اعتراض: عورت کی گواہی آدھی کیوں ؟

4

گواہی ایک ذمہ داری ہوتی ہے جس میں 100 فیصد اعتماد چاہیے ہوتا ہے۔ اگر غلط گواہی دے دی اور پکڑے گئے تو اس پر سزا ہے اور اگر بچ گئے تو ساری عمر ضمیر چین نہیں لینے دے گا آج کل اور بھی بڑے جھنجٹ ہیں ، بار بار تھانے کچہریوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ لوگ گواہیاں دینے سے بھاگتے ہیں، جرم ہوتا دیکھ کے کہتے ہیں ہمیں نہیں پتا کس نے کیا ۔ ۔ ۔
اسی لئے ایسے سیریس کیسز جن میں یہ ذمہ داری ذیادہ بڑی اور بوجھ ہوتی ہے وہاں اللہ تعالی نے اکیلی عورت سے اس ذمہ داری کو ہٹا دیا ہے جیسے کہ زنا کا کیس ۔ ایسے کیسز کی گواہی میں دو عورتوں کو اکٹھا کردیا ہے کہ وہ آپس کے مشورے کے بعد تسلی کے بعد حقیقت بیان کردیں۔ ۔
عورت کو چونکہ الّلہ نے نرم دل کا مالک بنایا ہے ۔۔ ایک عورت ممتا / ترس / رحم اورخُدا خوفی کی وجہ سے بڑی سے بڑی غلطی کو نظر انداز کر دیتی ہے ۔ ۔
اكثر اوقات اس پر اس كى عاطفت و نرمى و رحمدلى غالب آ جاتى ہے، يہ کیفیت عورت میں مرد كے مقابلہ ميں اكثر پيدا ہوتى ہے ۔۔ مرد غصہ اور فرحت كى حالت ميں اپنے احساسات اور عواطف كا مالك ہوتا ہے اور اس پر كنٹرول ركھتا ہے، ليكن عورت قليل سے سبب سے بھى متاثر ہو جاتى ہے اور اس كے آنسو كسى چھوٹے سے حادثہ پر بھى امڈ آتے ہيں. ۔۔۔گواہی چونکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے یہ سخت دلی، مضبوط اعصابی قوت، احساسات اور جذبات پر کنٹرول کا تقاضا کرتی ہے اس لیے عورت کے ذمے کو کم رکھا گیا ہے۔ ۔
مزید ایسے گواہی کے کیس مخصوص ہیں ، ہر کیس کی گواہی میں دو عورتوں کا ہونا ضروری نہیں ۔ مثلا اگر مسئلہ رضاعت(عورت کے کسی کو دودھ پلایا جو اسکی اولاد نا تھی وہ اسکا رضائ بیٹا ہوگا)۔ یہاں عورت کی گواہی 1000 مردوں پر بھاری ہوگی ۔
مطلب اگر عورت عدالت میں کسی بچے کے متعلق یہ کہے کے یہ میرا رضائی بیٹا ہے اور اس کی مخالفت میں کتنے ہی مرد کھڑے ہوجائیں، اس اکیلی عورت کی ہی گواہی قبول کی جائے گی.۔۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *