معقولیت(rationality)انسانی فطرت کا لازمی جزو..

4

بدیہیات اور مسلمات کا اختیار کیا جانا اور چیزوں کا مسلّمہ معیارات کے مطابق پرکھاجانا ایسی چیز نہیں جو انسان کے اندر ”ماحول کے بگاڑ“ یا ”چار سُو پھیلی گمراہیوں“ کی وجہ سے دَر آتی ہو۔ یہ ایک لازمی وصفِ انسانی ہے ، خواہ انسان تاریخ کے کسی دور او رتمدن وترقی کے کسی درجے میں پایا جاتا ہو۔
کسی معاملے کے مختلف پہلوؤں کا آپس میں مربوط اور مطابق (Consistent)ہونا ، اور خود اس معاملے کا خارج میں موجود معلوم شدہ بدیہی امور سے متضاد ومخالف نہ ہو نا، اس کی معقولیت سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان کی فطرت بھی معاملات میں اس صفت کے پائے جانے کو چاہتی ہے اور اسی سے متأثر ومرعوب ہوتی ہے۔ انسان کی فطرت میں جو سچائی کی تلاش کا مادہ اور کائنات کی حقیقت کی جستجو کُوٹ کُوٹ کر بھر دی گئی ہے ، اس کی معقولیت پسندی ، حقیقت تک رسائی حاصل کرنے کی اس کی اسی فطری خواہش کی ایک مظہر ہے۔
ہر نئی چیز کسی پچھلی مسلّمہ چیز سے متصادم اور بالکل ہی غیر متعلق نہ ہو ، اور خود اس چیز کے اپنے اندر اضطراب وبحران نہ پایا جاتا ہو ، حقیقت کی ایک صفت یہ بھی ہے۔ یعنی کوئی چیز خارجی طور پر بھی نہایت محکم ، متوازن اور مربوط ہو اور داخلی طور پر بھی کسی انتشار وہےجان سے مأمون ، فطرتِ انسانی کے پاس حقیقت کی تلاش کا ابتداءً یہی ایک معیار ہے۔ اور یہی معقولیت ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ فطرت انسانی میں ایک چیز کی جوت جگادی گئی ہو اور وہ چیز خارج میں اسی نسبت اور اسی انداز میں نہ رکھ دی گئی ہو جس انداز میں انسان کی فطرت میں اسے دیکھنے اور پانے کی طلب رکھی گئی ہے، یاخارج میں اس فطرت کے استعمال ، تسلّی ، اطمینان اور تسکین کے لئے اس کے ہم آہنگ مناسب قرائن نہ پیدا کئے گئے ہوں ، کہ جن کے آشکار ہونے پر فطرت مقصدیت کا لطف اور انبساط حاصل کرتی ہے ، بلکہ اسی ہم آہنگی کو حقیقت کی تلاش کے سلسلے کی ابتدائی کڑی نہ بنایا گیا ہو۔ انسان کی معقولیت پسندی ہی اس طرح اس عالمِ اسباب میں اُس کے سچائی اور حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔
معقولیت پسندی (نا کہ معقولیت پرستی) کا _جو کہ عقل رکھے جانے کا ایک لازمی تقاضا ہے _ انسان خواہ قائل ہو یا نہ ہو ، اور خواہ کتنا ہی ”غیر معقول “ ہوجائے ، عقل کی چیرہ دستیوں سے اس کو ہرگز مفر نہیں۔ معقولیت اگر عقل کا کارنامہ ہوتی ہے تو ”غیر معقولیت“بھی اسی عقل ہی کی کارستانی ہوتی ہے۔ انسان جب عقل کے کردار کو سراہتے ہوئے اس کو بروئے کار لاتا ہے اور اس کا بطور خاص قدردان بنتا ہے تب وہ عقل استعمال کررہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ عقل کو محض فتنہ سمجھتے ہوئے اس سے کوسوں دور بھاگنے کا منہج اختیار کرتا ہے ، تب وہ عقل کے زیرِ دام ہوتا ہے۔ انسان نے بہر صورت عقل کے زیرِ نگیں ہی رہنا ہوتا ہے۔اس کے باوجود بعض لوگوں کو ”غیر معقولیت “کا منہج ہی راس آتا ہے.!

پس اس معقولیت اور غیر معقولیت کے درمیان فر ق یہ نہیں کہ ایک میں عقل کا استعمال ہوتا ہے اور دوسری میں نہیں ، بلکہ دراصل یہ ہے کہ کچھ لوگ تلاش ِحقیقت میں ایک کی ضرورت اور اس کے لزوم کے قائل ہیں اور دیگر لوگ اس کے برخلاف دوسری کے۔اور جہاں فرق کی یہ بنیاد یعنی ”حقیقت کی تلاش“ نہ پائی جاتی ہو وہاں عقل کا استعمال اور اس کی حدود زیرِ بحث ہی نہیں آتیں کیونکہ وہاں اس بابت سرے سے اختلاف ہی نہیں پایا جاتا۔ تاہم محلِ اختلاف میں عقل کو اُس کی ”اوقات“ میں رکھنے کے قائلین اپنی ”نامعقولیت“ کے جواز میں بھی خاصی معقولیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پائے جارہے ہوتے ہیں۔یعنی وہی طریقہ واندازِ استدلال جو معقولیت پسند ی کا خاصہ ہے ۔ تفکیر کے فطری طریقوں سے انسان کہاں تک راہِ فرار اختیار کر سکتا ہے؟!!

ویسے بھی انسان کے ارادی افعال اور فیصلے بغیر استدلال اور استنتاج کے واقع نہیں ہوتے ۔ اور کوئی استدلال ایسا نہیں ہوتا جو ”عقلی“ یعنی عقل پر سہارا کرنے والا نہ ہو، خواہ اپنی نہاد میں وہ استدلال کتنا ہی ’خلافِ عقل‘ ہو۔ اب اگر کوئی اپنے فیصلوں میں آباءکی پیروی کرتا ہے ، کوئی منطق وفلسفہ کی ، کوئی رسوم ورواج کی اور کوئی انبیاءاور ان کے پیروکار وں کی ، تو اگرچہ ہر کسی کا ’محلِ پیروی‘ بیک وقت درست نہیں ہوسکتا ، تاہم ہرکوئی اپنے محل پیروی کے صائب ہونے کا استدلال شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے پاس رکھتا ہے ، جو ظاہر ہے، عقل ہی کے مرہونِ منّت ہوتا ہے۔استدلال البتہ صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔

چنانچہ دانشمندی اور غیر دانشمندی میں فرق یہ نہیں کہ ایک میں عقل کا استعمال ہوتا اور دوسری میں نہیں، بلکہ ایک میں عقل کے صادر کردہ فیصلے اور استدلال کی بنیادیں صحیح ہوتی ہیں اور دوسری میں غلط۔ حتی کہ عقل سے جان چھڑانے اور چھڑائے رکھنے کے لیے بھی سارا زور عقل ہی کا استعمال ہورہا ہوتا ہے!!!
پس ضروری نہیں لوگوں کے درمیان اصل فرق عقل کے استعمال یا عدم استعمال میں ہو، بلکہ ضروری نہیں یہ فرق معقولیت پسند rational ہونے یا نہ ہونے میں ہو ، بسا اوقات تو یہ فرق حقیقت تک رسائی کے لیے عقل کے جواز اور ضرورت کے محض قائل ہونے نہ ہونے میں ہو جاتا ہے۔ جس کی اصل وجہ پہلے سے طے کردہ معیارات یا مسلّمات کا فرق ہوتی ہے۔ یا کسی منہاجِ علم کو اس کے اصل دائرے سے وسیع تر یا مختصر کرکے دیکھنے سے بھی یہی صورت سامنے آتی ہے۔ یعنی ایک چیز جو کسی منہاج علم کا مقتضیٰ یا مشمول نہ ہو ، اور اس کے ذمّے جڑ دی جائے۔ یا ایک چیز کسی منہاج علم کا حصہ ہو، یا کم از کم وہ چیز اس منہاج سے متصاد م نہ ہو، اور اسے اس کے متضاد قراردیا جائے۔ پس ایسے مقامات پر مسلّمات اور منہاج کے فرق (یعنی کسی مخصوس طریقۂ علم کے اپنے منہاج ومسلّمات اور اس سے منسوب کئے جانے والے منہاج ومسلّمات کے درمیانی فرق )کی تفتیش وتفحیص ہی عقدۂ اختلاف کو کھولنے میں معاون ہوسکتی ہے ، چاہے معاملہ اسلام کی منہاج کا ہو یا سائنس کی منہاج کا۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *