دنیا میں قحط، بھوک، ظلم کا ذمہ دار’جدید انسان”

4

سرمایہ داری اور جدید بنیادی حقوق کے فلسفے نے ایک حاسد حریص لالچی مریض پید ا کیا ہے جس کا خدا اور نبی صرف پیسہ [Capital] ہے ۔ یہ طالب لذات جانور ہے لہٰذا لذتوں میں اضافہ کے لئے اسے ہر وقت، مسلسل ہر لمحے سرمایہ کی ضرورت ہے .مغربی فلسفے اور سائنس و ٹیکنالوجی نے حرص و حسد و ہوس کی عمومیت کو مفاد عامہ [General will]کا درجہ دے دیا .اس کے نتیجے میں ایک شیطانی وجود بر آمد ہوا. ایسا یک رخا انسان [One diminsional man] پیدا ہوا جس کا رخ صرف شہوت۔ غضب۔ لذت۔ دولت اور اس دنیا کے مزوں کی طرف ہے. اسے اس سے کوئی بحث نہیں ہے کہ اکیسویں صدی میں شمالی کو ریا میں ساٹھ لاکھ انسان بھوک سے مرگئے،افریقہ کے ملکوں ایتھوپیا، صومالیہ ، سوڈان میں کئی لاکھ قحط سے موت کا شکار ہوئے لیکن جدید سائنس کے بنائے ہوئے طیارے، بحری جہاز، ریلوے ٹرالر ،ان بھوکے لوگوں تک اناج نہیں پہنچا سکے کیوں کہ ان کے پاس اناج کے پیسے نہیں تھے اور یہ جدید انسان [Modren man] ان کو مفت میں اناج مہیا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
آج عہد جدید میں ہر ہفتے، ہر روز دن میں دو مرتبہ غلے کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اس کی بنیادی وجہ مغرب کا تخلیق کردہ طلب و رسد کا قانون اور مغربی معیشت کی ایجاد آزاد منڈی کی معیشت [FreeMarket]، اجارہ داریاں [Monopolies] اور سرمایہ دارانہ مزاج یعنی [Accumalation of Capitalf for the sake of accumlation] آزادی [Freedom]، لذت [Pleasure] کا زیادہ سے زیادہ حصول ہے۔ جدید معیشت و فلسفے نے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بتایا ہے کہ [Man is a pleasure seeking animal] اور سرمایہ میں اضافے کا مطلب لذت کے حصول میں زیادہ سے زیادہ اضافہ [Capial for Maximzation of Capital] ہے۔ ظاہر ہے اس فلسفے کے نتیجے میں قیمتیں نہیں بڑھیں گی تو اورکیا بڑھے گا۔ یہ درست ہے کہ جدید سائنس و ٹیکنالوجی نے غلے کی پیداوار میں بے تحاشہ اضافہ کیا ہے لیکن اس سائنس و ٹیکنالوجی نے انسان کی حرص و حسد و ہوس کو غلے کی پیداوار سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھا دیا ہے کیونکہ یہ سائنس لذت اندوزی کی جتنی چیزیں ایجاد کر رہی ہے اس کے حصول کے لیے مسلسل پیسہ کمانے کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر چارہ نہیں ہے۔
ورلڈ بینک، ورلڈ فوڈ آرگنائزیشن، آئی ایم ایف کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے دنیا میں جتنی غذائی اجناس پیدا ہوئی ہیں دنیا کی تاریخ میں کبھی اتنی اجناس، اتنا غلہ پیدا نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود غلے کی قیمت کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے اور اسی حساب سے بھوک میں اضافہ ہورہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب غلہ اجناس غذائی اشیاء انسانی ضروریات سے بہت زیادہ پیدا ہو رہی ہیں تو دنیا میں قحط کیوں آرہے ہیں؟
لوگ خودکشی کیوں کر رہے ہیں؟
دنیا کی تاریخ میں جس طرح قحط اب پڑے ہیں جس طرح لوگ بھوکے اب مرے ہیں جس طرح قیمتیں اب چڑھی ہیں کبھی نہیں چڑھیں آخر کیوں؟

پوری تاریخ انسانی میں دنیا کی اکیس تہذیبوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے بھوک سے خودکشی کی ہو۔. اس دور میں غلے کی کثرت کے باوجود خوکشیوں کے ریکارڈ بن رہے ہیں، وجہ یہ ہے کہ اس دور میں ضرورت سے زیادہ غلہ پیدا کرنے والا انسانیت کی خدمت کے لیے، غربت کے خاتمے کے لیے، حاجت مندوں کی ضرورت کے لیے غلہ پیدا نہیں کر رہا بلکہ وہ اپنے نفس کی خواہشات پورا کرنے کے لیے غلہ پیدا کر رہا ہے، اسے پیسے چاہیں چاہے غلہ پڑا پڑا خراب ہوجائے یا ساری دنیا بھوک سے مر جائے .. یہ انسان انسان نہیں درندہ ہے۔ اس کی درندگی بہمیت وحشت، ظلمت اس کے باطن کی تاریکی ذلت رسوائی خباثت اسے غلے کی ضرورت ڈیمانڈ بڑھنے پر اسے غلے کی قیمت ذیادہ سے زیادہ کرنے پر آمادہ کرتی ہے، یہ لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمت کو بڑھاتا ہے .

دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص بھوکے لوگوں کی قطاریں دیکھ کر خوش ہوا، فاقہ مستوں کے سوکھے چہرے دیکھ کر اسے مسرت حاصل ہو کہ ان چہروں اور اس حالت کی وجہ سے اس کے پیدا کردہ غلے کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔ منافع ڈبل ہوجائے گا…. اور اگر اس کے غلے کی قیمت کم ہوجائیں تو اسے دکھ ہو ۔ ایسا ذلیل انسان پوری تاریخ انسانی میں کسی تہذیب میں کسی مذہب میں کبھی پیدا نہیں ہوا۔ یہ اس جدید سائنس و ٹیکنالوجی کا کمال ہے جو جدید فلسفے سے پیدا ہوئی ہے اور اس جدید انسان کا ضمیر خمیر بھی اسی خاک سے اٹھا ہے ۔تاریخ کے ہر دور میں پیداوار [Production] کا مقصد صِرف صَرف [Cosumption] ہوتا تھا۔ پیداوار زیادہ ہوتی تو اسے فروخت کر دیا جاتا یا خیرات کر دیا جاتا لیکن پیداوار برائے پیداوار [Production only for prupose of production]، پیداوار برائے بڑھوتری منافع، اور پیداوار برائے تبادلہ [Exchange] انسان کا کبھی یہ مقصد نہیں رہا۔
لوگ صرف غلے کے ڈھیر غلے کی مقدار، غلہ اگلتی ہوئی زمینوں کی سائنس و ٹیکنالوجی کو دیکھتے ہیں لیکن اس رویے، طریقے، اسلوب حیات، طرز زندگی کو نہیں دیکھتے جو غلے کے اس ڈھیر سے برآمد ہوا۔ یہ رویہ ایسے ہی نہیں برآمد ہوا اس رویے کے بغیر اتنا غلہ کبھی نہیں پیدا ہوسکتا تھا۔ خوشحالی کا یہ ڈھیر اور فارغ البالی کا یہ انبار حرص و حسد و ہوس کے اس مابعد الطبیعیاتی فلسفے سے برآمد ہوا ہے جو سترہویں صدی کے بعد روشن خیالی، تحریک نشاۃ الثانیہ اور تحریک تنویر کے ذریعے دنیا کو ملا ہے اور دنیا پر ابھی تک حکومت کر رہا ہے۔
یہ سترہویں صدی کے دور تنویر و روشن خیالی کا کمال ہے کہ انسان کی تمام صلاحیتیوں، توانائیوں اور امکانات کو عقلیت [Rationaly] اور پیٹ و معدہ تک محدود کر دیا گیا ہے۔

عہد قدیم میں جب کسی علاقے کی زمین زرخیزی کھو دیتی زمین غلہ اگلنا بند کر دیتی تو لوگ ان علاقوں سے نقل مکانی کرتے تھے۔ عہد جدید کی ضلالت قوم پرستی [Nationalism] نے جس کی تاریخ چار سو سال سے زیادہ نہیں قومی سرحدیں بنا کر اس نقل مکانی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ گزشتہ سال افریقہ میں قحط پڑا اور لوگ ایک افریقی ملک سے دوسرے افریقی ملک جانے لگے تو سرحدوں پر فائرنگ کر کے انسانوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس سال غزہ میں اسرائیل نے لوگوں کو قحط میں مبتلا کیا تو لوگ مصر کی سرحد پر جمع ہوگئے لیکن مصر نے فلسطینیوں کو اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے جبراً روک دیا ۔اس کا فلسفہ یہ ہے کہ یہ لوگ آئیں گے تو ہماری معیشت پر بوجھ بنیں گے۔ ہمارے حصے میں سے کھالیں گے ہمارے وسائل کم ہوجائیں گے ۔
ساڑھے سات ہزار سال کی تاریخ میں قدیم تہذیبوں میں کبھی کسی شخص کو ایک خطے سے دوسرے خطے ایک براعظم سے دوسرے براعظم منتقل ہونے پر قدغن عائد نہیں ہوئی، کسی تہذیب نے اور اس عہد کے کسی انسان نے یہ نہیں سوچا کہ کسی دوسرے شخص یا گروہ کے ہمارے علاقے میں آنے سے معاشی مسائل پیدا ہوں گے۔ ہمارے وسائل کم ہوجائیں گے۔ یہ ذلیل ذہنیت مغرب کے فکر و فلسفے اور مغربی نیشنل ازم کی پیداوار ہے جس نے پہلے ملکوں کو قومیت کی بنیاد پر تقسیم کیا اس کے بعد کلیسا بھی قومی کلیسا بن گئے، چرچ آف انگلینڈ، چرچ آف اسپین وغیرہ اس کے بعد سفر کے لیے پاسپورٹ ویزا کی پابندیاں عائد کر دی گئی۔
۱۹۲۴ء تک جب خلافت عثمانیہ زندہ تھی اسلامی خلافت کے کسی حصے میں کسی شخص کی نقل و حمل حرکت پر کوئی پابندی نہ تھی، ہر مذہب عقیدہ کے لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے رہتے تھے، اس عہد کے لوگ، حکمران، دانش ور اس بات سے آگاہ تھا کہ قحط بھوک خشک سالی کے باعث ہجرت اور نقل مکانی کر کے کسی اور ملک سے آنے والا شخص ہمارا بھائی ہے۔ اللہ کا بندہ ہے، مشکل حالات میں ہے لہٰذا ہماری خوشیوں کے خوشوں میں سے چند خوشے چن لے گا ان کے لیے یہ خوشی کا موقع ہوتا تھا وہ اس کااستقبال کرتے تھے مدد کرتے تھے، ہمدردی کرتے تھے، ان کی دانش کو یہ علم تھا کہ آنے والا صرف اپنے ساتھ ایک خالی پیٹ اور کھلا منہ لے کر نہیں آرہا ہے اس کے ساتھ وہ اپنے دو ہاتھ، اپنی عقل، اپنے تجربات، اپنی تہذیب تاریخ کا پورا ورثہ، اپنی آبائی دانش، فہم، عقل، ذکاء، ذہانت، جذبات محسوسات، اور خدا جانے کیا کیا کچھ لے کر آرہا ہے۔ یہ صرف روٹی نہیں کھائے گا بلکہ اپنے تہذیبی تاریخی ورثے سے ہمیں اخذ و استفادے کا موقع بھی دے گا۔
عہد حاضر کا ذلیل انسان اس دانش سے محروم ہے اس لیے دنیا نے ٹی وی پر یہ نظارہ دیکھا کہ ایتھوپیا، جنوبی کوریا، صومالیہ ، سوڈان، میں قحط کے بعد جب قحط زدہ لوگ اپنے ملک کی سرحدوں سے دوسرے ممالک کی سرحدیں پھلا نگنے لگے تو ان کی عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ پہلے برما اور چند دن پہلے شام کے مہاجرین کی ہجرت کے مناظر دنیا نے دیکھے۔ یہ لوگ سمندروں میں ہی ڈوب مرے اور انسانیت کا کوئی نجاد ت دہندہ انہیں لینے کو تیار نا ہوا۔ پانچ سالہ بچے ایلان کی سمند ر کنارے پڑی لاش ساری دنیا کے میڈیا پر انسانیت کے عالمی علمبرداروں کا منہ چڑھاتی رہی ۔۔
دنیا کی اکیس تہذیبوں میں نہ کبھی اتنی بیماریاں تھیں ،نہ اتنی عیاشیاں ،نہ اتنے ہسپتال، نہ اتنے ہوٹل، کیفے، اسنیک بار، ریستوران، فاسٹ فوڈ یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ کوئی شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے اور اس کی مہمان نوازی نہ کی جائے لہٰذا ہوٹلوں کا کیا سوال ، مہمانداری تمام اکیس تہذیبوں کی مستحکم روایت تھی لہٰذا دنیا میں نہ کوڑے کرکٹ کا وہ ڈھیر تھا جو اکیسوں صدی میں ہے نہ عیش و عشرت کی وہ زندگی جس سے مال کمانے کے لئے اربوں ٹن کوڑا تیار کیا جارہاہے۔ فطری سادہ پر مسرت زندگی کے باعث لوگ ہر ایک کے مہمان بنتے تھے اور لوگ بخوشی مہمان بناتے تھے ،یہ ایک مذہبی فریضہ دینی و مذہبی ذمہ داری تھی طالب علم ایک براعظم سے دوسرے براعظم حصول علم کے لئے جاتے تو وہاں کے امراء اور عام لوگ ان طالب علموں کی مہمان داری میں فخر کرتے انھیں اپنا مہمان بناتے ، ان کی خوراک کا خیال رکھتے تھے۔
۲۰۰۷ء میں پاکستان میں گندم کی سب سے بہترین فصل ہوئی لیکن گندم کا بحران آگیا ۔دلیل یہ دی گئی کہ طلب و رسد کا فقدان ہے جب فصل طلب سے زیادہ تھی تو رسد کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا؟ بحران گندم کا تھا یا بحران ذخیرہ اندوزوں کے باطن کا تھا؟ فقدان رسد کا تھا یا فقدان شرافت ، ایمان اور دیانت داری کاتھا؟
دنیا میں جہاں بھی سرمایہ دارانہ معاشرہ ہو ، جہاں جمہوریت کے ذریعے معاملات طے پاتے ہوں وہاں معیشت لوگوں کی طلب اور ضرورت کے تحت نہیں چلتی بلکہ وہ مارکیٹ سے طلب و رسد کے تحت چلتی ہے بیچنے والے کو صرف اس سے دلچسپی ہوتی ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ پیسے ملیں خواہ خریدنے والا اتنے پیسے دینے کے قابل ہے یا نہیں اور خریدنے والے کو صرف اس سے دلچسپی ہوتی ہے کہ وہ کم سے کم پیسے بلکہ لاگت سے کم پر مال خریدے ۔یہ سول سوسائٹی کی خاصیت ہے کہ وہاں لوگوں کے تعلقات محبت الفت کی بنیاد پر نہیں مفاد کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں یہ ایک [Contactarian Society] ہوتی ہے جس کے تعلقات کا تانا بانا صرف مفاد، افادہ، ذاتی سرمایے میں اضافہ ہوتا ہے ۔
پاکستان میں غذائی اشیاء کی کثرت کے باوجودقلت اس لئے ہے کہ پاکستان کے ارد گرد ممالک میں غلہ یہاں کے مقابلے میں مہنگا ہے لہٰذا پھر یہاں سے غذائی اشیاء اسمگل ہو کر بیرون ملک جائیں گی ، یہاں کثر ت کے باوجود قیمت بڑھے گی اسے کہتے ہیں طلب و رسد کا قانون۔ اپنے وطن کے لوگوں کے گلے کاٹ دو بیرون ملک مہنگے داموں غذائی اجناس بیچو اور اسے طلب و رسد کے قانون کا منطقی نتیجہ کہہ کر عہد حاضر کے ذلیل فلسفۂ معیشت کو اخلاقی حوالہ مہیار کرو، یہ عصر حاضر کی معیشت کا کل افسانہ ہے ۔
ہمارے روشن خیال دانشور اور متجددین کہتے ہیں کہ ہم تاریخ کے سب سے عظیم عہد میں جی رہے ہیں، جب تمام ظلم ختم ہوگئے ہیں، انسان بہت روشن خیال اور مہذب ہوگیا ہے، ان جاہل خودساختہ فقیہہ اور برخود غلط علماء کو یہ معلوم نہیں کہ عصر حاضر دنیا کا سفاک ترین عصر، اس کا انسان دنیا کی تاریخ کا وحشی ترین درندہ اور اس کی اخلاقیات نفس پرستی شکم پرستی اور جاہ پرستی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ان ظاہر پرست دانشوروں کے پاس وہ عقل ہی نہیں کہ یہ اس منشور حقوق انسانی میں مستور سرمایہ داری کے دستور کو سمجھ سکیں ، انکی نظر سطحی چیزوں سے آگے بڑھ ہی نہیں سکتی کہ یہ دیکھ سکیں کہ سرمایہ دارانہ ذہنیت سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا پر کس طرح مسلط ہوا ہے اور دنیا کو کس طرح تباہ کرچکاہے۔ یہ انگوٹھا چھاپ ہر دور میں اس ظلم کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔
بشکریہ ماہنامہ ساحل
بتغیر قلیل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *