سائنس اور غیبی حقائق-چند ضروری باتیں

11050700_1653329641570328_2496174754958665390_n

سائنس کی منہاج(Paradigm) مظاہرکائنات سے علاقہ رکھتی ہے۔ کائنات میں ہمہ وقت جاری وساری اَن گنت واقعات وامور میں ارادۂ الٰہی نے اگر کچھ موزو نیت اور اصول پنہاں کررکھے ہیں تب تو یہ دنیا ایک بامعنی اور بامقصد جہان ہے ، وگرنہ محض تو ہّم کاکارخانہ ۔ لیکن جبکہ ایسا نہیں ہے، یعنی حقیقتاً کائنات خالق کے طے کردہ کچھ طبیعی اصولوں کے تحت چلی جا رہی ہے، اور ابتدائے آفرینش سے ہی یہ اصول و قوانین انسان کی عقل سے اتصال کرتے اور اس کے مشاہدے میں آتے رہے ہیں تو انسان کے ہاں اِن اصولوں کے مطالعہ کے کسی ایسے طریقے کا وضع ہو جانا جو اِن کی ٹھیک ٹھیک دریافت پر منتج ہوتا ہو، قیاس کا عین تقاضا ہے۔یہ طریقۂ مطالعہ سائنس کہلاتا ہے۔ مختصراً، انسانی عقل وحواس کو بروئے کار لاتے ہوئے ان فطری اصولوں کو طبیعی طور پر معلوم کرلینے کا نام سائنس ہے۔

سائنس کا دائرۂ کار یہی ہے کہ وہ مادے کے برتاؤ اور اس کے عمل کرنے کے طبیعی اصولوں سے بحث کرتی ہے، اور بس۔ اس دائرے سے ہٹ کر کوئی گفتگو کرنا سائنس کے بس کی بات ہی نہیں ہے، کجایہ کہ وہ اپنے دائرے سے باہر کسی شے کے ہونے یا نہ ہونے کا دعوٰی کرتی پائی جائے، اور لوگ اسے سائنس کی دخل درمعقولات ماننے پر مجبور ہوں۔!

عالم غیب (کہ جہاں ”حقیقت “ چھپی ہوئی ہے!) کے بارے میں سائنس جو ہمیشہ سے خاموش ہے تو کوئی اس لیے نہیں کہ وہ اس عالم کی منکر ہے، بلکہ درحقیقت سائنس کی اتنی ”اوقات“ ہی نہیں ہے کہ وہ عالم غیب کی بابت مثبت یامنفی کوئی بات کرسکے۔ وہ تو اس کا انکار کرسکتی ہے نہ اقرار، کہ وہ اس کے حیطۂ انکار واقرار سے ہی باہر ہے۔ البتہ کوئی سائنسدان اگر اپنے طور پر اس موضوع پر اظہارِ خیال کر دیتا ہے تو اِس میں بے چاری سائنس کا کیا قصور؟

سائنسی طریقۂ مطالعہ تو اپنی حدود سے باہر کسی موضوع پر لب کشائی کی ذمہ داری اپنے سر لینے کا رودار نہیں ہے۔ نہ یہ اپنے علاوہ کسی اور دائرے کا اِحاطہ کرنے والے،کسی دوسرے طریقۂ مطالعہ وتفکیر کا انکار یا اس سے تصادم ہی کرتا ہے۔ لیکن اگر سائنس عالمِ غیب سے بحث ہی نہیں کرتی تو کیا اس سے اس کا کفر اور الحاد پر مبنی ہونا لازم آتا ہے؟
ایسا ہے تو پھر جو چیز سائنسی مطالعے کا بنیادی نقطۂ ترکیز ہے (یعنی مادّہ) اس کا ماننا بھی پھر کفر اور الحاد ہے۔ لیکن مادے کا وجود تسلیم کرنے سے ماورائے مادّہ کا انکار لازم نہیں آتا۔ ایک شے کا اثبات دوسری کی نفی کو مستلزم نہیں ہوتا۔

سائنسی طریقۂ مطالعہ میں ایک مؤمن اور ایک ملحد شخص برابر ہوسکتے ہیں ۔ اس فرق کے ساتھ کہ ممکن ہے کہ آخرالذکر شخص سائنسی دریافتوں سے اپنے کفر والحاد پر شواہد لیتا ہو جبکہ پہلا شخص انہیں اپنے ایمان بالغیب کے لئے ایک نشانی کے طور پر لیتا ہو جس کی وجہ خود سائنس نہیں بلکہ وہ نظر (Vision) ہوگی جس کے تحت سائنس بلکہ ہر ایک شے کو دیکھا اور برتا جارہا ہو ، اور جو قلب وذہن میں پہلے سے پائی جاتی ہو۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *