قربانی عید اور ملحدین کی جاندار دوست خودنمائیاں

1

اگر ملحدین ویجی ٹیریئن ہیں سبزی خور ہیں تو یاد رہے سبزی بھی لیونگ تھنگز میں آتی ہے _ آج سائینس خود کہہ رہی انسان اور جانور کی طرح پودے درخت بھی جزبات رکھتے ہیں ، کمیونکیٹ کرتے ہیں ، سانس لیتے ہیں ، ماحول کا اثر لیتے ہیں ، حساس ہوتے ہیں ، احساس رکھتے ہیں ، یہ بھی زندہ ہوتے ہیں یہ بھی مرتے ہیں ، افریکن قبائل کسی درخت کو کاٹتے نہیں وہ درخت کے گرد جمع ہوکے اسے گالیاں نکالتے ہیں درخت رفتہ رفتہ سوکھ کر کانٹا ہو جاتا ہے ، احساس سے مرجھا جاتا ہے ،جزبات آواز احساس کا دباؤ محسوس کرتے ہیں ، ان میں بھی جان ہے ان میں بھی جزبے ہیں ، جڑوں کے زریعے ایک درخت ایک پودا دوسرے درخت اور پودے سے بات کرتا ہے آج سانئیس کہہ رہی ہے مگر آپ ہی بتائیں کدھر جائیں کھانا چھوڑ دیں؟ مر جائیں بھوک سے ؟ کمال سبزی خوری ہے ایک جان پہ ظلم کے بچاؤ کے چکر میں دوسرے جاندار پہ ظلم!
آپ کو سوچنا ہوگا کہ ظلم اور ضرورت الگ الگ چیزیں ہیں_ ہر چیز کا مصرف ہے
ایکولیجیکل سائینس کہتی ہے !
دنیا میں دو فیکٹر ہیں جن پہ زمین کا قدرتی نظام کھڑا ہے! Prey &predator
پرے یعنی شکار __
پری ڈیٹر یعنی شکاری __
خوراک دینے والا
خوراک لینے والا
اک سسٹم اک دوسرے پہ انحصار
قدرتی نظام میں ہر چیز ایک دائرے میں تیر رہی ہے یعنی ایکولیجیکل سائیکل!
پہلا فیکٹر زمین _
زمیں پہ پانی برستا ہے ، پانی استعمال ہوا
سبزا اُگا سبزا اُگا _ سبزے کی جڑوں میں وارمز نائڑوجن فکس کرتے ہیں ریٹرن میں جڑوں سے خوراک لیتے ہیں ، نائڑوجن فکس ہوئ پودا ہر بھرا ہوکے اٹھنے لگا __
وارمز یعنی کیڑوں کو چوہے کھاتے ہیں چوہوں کو سانپ کھاتے ہیں ، سانپوں کو عقاب کھاتے ہیں _ بکری ، ہرن گھاس کو کھاتی ہے اور زندہ رہتی ہے بکری ہرن کو شیر اور لگڑ بھگڑ چیتے کھاتے ہیں زندہ رہتے ہیں ، شیر چیتے کو جنگلی شکار کرکے کھاتے اور کپڑے بناتے ہیں ، انسان کو بیماری ہوتی ہے جراثیم انسان کو کھاتے ہیں ریڑن میں گھاس جڑی بوٹی کھاتے ہیں اور زندگی لیتے ہیں _ انسان مر جاتا ہے سانپ بچھو کھاتے ہیں ، بچھوں، سانپوں کو سائیسدان پکڑ کے مار کے ایڈز ، کینسر کے رد کی ادویات بناتے ہیں تاکہ انسانوں کو بیماری سے محفوظ کرایا جائے اسے دوام بخشا جائے ،
یہ اکولو جیکل سائیکل ہے _ ایکولوجکل سائینس کہتی ہے سارے سانپ مار دیے جائیں تو ہر جگہ چوہے ہی چوہے گھومتے پھریں ، اگر شیر چیتے مار دیے جائیں تو سڑکوں پہ ہرن بارہ سنگھے ہی نظر آئیں پاؤں دھرنے کی جگہ نہ ہو ، ساری بکریاں مار دی جائیں تو گھاس ہی گھاس ہو لاؤں رکھنے کی جگہ نہ ہو ، اگر انسان نہ مرے تو زمین کے اک انچ پہ قدم جمانے کی جگہ نہ ہو ، چوہے مار دیے جائیں تو سانپوں کا نم و نشان نہ ہو وہ بھی بھوک سے مر جائیں ، شکاری کتے نہ ہوں تو سور لا شکار نہ ہو ہر جگہ سور ہی گھومتے پھریں انسان گھروں میں بیٹھے رہیں ،
میرے کزن فرخ نے اک دن مجھے کہا کہہ مہران یہ رپورٹ پڑھو! لکھا تھا چنگیز خان نے پانچ کروڑ لوگ قتل کیے تھے پچھلے دنوں اک رپوٹ آئ کہ ولڈ ھیلتھ آرگنائزیشن فورم والوں نے چینگز خان دنیا کو سب سے بڑا ماحول دوست انسان قرار دے دیا جوکہ اک جھٹکا تھا ، جواب دیا گیا کہ اسنے قتل عام اتنا کیا کہ لوگ خوف سے بھاگ گئے مر گئے اک عرصہ تک اسکی دھشت کی وجہ سے لوگ پہاڑوں پہ چلے گئے اک عرصہ تک بستیاں ویران پڑیں رہیں ، سبزا اگا ، جنگلات اگ آئے جہاں جہاں انسان مرا انسانی جسم.اک کھاد ہے ، پھر آمد و رفت بھی میدانوں میں کم ہوگئ جنگلات کا اک سلسلہ اگ آیا جو کہ ہزاروں میل پہ محیط تھا ماحول ساز گار ہو گیا بارشیں ہونے لگیں جنگلات کی وجہ سے کھیتاں پھل لکڑی کی فراوانی ہوگئ معاشی حالات بہتر ہونے لگے انسان نہ مرے تو ہر جگہ انسان انسان ہوں اک انچ جگہ نہ ہو ماحول بگڑ جائے آکسجن کم ہوجائے ، سسٹم تباہ ہو جائے اسی طرح تمام جاندار جنہیں کھایا جاتا ہے اگر زندہ ہی رہیِں تو پورا نظام بگڑ جائے ، شکار اور شکاری کا تعلق ایک لیول برقرار رکھتا ،
یہاں ہر چیز اک دوسرے پہ منحصر ہے ، نہیں ہے کوئ چیز بے کار قدرت کے کارخانے میں _ لم یزل نے یہ کاینات ،یہ زمین تخلیق کی تو اک طریقہ ِ کار وضع کیا اک سسٹم میں ڈھالا ہر چیز کو ایک دوسرے کے لیے پیدا کردیا _ ہر چیز ایک دوسرے کی قربانی سے زندہ ہے ، یہ ایثار اس کائنات کی چابی ہے جس پہ پورا سسٹم کھڑا ہے ، اس پہ جو انگلی اٹھاتا ہے وہ جھوٹا منافق اور ماحول کا دشمن ہے علم عقل زمیں و زماں کا دشمن ہے! انسان کا دشمن ہے!
تحریر مہران درگ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *