الحاد کیوں پھیل رہا ہے ؟

a

بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اسلام دین برحق ہے اور اس میں ہر چیز عقلی اور فطری تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ الحاد ابھی بھی پھیل رہا ہے۔
الحاد سے مراد خدا کی ذات سے انکار ہے۔ اس کا روحانی زندگی کی موت کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اور مذہب الحاد کے پیروکار ملحدین کہلاتے ہیں۔
یہاں محترمہ عفیفہ شمسی لکھتی ہیں کہ
الحاد دراصل ہماری تہذیب کا مسلہ نہیں بلکہ مغربی تہذیب سے درآمد شدہ ہے
الحاد کو ہم دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں
1علمی الحاد
2نفسانی الحاد
علمی الحاد بہت نادر ہے کہ جس میں کسی شخص کو علمی طور پر خدا کے وجود کے بارے میں شکوک وشبہات لاحق ہوتے ہیں جیسے کہ نظریاتی سائنسدانوں اور فلاسفہ کی جماعت
نفسانی الحاد بڑے پیمانے پر موجود ہے کہ جس میں شخص کو خدا کے وجود سے متعلق شکوک وشبہات علمی طور پر لاحق نہیں ہوتے بلکہ وہ بوجہ اپنی نفسانی خواہشات کے خدا کے بارے میں شکوک و شبہات گا اظہار کرتا ہے یہ ملحد خود اپنے آپکو بھی دھوکہ دے رہے ہیں اور اپنی نفسانی خواہش کو علم جان لیتے ہیں
انہوں نے جب مذہب کو جب یہ سمجھا کہ گویا انکو پابند سلاسل کر دیا گیا اور وہ اپنی خواہشات اس دائرہ میں پوری کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے تو خود کو ہر پابندی سے آزاد کرنے کے لیے مذہب سے ہی انکاری ہوگئے اور پھر اس پر شیطان نے انکی آنکھوں پر کچھ ایسا پردہ گرایا کہ خود کو حق بجانب سمجھنے لگے اور اپنی بات کو حق ثابت کرنے کے لیے مختلف بے بنیاد دلائل سے آراستہ ہو کر میدان میں اتر آئے
علمی الحاد میں
ملحدین نے جب صانع کو حواس خمسہ کے ذریعے نہ پایا اور اسکی معرفت کے لیے عقل کو کام میں نہیں لائے تو انہوں نے اسکے وجود ھے ہی انکار کر دیا یہ لوگ بے راہ ہوگئے بوجہ کہ انہوں نے ذات باری کو ظاہری حس کے ذریعے طلب کیا صانع کا انکار اس لیے بھی کر بیٹھے کہ اسکا وجود اجمالی طور پر ثابت کیا گیا ہے انہوں نے جب اپنے ذہن میں سائینس کی بدولت اٹھنے والے سوالات کے مد مقابل تفصیلی حثیت سے ذات باری کا ادراک حاصل نہیں کیا تو انہوں نے اسے سرے سے ماننے سے ہی انکار کر دیا
جبکہ خود ہم میں ایسی تماثيل موجود ہیں جنکا ہم ادراک اجمالی طور پر کرتے ہیں جیسے نفس ، عقل ،
نفسانی الحاد میں
بعض گرہوں نے علمی الحاد سے کچھ پراگندہ ذہن کو جب مذہب کے مطالعےمیں باغی
شکوک و شبہات کے ساتھ صرف کیا تو ظاہری آیات و حدیث پر وقوف کیا اور انکو اپنے ظاہری حواس کے مقتضی پر محمول کیا
اور مذہب سے بدظن ہوگئے
(عفیفہ شمسی)
ملحدین کو میں اپنی دانست میں تین کیٹیگریز میں تقسیم کرتا ہوں۔
پہلے وہ جو سائنس کی وجہ سے خدا کا انکار کرتے ہیں۔
دوسرے وہ جو مادر پدر آزادی کی خواہش کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔
تیسرے وہ لوگ جو کم علمی اور صرف مخالفت کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔
پہلی قسم کے لوگوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔
ان کی تاریخ شروع ہوتی ہے جب مذہب میں اجارہ داری قائم ہوئی کلیسہ کی ۔ اور کلئ اختیار پادریوں کو دے دیئے گئے۔ اپنی اجارہ داری کو قائم رکھنے کے لیئے جو بھی ان کے مخالف یا ان کے نظریات کا رد کرتا وہ فوری دردناک سزاؤں کا مستحق ٹھہرتا۔
ان مذہبی اجارہ داروں نے اپنے پیروکاروں کی سوچوں کو بھی اپنے قابو میں کیئے ہوئے تھے۔
لیکن انسان فطری طور پر باغی طبیعت کا ہے۔کچھ کو ڈرا کر چپ کروایا جا سکتا سب کو نہیں۔۔ تو ایسے وقتوں میں بھی بہت سے لوگوں نے سوچنا اور اس کائنات پر غوروفکر کرنا نہیں چھوڑا۔
لیکن کلیسہ کے ظلم کی وجہ سے وہ لوگ مذہب سے باغی ضرور ہو گئے۔ اور آہستہ آہستہ لوگوں کے دل میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ سائینس اور مذہب ایک چیز نہیں ہے۔ یہ دو الگ الگ سمتوں میں چلنے کا نام ہے۔
سائینس علم ہے ان چیزوں کی تشریح کرنے کا جو ہمارے حواس خمسہ محسوس کر سکتے ہیں۔ سائنس میں روحانیت کی اہمیت زیرو ہے۔
سائنس نے مذہب سے دامن چھڑوایا تو مذہب کے ہر اس تصور کو جھوٹ کہہ دیا جو کہ وہ حواس خمسہ کے دائرے میں نہیں آتے تھے۔ تو ایک بن دیکھے خدا کو وہ کیسے مان سکتے تھے۔ اور جو بتوں کی پوجا کرتے تھے اسے ماننے کو ان کی عقل تیار نہیں تھی کہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے پتلوں کو اپنا ہی خدا کیوں کر مانا جائے۔۔۔۔۔۔
پھر چارلس ڈارون نے نظریہ ارتقاء پیش کر دیا ۔۔۔۔
جس نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی اور انہیں ایک سائینسی نظریہ مل گیا کہ اتنی بڑی کائنات اور سب مخلوقات کیسے وجود میں آئی۔
دوسرے قسم کے لوگوں میں اکثریت نوجوانوں کی ہے
آج کے نوجوان کی لامتناہی خواہشات مادرپدر آزادی چاہتی ہیں۔ یہ لوگ معمولی سی فوری لذت کی خاطر مستقبل میں آنے والی تکالیف کو برداشت کرنے کے لیئے تیار ہوتے ہیں۔ شیطان کی پیش کردہ لذات سے دھوکہ کھا کر یہ لوگ الحاد کے جال میں ایسے پھنستے ہیں جیسے آگ کے گرد گردش کرتے پتنگے اس میں جا گرتے ہیں۔۔۔
جس قدر روحانیت سے دوری ان نوجوانوں کی ہوتی ہے یہ اتنا ہی جسمانی لذتوں کے پیچھے پیچھے الحاد کے گڑھے میں گر جاتے ہیں۔
تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو تحقیق سے یا تو بہت دور ہوتے ہیں یا پھر ان میں حق تسلیم کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی۔ یہ لوگ کسی نہ کسی مشکل دور سے گزرتے ہیں یا اپنے اردگرد پریشانیوں سے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں۔ اور صبر کا مادہ ان میں کم ہی ہوتا ہے تو جس وجہ سے خدا کی ذات سے شکوے کرنے سے آغاز کرتے ہیں لیکن جلتی پر تیل کا کام ان کے مذہبی لوگوں کی منافقت کرتی ہے۔ یہ مذہبی لوگوں کے عمل کو ہی مذہب کی اصل سمجھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ نفرت بڑھتی ہے اور ایک وقت یہ مذہب سے ہی مکمل دور ہو جاتے ہیں۔
لیکن اسلام الحاد کی ہر وجہ کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔ قران میں اللہ بار بار لوگوں کو اس کائنات پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ اسلام سائینس کی مختلف شاخوں میں تحقیق پر ابھارتا ہے۔ اور جو لوگ علم حاصل کرتے ہیں اسلام ان لوگوں کی مدح سرائی کرتا ہے۔
اسلام تو کہتاہےکہ آو۔۔اور غوروفکرکرو۔۔۔۔۔۔کہ جو کچھ قران میں بیان کیا ہے وہ سب فطرت کے عین مطابق ہے یا نہیں۔۔ اسلام بلاتا ہے کہ پہلے تحقیق کرو اور پھر تسلیم کرو۔۔۔۔
لیکن ایک وقت تھا جب مذہبی لوگوں کو طعنہ دیا جاتا تھا کہ یہ لوگ سوچنے اور تسلیم کرنے کی قوت سےعاری ہیں اور حق کو تسلیم نہیں کرتے جب کے سب سامنے بھی ہوتا ہے۔
اسی طرح یہ سائنسدانوں میں بھی ہے۔ جیسے جیسے نئی ایجادات اور دریافتیں ہوتی جارہی ہیں۔ اسلام کی سچائی سامنے آتی جا رہی ہے۔ خود نظریہ ارتقاء بھی بے بنیاد ثابت ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن الحاد پرست ابھی تک وہی پرانی باتیں لے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور حق تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔ اور تنقید برائے تنقید کرتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس کے سب اصول و قوانین عین فطرت کے مطابق ہیں۔ جو لوگ مادر پدر آزادی کے حق میں تھے اس کا انجام بھی اب سب کے سامنے ہے۔ یہ وقتی آزادی نے جتنا نقصان معاشروں کو پہنچایا وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ سکون تباہ کر بیٹھے ہیں تب جا کر وہ یہ بات سمجھے۔ مگر۔۔۔۔۔۔ مسئلہ پھر وہی۔۔ تسلیم کرنے والے لوگ بہت کم ہیں۔
اسلام نے فرض کر دیا ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت پر تعلیم حاصل کریں۔ کم از کم اتنی تعلیم فرض ہے کہ دین کی روح کو سمجھ سکیں۔ اگر کوئی دین کی تعلیم حاصل نہیں کرتا یا مذہبی لوگوں کی منافقانہ روش کو دین اسلام سمجھتا ہےتو یہ اس کی اپنی خامی ہے۔ نہ کے اس میں اسلام کا کوئی قصور نکلتا ہے۔
یہ سب تو بنیادی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر الحاد کو فروغ ملتا ہے۔ لیکن آج کل کے دور میں سب اہم کام میڈیا کے ذریعے سے ذہن سازی کا جس سے نوجوان نسل کے ذہنوں میں شک کا کیڑا ڈالا جاتا ہے۔ لیکن اس کے جواب میں مسلمانوں کے پاس ایسا باقاعدہ پلیٹ فارم نہیں جہاں وہ اپنا مقدمہ پیش کر سکیں۔
محترمہ عفیفہ شمسی لکھتی ہیں
یہ اہل دیں کی نسل میں الحاد کیوں موجود ہے
کیوں عصبیت کے ذہر سے کام و دھن آلود ہیں پھر آگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہے
شاید کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
کودے گا جو اس آگ میں وہ کامراں ہو جائے گا
نسل نو میں الحاد کی موجودگی انکی نفسانی و شیطانی خواہشات کا نتیجہ ہے جو مغربی پراپیگنڈے کے ذریعے تعمیر کے لبادے میں تخریب کے ذہریلے تیر کی بدولت پیدا ہو رہی ہے
مغربی فلسفہ کی یلغار سے نسل نو اس ابلیسی شکنجہ میں گرفتار ہو رہی ہے اسکے اہم اسباب میں سے ہمارا تعلیمی نظام ہے جس سے الحاد کے زہر کو نسل نو کی رگوں میں نام نہاد اسلامی غلاف کے ذریعے سے انڈیلا جا رہا جبکہ اپنے مذہب سے واقفیت نہ ہونے کے باعث نسل نو پہلے سے ہی مختلف شکوک و شبہات میں گرفتار ہے (عفیفہ شمسی )
محترمہ ارسلا صدیقی اس پر فرماتی ہیں کہ
” الحاد دھریت میں اضافے کی اھم وجہ میڈیا میں مغ ربی فلسفہ اور شیطانی گروہ کے وہ مقاصد ھیں جو پرنٹ و الیکڑونک میڈیا کے ذریعے ھمارے ذھنوں سے چمٹ رھے ھیں
الحادی بے لگام ھوتے جارھے ھیں…کیونکہ ھر ذی نفس اپنا مقصد ہیدائش بھول گیا ھے
“قرآن شریف نے انسان کی تخلیق کا مقصد بیان کیا ھے
(کنتم خیر امتہ اخرجت للناس )
تم بہترین امت ھو جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے پیدا کی گی ھے…
نفع سے مراد اگرچہ عام ھے مگر اصل مقصد…امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور دعوتہ الی الایمان ھے
مگر افسوس یہ ھے کہ ھمیں خود اپنے سمیت کسی کے ایمان کی کمزوری کا احساس نہیں۔
سیکولر تعلیم کا الحادی رنگ مسلمانوں کے اندر دیکھنے کے لیے کسی خردبین کی ضرورت نہیں؛ہر کالج، ہر سیمینار، ہر کانفرنس، بلکہ تمام پروگراموں اور کنونشنوں میں دیکھا جاسکتا ہے ؛اس کا مشاہدہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی آنکھوں سے کرلیجیے، فرماتے ہیں: امریکہ میں مسلمانوں کی ایک تنظیم ”فیڈریشن آف اسلامک ایسوسیایشنز“ ) ایف، آئی، اے( نے اپنا سالانہ کنونشن امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کے مرکزی شہر چارلسٹن میں منعقد کیا۔ اس کنونشن کے دوران پکنک، کشتی رانی اورڈِنر کے جو پروگرام ترتیب دیے گیے، ان میں خردبین لگا کر بھی اسلام کی نہ صرف کوئی جھلک نظر نہ آسکی؛ بل کہ بعض ایسی چیزیں بھی ان پروگراموں کے دوران سامنے آئیں؛ جنہیں دیکھ کر پیشانی عرق عرق ہوگئی…۔) مفتی محمد تقی عثمانی۔جہان دیدہ: ص483( ”
محترمہ عفیفہ شمسی لکھتی ہیں کہ
سوال پوچھا گیا ہے کہ اسلام کی سچائ کے باوجود یہ فتنہ بڑھ کیوں رہا ہے
تو اس فتنے کی تیز یلغار یہ گمان قطعا نہ کیا جائے کہ اسلام کی حقانیت پر دڑاڑیں پڑھ رہی ہیں یا حق دبنے کو ہے اعداد و شمار کے مطابق اسلام جس تیزی سے پھیل رہا ہے اسکا مقابلہ کوئ باطل قوت نہیں کر پا رہی
بات یہ ہے کہ ہم نے نگاہ بعد میں اٹھائ وگرنہ یہ ملحدین اب کی پیداوار نہیں ،،،،!!
اس وقت دنیا میں صرف دو ہی نظریات اور فلسفے پھل پھول رہے ہیں. پہلا دین اسلام جو مذہب کا مقدمہ پیش کر رہا ہے اور سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے. دوسرا فلسفہ لادینیت یعنی خدا کے انکار کا ہے ، یہ بھی روشن خیالی کے پردے میں اپنی پوری قوت سے پھل رہا ہے. ان دو فلسفوں کے علاوہ بقیہ جتنے بھی نظریات ہیں وہ یا تو منجمد ہیں یا پھر آھستہ آھستہ دم توڑ رہے ہیں اور ان دو فلسفوں میں سے کسی ایک کو اپنا رہے ہیں. بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر دہریت یا لادینیت کو اختیار کر چکے ہیں اور بیشمار منکرین خدا ایسے ہیں جو اسلام کی حقانیت کو پہچان کر اسے اپنی شناخت بنا چکے ہیں. میری ناقص راۓ میں آخری ٹکراؤ جسے مذہب اور دجالی قوتوں کا ٹکراؤ کہا جاتا ہے وہ انہی دونوں کے درمیان ہوگا. باقی بچے کھچے فلسفے محض تماشائی یا سپورٹنگ کریکٹر کا کردار ادا کریں گے. ضرورت ہے اس امر کی کہ مسلمان خود کو قرآن حکیم سے جوڑیں اور اسے پھیلانے کی کوشش کریں کہ صرف یہی لادینیت پر بند باندھ سکتا ہے
.
یقین اور تشکیک دونوں ہی تجسس کی گود میں پرورش پاتے ہیں. تجسس ہی وہ جذبہ ہے جو متلاشی حق کو شکوک کی گھاٹیوں سے گزار کر بلاخر اطمینان و یقین کی منزل پر پہنچا دیتا ہے. یہ ممکن نہیں کہ شعوری طور پر زندہ انسان تجسس سے خالی ہو. معرفت الہی بھی موروثی نہیں بلکہ شعوری دریافت کا نام ہے اور اسکا محرک تجسس ہی ہے. یہی تجسس جب الفاظ میں ڈھلتا ہے تو سوال بن کر ادا ہوجاتا ہے. المیہ یہ ہے کہ آج سوال تو پوچھا جارہا ہے مگر جواب دینے والے موجود نہیں ہیں
.
یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مسلم نوجوان نسل میں مقبول اسکالروں کی اکثریت آج روایتی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں ہیں. ڈاکٹر اسرار احمد سے لیکر جاوید احمد غامدی تک، ڈاکٹر ذاکر نائیک سے لے کر شیخ احمد دیدات تک، مولانا مودودی سے لیکر پرفیسر احمد رفیق تک، یاسر قاضی سے لیکر نعمان علی خان تک. یہ سب اور بہت سے مزید مقبول اشخاص جو مسلم نسل کی ذہن سازی کر رہے ہیں وہ سب جدید علوم پر دسترس رکھتے ہیں. روایتی علماء کا بدقسمتی سے یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی روم کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہونگے مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون ، کارل مارکس ، رچرڈ ڈاکن کون ہیں ؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے ، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے ؟ لہٰذا انکا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا (تحقیق)
الحاد کے رد سے پہلے یہ جاننا ضروری ہوگا کہ یہ شیطانی فتنے کی یلغار کس کس ذریعے سے ہو رہی ہے
1 جیسے کہ نظریاتی سائنس کو ہمارے نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے
2 مغربی مصنفوں کی فلسفہ اور سائنسی درسی کتب
3 مغربی میڈیا کا ہمارے میڈیا پر بے جا تسلط
3 معاشرے میں موجود الحاد سے متاثرہ افراد سے میل جول
4 ہمارے تعلیمی نظام پر مغربی نظریات و افکار کی واضح چھاپ
5 مسلمان نسل نو کی اپنے دین سے دوری
الحاد کے رد کے لیے ضروری ہے کہ جہاں سے یہ فتنہ درآمد ہو رہا ہے اس پر پابندی لگائ جائے مثلا
مغربی الحادی کتب کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ
جو الحاد جس لغت میں ہے اس کا جواب اسی لغت میں دیا جائے
علمی و نفسانی الحاد کا جدید علم نفسیات کی روشنی میں تجزیہ کیا جائے
تعلیمی نظام پر مغرب کا تسلط ختم کیا جائے
دینی درسی کتب بمع جدید علوم کے شامل کی جائیں
میڈیا سے نازل ہوتی شیطانی یلغار پر ہر ممکن بند باندھنے کی کوشش کی جائے
دین کی محبت و اپنی زندگی کے بنیادی مقصد کو جان کر ام بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے الحاد کے خاتمہ کے لیے ہمت و جذبہ بیدار کیا جائے
نسل نو کو اس فتنے سے آگاہ کیا جائے
آخر میں یہ کہنا چاہوں گی کہ خدارا اپنے مذہب کو جانیے تا کہ اس فتنے سے نا صرف آپ بلکہ دوسروں کو راہ راست پر لے آئیں اسلام کی سچائ اور اس میں موجود راحت اور زندگی گزارنے کے بہترین طریقے کو جاننے کے لیے اٹھیے کہ یہ اسکی سچائ ہی تھی جس سے وہ تاریخی انقلاب کہ صحرا کے بدو عرب کے بادشاہ بن گئے نہ کہ کفریہ مقاصد کو پورا کرنے کے لیے بھٹکے ہوئے آہو کی مانند آمنا و صادقا کہہ کر چل پڑیں
کس گمراہی میں مبتلا اس دور کا انسان ہے
سب مشکلوں کا حل ہمارا دین ہے ایمان ہے
اسوہ رسول اللہ کا اللہ کا قرآن ہے
نظمی ہماری زندگی کا بھی یہی عنوان ہے
یہ دل اسی عنوان سے تسکین آخر پائے گا
اسلام غالب آئے گا اسلام غالب آئے گا
(تمام بھٹکے ہوؤں کے لیے دعا گو عفیفہ شمسی)
اب امت مسلمہ کو اٹھنا ہو گا اپنے لیئے اپنی آنے والی نسلوں کے لیئے۔ لوگوں کو کوشش کرنی ہوگی جو فتنہ پھیلایا جا رہا ہے اس کو بند باندھا جائے۔ اس سے پہلے کہ نوجوانوں کا ایمان بہا کے لے جائے۔
اللہ جو لوگ رد الحاد پر کام کر رہےہیں سب کا حامی و ناصرہو ۔
آمین یا رب العالمین

محترمہ عفیفہ شمسی
محترمہ ارسلا صدیقی
محمد تیمور طارق

فیس بک تبصرے

الحاد کیوں پھیل رہا ہے ؟“ ایک تبصرہ

  1. bahut awla…great work

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *