انسان اور کائنات کی فطرت

7

ایک پہچان وہ ہے کہ خالق و مالک کی بابت ازل سے ہی کائنات کے ذرے ذرے کی گھٹی میں پڑی ہوی ہے اور جس میں ہوش و خرد کا کوئی دخل ہے نہ ضرورت۔۔ اور ایک یہ معرفت و بندگی کا مقدمہ ہے جو کہ عقل و شعور کا اصل میدان ہے اور انسانیت کا یہاں سب سے بڑا امتحان۔۔۔
ایک بندگی ”وہ“ ہے جس نے بہر حال ہونا ہی ہونا ہے، اور جس سے سرتابی محال ہے۔ اور ایک بندگی ”یہ“ ہے جو اس کائنات کو اس کے وجود کا حسن بخشتی ہے اور اس کی غیت کا جواز عطا کرتی ہے۔ (وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون)

ایک کائنات کی فطرت ہے اور ایک انسان کی فطرت۔
کائنات کی فطرت یہی ہے کہ وہ کچھ لگے بندھے اصولوں کے تحت چلتی ہے اور اپنے مالک کے حکم کی بجا آوری میں لگی رہتی ہے۔ بس یہی فطرت اس کائنات کا کل سرمایہ ہے۔ یہی اس کی ”عقل“ ہے اور یہی اس کا ”دین“۔
انسان کی فطرت یہ ہے کہ اس کے اندر اپنے خالق و مالک سے رغبت کا دیا روشن ہے، اور طبعاََ اچھائی کو پسند کرتا ہے اور برائی کو ناپسند۔ لیکن محض اسکی فطرت اسے اسکے خالق و مالک تک درست طور پر پہنچا آنے کے لیے کافی نہیں۔ اسکے لیے ضروری ہے کہ خود اسکے پاس کوئی ایسا آلہ یا اوزار یا سواری موجود ہو جو اسے ان راستوں کی تلاش میں مدد دے جو خالق تک پہنچاتے ہیں۔
عقل ہی وہ چیز ہے جو _ دین کی رہنمائی (Road Map) اگر موجود ہو تو _ انسان کو اس کی فطرتِ صالحہ کے تحت اس کے مالک کی طرف کشاں کشاں چلاتی ہے۔

پس ان تینوں چیزوں کی اپنی اپنی ایک اہمیت ہے اور ایک الگ کردار۔ یعنی انسان کی فطرت ، اس کو عطا کی گئی عقل اور عقل کی رہنمائی کے لیے آسمان سے نازل کیا گیا دین۔
فطرت تو انسان کو جو ودیعت کر دی ، سو کر دی گئے۔ اب اس نے مختلف رنگوں ، جذبوں اور کیفیات میں انسان کے اندر ابھرنا ہے، اور اگر خود ہی مسخ نہ کر دی گئی ہو تو ، انسان کے اندر خیر کی تلاش میں نکلنے اور چلنے کا تحرّک پیدا کرنا ہے۔ لیکن اگر فطرت اور وجدان کے ذریعے ہی خیر اور حق تک پہنچا جا سکتا ہے تو سوال پھر وہی ہے کہ پھر عقل کی کیا ضرورت؟
پھر اگر جواب میں عقل کے (اسکے علاوہ) کچھ ” دیگر“ کام گِنا دیے جائیں تو” حق تک رسائی“ کی طرح ”یہ“ کام بھی فطرت ہی کے کھاتے میں کیوں نہیں ڈالے جا سکتا؟ اوّل الذکر کی طرح یہ اتنے غیرمعمولی تو بہرحال نہیں ہوں گے کہ فطرت سے انکی ذمہ داری نہ اُٹھوائی جا سکی؟!!
پھر ایسی صورت میں باقی مخلوق اور انسانوں کی ”حیثیت ِتکلیفی“ میں کس طرح امتیاز کیا جا سکے گا؟!!

انسان کی فطرت اس کے اندر آپ سے آپ بولتی اور خودبخود جھلکتی ہے۔ انسان اپنی فطرت کے تابع ہوتا ہے کیونکہ اس کی حیثیت ” غیرارادی“ کی سی ہوتی ہے۔ البتہ عقل جو فطری محرکات کے تحت کام کرتی ہے اس کی حیثیت ضرور ”ارادی“ ہوتی ہے، اور یوں وہ انسان کے تابع ہوتی ہے۔
انسان کے اختیارات اور ان کے دائروں میں کیے گئے اعمال انسان کے ارادوں سے ہی متعین اور کنٹرول ہوتے ہیں۔ اور ارادے عقل کی کمین گاہ میں پرورش پاتے ہیں۔۔
وہ ارادہ ہی کیا جو عقل کے بغیر وجود میں آ جائے؟
اور اگر قوّتِ ارادہ ہی نہ ہو تو پھر اختیار کیسا؟
نیز اختیار کے بغیر کسی آزمائش یا امتحان کا کیا سوال؟
پھر” آزمائش بلا اختیار “ کے بعد ثواب و عقاب ، جنت جہنم، حشر نشر اور بعث بعد الموت کا کیا مقصد؟؟

پس دین و دنیا میں انسان کے اختیار و تکلیف کا براہِ راست اور اصل تعلق اس کی عقل سے ہے۔ اور کیوں نہ ہو، کہ یہی تو اس مخلوق کا اصل وصف اور دونوں جہانوں میں اس کا طرّہء امتیاز ہے، جس کے سبب جہاں ایک طرف یہ خلافت فی الارض کی حقدار ہے، وہیں آسمانی بہشت کی وراثت کی تنہا امیدواربھی ہےاس صورت میں کہ عقل کی تکمیل اور رہنمائی کے لیے آسمان سے اتری ہدیت کا سِرا تھام لیا جائے۔۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *