آغاز سے نقطہ اختتام تک تمام مراحلِ حیات کا بیانیہ بایں طور پیش کرتے ہیں کہ وہ ایک مسلسل و مربوط اور جاری و ساری بیانیہ حیات بن جاتا ہے.
طریقِ محدثین و طریقہ، اہلِ سیر کے اختلاف و تباین کے باوجود سیرت نگار کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ دونوں ذخیرہ ہائے معلومات اور گنجینہ ہائے سعادت سے مواد و معلوماتِ سیرت زیادہ سے زیادہ تعداد و مقدار میں جمع کرے بلکہ ان کے علاوہ دوسرے تمام مصادرِ علم و عرفان سے بھی بھرپور استفادہ کرے۔ ان میں قرآن کریم کی آیاتِ ربانی، مفسرینِ عظام کی تفسیری روایات، فقہائے کرام کی فنی و علمی تحقیقات، لغت و ادب کے ائمہ کی بیش بہا تحقیقات و تشریحات اور متعدد دوسرے علوم و فنونِ اسلامی۔۔۔ تاریخ جغرافیہ، نفسیات وغیرہ۔۔۔ کی قیمتی معلومات بھی شامل ہیں۔ جب تک تمام دستیاب موادِ سیرت کی جمع و تدوین کا بنیادی کام نہیں کیا جاتا، کہیں نہ کہیں معلوماتی خلا باقی رہ جائے گا اور تالیفاتِ سیرت اور مطالعاتِ سوانح ناقص رہ جائیں گے۔
ظاہر ہے کہ اس متنوّع، رنگا رنگ اور بو قلموں موادِ سیرت کی بے شمار روایات و اخبار میں کہیں نہ کہیں تصادم و تنافر کا روڑا اٹکے گا۔ علمائے اسلام اور محققینِ علوم نے اس کو دور کرنے کے لیے ہی اصول تطبیق و تلفیق وضع کیا ہے۔ اس سے کام لے کر بظاہر مخالف و متضاد روایات و اخبار میں مطابقت و محبت اور توازن و تعامل پیدا کیا جائے گا، کیونکہ بالعموم اکثر تصادمات ظاہری ہوتے ہیں اور حقیقت میں ان مختلف معلومات کا صحیح موقع و محل، تناظر و پس منظر اور اطلاق و انطباق کا علم نہ حاصل ہونے کی وجہ سے اختلاف و تصادم نظر آتا ہے، اور دراصل ہوتا نہیں ہے۔ لیکن اگر کہیں صورتِ تصادم اور وجہ اختلاف رفع کرنے کا کوئی شائبہ ہی نہ ملے تو اہلِ سیرت و ماہرینِ سوانح کا اجتماعی یا اکثریتی فیصلہ ناطق و فیصل ہو گا کہ یہی جہانِ علم کے مفتی اور دنیائے دانش کےقاضی کا فیصلہ ہے کہ قولِ فیصل ماہرینِ فن و محققینِ علم کا ہے، نہ کہ جہانِ دیگر کے اماموں کا۔
قدیم و جدید سیرت نگاروں نے مختلف طبقات کی ضرورت احتیاج کے پیشِ نظر سیرتِ نبوی پر مشتمل کتبِ سیرت کو سہ گانہ تقسیم کی صورت عطا کی ہے۔ عام استعداد، کم فہم و ذکاء اور ابتدائی درجات کے طلبہ و علم کے لیے مختصراتِ سیرت، اوسط درجہ کی صلاحیت و لیاقت کے قارئین اور ثانوی درجات کے طالب علموں کے لیے متوسط نوعیت کی کتبِ سیرت اور عالمانِ ذی شان، محققینِ فنون، اعلٰی درجات کے منتہی علماء و دانشوروں کے لیے مطوّل تالیفات، بیشتر ماہرینِ سیرت جیسے ابن سیّدالناس ( ابوالفتح محمد بن ابی بکر محمد یعمری 671-734/ 1273-1334 ) ابن عبدالبرقرطبی (ابو عمر و یوسف بن عبداللہ 368-463/ 978-1070 ) حافظ مغلطائی وغیرہ نے مطوّل و مختصر کتب سیرت لکھ کر امت اسلامی کے تینوں طبقات میں سے اول و سوم کی ضروریات کی کفایت کرنے کی کوشش کی۔ اردو میں قاضی سلیمان منصور پوری نے کم از کم منصوبہ تالیف بنا کر تینوں کی پیاسِ علم بجھانے کی راہ سمجھائی۔ یہ بہت فطری اور منطقی تقسیم ہے اور ان کے مطابق تالیفاتِ سیرت تیار کرنی چاہیئں۔
اب طریقِ تالیف و اسلوب ِ تصنیف کا پیچید اور دشوار سوال آتا ہے کہ یہ کتبِ سیرت کیونکہ اور کیسے تالیف کی جائیں؟ ظاہر ہے کہ عام ابتدائی کتبِ سیرت کا طرزِ تحریر بیانیہ ہی ہو گا۔ لیکن ان میں محض ایک دو کتبِ قدیمہ کی معلومات پر انحصار نہ ہو۔ قدیم مؤلفین اور قرونِ وسطٰی کے اہلِ سیر کی کتابوں سے نئی معلومات و مواد سے استفادہ ضروری ہے۔ سہیلی کی الروض الانف، ابنِ کثیر کی السیرۃ النبیہ اور شامی، حلبی، زرقانی وغیرہ کی تالیفاتِ سیرت میں ابنِ اسحاق /ابن ہشام کے علاوہ متعدد قدیم صاحبانِ کتب جیسے حافظ اموی کی مغازی، عروہ بن زبیر کی مغازی اور دیگر اصحابِ علم کی روایات موجود ہیں۔ ان کو بھی جگہ دینی اور سکہ رائج الوقت بنانا علمی فریضہ اور فنی ملازمہ ہے۔ ابھی تک ان کو محض نیا مواد قرار دے کر شاذ معلومات کے فروتر درجہ تک گرا کر مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ ابنِ اسحاق و ابنِ ہشام یا دوسرے مشہورِ عام مؤلفین کی معلومات و روایات حتمی و قطعی ہیں اور نہ جامع و مانع کہ دوسری روایات و معلومات کے اخذ و قبول سے ان کی عصمت و طہارت پر حرف آتا ہو۔ ہر وہ نئی معلومہ اور جدید مواد اخذ و قبول اور رواج و روایت کا استحقاقِ فنی رکھتا ہے جو سیرتِ طیبہ کے اسلامی حیطہ عمل میں چوکس بیٹھتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کی روایتی حیثیت اور درایتی معیار مقبول و مشہورو معلوم روایت و اخبار کے مطابق ہے یا نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ روایاتِ مشہورہ روایتی اور درایتی دونوں معیاروں پر مبنی شاذ و نئی روایات کے بالمقابل زیادہ کھری نہیں اترتیں۔ مثلاً جدّ امجد جناب عبدالمطلب ہاشمی کی وفات کے بعد نوخیز رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کے بارے میں جناب ابو طالب ہاشمی کی کفالت کی روایت حافظ اموی کی بیان کردہ روایتِ کفالتِ جناب زبیر بن عبدالمطلب ہاشمی سے دونوں اعتبار سے فروتر ہے۔ یا خاندانِ عبد مناف میں خاندانی اتحاد و یگانگت کی روایاتِ اموی ہاشمی تنافر دکھانے والی روایات سے افضل و برتر ہیں۔ ایسی نئی روایات و معلومات کے اخذ و قبول میں اصولِ تطبیق اولاً اختیار کرنا ضروری ہے اور بصورت عدمِ تطابق اصولِ ترجیح سے کام لینا لازمی ہے کہ فنی تقاضا بھی یہی ہے اور دینی، اسلامی اور اخلاقی مطالبہ بھی یہی ہے۔

کتبِ سیرت خواہ وہ کسی مرتبہ علم و دانش کی خاطر ہوں، اب محض واقعات کی کھتونی اور صرف بیانیہ سرسری پر مبنی ہونے سے ماورا ہونی چاہئیں۔ بیانِ واقعات و سوانح کا زمانہ گزر چکا کہ وہ تکرارِِ محض کے علاوہ اور کچھ قاری کو نہیں دے سکتا۔ اب بیانیہ کو بھی تحلیل و تجزیہ کی کھٹائی سے گذارنے کا زمانہ ہے اور یہی تقاضائے فن بھی ہے۔ بغیر اس کے نئی معلومات کو پرانے ذخیرہ معلومات میں سمویا نہیں جا سکتا۔ دوسرے اب قاری و طالب کا علم و دانش بلند تر ہو چکا ہے۔ وہ شخصیت کی تعمیرِ نو اور عہد کی بازیافت چاہتا اور طلب کرتا ہے اور وہ چاہے یا طلب نہ کرے تو بھی فنی تقاضآ ہے کہ تحلیلی انداز اور تجزیاتی اسلوب میں پیش کیا جائے کیونکہ اس صورت میں ذات و صفاتِ نبوی اور کمالات و اکتساباتِ حضرت اقدس کو ان کے صحیح تناظر و اسلامی پیش منظر میں پیش کیا جا سکتا ہے، اسی کے ذریعے رسولِ اکرم ﷺ کی ذات والا صفات کا علمی دفاع اور اسلام و دین کا مذہبی تحفظ بھی ممکن ہے۔ شخصی احوال کے ساتھ دینی اقدار اور تہذیبی معاملات کو آمیز کیا جا سکتا ہے۔ سماجی، اقتصادی، سیاسی اور دوسرے تمام انسانی امور و معاملات کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور سے روحِ عصر، جانِ تہذیب اور عبقریتِ شخص کی کامل بازیافت کی جا سکتی ہے۔
تجزیاتی مطالعہ اور تنقیدی نگارش کے ذریعہ ہی روایات و اخبارِ سیرت کا روایتی مقام و مرتبہ متعین اور کھرے کو کھوٹے سے ممتاز کیا جا سکتا ہے۔ اہلِ سیر میں محققینِ فن کا طریقہ رہا ہے کہ وہ صحیح روایات کا انتخاب کرتے اور غلط اخبار کو مسترد کرتے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کےلیے وہ اخبار و روایت کے رواۃ ( سلسلہ روایت اگر موجود ہے) پر بحث کر کے اس کا حسن و قبح معلوم کرتے ہیں اور حسنِ روایت و رواۃ کی صورت میں قبول اور قبح کی شکل میں مسترد کرتے ہیں۔ اسی طرح بلا سند و بلا سلسلہ روایت اخبار و روایات کے باب میں وہ درایت کے اصول کا اطلاق کرتے ہیں، جیسے کہ سندی روایات و اخبار کو معیارِ درایت پر کستے ہیں۔ سیرتِ نبوی کے باب میں درایتی اصول سب سے پہلے یہ ہونا چاہیئے کہ وہ حضورِ رسالت مآبﷺ کی ذاتِ گرامی، شخصیتِ عالی اور کردارِ سامی کے شایانِ شان ہے کہ نہیں ؟ اور دوسرے یہ کہ وہ اسلامی اقدار، دینی معیار اور مذہبی روح سے میل کھاتا ہے کہ نہیں؟ تیسرے یہ کہ وہ عام فطری واقعاتِ حیات اور منطقی معلوماتِ سیرت سے ہم آہنگ ہے کہ نہیں اور سب سے اہم یہ کہ وہ دوسرے اصولِ فن ہر کھرا اترتا ہے کہ نہیں؟
سیرتِ نبوی میں روایات و اخبار کا روایتی و درایتی تجزیہ قبلِ بعثت کے واقعات و حالات میں بھی اسی طرح ہونا چاہیئے جس طرح مدنی واقعات یا بعدِ نبوت کوائف کے تعلق سے کیا جاتا رہا ہے۔ عہدِ جاہلیت اور قبلِ بعثت کے واقعات و اخبار بالعموم بلا سند ہوتے ہیں۔ ان کا روایتی معیار کم و پیش یکساں ہوتا ہے کہ وہ اخبارِ سینہ اور قدیم قصص و واقعات پر مبنی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر مقبولِ عام اور مشہور و متداول روایات پر ایسی چند روایاتِ غیر مشہودہ سے معلومات کا اضافہ ہوتا ہے تو ان کو بلا تکلف بیانیہ سیرت میں سمونا چاہیئے۔ مثلاً رسولِ اکرمﷺ کے سب سے بڑے حقیقی چچا جناب زبیر بن عبدالمطلب ہاشمی تھے اور ان کا قبلِ بعثت حیاتِ نبوی میں خاصا اہم کردار رہا تھا۔ مگر ان کا ذکرِ خیر دوسرے حقیقی چچا جناب ابو طالب بن عبدالمطلب ہاشمی کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔ طرفہ ستم کہ اول الذکر کی تربیت و نگہداشتِ نبوی میں کارسازی کو موخر الذکر کی حق تلفی، بے توقیری اور متعصبانہ کاروائی قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ تعصب و جانبداری ہی نے اول الذکر کا حق غصب کیا ہے۔
امام و فیلسوفِ تاریخ ابنِ خلدون (عبد الرحمن بن محمد بن محمد حضری 733-808/1332-1404) کے مطابق جانبدارانہ تاریخ نگاری ان سات جرائمِ نگارش اور گناہانِ تحریر میں سے ایک ہے جو تاریخ کو مسخ کرتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک بدیہی اور فطری حقیقت ہے کہ ہر لکھنے والا، ہر مصنف، اور ہر سیرت نگار اپنے میلانات، رجحانات اور تعصبات کا اسیر ہوتا ہے، کیونکہ فطری تقاضوں کی اثر پذیری اور نفسیاتی گرہوں کی کارسازی سے کوئی بھی محفوظ و مامون نہیں۔ لیکن دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے میلانات و رجحانات اور تعصبات کو تاریخ اور سیرت کے واقعات کو چھپانے، توڑنے مروڑنے ، بد آمیز و بدرنگ کرنے، غلط معانی پہنانے، آدھے سچ کی شکل دینے، بلاوجہ مسترد کرنے اور مسخ کرنے کی حرکت تو نہیں کرتا۔ اگر وہ دونوں یا چند پہلوؤں والی رواات کو بیان میں جگہ دیتا ہے تو اسے تعصب کا شکار اور غیر متوازن و جانبدار نہیں کہا جا سکتا۔ ابنِ اسحاق/ ابنِ ہشام نے جناب زبیر بن عبد المطلب ہاشمی کی جناب رسولِ اکرمﷺ سے حقیقی عمومیت کا رشتہ چھپا کر اور جناب ابو طالب کو “واحد حقیقی چچا” ہونے کا تاثر دے کر جانبداری کا ارتکاب کیا ہے۔ جبکہ حافظ اموی وامام ابنِ کثیر وغیرہ محققینِ فن نے دونوں رشتوں کا برملا اظہار کرکے حق و صداقت اور غیر جانب داری و معروضیت کا ثبوت پیش کیا ہے۔
فلسفہؑ تاریخ کے اسی بانی امامِ گرامی نے تاریخ کے ظاہری اور اندرونی پہلوؤں کا عظیم الشان نظریہ پیش کر کے حقیقتِ امر کی بازیافت کا اچوک طریقہ ایجاد کیا ہے جو اپنی ساخت و نہاد میں خالص اسلامی ہے۔ ان کے خیال و فکر میں واقعات، روایات، اخبار دراصل تاریخ کے ظاہری یا بیرونی پہلو ہیں جو اصل وجانِ تاریخ و سیرت نہیں ہیں۔ وہ اسباب و عوامل اور عناصر جو ان واقعات و کوائف کی ظاہری تشکیل کرتے اور ان کو منظرِ عام پر لاتے ہیں، دراصل اندرونی یا باطنی پہلو ہائے تاریخ ہیں اور ان کی کارفرمائی، ظواہر میں کارسازی کو جانے سمجھے اور تجزیہ کیئے بغیر حقیقت کا ادراک نہیں کیا جا سکتا۔ وہ دراصل روحِ تاریخ اور جانِ سیرت ہیں اور ظاہری واقعات ان کے اعراض و اجسام و ابعاد- سیرتِ نبوی کے تجزیاتی مطالعہ و نگارش میں اس حقیقی نظریہ یا روحِ سیرت کو کارفرما و کارساز بنائے بغیر حیاتِ نبوی کو اس کے صحیح تناظر میں نہ سمجھا جا سکتا ہے اور نہ الفاظ و عبارات میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ (مقدمہ ابنِ خلدون قاہرہ، صفحہ 35-41)

اقتباس :سیرت نگاری کا صحیح منہج ازڈاکٹر یاسین مظہر صدیقی، سہ ماہ تحقیقات اسلامی ،علی گڑھ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *