جانوروں کی قربانی اور رحم-ایک مکالمہ

ff

آج سکول سے واپسی پر گھر آتے ہوئے ملحدہ خالہ حمیداں پر نظر پڑی، وہ اپنے کھیتوں میں بیٹھی کچھ پریشان سی نظر آرہی تھی____ خالہ خمیدان کو پریشان دیکھ کر مجھے بھی اداسی لاحق ہو گئی __ مجھ سے رہا نا گیا چانچہ اپنی بھانجی ایمان کو ساتھ لئے خالہ حمیداں کے پاس جا کر بیٹھ گئی _____ پوچھا خالہ کیا بات ہے ؟ کچھ پریشان سی نظر آ رہی ہوں……!

خالہ حمیداں واویلا کرتے ہوے پریشان کیوں نا ہوں ؟؟ مسلمان محض اپنی زباں کی لذت کی خاطر معصوم جانوروں کو قتل کر کے انکا گوشت کھاتے ہیں ! اگر کوئی خدا ہے تو کیا اس بے رحمی کی اجازت دے سکتا ہے؟؟؟؟

دیکھو خالہ حمیداں ______ یہ تصور کہ مسلماں محض اپنی زباں کی لذت کی خاطر گوشت کھاتے ہیں ، یہ خلاف ِ واقعہ ہے ، حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے بنائے ہوئے حرام اور حلال کے اصولوں پہ عمل کرتے ہیں ،جانور میں اللہ نے جسکو حرام قرار دیا ہے سور کتا تو مسلمان ان سے پوری طرح پرہیز کرتے ہیں ،جہاں تک جانوروں کو ذبح کرکے اسکے گوشت کھانے پر خدائے مہرباں کے رحم اور اسکے فعل کے بے رحم سمجھے جانے کا تعلق ہے تو اس جہاں میں بہت سارے گوشت خور پودے بھی پائے جاتے ہیں کیا وہ خدا نے نہیں بنائے؟ کیا خدا کی دنیا میں جانور ایک دوسرے کا شکار نہیں کرتے؟ دنیا کی ساری چیزیں.خد انے انسان کے فائدے کے لیے بنائیں ہیں کیا جانوروں پہ حل جوتنا بوجھ ڈالنا بے رحمی نہیں ہے؟ اس طرح تو نباتات کا استعمال بھی بے رحمی ہے ، آج سائینس نے ثابت کر دیا ہے کہ ہر چیز میں احساس ہوتا ہے پھر بھی ہم لکڑی وغیرہ کاٹتے ہیں استعمال کرتے ہیں اگر کسی جان کو مارنا بے رحمی ہے تو ہم مکھی اور مچھر بھی نہیں مار سکتے ، جراثیم بھی نہیں مار سکتے ، ایلوپیتھک علاج بھی نہیں کرسکتے ،

خالہ حمیداں بڑبڑاتے ہوئے __________ اگر مسلمان جانوروں کا گوشت استعمال نہ کریں تو کیا حرج ہے؟ کیوں کہ جانور کو اپنے فائدے کے لیے مارنا روحانیت کے خلاف ہے!

خالہ بات سن __ جس دلیل سے ہم گوشت نہیں کھا سکتے اس دلیل سے ہم سبزی بھی نہیں کھا سکتے ،کیونکہ زندگی ہر چیز میں ہوتی ہے ،لیکن اگر ہم گوشت اور سبزی کی حقیقت الگ الگ بھی مان لیں تو وہ ملک جہاں کھیتی نہیں ہو سکتی صرف گھاس ہوتی وہاں لوگ کیا کھائیں؟
جو ملک سمندر کے کنارے ہیں جہاں کھانے کو صرف مچھلی ملتی ہے جیسے جاپان وہاں لوگ کیا کھائیں؟
شمالی امریکہ میں بسنے والی قوم اسکیمو کے لوگ کیا کھائیں؟
جہاں.باغات نہ کھیت صرف سیل اور وہیل کھاتے ہیں ،یا بارہ سنگھے کا شکار کرتے ہیں ، دنیا بھر میں.جسقد رگوشت کھایا جاتا ہے اگر وہ نہ کھایا جائےاور جانوروں کو ہم بطور خواراک استعمال نہ کریں ہلاک نہ کریں تو دوسری غذائی اشیا کی کمی پڑ جائے گی ،قیمتیں بڑھ جائیں گی بے کار مویشی ملکوں کے لیے مصیبت بن جائیں گے ، کارڈ لیور آئل اور ریشم جیسی چیزیں ناپید ہوجائیں گی ،
جانور کا گوشت استعمال کرنا روحانیت کے خلاف ہرگز نہیں ،صرف اسلام نے نہیں دنیا کے ہر مذہب نے گوشت خوری کی اجازت دی ہے ،ہندو دھرم کی معتبر کتاب منو سمرتودھی میں تو یہ تک لکھا ہے کہ ” شاستر کی ودھی سے جو مانس شدھ ہوتا ہے اسکو جو نہیں کھاتا پرلوک میں اکیس جنم تک جانور ہوتا ہے! “منو اسمرتی (۵/۳۵)
رام.جی کو خود ہرن شکار کرنا ،اسکا گوشت استعمال کرنا رامائن سے ثابت ہے ،اور جہاں تک کے روحانیت کے خلاف ہونے کا سوال ہے
اسلام نے اسکے خدا کے نام.پر ذبح کرنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ یہ معاملہ روحانیت کے متعلق ہو جائے ،

خالہ حمیداں اپنے خاوند چاچا فضلو کو آواز دیتے ہوئے اے فضلو ذرا ٹیوب ویل چالوں کرنا ،،،،،،،،، ہائے کتنا ظلم ہے جانور کو زبح کرتے وقت کتنی تکلیف ہوتی ہے ،صاف بے رحمی محسوس ہوتی ہے ،پھر اللہ نے آخر ذبح کرنے کی اجازت کیوں دی؟ ؟ ؟؟؟؟؟

دیکھو خالہ حمیداں ______
موت تو بہر حال جانور پہ آنی ہی یے انسان پر بھی ،تکلیف تو موت پر بھی ہوتی ہے پھر اللہ موت کیوں دیتا ہے ،بیماری میں تکلیف نہیں ہوتی؟ بچے کی تکلیف نہیں ہوتی؟ اس سے بڑھ کر یہ کہ خود بچے کو جننے سے کئی ماہ پہلے تک ماں کو یا مادہ کو کتنی زبردست تکلیف ست دوچار ہونا پڑتا ہے ،کیا محض دردِ زہ کی وجہ سے بچہ پیدا ئش کا سلسلہ روک دیا جائے ،کیا اس بنیاد پہ اللہ ان سب چیزوں پر َدا اس پہ اعتراض کیا جاسکتا ہے ، جہاں تک اسکا تعلق ہے ،اس بات کی سخت ہدایت دی گئ ہے جانور اسطرح سے زبح کیا جائے کہ اسے تکلیف بھی نہ ہو ،حضرت شداد کی حدیث ہے ،حضور نے فرمایا زبح کرتے وقت جانور کو تکلیف نہ ہو یہاں تک کہ جانور کے سامنے چھری بھی تجز کرنے سے منع کیا گیا ہے __

ٹیوب ویل چالو ہو گیا تو خالہ حمیداں کھیتوں میں پانی لگانے لگی ___ میری بھانجی ایمان بول پڑی ______ خالہ جی کھیتوں میں پانی کیوں لگاتی ہو ؟؟؟؟؟؟؟

خالہ حمیداں غصے سے گھورتے ہوئے ارے نا لائق سات جماعتیں پڑھ لی اتنا بھی نہیں پلے پڑا کہ یہ یہ پودے بھی جان رکھتے ہیں سانس لیتے ہیں انہیں بھی جینے کے لئے پانی چاہئے دو دن پانی نہ دوں تو سوکھ کے مر نا جائے اور کچھ بڑبڑاتے ہوئے کھیتھوں میں لگی بھنڈی کے پودوں سے بھنڈی توڑنے لگی ….

ایمان …..___ ارے خالہ جی یہ کیا کر رہی ہیں آپ جانتی بھی ہے کہ پودے جاندار ہیں سانس لیتے ہیں پھر بھی آپ اتنی بے دردی سے بے چاری بھنڈیوں کو نوچ رہی ہے ذرا بھی احساس ہے کہ آپ کے یوں نوچنے سے ان بے چاریوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی ؟؟؟؟؟؟؟؟

پھر ایمان پاس والے کھیت کی طرف بھاگی اور خالہ حمید کی بکری کا رسا کھول کے خالہ حمیداں کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولی __ خالہ جی یہ اپنی بکری سنبھالو دیکھو تو بیچارے معصوم گھاس کا کس بے دردی سے قتل عام کر رہی ہے

خالہ حمیداں _____ غصے سے تلملاتے ہوئے ___ فارغ ہو لینے دو مجھے پھر تیری آنٹی کی طرح تیرا بھی فیس بک پر پراپیگنڈہ بیچ بناتی ہوں ____

ایمان …. آنٹی یہ خالہ جی غصہ کیوں کر گئی؟؟؟؟ حالانکہ میں نے تو سیدھا سیدھا اس کا فلسفہ اس کو لوٹایا

دیکھوں میری چنداں یہ ملحد ہوتے ہی ایسے کہ جب کسی بات کا جواب نہ بن پڑے تو غصہ ہو کے دھکھیوں اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں …….
تحریر فوزیہ جوگن

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *