حقیقت مطلقہ (Absolute Reality) وحی اور عقل

5

اشیاء اور مطاہر کائنات کی حقیقت – دو انتہائیں

عالم مادّہ اور اس میں جاری وساری مظاہروواقعات کی حقیقت وکنہ کی بابت فلاسفہ وحکماءکی دومخالف اپروچز کا تذکرہ یہاں ضروری ہے ، جودرحقیقت اس معاملے کی دو انتہائیں ہیں۔
تفریط پر واقع انتہا اس نقطہ نظر کی حامل ہے کہ اشیاءاور مظاہر کائنات جس طرح واقع ہوتے نظر آتے ہیں ان کی حقیقت بس اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اور چیزوں کے وقوع پذیر ہونے سے کسی ایسی چیز کا کوئی تعلق نہیں ہوتا جو انسانی عقل وحواس کے دائرے میں نہ آتی ہو۔ کیونکہ ایسی کسی چیز کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا! ان کے ہاں وہی چیز تسلیم کی جاتی ہے جو براہ راست ثابت کی جاسکتی ہو، اور ثابت ہونے کا مطلب ان کے اپنے طے شدہ حسّی معیارات کے مطابق ہونا ہے۔ جو چیز یوں ”ثابت“ نہ ہو وہ ہے ہی نہیں ! چنانچہ ان کے یہاں کسی عالمِ غیر مادّہ یا عالم غیب یا عالمِ ماورا کا کوئی تصوّر نہیں پایا جاتا۔
دوسری انتہاکو پہنچا ہوا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ حقیقت جو کچھ بھی ہے وہ سامنے ہر گز نہیں ہے، بلکہ آنکھوں اور دیگر حواس وغیرہ سے نہاں ہے۔سامنے جو کچھ ہے وہ اس حقیقت کا ایک پرتو یا عکس تو ہوسکتا ہے ، خود حقیقت نہیں ہے۔ اور اس کے ذریعے حقیقت تک نہ تو پہنچاجاسکتا ہے اور نہ اس کے اور حقیقت کے مابین کوئی ایسا ربط و آہنگ یا علاقہ ہی ہے جو حقیقت کی ماہیت پر دلالت کرسکتا ہو یا کم از کم اس کی طرف اشارہ ہی کرسکتا ہو۔ مزید یہ کہ مختلف مظاہر کائنات اور مادّی امور ایک دوسرے سے قطعاً غیر متعلق ، غیرمربوط اور آزاد طور پر واقع ہوتے ہیں ۔ چنانچہ چیزوں کے ہونے میں کوئی طبیعی یک رنگی اور استمرار نہیں پایا جاتا۔ یوں کوئی بھی چیز کبھی بھی کسی بھی انداز میں رُوپذیر ہوسکتی ہے ، اور اس میں کوئی Predictabilityنہیں پائی جاتی۔

وجود وعدم کے پیچاک میں الجھی ہوئی ان دو انتہاؤں میں سے پہلی ، عالم غیب یا عالم ماورا کو ”عدم“ کے ہم معنی ٹھہرا دیتی ہے۔ جبکہ دوسری انتہاکے نزدیک عالم ِوجود اپنی حقیقت کے اعتبار سے عالم عدم ہی ہے۔!!ایک غیب کی منکر ہے تو دوسری سے شہود کا انکار لازم آتا ہے۔
ثانی الذکر فکر کے قائلین کچھ فرق کے ساتھ فلاسفۂ مغرب اور مسلمان حکماءدونوں میں پائے جاتے ہیں ۔ ہماری اس تمام گفتگوکا دائرہ البتہ اس فکر کے ان قائلین تک محدود ہے جو اسے اپنے تئیں اسلام کے تناظر میں لیتے ہیں۔

عالمِ مادّہ کے ایک ”قطعاً بے حقیقت شے “ ہونے کے مذکورہ بالا نظریے کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ انسان کے محسوسات اور مشاہدات سب کے سب قریب قریب واہمہ اور سراب کی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں۔ اور چیزوں کا ظاہری ادراک محض فریب ہستی۔ واقعات اور اشیاءمیں ربط وضبط ، ان کا باہمی قرار وآہنگ اور ان کا وقوع پذیر ہونا اتفاق اور حادثہ قرارپاتا ہے جو کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اس طرح یہ کائنات ”ممکنات کی دنیا“ سے بدل کر محض” حادثات کی دنیا“ رَہ جاتی ہے۔
اس نظریے کے مطابق چونکہ عالمِ مظاہر (World of Phenomena) نہ خود حقیقت ہے نہ اس کے ساتھ مربوط ومتصل کوئی جہان ، لہٰذا نتیجتاً ، انسانی عقل وحواس اس کائنات کے ساتھ تفاعل کے بعد جن اصول وقوانین تک پہنچتے ہیں ، وہ حتمی نہیں ہوتے ، بلکہ سرے سے قابل اعتبار نہیں ہوتے۔اور اس لحاظ سے یہ بات اظہر من الشمس بھی ہے ، کہ جب اس کائنات کا اشیاءاور واقعات کا ایک نہایت بے ہنگم وبے ڈھب کارخانہ ہونا طے پاجاتا ہے تو کسی سلسلۂ واقعات کا انجام یا نتیجہ (inference)احاطۂ ذہن میں کیونکر لایا جاسکتا ہے؟ بلکہ خود واقعات کا کوئی سلسلہ ہونا ہی محلِ نظر ہوجاتا ہے۔ کیونکہ سلسلہ تو وہاں بنتا ہے جہاں چیزوں میں کوئی ربط وضبط ہو۔!!
نوبت بالآخر یہاں جاپہنچتی ہے کہ کسی چیز کا پھر کوئی مطلب ہی متعین ہونے کے لائق نہیں رہتا ، اس کا کسی ضابطے یا قانون کی شکل میں منضبط ہوجانا دور کی بات۔ جب مختلف واقعات کا سرے سے آپس میں کوئی ربط ہی نہ بن سکتا ہو ، نہ ہی حقیقت کے ساتھ کسی واقعے کے ڈانڈے جاملتے دکھائی دیتے ہوں تو کسی شے کے معنی کا تقاضا بھی نہایت بے معنی لگتا ہے۔پھر کسی اَمر کی جو تعبیر رکھی جائے اس میں ہر ایک کے لئے اس کی اپنی صوابدید ہی معتبر ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جب یہاں کوئی چیز حتمی ہے ہی نہیں تو ایک کی بات دوسرے پر حجت کیونکر ہوسکتی ہے؟ خارج کا جب وجود ہی اصل حقیقت سے متغایر ہو ، اور اس میں استحکام، استمرار اور یک رنگی نہ پائی جاتی ہو ، تو اس سے دلیل کیسے پکڑی جاسکتی ہے؟ معروضیت (Objectivity)پھر وہ شے ہوتی ہے جسے موضوعیت (Subjectivity)سے کوئی تباین نہیں ہوتا۔ اور دونوں میں فرق ختم ہوجاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آکر عقلِ انسانی انتہائی بے کار ، فالتو اور زائد ازضرورت شے محسوس ہوتی ہے۔
اس فکر کے حامل فلاسفۂ مغرب حقیقت کی کوئی تفصیل یا ماخذ پیش نہیں کرتے ، بس اجمالاً اس حقیقت کے پائے جانے کا اثبات کرتے ہیں۔ کیونکہ خود ان کے نزدیک بھی مجر ّ د عقل کے ذریعے اس حقیقت تک پہنچا نہیں جاسکتا۔ البتہ عقل وحواس کے علاوہ کسی اور ذریعۂ علم کے قائل نہ ہونے کی بناءپر وہ اس ماورائے مادّہ حقیقت تک رسائی ہوسکنے کے انکار ی ہیں۔

جب یہ فکر مسلمانوں میں نمودار ہوتی ہے تو ان کے ہاں حقیقت سے مراد ذاتِ خداوندی اور اس کی لامحدود قدرت وغلبہ ہوتی ہے ، جس تک پہنچنے کا واحد راستہ وحی کے ذریعے حاصل شدہ علم ہے جو انبیاءپر نازل کیا گیا۔ حقیقت کی نشاندہی کرنے میں تو اس فکر کی اصابت واضح ہی ہے، لیکن مادی جہان کی حیثیت متعین کرنے میں یہ فکر مادّہ پرستوں کے بالمقابل ردِّ عمل کا شکار ہوکر دوسری انتہاءکو پہنچی نظر آتی ہے۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان کھینچا تانی کا عنوان ہے : ”حقیقت اور اس تک رسائی میں عقل کا کردار “۔
ایک جس قسم کی حقیقت کی قائل ہے اُس تک پہنچنے میں محض عقل ہی کافی ہو جاتی ہے۔ اور دوسری جس حقیقت پر ایمان رکھتی ہے اس تک رسائی حاصل کرنے میں وہ عقل کے کسی کردار ہی کی منکر ہے۔ اس انکار کی وجہ اغلباً یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس باب میں عقل کا کوئی کردار تسلیم کرلینے سے وحی کی اہمیت کم ہوتی نظر آتی ہے۔ ظاہر ہے، جب عقل کے ذریعے حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہو تو پھر وحی کی کیا ضرورت؟
اور اس کے معکوس کے طور پر، جب وحی ہی حقیقت تک رسائی کا اصل ذریعہ ہے تو اس میں پھر عقل کا کیا کام؟
چنانچہ اس طرح ایک انتہا کے بالمقابل دوسری انتہا وجود میں لائی جاتی ہے۔ پھر ذات خداوندی کے غلبہ وقدرت اور ربوبیت والوہیت کے جتنے اشارے کائنات سے عقل کو دستیاب ہوسکتے ہیں ان کو کالعدم قراردینے کے لئے مادی واقعات واشیاءکو حقیقت سے بالکل الگ تھلگ اور خود آپس میں غیر مربوط و لاتعلق ”ثابت “ کیا جاتا ہے۔ تاکہ عقل وحی کی غیر موجودگی میں کسی ابتدائی درجے میں بھی حقیقت کی جستجو کی ”جسارت“ نہ کرسکے اور یوں وحی کی اہمیت میں فرق پیدا نہ ہو۔
نتیجہ یہ کہ اس طرح نہ صرف کائنات میں جابجاکارفرما، علم وحی کے برحق ہونے کی نشانیاں دیکھنے کے عقل کے اختیارات زائل کردیے جاتے ہیں، بلکہ خودکائنات کو بہتر سے بہتر انداز میں برتنے کے (سائنسی) اصول وقوانین کا بھی انکار کرنا پڑجاتا ہے۔ اس طرح وحی کی خودساختہ اہمیت قائم کروانے کے لئے بہت ساری چیزوں کو ان کی جگہ سے ہٹادینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے فکری توازن جاتا رہتا ہے اور نظریاتی واقعاتی اعتبار سے آدمی دین کا رہتا ہے نہ دنیا کا۔.!

جب آپ خارج(ظاہر) کو” اصل حقیقت “کے ساتھ عقلی اعتبار سے بالکل ہی منقطع اورغیر متعلق مان لیتے ہیں تو یہیں پر آپ ایمان قبول کرنے کے معاملے میں عقل کے کردار پر پابندی قائم کردیتے ہیں۔ وحی کی نشانیاں خارج (کائنات)میں نہ پاکر عقل کے پاس کیا رَہ جاتا ہے جو اُسے وحی کو برحق تسلیم کرنے پر آمادہ و راغب کرے؟ ؟
چنانچہ آپ کو ایمان لانے کا غیر اختیاری اور جبری نظریہ تشکیل دینا پڑتا ہے۔ جس میں ظاہر ہے خارج کا ”حقیقت“ سے ربط قطعاً غیر متعلق وغیر ضروری ہوجاتا ہے۔ اس نظریے کے تحت خدا جس کے دل میں چاہتا ہے ایک الہامی انداز میں ایمان کی شمع روشن کردیتا ہے ، خواہ اسے دین کی تعلیمات کی ہوا بھی نہ لگی ہو (حتی کہ خوابوں میں نبی کریم ﷺ آ کر کافروں کو کلمہ پڑھو ا کے مسلمان کرواتے بیان کیے جاتے ہیں !)اور جسے چاہتا ہے اس الہام سے محروم رکھتا ہے۔ اس طرح ایمان قبول کرنے نہ کرنے کا سارا معاملہ خدا پر موقوف ہورہتا ہے، اور بندوں کا اپنا کردار درمیان سے غائب ہوجاتا ہے۔ اور ہوبھی کیوں نہ، جبکہ اس کردار کو ادا کرنے کے تمام قرائن اور لوازمات اس سے پہلے غائب کرائے جاچکے ہوتے ہیں! (یعنی خارج اور ظاہرِ کائنات کو ایک بے حقیقت ، غیر مربوط ، بے معنی اور نتیجتاً مہمل وعبث شے ثابت کرکے۔)
اب ایک بے معنی وبے حقیقت شے سے انسان کو کسی چیز(یعنی وحی) کے سچے ہونے کی گواہیاں اور نشانیاں تو ملنے سے رہیں۔ لیکن ایمان لانا بھی فرض ہے!! چنانچہ یہ فرضیت پھر اس طرح طے پاتی ہے کہ بندوں کی بجائے یہ خود خدائے تعالیٰ کے اوپر ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔معاذاللہ، یوں ایمان لانے کا معاملہ ایک ”تکوینی امر“ ہورہتا ہے، جس کا تعلق صرف خدا سے ہوا کرتا ہے اور معاملے کا ”تشریعی پہلو“خارج ازسوال ہوجاتا ہے جس کی ذمہ داری بندوں پر ہوا کرتی ہے۔ اس طرح جبریت کے نظریے کو تقویت ملتی ہے ۔ساتھ ہی ساتھ ”اصل حقیقت“ کی پہچان اوربندوں کے لیے اس کی ”آزمائشی حیثیت “ کا ہونا بھی محل نظر ہوجاتا ہے۔ پھر ایمان کے اس نظریے سے متفر ع ہونے والی دعوت دین میں بھی جبریت پوری طرح کارفرمانظر آتی ہے ، جس کی وجہ سے یہ دعوت کی بجائے ایک دعوٰی بن جاتی ہے ، کیونکہ اسے خارجی دلائل وقرائن سے مبرہن کرنے کا اہتمام نہیں کیاجاتا، بلکہ ان کو دلائل ہی تسلیم نہیں کیا جاتا۔

عقل وحواس جب خداوندِ فطرت کی طرف سے انسان کو عطا کیے گئے ہیں تو اس کا ایک طے شدہ مقصد ہے اور دونوں کا ایک باقاعدہ کام۔ ان دونوں کا کردار صرف یہی نہیں کہ دنیا گزارنے میں انسان کے لئے ضروری وکارآمد ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا اور جن وانس کو جس مقصد کے لئے پیدا فرمایا ہے اس مقصد کو تکمیل تک پہنچانے میں انسان نے اپنا کردار انہی کے ذریعے ادا کرنا ہوتا ہے۔ یعنی ان کا”دنیاوی کردار“ تو اپنی جگہ ، جس سے کسی کو انکار نہیں، ان کا ”دینی کردار“ البتہ اہمیت میں اس سے کہیں بڑھ کر ہے، جس کے لئے ہی انہیں انسانی شخصیت میں ودیعت کیا گیا ہے۔تاہم ان کے دنیاوی کردار کی طرح ان کا دینی کردار بھی اسی دنیا اور اس کے مظاہر سے شروع ہوتا ہے (جوکہ اصل نکتہ بحث ہے) کیونکہ ان دونوں کا دائرۂ عمل اپنی نوعیت میں مادی ہے۔ حتی کہ علم وحی سے بھی عقل کا اتصال ابتداءً اسی طرح ہوتا ہے جس طرح دیگر علوم سے۔ کیونکہ ایک عام آدمی کے لئے (مسلمان ہونے سے قطع نظر ) یہ بھی دیگر علوم کی طرح مدوّن شدہ ایک علم ہے۔
اب ایک غیر نبی حقیقت تک پہنچنے کے لئے وحی کے تجربے سے تو گزرنے سے رہا۔ اس کے پاس بھی لے دے کر وہی حواس خمسہ اور وہی ایک عقل ہے جس سے کام لیتے ہوئے اس نے حق کو پہچانتے ہوئے حقیقت تک پہنچنا ہے۔ ایسا شخص اگر کائنات میں فکر وتدبر کے ذریعے اس کی حقیقت کی بابت کچھ سوالات ، الجھنیں، اشکالات اور نتائج زیر غور لاہی نہ سکتا ہو، نہ کائنات ہی اسے سوچنے پر مجبور کر دینے والے کچھ ایسے اشارے دے سکتی ہو تو وحی کا علم بھلا اس کی کونسی مشکل کا مداواکرپائے گا؟ بلکہ وہ شخص ایسے کسی علم کی طرف رجوع کی طلب ہی کیونکر رکھے گا؟؟

پس حقیقت مطلقہ(Absolute Reality)تک پہنچنے میں عقل کے کام کا آغاز اسی مادّی جہان اور اس کی موجودات سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب ضروری اور بدیہی ہے کہ عقل اس دنیا کے ظاہر سے اس کے باطن اور اس کی حقیقت تک رسائی حاصل کرے تو لازم ہے کہ اس ظاہر اور باطن کے درمیان کوئی کمال درجے کا عقلی ربط وضبط ہو، اور جو عقل کو مہمیز بھی دیتا ہو۔لیکن اس کی گرہ علمِ وحی سے ہی کھل سکتی ہو۔تاکہ اس کی اہمیت اور فوقیت اپنی جگہ قائم رہے ۔ البتہ وحی کا اس ظاہر وباطن کے درمیان ہونا عقل کو آپ اس حقیقت کی طلب وتلاش سے بھی نہ روکتا ہو۔ بلکہ عقل میں (نہ کہ محض فطرتِ انسانی میں) اس طلب وتلاش کی کیفیت کا پاجانا (نظم ونظام کائنات کی ہیئت کی وجہ سے) اور اس کا ابتداءً ”میانِ غیب وحضور “ بھٹکتے پھرنا اس پر وحی کے صحیح طور پر اثرانداز ہونے کے لئے ایک درجہ میں مطلوب بھی ہو۔
اصل حقیقت کا ماخذ ”وحیٔ الٰہی “اور ”شریعت“ ہونے کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ خارج اور ظاہر حقیقت سے عقلی طور پر منقطع ہی ہوں گے۔اور نہ یہ کہ خارج کے اجزاءآپس میں کوئی عقلی ربط نہ رکھتے ہوں گے۔ ایسی کوئی دلیل جبکہ خود وحیٔ الٰہی اور شریعت میں موجود نہیں ہے تو ان پر ایمان رکھنے والوں نے اسے کہاں سے درآمد کرلیا؟ اگر انہوں نے اسے عقلی طورپر اخذ کیا ہے تو کیا اس طرح انہوں نے خود ” حقیقت “ کی بابت کوئی رائے رکھنے میں اس کے اصل ماخذ سے ماورا ہونے کی جسارت نہیں کرلی؟؟ ؟

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *