سائنسی حقائق اور قرآنی اشارات

8

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ گزرتے ہوئے زمانے اور ادوار کے ساتھ انسان نے مادی کائنات کے متعلق اپنے بنیادی علم کو بذریعہ تجربات اور تحقیق وتفتیش ناقابل یقین حد تک آگے بڑھادیا ہے ۔ اور کئی ایک ایسے حقائق کا ادراک کیا ہے جن تک پہنچنا گزشتہ ادوار میں ایک نا ممکن سی بات تھی ۔ اور ایسا نہیں ہے کہ یہ تمام نئے سائنسی حقائق محض مفروضات ہی ہیں جو کسی بھی وقت بدل کر کچھ اور ہوسکتے ہیں ۔ بلکہ ان کی بنیاد پر عالمِ واقعہ میں ہونے والی نت نئی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی ترقی ان حقائق کی مسلمہ حیثیت کو ثابت کرتی ہے۔
پھر یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ مادی دنیا یا مادے سے متعلق قرآن کے بہت سے انکشافات ایسے ہیں کہ جو عالمِ واقعہ کے اندر گزشتہ ادوار میں انسان کے مشاہدے کے دائر ے میں نہیں آتے تھے ، اس لیے ان پر محض ایمان ہی رکھا جاسکتا تھا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ خصوصاً گزشتہ چند صدیوں میں جب کہ سائنسی ترقی کی بدولت انسان کے مشاہدے اور تجربے کے دائرے میں نہایت درجہ وسعت پیدا ہوگئی تو بہت سے معلوم ہونے والے نئے مادی حقائق کی ان قرآنی انکشافات کے ساتھ حیرت انگیز مماثلت ثابت ہوتی نظر آئی ۔ مثلاً بطنِ مادر میں جنین (Embryo) کی افزائش و نمو کے مختلف مراحل جنہیں قرآن بیان کرتا ہے، سائنسی ترقی کے دور سے پہلے انسان کے لیے قابل مشاہدہ نہیں تھے ۔ لیکن اب جبکہ سائنسدانوں نے ان مراحل کو سائنسی طور پر معلوم و دریافت کرلیا ہے تو یہ عین وہی اور ویسے ہی ثابت ہوتے نظر آتے ہیں جس طرح کہ قرآن میں بیان کیے گئے ہیں۔ اس طرح کی اور درجنوں مثالیں موجودہیں ۔
چنانچہ قرآن اور جدید سائنسی حقائق کے درمیان مماثلت یا اشتراک کی بدولت حوالے کے فریم کی ایک نئی جہت سامنے آنا شروع ہوئی جو موجودہ دورمیں سائنسی اور تجرباتی ذہن رکھنے والے انسان کو مخاطب اور اپیل کرنے کے لیے بجا طور پر حوالے کے نقاط فراہم کرسکتی ہے۔
ٍ قرآن پر اور دین ِاسلام پر لوگوں کو دعوت ِایمان دینے کے لیے آخر کچھ نہ کچھ مُشترکہ بنیادیں تو درکار ہوں گی ۔قرآن توہر دور اور ہر ذہن کے انسان کو خطاب کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ جبکہ دعوت کا مفہوم لوگوں کے قلوب واذہان پر اثر ڈالنا ہے نہ کہ محض بات پہنچا دینا ۔سو، جدید ذہن کے حامل انسان کو جو اسلام کے ساتھ کوئی قابل ِذکر مشترکہ ایمانیات نہیں رکھتا ، مخاطب اور متاثر کرنے کے لیے ہمارے پاس حوالے کے نقاط کیا ہیں؟
بادلوں کا بارش برسانا ، ہواؤں کا چلنا ، بارشوں سے مردہ زمین کا لہلہا اٹھنا ، اندھیری راتوں میں ستاروں کا راہبر ہونا ، پہاڑوں کا زمین میں بطور میخ گڑا ہونا ، سورج اور چاند کا اپنے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے گردش کرنا ۔۔۔۔اور درجنوں ایسے ہی مادی حقائق کی بنیاد پر قرآن لوگوں کو ایمان لانے کے لیے دعوت ِغور وفکر دیتا آیا ہے تو آج کے ثابت شدہ مادی حقائق قرآن میں دکھلا کر ان کی بنیاد پر لوگوں کو غوروفکر اور ایمان بالغیب کی دعوت دینے میں بھلا کیا قباحت ہے؟ اور اس سے اسلام کی پیراڈائم کو کیا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے؟۔ قرآن کی ایک اپروچ اگر یہ بھی ہے کہ وہ مادی حقائق اور عالم ِغیب کے درمیان تلازم اور ربط دکھلاکر اپنی پیش کردہ غیب کی تفصیلات پر ایمان لانے کا تقاضا کرتا ہے تو اسی اپروچ کو استعمال کرتے ہوئے کچھ ”نئے “ سائنسی حقائق کا تعلق ”کُل قرآن “ پر ایمان کی دعوت دینے کے لیے ”بعض “ قرآن سے کیوں نہیں جوڑا جاسکتا ؟ جبکہ مقصد دونوں جگہ بالکل ایک ہے ۔ رہا فرق طریقہ کار کا تو وہ دونوں جگہوں پر واقعات و حقائق کے بیان کی معجزاتی حیثیت کی نسبت سے ہے۔
معجزہ کا مقصد جہاں اللہ کی قدرت ، اختیار اور فاعلیت کا براہِ راست ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے (کیونکہ معجزہ، ”عادت“ (Routine) اور طبیعی و مادی قوانین کے برعکس واقع ہوتا ہے) وہیں اس ہستی یا شے کا ، جس سے معجزہ کا صدور ہوا ہے، منجانب اللہ ہونا (یعنی خدا کا نبی یا خدا کا کلام ہونے کے حیثیت سے) بھی ثابت کرناہوتا ہے۔ کسی کا منجانب اللہ ہونا بطور کُل اگر ثابت ہو جائے تو اس کی ہر ایک بات کا منجانب اللہ پھر آپ سے آپ متحقق ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اصولی طور پر، اس ہستی یا شے پر ایمان لانے میں کوئی مانع بھی باقی نہیں رہتا۔

قرآن اللہ کا کلام اور دنیا کے اندھیروں میں آدمی کے لیے ہدایت کا نور ہے، جس نے تا قیامت انسانیت کے قلب و ذہن کو اپنی لافانی روشنیوں سے منور کرتے رہنا اور حقیقت کی جستجو میں اس کی تشنگی کو ہر دور میں تسکین بخشتے رہنا ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہ اس خالق و فاطر کا کلام ہے جو اپنے اسماء و صفات اور افعال میں بے مثل، بے عیب اور غالب و قاہر ہے۔”کلام“ بھی اس کی ایک صفت ہے ۔یوں اللہ کا کلام ہونے کے ناطے یہ قرآن اس دنیا میں پورے کا پورا ایک معجزہ ہے، جس کی کوئی ذرہ برابر بھی نظیر اور مثال ہو ہی نہیں سکتے۔ خواہ اس کے الفاظ ہوں ، اسلوب ہو ،پیریہء بیان ہو یا اس کے بیان کردہ واقعات وحقائق ،یہ اپنے ہر ہر انداز سے ایک معجزہ اور فکر کو مہمیز دینے والا کلام ہے۔اس کی معجز نمائی تا قیامت جاری رہے گے۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہونگے ۔ اس سے سیرابی اور شفایابی کی تمناو جستجو رکھنے والے ہر دور میں اس کے فیض عام سے بہرہ اندوز ہوتے رہیں گے۔تاقیامت لوگ اس سے ہدایت اور منفعت حاصل کرتے رہیں گے۔ کون سی چیز ہے جس کے ذکر سے یہ کتاب خالی ہے ؟کونسی بات ہے جس کا اس میں بیان نہیں؟
وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ (النحل – 89)”اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی ہے کہ جو ہر چیز کا بیانِ (مفصل )ہے۔“
چنانچہ قرآن کی ہمہ جہت ، ہمہ گیر اور ہمہ وقتی معجزاتی حیثیت کے پیش نظر اس میں ایسے سائنسی حقائق سے متعلق اشارات کا پایا جانا جو گزشتہ ادوار میں معلوم یا دریافت نہیں ہو سکے تھے (حتی کہ وہ بھی جو ابھی تک دریافت نہیں ہو سکے ہیں اور آئندہ کسی زمانے میں ہوسکیں گی) ہرگز مستبعد نہیں ہے۔ بلکہ از قبیل تسلسل ِعجائب ِقرآن ہے۔
کائنات اور حیات سے متعلق سائنسی حقائق کا قرآنی اشارات کے مطابق ہونا اور یوں ان کا انسان کے قرآن پر ایمان لانے کے لیے ایک نشانی (آیات ) اور ایک بنیاد ہونا تو خود قرآن میں مذکور ہے جسے دورِ جدید کے داعیان اسلام بھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں :
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (حم السجدۃ – 53)”ہم عنقریب انکو اطراف ِعالم میں اور خود ان کی ذات میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ یہی (قرآن) حق ہے۔“

درست، کہ قرآن کوئی سائنس کی کتاب نہیں ہے ، نہ ہی اس کے نزول کا مقصد سائنس کی تعلیم دینا ہے۔ اسی طرح قرآن کی حقانیت پر ایمان جدید سائنس کی تائید و شہادت ہی پر منحصر نہیں ہے ۔ لیکن نہ تو یہ دونوں امور قرآن میں سائنسی اشارات کے پائے جانے میں مانع ہیں ، اور نہ جدید سائنسی حقائق اور قرآنی اشارات کے درمیان اشتراک تلاش کرکے اسے بطور معجزہء قرآن دعوت کا ایک حوالہ (Reference) بنانا قرآن کو جدید سائنس کے تابع کردینے کے مترادف ہے ۔
پس اسلام کے کسی داعی کی طرف سے سائنسی حقائق اور قرآنی اشارات میں مماثلت پیش کیا جانا دراصل قرآن کی معجزاتی حیثیت کا بیان ہونا ہے کہجو بات جدید سائنس نے آج بڑی دقتوں سے معلوم کی ہے وہ قرآن نے صدیوں پہلے بغیر کسی مادی تحقیق کے بیان کردی تھی ۔ پھر اسی بات کو دعوت کی بنیاد بنایا جاتا ہے ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *