اعتراض:آیت سے تناقص/منافقانہ رویہ اختیار کرنےپر مجبورکرنا

34

آیت لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ سے تناقص:
گزشتہ بحث کو بغور پڑھنے سے بڑی حد تک یہ وسوسہ خود بخود رفع ہوجاتا ہے کہ  لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کے معنی یہ ہیں کہ ہم کسی کو اپنے دین میں آنے کے لئے مجبور نہیں کرتے۔اور واقعی ہماری روش یہی ہے مگر جسے آکر واپس جانا ہو اُسے ہم پہلے ہی خبردار کردیتے ہیں کہ یہ دروازہ آمد ورفت کے لئے کھلا ہوا نہیں ہے لہذا اگر آتے ہو تو یہ فیصلہ کرکے آؤ کہ واپس نہیں جانا ہے ورنہ براہِ کرم آؤ ہی نہیں۔

منافقانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا:
قتل مرتد کو یہ معنی پہنانا بھی غلط ہے کہ ہم ایک شخص کو موت کا خوف دلا کر منافقانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
دراصل معاملہ اس کے برعکس ہے ہم ایسے لوگوں کے لئے اپنی جماعت کے اندر آنے کا دروازہ بند کردینا چاہتے ہیں جو تلّون کے مرض میں مبتلا ہیں اور نظریات کی تبدیلی کا کھیل تفریح کے طور پر کھیلتے رہتے ہیں اور جن کی رائے اور سیرت میں وہ استحکام سرے سے موجود ہی نہیں ہے جو ایک نظامِ زندگی کی تعمیر کر لئے مطلوب ہوتا ہے۔
کسی نظامِ زندگی کی تعمیر ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو جماعت اس کام کے لئے اُٹھے اس میں لہری طبیعت کے کھلنڈرے لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔اس کو صرف ان لوگوں سے مرکب ہونا چاہئے جو واقعی سنجیدگی کے ساتھ اس نظام کو قبول کریں اور جب قبول کرلیں تو دل و جان سے اس کے قیام اور اس کے تعمیر میں لگ جائیں۔
لہذا یہ عین حکمت و دانش ہے کہ ہر اس شخص کو جو اس جماعت کے اندر آنا چاہے پہلے ہی مطلع کردیا جائے کہ باغی ہوکر اس سے نکلنے کی سزا موت ہے تاکہ وہ داخل ہونے سے پہلے سو مرتبہ سوچ لے کہ آیا اسے ایسی جماعت میں داخل ہونا چاہئے یا نہیں۔اس طرح وہ ہر لحاظ سے مکمل تسلی کرکے آئے گا ۔
بلاشبہ ہم نفاق کی مذمت کرتے ہیں اور اپنی جماعت میں ہر شخص کو صادق الایمان دیکھنا چاہتے ہیں۔مگر جس شخص نے اپنی حماقت سے خود اس دروازے میں قدم رکھا جس کے متعلق اسے معلوم تھا کہ وہ جانے کے لئے کھلا ہوا نہیں ہے اگر وہ نفاق کی حالت میں مبتلا ہوتا ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے اس کو اس حالت سے نکالنے کے لئے ہم اپنے نظام کی برہمی کا دروازہ نہیں کھول سکتے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *