دنیا میں ظلم/قحط/بھوک اور ملحدین کے مغالطے

6

گزشتہ تحاریر سے یہ واضح ہے کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ، بهوک، افلاس،قتل وغارت گری، دہشت گردی، عدم تحفظ کا احساس، اخلاقی دیوالیہ پن، کرپشن اور دیگر معاشرتی و اخلاقی برائیاں انسانی معاشرے کے لیے انسانی تحفہ ہی ہیں،ملحدوں کی ڈهٹائی ملاحظہ فرمائیں کہ کمال ہوشیاری سے ان تمام افعال کا ذمہ دار خدا اور مذہب کو ٹھہرانے کی کوشش کرتے اور عام مسلمانوں کو مغالطوں میں مبتلا کرتے ہیں ۔۔
کبھی افریقہ کے بچوں کی تصاویر کیساتھ یہ جملہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ اللہ چاہتا تو یہ بھوک سے نا مرتے، کیڑے کو رزق دیتا ہے انہیں نہیں دیتا۔۔ کہیں کسی ظلم کا شکار بچے کی تصاویر کیساتھ یہ جملہ لکھا ہوتا ہے کہ اللہ نے اس بچے کے ساتھ ظلم ہونے دیا، ظالم کو روکا نہیں ۔۔۔ ایسے بیسوں پوسٹر سوشل میڈیا پر ملحدین کی طرف سے چلائے گئے ہیں۔ ۔
ان ملحدین پر حیرت ہوتی ہے کہ ایک طرف خدا کے وجود کے قائل نہیں دوسری طرف دنیا میں ہونے والے ظلم کا ذمہ دار بھی اسے ٹھہراتے اور دن رات خدا کو کوستے رہتے ہیں، یہ انکی عجیب منطق ہے۔۔ اسی منطق کے تحت یہ ایک طرف لوگوں کو خدا سے بدگمان کرتے ہیں دوسری طرف ظلم کی اصل وجوہات سے توجہ ہٹاتے اور اصل ظالموں کو بھی سیو کرتے ہیں۔ جہاں اس موضوع پر بات ہو بحث کا رخ چالاکی سے ٹوٹل خدا اور مذہب کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ ظلم کرنے والے مذہبی نہیں بلکہ انہی کی قبیل کے مادہ پرست، لا مذہب لوگ ہوتے ہیں۔
جب اصل وجوہات کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو کچھ لوگ سوال کرتے ہیں  کہ  کیا یہ سب اللہ کی مرضی سے  نہیں ہورہا ،اللہ انہیں روکتا کیوں نہیں ؟

یہ سوال دراصل اللہ کے قانون سے ناوافقیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ملحدین سے تو کوئی امید نہیں کہ وہ اکثر جان بوجھ کر مغالطے پیدا کرتے اور جھوٹ اور مکر سے کام لیتے ہیں۔۔ ایسے پوسٹر شئیر کرنے والے عام مسلمانوں پر حیرت ہوتی ہے کہ جس پر اعتراض کرتے ہیں اسکے موقف کو جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ ۔ ۔

بنیادی طور پر یہ مغالطہ  “خدا کی مشیت و ارادے” اور “خدا کے حکم و رضا” میں فرق نا کرسکنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ  جب کہا جاتا ہے کہ “سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے” تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز خدا کی مشیت و ارادے کے تابع ہے، اچھائی ہو یا برائی ان میں سے ہر دو اپنی اثر  پزیری کیلئے خدا کے ارادے، مشیت و اذن ہی کی محتاج ہے، خود سے مؤثر نہیں۔

مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ‘اچھائی اللہ کی طرف سے نیز برائی تمہارے نفس کی طرف سے ہے’ تو اسکا معنی بھی یہی ہوتا ھے کہ اللہ نے اچھائی کا حکم دیا ہے اور وہ اس پر راضی ھے لیکن برائی کرنے کا اسنے حکم نہیں اور نہ ہی وہ اس پر راضی ھے۔ چنانچہ ‘اچھائی خدا کی طرف سے ھے’ کا مطلب یہ ھے کہ خدا کے حکم و رضا کے تحت ہے اور ‘برائی تمہارے نفس کی طرف سے ہے’ کا مطلب یہ ھے کہ خدا نے تمہیں اسکے کرنے کا حکم نہیں دیا لہذا یہ تمہارے اپنے نفس کی پسند ھے۔

اب برائی اللہ کے ارادے و مشیت سے اثر پزیر تو ھے مگر اس کے کسب  میں اسکا حکم اور رضا شامل نہیںاس بات کو سمجھنے کیلئے ایک مثال لیتے ہیں۔ ایک سپر سٹور کا تصور کریں جہاں ایک باپ اپنے بچے کے ساتھ کھڑا اپنے بچے کو ھر شے کا فائدہ اور نقصان سمجھا رھا ھے۔ پھر اپنے بچے کو اچھی طرح بتا دیتا ھے کہ فلاں فلاں چیز کے انتخاب میں میں راضی ھونگا اور فلاں فلاں میں میں ناراض ھوجاؤں گا، لہذا تم پہلی قسم کی چیز کا انتخاب کرنا اور دوسری سے بچنا۔ پھر وہ بچے کو انتخاب کا حق دے دیتا ھے۔ اب بچہ سپر سٹور میں چاھے جس بھی شے کا انتخاب کرلے ان معنی میں باپ کے ارادے و مشیت سے ھے کہ انتخاب کا یہ اختیار بذات خود باپ ہی نے دیا ھے اور اگر باپ اسے یہ اختیار نہ دے تو بچہ اچھے یا برے میں سے کسی بھی شے کی چاہت نہیں کرسکتا (ماتشاءون الا ان یشاء اللہ کا یہی مفہوم ہے)۔ اگر بچہ وہ شے پسند کرے جس کا باپ نے حکم دیا اور جس پر وہ راضی ھے تو اب اس انتخاب میں باپ کے ارادے و مشیت کے علاوہ اسکی رضا و حکم بھی شامل ھوگیا اور اگر ایسی چیز کا انتخاب کیا جس سے باپ نے منع کیا تھا تو اس انتخاب میں اگرچہ باپ کا ارادہ و مشیت تو لامحالہ شامل حال ھوگی مگر اسکی رضا اور حکم نہیں۔

اس سے یہ واضح ہے کہ خشکی اور تری میں فساد انسانی اعمال و افعال کا ہی نتیجہ ہے۔ ۔ یہاں یہ کسی درجے میں ظلم ہوتا کہ خدا مخلوق کی تربیت و رہنمائی کا کوئی انتظام نا کرتا، لوگ اچھے برے راستے میں تمیز نا کرسکتے، خدا کی مشیت، ارادے، رضا، حکم کے متعلق علم نا دیا جاتا، یہ بتایا نا جاتا کہ اسکی رضا کس میں  ہے ؟ انسانوں کو  دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے  ہے؟۔۔۔

ایسا بھی نہیں کیا گیا۔ خالق نے اسکا بھی بھرپور انتظام کیا ۔ انسانوں کی ہدایت و تربیت کے لیے ہر دور میں نبی بھیجے گئے، تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات اسی انسان کو انسان بنانے کے لیے ہی ہیں۔ ۔ ۔
قرآن اللہ کی آخری کتاب اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ انکی تعلیمات کو ہی دیکھ لیں ۔ یہ انسانوں کے اندر جوابدہی کا احساس پیدا کرتی ہیں، اسلام فرد کو بتاتا ہے کہ تم بلاوجہ دنیا میں نہیں آئے کہ جانوروں کی طرح زندگی گزار کے مرکهپ جاو گے بلکہ مرنے کے بعد ایک دن تمہیں اسی طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔۔ یہاں تم جو اچھا برا عمل کروگے تمہیں وہاں اسکا حساب دینا پڑے گا۔ ۔۔
یہی جوابدہی کا احساس تھا کہ جس نے ان وحشیوں کو انسان بنادیا تھا جن پر کوئی حکومت کرنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا ۔۔۔ جو اپنی بیٹیاں زندہ دفنا دیتے تھے، اپنے دشمنوں کی کھوپڑیوں میں شرابیں پیا کرتے تھے ۔۔
اسی جواب دہی کا احساس ہی تها کہ وقت کے خلیفہ ابوبکر و عمر راتوں کو گلیوں میں گشت کرتے تھے ۔۔۔جب ساری عوام سو رہی ہوتی یہ انکا پہرہ دیتے، انکے لیے کھانے کا انتظام کرتے، بادشاہ ہونے کے باوجود انکے کپڑوں میں پیوند لگے ہوتے تھے۔۔
یہی احساس ہے کہ بائیس لاکھ مربع میل پر حکومت کرنے والے حاکم عمر کو یہ فکر ہے کہ اگر دجلہ کے کنارے کتا بهی بھوک سے مر گیا تو اسے اس کا حساب دینا پڑے گا۔ ۔
یہ احساس آگے چل کر ایک آئیڈیل معاشرے اور تہذیب کی بنیاد رکھتا ہے، اسلامک گولڈن پیریڈ وجود میں آتا ہے جس میں جدید علوم و فنون کی بنیادیں رکھی جاتی ہیں ۔۔۔یہ سب شاہد ہے کہ جب خدا کے دیے اخلاقی قوانین کی پاسداری کی جائے گی دنیا میں یہ سب ظلم خودبخود ختم ہو جائے گا ..

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *