ظالم کون ؟ خدا یا سیکولر

1111

آج کل ایک طبقہ ہمہ وقت اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقے سے خدا، بالخصوص اسلامی خدا کو دنیا میں پائی جانے والی ہر برائی اور قتل و غارت کا
ذمہ دار ٹھہرا سکے۔ یہ بلاشبہ ایک انتہائی طفلانہ اور غیر ذمے دارانہ رویہ ہے۔ نوع انسانی کی تاریخ بتاتی ہے کہ خدا کے نام پر اتنے لوگ ذبح نہیں کیے گئے جتنے انسانی حقوق، جمہوریت، آزادی اور تہذیب کے نام پر کیے گئے ہیں ،تو کیا ان اقدار کوقصوروار ٹھہرایا جائے یا ان کی بنیاد پر جنگیں برپا کرنے والے انسان کو یا اس انسان کو جنم دینے والے نظام کو!
حقیقت یہ ہے کہ انسان خود کو قصور وار نہیں ٹھہرانا چاہتا، اور الزام خدا کو دیتا رہتا ہے۔ روشن خیالی پروجیکٹ کی اشاعت کے بعد جب انسان نے خدا کو لامرکز کیا اور اپنی مرکزیت قائم کی تو اس کے بعد اپنی وضع کردہ اقدار کی بنیاد پر نوع انسانی کی قتل و غارت کا آغاز کردیا۔
بیسویں صدی کی دو بڑی جنگوں کی نوعیت مذہبی نہیں لبرل و سیکولر تھی۔
بیسویں صدی میں ہر طرح کی امریکی وحشت و بربریت لبرل و سیکولر ہے۔
بیسویں صدی کا سامراج اور اس کی برپا کی گئی دہشت گردی اور قتل و غارت کی نوعیت بھی لبرل و سیکولر ہے۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ اپنے اپنے عقائد میں مقید لوگ معروضی تجزیہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ وہ یہ جاننے سے قاصر رہتے ہیں کہ دہشت گردی، قتل و غارت، جنگیں کسی آسمانی حکم کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ زمینی تضادات کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ عہد حاضر کی تمام برائیوں کا ذمہ دار کوئی مذہب نہیں صرف اور صرف سرمایہ داری نظام ہے، جس کے محافظ خود کو بری الذمہ قرار دلوانے کے لیے عقائد کو قصور وار ٹھہرانے کے وسیلے تلاش کرتے رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عہد حاضر میں ظلم و بربریت کا منبع و ماخذ سرمایہ داری نظام اور اس کی پرستش اور نگہبانی کرنے والا انسان ہے، جو اسے اپنی “عقل” سے دوام عطا کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اس مفہوم میں عقلیت پسند لبرل انسان، خدا سے کہیں زیادہ ظالم ہے۔ اتنا ظالم کہ جب چاہے خدا کو درمیان میں لاکر ظلم برپا کرنے لگتا ہے۔ خدا کا قصور صرف اتنا ہے کہ اس کا نام جنگوں میں الجھا ہوا ہے، جیسا کہ ژاک دریدا نے لکھا تھا۔ سرمایہ داری نظام اور اس کی مابعد الطبیعات کے درمیان ایک جدلیاتی رشتہ ہے، جو عقلیت پسند انسان نے قائم کرکھا ہے، یہیں سے بربریت و دہشت کی ہر قسم جنم لیتی ہے۔
تحریر ۔۔ عمران شاہد بھنڈر

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *