حق اور خیر کے اجالوں کی طرف آنے میں عقل کا کردار

3

دین جو کچھ بھی ہے وہ بلاشبہ آ سمانوں سے ہی نازل ہوا ہونا ہے ،اور یوں خدائی ہدایت ہونے کے ناتے عقل کو ہمیشہ اس کے تابع ہی رہنا ہے ۔ لیکن دین کیا ہے اور اس پر انسان نے کیسے چلنا ہے، اس کا فیصلہ بھی انسان نے اپنی عقل کے ذریعے ہی کرنا ہے خواہ اس تک دین رسول کے ذریعے پہنچا ہو یا رسول کے کسی متبع کے ذریعے۔
اب جیسا کہ انسان کو دنیا میں حق و باطل میں سے کسی ایک کو اپنا لینے کا جو اختیار عطا کیا گیا ہے وہ اس کے صاحبِ عقل و ہو ش و حواس ہونے کی بِناء پر ہے ،لہٰذا اس کی عقل و حواس کا اصل امتحان بھی اسی مرحلے میں ، اپنے اصل معنوں میں ، مراد اور درپیش ہوتا ہے۔ (قبولیتِ حق کے )اس مرحلے کے بعد بھی گو عقل اپنی رسائی کے خوب خوب جوہر دکھاتی ہے،جسے فقاہت یا تفقہہ فی الدین سے تعبیر کیا جاتا ہے ،لیکن یہ اس کا اصل امتحان نہیں ہے ، اگرچہ اپنی جگہ حددرجہ مطلوب ہے۔ تاہم یہ معاملہ عقل کی استعداد اور قابلیت پر منحصر ہے جو فرد، فرد میں مختلف ہوتی ہے۔ البتہ جہاں تک حق و باطل کی آزمائش کا معاملہ ہے تو یہاں آدمی کا ایک کم از کم حد تک صاحبِ عقل ہونا ہی کافی ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں آدمی کے مکلف ہونے نہ ہونے کا معاملہ اس کے صاحبِ عقل ہونے یا نہ ہونے سے بالترتیب متعلق ہی۔۔۔۔نہ کہ صاحبِ عقل ہونے کے بعد عقل کی استعداد سے۔
اس پہلے مرحلے میں ہی آدمی اگر اپنی عقل کے کردار سے دستکش ہو کر تسلیم برائے تسلیم اختیار کرلے تو اس کے بعد عقل کے لیے پھر بچا ہی کیا جہاں وہ اپنا وہ کردار ادا کرسکے جس کے لیے دراصل بنائی گئی ہے؟ اصل مسئلہ تو ایک چیز کو بطور ”کُل“ تسلیم کرنے کا ہے جس کے بعد اس کے اندر کا ہر ایک جزو آ پ سے آپ تسلیم ہو جاتا ہے، جس میں کہ عقل کوکوئی بہت زیادہ تگ ودو کرنے کی ویسے ہی ضرورت نہیں ہوتی ۔
پس باطل کی ظلمتوں سے حق اور خیر کے اجالوں کی طرف آنے میں ہر انسان سے ایک خاص درجہ کا کم از کم عقلی کردار بہر حال مطلوب ہوتا ہے۔ جو اگر ادا کیا جا رہا ہو تو تب ہی ”دین کا مسئلہ “ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ قرار پاتا ہے، اور حق و باطل کی ایک جیتی جاگتی کشمکش کے روپ میں انسانیت کے وجود کا مرکزی عنوان ٹھرتا ہے۔
یہ البتہ ایک الگ موضوع ہے کہ عقل کو کس طرح اس انداز میں خطاب کیا جائے کہ وہ اپنے اور دین کے مابین زبردست ہم آ ہنگی کو فطری انداز میں دیکھ لے۔ اور پھر جو کوئی اس دین کو قبول کرے تو ” سمجھ کر“، اور جو کوئی انکار کرے تو اچھی طرح” جان کر“۔ بنیادی طور پر یہ موضوع دعوت اور اس کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔
قلوب اگرچہ اللہ ہی کی قدرت و اختیار میں ہیں اور دلوں کو پھیرنا اسی کی مشیئت کے تحت ہے۔ لیکن دعوت کی ”ناکامی “ یا ”کامیابی“ کا ایک بڑا تعلق اس انداز ِ خطابت سے بھی ہے جو عقل کے ساتھ َروا رکھا جاتا ہے۔ یہ اکثر اوقات خود عقل سے اس کا اپنا کردار معطل کر دینے کی دعوت ہوتی ہے، نہ کہ (دین قبول کرنے میں) اپنا کردار ادا کرنے کی!
چنانچہ دین کی طرف لانے میں اس طرح کی اپروچ پیدائشی مسلمانوں پر تو کسی حد تک اثر رکھتی ہے ، کہ وہ پہلے سے ہی دین کے ساتھ عقیدت کے جذبات سے سرشار ہوتے ہیں۔ البتہ اس طرح کے رجوع الی الدین سے خود دین کو کوئی خاص فائدہ نہیں ہو پاتا۔ بلکہ بسا اوقات فکری عمل میں الٹا ایک جمود، تنگ، انقباض اور سختی میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے۔
البتہ غیرمسلموں کے لیے اس طرح کی دعوت میں (اگر کہیں غیر مسلموں کو دین کی دعوت دی جا رہی ہو!) کوئی خاص اثر اور جاذبیت نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ موجودہ دور میں مغربی ممالک کے لوگوں کی اسلام کے اندر بڑھتی ہوئی دلچسپی جہاں ایک طرف گلوبلائزیشن کی مرہونِ منت ہے، کہ جس کے نتیجہ میں تحقیق اور جستجو کا مادہ رکھنے والی اقوام کو خود اسلام کے زریں اور آفاقی اصولوں سے آشنا ہونے کا موقع ملا ہے، وہاں دوسری طرف انتہا پسندی ، بنیاد پرستی اور دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر کفار کی طرف سے عالم ِاسلام پر مسلط کی گئی جنگ سے پیدا شدہ مباحث اور مکالمہ کا بھی اس میں اہم کردار رہا ہے۔ گویا اس تمام منظر نامہ میں قبولیتِ اسلام کی بڑھتی ہوئی لہر خود مسلمانوں او ر ” دعوت“ کی بجائے حالات کی پیدا کردہ ہے۔ چنانچہ نومسلموں کی شخصیت کی انتہائی متوازن، متحرک اور معقول دینی جہت کا مشاہدہ کرکے جو ہم اکثر حیران رہ جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کا قبولِ اسلام ، عقل و خرد اور دین کے ایسے باہمی اتصال و تعلق کا نتیجہ ہوتا ہے جو انسان پر نئے جہان ِمعنی آشکار کرتا اور نفس، خدا اور کائنات کی صحیح پہچان دیتا ہے۔
جب تک عقل دین اسلام کی وسعت و جامعیت اور دنیا کی زندگی کے ساتھ اس کے تعلق (Relavance) سے بہرہ ور نہیں ہوئی ہوتی ہے تب تک اس کی تگ و تاز اور پرواز کا دائرہ نہایت محدود ہوتا ہے۔ اور اس کی سلامت فکر کے کئی کواڑ بدستور مقفل ہی رہتے ہیں۔ تا وقتیکہ دستیاب بہت ساری کنجیوں میں سے وہ واحد کنجی تلاش کر لی جائے جو اکیلی اس قفل کو کھولنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ چنانچہ عقل اور دین کا یہ Lock & Key Model جو کہ اپنی نوعیت میں نہایت خاص (selective) ہوتا ہے، جب درست زاویے سے رو بہ عمل آتا ہے تو یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ” حجابات“ اٹھ جاتے ہیں اور ابدی حقائق کا ”کشف“ ہونا شروع ہوتا ہے۔ تب انسان پر اپنی اور اپنے معبود کی ہستی کی حقیقت کھلتی ہے۔ اور وہ بے اختیاروبے ساختہ اس دین کی سچائی و آفا قیت پر ایمان لے آتا ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *