قرآن معجزاتی ناکہ سائنسی کتاب

1

قرآن کی” بعض “کی معجزاتی حیثیت کی بنیاد پر قرآن کی’ ’کُل“ پر ایمان کی دعوت کوئی منطق کے استقرائی طریقہ کار کے تحت نہیں ہوتی (کہ جس میں حتی الامکان تمام اجزاءکو الگ الگ انفرادی طور پر ثابت کرکے پھر انکے مجموعے یا کُل کا اثبات ممکن بنایا جاتا ہے )بلکہ صرف چند حقائق میں مماثلت ہی کُل قرآن اور اسلام کی حقانیت کی دعوت پیش کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی نبی کے ایک معجزے یا چند معجزات کی بنیاد پر اسکی تمام باتوں پر ایمان لے آیا جائے ۔ چناچہ خود اسی طریقہ استدلال کو استعمال کرنے والے داعی حضرات (مانند ڈاکٹر ذاکر نائیک حفظہ اللہ ) اس طرح قرآن کو سائنسی کتاب کی بجائے ایک معجزاتی کتاب ثابت کر رہے ہوتے ہیں ۔
ان مخلص اور سلیم الطبع داعی حضرات پر قرآن اور دین کوجدید سائنسی پیراڈائم کے تحت و تابع کردینے کا الزام تو ایک طرف رہا ،خود مجرد جدید سائنس کے تمام نظریات سے ان لوگوں کا متفق ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ جیسے ڈارون کا نظریہء ارتقاءاسلام کے نظریات سے شدید طور پرمتصادم ہونے کی بناء پر ہمیشہ سے شدید اور کڑی تنقید کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اور اگر چہ یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ کچھ سائنسی نظریات بعض اوقات ردّ ہوجاتے ہیں اور ان کی جگہ نئے سائنسی نظریات لے لتے ہیں (البتہ روز افزوں سائنسی ترقی و تحقیق کے باعث اس عمل میں بھی بڑی حد تک کمی آچکی ہی) لیکن یہ بات بھی اسلام اور سائنسی حقائق کے درمیان اشتراک تلاش کرنے میں مانع نہیں ہے۔ کیونکہ صرف اسلامی اصول و عقائد کے موافق، اور مسلّمہ طور پر ثابت شدہ سائنسی حقائق (Well established scientific facts) ہی اسلام اور سائنس کی مماثلت کے موضوع پر ، دعوت کی غرض سے ، ان اسکالرز کی بحث و گفتگو کا محور بنتے ہیں۔

اسلام اور سائنس کے درمیان مماثلت تلاش کرنے کا یہ عمل ایک مخصوص اور محدود دائرے کے اندر اندر ہوتا ہے، جو دراصل خود اسلام کی اپروچ کے تابع ہوتا ہے۔ ورنہ اگر ایسا نہ ہوتا تو، کثرت کے ساتھ قرآنی آیات کی بے جا سائنسی تاویلات اور دور اَزکار توجیہات ان لوگوں کی طرف سے دیکھنے میں آرہی ہوتیں ۔۔۔۔، جس پر کہ معروف وجید علمائے کرام کی تنقید و تردید پھر ایک مشہور و معلوم بات ہوتی۔
یہاں اگر تفریط کی صورت میں یہ ایک انتہا ہے کہ سائنس کو کلیۃً اسلام کے خلاف قرار دیکر اس سے ”بری الذمہ“ ہونے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ہرشرعی مسئلہ کی طرح اس معاملے میں بھی بہ صورت افراط ایک دوسری انتہا کا پایا جانا ہرگز خارج از امکان نہیں بلکہ ایک امر واقعہ ہے۔
چنانچہ کسی شخص نے اگر اپنی کسی تالیف یا تفسیر قرآن میں ہر سائنسی رطب و یابس (بشمول ڈارون کا نظریہء ارتقاء) کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہو تو ایک شخص یا چند اشخاص کی غلط اپروچ پر باقی تمام لوگوں کو تو موردِالزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ نہ ہی ان سب کی یکساں صف بندی کی جانا کوئی عدل و انصاف کے قرین ہے ۔ ویسے بھی اس قسم کی تفاسیر پر علمائے کرام کی شدید تنقید و تردید کا تو خود سائنس مخالفین کو اعتراف بلکہ دعویٰ ہے۔

قرآن میں ان سائنسی حقائق سے متعلق اشارات کا پایا جانا جو آج کے دور میں جا کر دریافت ہوئے ہیں، غیر مسلموں پر تو گہرا تاثر قائم کرتا ہی ہے ، مسلمان بھی اس سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ یوں ان کا ایمان مزید بڑھتا اور ان کے اطمینان قلب میں مزید اضافہ ہوتا ہے، جس کی وجہ ان کا سائنسی ذہنیت کا حامل ہونے کی بجائے قرآن کی معجزاتی حیثیت کو پا کر دم بخود رہ جانا ہوتا ہے ۔ ورنہ قرآن پر ان (مسلمانوں ) کا پہلے کا ایمان کوئی سائنس کا مر ہونِ منّت تھوڑی رہا ہوتا ہے۔
یہ بات کہ اسلام کے بہت سے جدید اسکالرز اور داعی حضرات اسلام اور سائنس کے مشترکہ امور کو حوالے کی بنیاد بنا کر دین کی دعوت پھیلارہے ہیں، آج کے دورکا ایک مشہور و معروف واقعہ ہے ،کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اسلام کے آغاز سے اب تک ہر دور کی طرح اس دور میں بھی علمائے حق کی کثیر تعداد مسلمانان ِعالم کی رہنمائی کے لیے ہمہ وقت موجودو مستعد ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں اسلام کے کسی نظریے یا عقیدے پر کوئی آنچ آرہی ہو ، یا اس کی ایمانیات میں ملاوٹ یاکمی بیشی کی کوشش کی جارہی ہو تو سب سے پہلے یہ علمائے کرام ہی ہیں جو اس واقعے کا نوٹس لیتے اور عامۃالمسلمین کو اس سے خبردار و ہوشیار کرتے ہیں ۔ کسی مسئلہ یا واقع میں علمائے کرام تائید میں جاتے ہیں یا مخالفت میں ، یا خاموش ہی رہتے ہیں ،۔۔۔۔ غرض جو بھی طرزِ عمل اپناتے ہیں وہی عامۃ المسلمین کی سمت بندی کے لئے ایک معیار بن جاتا ہے۔ چنانچہ کسی چیز کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے سے متعلق عالم ِاسلام کے جیدعلماء کی آراءہی کو مدنظر رکھنا یا اس بابت ان ہی کی طرف رجوع کیا جانا ناگزیر ہے جس سے انحراف کی کی روش ایک خطرناک طرزِ عمل ہے۔

مزید برآں، سائنس اور عقل ، اسلام اور اس کی ایمانیات کی کتنی مخالف ہیں ، اور مخالف ہیں بھی یا نہیں اس کا کوئی ثبوت اگر ہو تو خود اسلام اور اس کی ایمانیات سے دیا جانا چاہیے نہ کہ کہیں اور سے ۔ اسلام ایک جامع ، کامل ، ہمہ گیر اور آفاقی دین ہے، اور اپنی حقانیت اور دیگر ادیان ونظاموں کے بطلان کے دلائل آپ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ یہ اپنی نہاد میں اس قدر صاف ، شفاف ، کھرا، سچا اور خالص ہے کہ کسی بھی قسم کا کھوٹ یا ملاوٹ اس میں بار پاہی نہیں سکتی ،بلکہ فوراً الگ سے ، صاف طور پر پہچان لی جاتی اور ردّ کردی جاتی ہے۔اب اسلام کی ایمانیات کی کیا منہاج (paradigm) ہے ، یا اس کی ایمانیات کے بنیادی اصول یعنی اسلام کے اصول ِعقیدہ کیا ہیں ، تو اس کے لیے کوئی بہت زیادہ تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی اس غرض سے اسلام کے اپنے طریقہء مطالعہ کو چھوڑ کر کسی اور طریقہء تفکیر (Discourse) _مانند فلسفہ _کو استعمال کرنا درست ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اسلام کے اصولِ عقیدہ تو روزِ روشن کی طرح واضح ہیں اور صدیوں سے چلے آئے غیر مبدّل اور ناقابل ِتحریف اسلام کے مصادر ہی اس کے بیان کا حق محفوظ رکھتے ہیں نہ کہ یہ موجودہ دور کے کچھ مغربی فلسفہ سے واقف افراد کو ہے، اسلام کے مزعومہ دفاع کے لیے کچھ نیا اس باب میں ”متعارف“ کرانا پڑے گا۔!
مغربی فکر و فلسفہ کا مطالعہ اگر فرض نہیں ، تو ایسا برا بھی نہیں ہے، بشرطیکہ اس نگاہ اور طریقہء تفکیر کا ہی پہلے شعوری تعین کرلیا جائے جسکے تحت پھر یہ مطالعہ کیا جانا ہو ۔ بلکہ اس سے بھی پہلے، یا اسکے لیے، اسلام کے اصول ِعقیدہ پر مبنی مشہور و متداول کتب کسی عالم سے پڑھ لی جائیں تو پھر ا س اپروچ کا درست ہوجانا کافی حد تک ممکن ہے۔ اور توفیق تو صرف خدائے ربِّ ذوالجلال کے پاس ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *