شرعی سزائیں-آخر مسئلہ کیا ہے ؟

2

علماء کے درمیان اجماع پایا جاتا ہے کہ اگر حد کی شرائط پوری ہوجائیں یا مجرم خود اعتراف کر لے تو زبردستی زنا کرنے والے پر حد نافذ ہوگی۔ اور اگر حد کے شرائط پورے نہیں ہوتےتو اس کو دوسری سزا(تعزیر) دی جائے گی ( یعنی قاضی کو حق حاصل ہے کہ اس کو دوسری ایسے سزا دے جس سے سبق حاصل کر کے وہ خود اور دوسرےلوگ اس قسم کے جرم کی جرأت نہ کر سکے)۔ گزشتہ ایک تحریر میں تعزیر پر تٖفصیل پیش کی جاچکی ہے۔
اگر زنا بالجبر کے معاملے میں ہتھیاروں تک کا استعمال کیا گیا ہو تو مجرم کو محارب مانا جائے گا اور اسکے ساتھ سورہ مائدہ کی مندرجہ ذیل آیت کے مطابق معاملہ کیا جائیگا۔
جو لوگ خدا اور اسکے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں انکی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا انکے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیے جائیں یہ تو دنیا میں انکی رسوائی ہے اور آخرت میں انکے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے
تو قاضی صورت حال کے پیش نظر مندرجہ بالا آیت میں مذکور چار سزاؤوں میں جو بھی موقع کے حساب سے مناسب سمجھے دے سکتا ہے۔
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے:
اگر زنا بالجبر کی سی صورت حال پیدا ہواگئی، تو مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک صورت ہوسکتی ہے:
۱۔ زنا کی حد قائم کرنے کی شرائط پوری ہوجائے تو اس پر حد نافذ ہوگی۔
۲۔ زنا کی حد قائم کرنے کی شرائط پوری نہ ہوں۔ لیکن یہ ثابت ہوجائے کہ مجرم نے جبراًایسی کوئی صورت حال پیدا کردی تھی جس میں مجرم عورت کے ساتھ زیادتی کرنے کی پوزیشن میں تھا جیسے جبراً گھر میں گھس جانا یا عورت کو اغوا کرنا۔ ایسے میں مجرم کو تعزیری سزا دی جاسکتی ہے۔ اور موجودہ پاکستان کے قانون کے مطابق یہ سزا زیادہ سے زیادہ پچیس سال قید تک ہوسکتی ہے۔اس سزا کے لئے چار گواہوں کی کوئی شرط نہیں ہے۔اس معاملے میں واقعاتی شہادتیں بھی کافی ہیں۔
۳۔ اگر مجرم نے جرم کا ارتکاب کرنے کی خاطر یا دھمکانے کے لیے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہو تو ا سے محارب مان کر سخت سے سخت سزا دی جاسکتی ہے۔ محاربہ کی صورت میں سنگسار تک کی سزا دی جاسکتی ہے چاہے مجرم شادی شدہ نہ ہو۔ اس سزا کے لئے بھی چار گواہوں کی شرط نہیں ہے۔

شرعی سزاؤوں سے نالاں سیکولرزم کے علمبردار اور مغربی نظریات کے داعیوں کو آخر شکایت کیا ہے؟
1. ریپ کی سزا سخت ہونی چاہئے تو وہ موجود ہے۔
2. چار گواہوں کی شرط نہیں ہونی چاہئے تو یہ بھی طے ہے کہ ایسی کسی شرط کے پورے نہ ہونے کی صورت میں بھی سزا موجود ہے۔
3. ہتھیاروں کا استعمال کرکے عوام کو اور خصوصاً عورتوں کو ہراساں کرنے کی سزا اور بھی سخت ہونی چاہئے، تولیجئے وہ بھی موجود ہے۔
4. حد ود کی سزائیں بہت ہی سخت ہیں اس لئےیہ سزائیں عمل میں لانی ہی نہیں چاہئے۔ تو جناب ان کے اپنے قول کے مطابق حدود کی سزا دینے کے لیے شرائط ایسے کڑے ہیں کہ وہ کبھی پورے نہیں ہوسکتے تو ان کی دانست میں حدود کی سزائیں عملاً کالعدم ہی ہیں۔
تو پھرشکایت ہے کیا؟
شاید شکایت یہ ہے کہ زنا بالرضا پر سزا کیوں ہے؟ حالانکہ ان کے مطابق سزا دینے کی شرائط پوری ہی نہیں ہوسکتی۔ تو شکایت یہ ہے کہ یہ سزا لکھی ہوئی بھی کیوں ہے؟
یا پھر غصہ اس بات کا ہے کہ چار ثقہ گواہوں کے سامنے انہیں زنا کرنے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟
یا پھر یہ کہ اس سزا کے لکھے ہونے کی صورت میں ریاست زنا کو غلط تسلیم کرتی ہے اور انہیں یہ گوارا نہیں ہے؟
یا پھر ریاست کے معاملےمیں نام کو ہی سہی “اسلام”کے حوالے سے کچھ تو لکھا ہوا ہے اور انہیں یہ تسلیم نہیں ہےچاہے وہ لکھا ہونا ان کی اپنی شرائط کو بھی کافی حد تک پورا کرتا ہو۔
الغرض عورت کی مظلومیت کا نام لے کر جو کوشش ہورہی ہے وہ یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں فواحش کی نشر و اشاعت پر کوئی روک نہ لگے یا پھر اسلام کے حوالے سے کوئی چیز پائی جانا انہیں قبول نہیں ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *