الہامی مذہب ہو کر بھی غوروفکر کی دعوت۔۔!!

6

اسلام کے دین حق ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اس کے عقائد و ایمانیات اور اصول و فروع میں کوئی تضاد ،اختلاف، تعارض یا تناقض نہیں ہے ۔
”اگر یہ (قرآن ) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا یہ لوگ اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔ “(النسآء – 82)
چونکہ کسی نظام میں تضاد یا تناقض کا ہونا نہ ہونا ایک عقلی (Rational)معاملہ ہے، اس لیے اس لحاظ سے خود اپنے اندر کسی اختلاف کے نہ پائے جانے کا اعلان اس دین کے عقائد اور ایمانیات کی عقلی حیثیت کو واضح کرتا ہے ۔ قابل ِغور بات یہ ہے کہ یہاں اختلاف کے نہ پائے جانے کا مجرد موضوعی (subjective) اعلان نہیں کیا جارہا کہ جس پر بس ایمان رکھنا ضروری ہو اور اس کاعقل میں آنا غیر ضروری ! بلکہ کفار کے بارے میں معروضی طور پر (objectively)کہا جارہا ہے کہ وہ اس قرآن میں بڑے اختلافات پاتے ا گریہ کسی غیر اللہ کا بنایا ہوا کلام ہوتا۔چنانچہ دین میں اضافے ، بدعات اور تحریفات کی تمام کوششیں (بطور خاص عقائد اور ایمانیات کے معاملے میں ) صاف طور پر پہچان لی جاتی اوربہ آسانی رد کردی جاتی ہیں ۔
دین کی یہ عقلی حیثیت نہ ہوتی تو معاذاللہ کسی دیومالاہی کی طرح یا کسی ”ماورائے عقل “ ایمانیات پر مبنی تحریف شدہ دین ہی کی مانند اس میں بھی پھر تناقضات کے سمانے کی بھرپور گنجائش ہوتے۔ لیکن انسان کو پیدا کرکے عقل جیسی دولت سے نوازنے والی ذات نے اس کے لیے دین ایسے ہی نازل نہیں فرمادیا۔
پس دین ِاسلام پر بطور ایک کُل(Holistically) اور بطور ایک نظام اس طرح غور وتدبر کہ اس کے تمام اجزاء، بشمول عقائد و ایمانیات اور احکام وغیرہ ،کا آپس میں تعلق اور مطابقت واضح سے واضح تر ہوتی جائے ۔۔۔۔تاکہ قلوب کا اطمینان اور صدور کا انشراح اس دین کی قبولیت اور اطاعت و انقیاد کے لیے ہر آن بڑھتا ہی جائے ۔۔۔۔اور بندہ تسلیم ، خود سپردگی اور کامل رضامندی کا پیکر بن کر اپنے مالک کی طرف عالم ِشوق میں وارفتہ وار چلتا ہی جائے ۔۔۔۔، یہ سب سے پہلے خود اس دین کا اپنا تقاضا ہے۔
أَفَلاَ يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللّهِ لَوَجَدُواْ فِيهِ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا (النسآء-82)”کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ تعالی کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقینا یہ اس میں بہت کچھ اختلاف پاتے۔

اسلام ہی وہ دین یا نظام ہے جودنیائے مادہ اور دنیوی حیات کے مقصد اور غرض و غایت کے حوالے سے ایسی مکمل ، جامع اور مربوط تفصیل پیش کرتا ہے جس میں کوئی ابہام، جھول، پیچیدگی یا تناقض نہیں ہے۔ چناچہ عقول کو اسکی قبولیت میں کوئی اصولی مانع بھی نہیں ہے۔
پس دین کی دعوت دراصل اس کی وہ خاصیت ہے جسکی بدولت عالمِ مادہ اور عالمِ ِغیب ایک ہی تصویر کے دو رُخ اور ایک ہی منصوبے کے دو متصل مراحل ثابت ہوتے نظر آتے ہیں ۔ تصویر کے ان دونوں رُخوں کو ایک دوسرے سے جدا کرکے دیکھنے کی کوشش دو میں سے کسی ایک انتہا یا اس کی طرف نارَوا جھکاوء کا ہی باعث بنتی ہی۔۔۔۔ یا صرف مادیت اور یا پھر صرف روحانیت …جبکہ روح اور مادے کے سنگم سے وجود میں آنے والی اس مخلوق کے لیے دونوں ہی یکساں طور پر اہم اور بیک وقت مطلوب ہیں ۔
چناچہ روحانیت (بمعنی ”ایمان“) کے لیے طے کیا جانے والا سفر اگر عالم ِمادہ یا کسی قدر مادیت سے شروع نہ ہو تو پھر منزل ایک ایسی روحانیت ٹھہرتی ہے جو اس دنیا، اس کے ہنگاموں اور ان میں اِنسان کے مطلوبہ کردار سے ہی لا تعلق ہوتی ہے۔یوں مادیت کا اصل کردار فنا ہو جانے کی بناء پر دنیا میں رزم گاہِ حق و باطل سجنے اور باطل کے ساتھ ستیزہ کاری و نبردآزمائی کا سوال بھی بڑی حد تک روپوش ہی رہتا ہے۔

قرآن جوجا بجا ، کائنات میں مشاہدہ اور غورو فکر کی دعوت دیتا اور عقل کو جھنجھوڑتا نظرآتا ہے تو یہ کچھ بلا وجہ نہیں ہے۔ ایمان لانے کے لیے اگر مادی کائنات کا مُشاہدہ اور اس میں تدبرضروری نہ ہو ، اور یہ دونوں ایمان لانے کی بنیاد نہ ہوں ، تو معاذاللہ خدائے علیم و حکیم اپنے بندوں سے اس کا مطالبہ ہی کیوں کرے؟!بلکہ یہ عمل تو خود ایمان کی بقا کے لیے اس قدر ضروری ہے کہ بعد از قبولیت ایمان بھی مستقلاً مطلوب ہے۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنزَلَ اللّهُ مِنَ السَّمَاء مِن مَّاء فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخِّرِ بَيْنَ السَّمَاء وَالأَرْضِ لآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرۃ ۔ 164)
”بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات اور دن کا ہیر پھیر ، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیز کو لیے ہوئے سمندروں میں چلنا ، آسمان سے پانی اتار کر مردہ زمین کو زندہ کر دینا ، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلادینا ، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں ۔،ان میں عقلمندوں کے لیے قدرتِ الہٰی کی نشانیاں ہیں۔ “

قرآن تو آیا ہی اسی لیے ہے کہ وہ انسان کی عقل سے براہ ِراست خطاب کرے اور اسے عقلی طور پر (Rationally)آمادہء تسلیم کرے ،نہ کہ جبری طور پر۔ ہدایت کو گمراہی سے اسی لیے چھانٹ دیا گیا ہے کہ عقل دونوں کو الگ سے صاف طور پر پہچان لے۔

لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ(البقرۃ۔ 256)”دین میں زبردستی نہیں ہے ۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔“

قرآن کی دعوت کا انداز یہی ہے کہ وہ پہلے انسان کو اُس کے عام (common) مشاہدات یاد کراتا ہے، یا مشاہدات کی دعوت دیتا ہے۔ پھر ان کی بنیاد پر غور و فکر ، تعقل اور تدبر پر آمادہ کرتا ہے۔ اس طرح سے کہ پھر نتیجتاً یہ غور و فکر ایمان لانے کی بنیاد بن جائے ۔
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ 0 وَإِلَى السَّمَاء كَيْفَ رُفِعَتْ 0 وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ 0 وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ 0 فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ 0 لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِر0 (الغاشیۃ -22-17)
” یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب ) پیدا کیے گئے ہیں۔ اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑ ے کیے گئے ہیں۔ اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے۔ ؟؟ تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر داروغہ نہیں ہو۔ “

أَفَلَمْ يَنظُرُوا إِلَى السَّمَاء فَوْقَهُمْ كَيْفَ بَنَيْنَاهَا وَزَيَّنَّاهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٍ 0 وَالْأَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَاسِيَ وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ (ق: 6- 8)
”کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور (کیونکر) سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیں ۔ ؟ اور زمین کو (دیکھو کہ اسے ) ہم نے پھیلایا اور اس میں جہاز رکھ دیے اور اس میں ہر طرح کی خوش نما چیزیں اگائیں ۔ تاکہ رجوع لانے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں۔“

قرآن انسان کو مشاہدے کے ذریعے پہلے اُن امور کی یاد دہانی کراتا ہے جو مشاہدے سے’ ’براہِ راست‘ ‘ لازم آرہے ہوتے ہیں ۔ مثلاً مظاہرِ فطرت کی ہمہ رنگی کے باوجود ان میں ہم آہنگی اورنظم و ضبط کے مشاہدے سے ایک ایسی ہستی کا ادراک جو اس کائنات کی خالق اور اور تنہا اس کا نظم چلانے والی ہے ۔ پھر وہ ان امور پر ایمان لانے کی دعوت پیش کرتا ہے جو اس حاصل شدہ نتیجہ سے بالواسطہ لازم آتے ہیں ۔ یا اس کا اصولی تکملہ (complement) ہوتے ہیں ۔ اور اگر چہ ان میں سے اکثر تک عقل کا خود سے پہنچنا ممکن نہیں ہوتا (مثلاً رِسالت، جنت جہنم، حشر نشر، حساب کتاب وغیرہ)۔ تاہم یہ امور نہ تو عقل کے مخالف ہوتے ہیں اور نہ اس کے لیے ناقابل فہم۔ بلکہ یہ مشاہدے سے حاصل شدہ نتائج کی بہترین تشریح ، توجیہہ اور تکمیل کرتے ہیں۔ وحی سے ان امور کی بازیافت پر عقل دنیا کی غرض و غایت اور مقصد کے حوالے سے ایک طرح کا انبساط (Pleasure)اور اطمینان (Fulfilment) محسوس کرتی ہے ۔ چنانچہ قرآن کا مشاہدہ اور غور و فکر کی دعوت دینا گویا ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب تم پہلے سے ان چیزوں کو تسلیم کرتے ہو تو پھر ان چیزوں کو، پیش کرنے پر بھی ،کیوں نہیں مان لیتے جو اول الذکر سے لازم آتی ہیں یا ان کی بہترین تشریح اور تکمیل کرتی ہیں ؟ اور جن میں باہم کوئی تضاد و تناقص نہیں ہے ؟

مخاطب کو متوجہ کرنے اور اس کی عقل کو صحیح معنوں میں اپیل کرنے کے لیے کسی حوالے کے نقطہ (Point of Refrence) سے بات کا آغاز کرنا قرآن کی دعوت کے اُسلوب کا ایک معروف طریقہ ہے۔ حوالہ کا کوئی طے شدہ فریم نہ ہو تو مخاطب کو بات کی معروضیت (Objectivity) تک پہنچانا پھر ممکن ہی نہیں ۔ چناچہ قرآن کے دعوتی اسلوب میں حوالہ کا یہ فریم یا تو مظاہرِ فطرت کی صورت میں مادی کائنات کا مشاہدہ ہے اور یا پھر مخاطب قوم اور اسلام کے مابین مشترکہ ایمانیات، جس کی بنیاد پر قرآن نے انسانی عقل کو Extrapolate کرواکے وہاں لے جانا ہوتا ہے جہاں پہنچنے سے انسان یا تو خود ”بوجوہ“ اعراض کر رہا ہوتا ہے یاپھر ان تفصیلات تک پہنچنا عقل کے لیے تنہا ممکن نہیں ہوتا، تاہم یہ تفصیلات ان مشترکہ امور سے حد درجہ مربوط نظر آتی ہیں ۔
گویا حوالے کا یہ نقطہ یا فریم دراصل اسلام اور مخاطب اقوام کے درمیان کچھ مشترکہ امور (common terms) کی صورت میں سامنے آتا ہے جن کے اندر فریقین میں باہم کوئی اختلاف نہیں ہوتا ۔ چناچہ غیر مشترکہ امور (uncommon terms) میں بھی اشتراک و یکجہتی لے آنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان امورکو مذاکرے کی بنیاد بنایا جائے جو پہلے ہی مشترک ہیں ۔ جس طرح ”نا معلوم“ (unknow) امور کا علم ”معلوم ‘ ‘(known) کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا ، اسی طرح غیر مشترکہ امور میں یکجہتی و اتفاق کا آجانا، پہلے سے مشترکہ امور کو مدار بنائے بغیر ممکن نہیں۔ بلکہ مشترکہ امور کے بغیر تو دو فریقوں کے درمیان بامعنی گفتگو اور تبادلہء خیال ہی ممکن نہیں ، چہ جائیکہ دعوت و تبلیغ ۔۔۔۔!
قرآن کریم کے زمانہء نزول میں تین قومیں بنیادی طور پر قرآن کی مخاطب تھیں : مشرکین عرب ، یہود اور نصاریٰ ۔ باوجودیکہ یہ تینو ں قومیں اللہ پر پہلے سے ایمان رکھتی تھیں ، اور اہل کتاب تو آسمانی شریعتوں کے ماننے والے تھے، اللہ نے قرآن میں ان سے گفتگو کے دوران محض مشترکہ ایمانیات کو ہی بحث کا نقطہء آغاز نہیں بنایا بلکہ ایسی بے شمار آیات بھی نازل کیں جو مادی کائنات کے مشاہدے اور ان میں تدبر کی دعوت دیتی ہیں ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *