لبرل معاشروں میں “ریپ” ایک شور مچانے کی چیز نہ کہ ختم کرنے کی!

۔

۔

بنتِ حوّا کی عصمت دری کرنے والوں کو ایک عبرت ناک سزا دلوانے کے حق میں ہمارے ’ٹویٹ شویٹ‘ کرنے والے سادہ لوح شاید صورتحال کی سنگینی یعنی معاشروں کی ایک لبرل تشکیلِ نو سے واقف نہیں، جو کہ دورِ حاضر کا ایک فعّال منصوبہ ہے۔ ’’لبرلائئزیشن‘‘ وقت کا سب سے مہنگا اور بھاری بھر کم پروگرام؛ جس کے مختلف segments  یہاں کے مختلف طبقوں کو سونپ رکھے گئے ہیں۔ شاید ہی کوئی طبقہ ہو جو اس میں اپنے حصے کا کام نہ کر رہا ہو، یہاں تک کہ کچھ نیک طبقے بھی اس ’’تشکیلِ نو‘‘ کے کچھ بےضرر حصے سنبھالے ہوئے ہیں۔ ’ہدایتکار‘ کچھ ایسا سمجھدار واقع ہوا ہے کہ ہر کردار کےلیے اس کے مناسب ترین چہرے کا چناؤ کرتا ہے؛ اور فضول بھرتیاں تقریباً نہیں کرتا۔ اس لحاظ سے، یہاں بہت زیادہ ’فواد چودھری‘ اور ’شیریں مزاری‘ اگر آپ کو نظر نہیں آتے تو لبرل پروگرام کی بابت اس سے کسی غلط فہمی میں مت آئیے۔ ایسے منہ پھَٹ کسی سماجی پروگرام کے نمائندے نہیں بلکہ اس کا ایک معمولی سا کردار ہو سکتے ہیں۔ جس کےلیے چند بہت ہیں۔ بلکہ ہو سکتا ہے یہ اس پروگرام کا سب سے  کم اہم و غیرمتعلقہ کردار ہوں۔ ہاں اگر آپ کی نظر ایک ’’مجموعی تصویر‘‘ پر ہے تو ایک ‘slow and steady’  تبدیلی پر آپ کے اوسان خطا ہوئے بغیر نہیں رہتے۔

بھائی! لبرل معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں “جنس” کا بخار باقاعدہ عام کیا گیا ہو، “ریپ” کے دواعی  stimulations جہاں آسمان سے باتیں کر رہے ہوں؛ اور  اس پر سزائیں عورت کے بدن سے “مٹی جھاڑنے” کے مترادف۔ (معذرت خواہ ہوں، فحش گوئی مقصود نہیں، کسی کی غیرت بیدار ہو جائے تو البتہ اچھا ہے)۔ لبرل معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں ’می ٹو‘ ہیش ٹیگ برس ہا برس اپنی دلچسپی اور ’ایکسائٹمنٹ‘ نہ کھو سکے اور جس کا ایک ایک ٹویٹ ہزار ہزار ’لائیک‘ اور ’شیئر‘ لے کر جائے! لبرل معاشرہ جہاں عورتیں اپنی “عزت” لوٹی جانے کا واقعہ تقریباً ویسے ہی بتا سکیں جیسے سڑک پر “پرس” چھینے جانے کا! “عزت” بس اتنی ہی ہوتی ہے اس گھر میں، دوستو، تھوڑی جھاڑ کر بحال ہو جاتی ہے اور زندگی رواں دواں!  آپ اس پر “عبرتناک” سزا دلوانے چلے! غیرت کی بِین، اس لبرل کے آگے!؟

دنیا کے جو معاشرے لبرلزم کے کئی کئی زینے چڑھ چکے، اوپر بیان ہونے والی بات پر وہ ایک زندہ و موجود دلیل ہیں۔ ’’ریپ‘‘ سے متعلق آپ اُن ملکوں کے اعداد و شمار دیکھیے، سر پکڑ کر رہ جائیں گے۔ شاید یہ مبالغہ نہ ہو، کوئی ملک جتنا لبرل، ’’ریپ‘‘ کا گراف وہاں اتنا بلند۔ لہٰذا ایک شےء لبرلزم کے ساتھ باقاعدہ جڑی ہوئی اور اس کی ایک غیرمتبدل consistent   پہچان چلی آتی ہے۔ ایک سماجی پیکیج کا طبعی و فطری جزو ہے۔ وہاں آپ اس کی پرورش کے مزید سے مزید اسباب دیکھنے کے منتظر رہیے نہ کہ اس کے سد باب کے۔ ہاں جہاں تک اس پر شور اٹھانے کی بات ہے تو معذرت کے ساتھ،  ’’ریپ‘‘ کے حوالے سے وہ ایک لبرل معاشرے کو بہت اچھا لگتا ہے، نہ معلوم کیوں! بلکہ یہ ہے ہی اس کے یہاں شور اٹھانے کی بات نہ کہ ختم کرنے کی! لبرل کلچر کا یہ ایک لازمی و دائمی حصہ ہے! ’’می ٹو‘‘ اس میں ایک مقبول ترین ٹرینڈ کا نام ہے، دوبارہ معذرت کے ساتھ! اس پر ’’عبرتناک سزا‘‘ کی توقع کرتے وقت دراصل آپ آدمی کے غیرت اور فطرت پر ہونے کی ایک خاص سطح فرض کر لیتے ہیں، جو کہ لبرلزم کے ساتھ خاصی شدید زیادتی ہے، جو غیرت کو ایک مِتھ یعنی خرافات کا درجہ دیتا ہے!

ہاں تو مسلمانو! اس ملک میں آپ کی بیٹیاں ہیں اور ان شاء اللہ رہیں گی۔ مائیں ہیں۔ بہنیں ہیں۔ آپ کی عزتیں آبروئیں ہیں۔ ان کا مستقبل محفوظ بنانا ہے، تو ایک بدبودار تہذیب کے خلاف آپ کو آج محاذآرا ہونا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وقت بالکل ہی ہاتھ سے نکل جائے۔ کم از کم ایک اتنا ہی شدید اور زوردار بیانیہ جو یہاں کی کچھ پارٹیاں ’کرپشن‘ کے خلاف لے کرآئیں اور جس پر ان کی بیس بیس تیس تیس سال کی محنت ہوئی، گویا ایک پوری نسل کھپی ، تب جا کر ایک ’’مزاحمت‘‘ کی صورت بنی؛ اور ابھی بھی بہت کچھ ہونا باقی۔ سماجی روگ ایسی ہی ایک بلا ہیں۔

میں بارہا عرض کر چکا ہوں، ایک بہت بڑی آسامی پاکستان کی سیاسی و سماجی جدوجہد کی زندگی میں دینی جماعتوں کےلیے بالکل خالی ہے، چاہیں تو تھوڑی محنت سے پُر کر لیں۔ بجائے اس کے کہ ایسے بیانیوں میں اپنے لیے جگہ  تلاش کریں جو اوروں نے بڑی بڑی دیر ہوئی اپنے نام کروا لیے، اور اب ان کی دھنوں پر آپ جتنا الاپتے ہیں اتنا کسی اور ہی کی آواز میں جان ڈالتے ہیں۔ اخلاق اور اقدار کا جو دیوالیہ نکل چکا، اس کے محافظ کے طور پر سامنے آنا یہاں ایک بہت بڑا بریک تھرو ہو سکتا ہے؛ اور یہ آپ اسلامیوں ہی کا کام ہے۔ بس عرض یہ ہے کہ ’’بیانیہ‘‘ وہ شےء ہے جو بہت سے نکات پر مشتمل ہونے کی متحمل نہیں ہوتی۔ ’’بیانیے‘‘ کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہوتا ہے۔ اس کا بند و بست ہو جائے تو منبروں اور محرابوں کی مزاحمت آج بھی آپ کے شامل سفر ہو سکتی ہے اور کیا بعید بہت سے برج الٹ دے۔ جہاں تک سنگینی کی بات ہے، تو میں بلا مبالغہ عرض کرتا ہوں لبرلزم کے خلاف ایک ایسے ہی زوردار بیانیے کی ضرورت ہے جیسا چند عشرہ پیشتر آپ قادیانیت کے خلاف لے کر آئے تھے۔ بلکہ کیا بعید، یہ قادیانیت وغیرہ ہی کی ایک کیموفلاج صورت ہو۔ میں اس بات سے بھی متفق نہیں کہ کچھ مسلمان طبقوں میں پائی جانے والی فرقہ واریت یہاں کوئی تحریک اٹھانے میں آج مانع ہے۔ پچھلے عشروں میں جو کچھ کامیاب تحریکیں آپ اسلامیوں نے یہاں پر اٹھائیں، وہ کوئی ’قرونِ اولیٰ‘ کا واقعہ نہیں اِسی ’دورِ فرقہ واریت‘ کا ایک واقعہ ہے۔ مجھے اس میں ذرہ شک نہیں، کہ ’’بیانیے‘‘ کا مسئلہ اگر آپ حل کر لیں، یعنی وہ بہت سے نکات پر مشتمل نہ ہو، بس ایک ہی نکتہ جو عام آدمی کو دو اور دو چار کی طرح سمجھ آنے والا اور اس کی غیرت اور حمیت کو للکارنے والا ہو، نیز اُس بیانیے کو آپ ایک ’’نعرۂ مستانہ‘‘ بنانے کا بھی بندوبست کر لائیں، تو کوئی رکاوٹ ایک شاندار تحریک اٹھا دینے کی راہ میں یہاں پر حائل نہیں۔ بےشمار عوامل اس کی پشت پر آنے کےلیے پہلے سے موجود ہیں۔ اور کیا بعید ’’کرپشن‘‘ والے نعرے سے زیادہ ہوں۔ باقی یہ سوشل میڈیا ہیش ٹیگز کسی برسر زمین تحریک کےلیے تو بےشک مفید ہیں، لیکن برسر زمین اگر کوئی تحریک ہی ہمارے پاس نہیں جو اس لبرل سویرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہو، اور منبر و محراب کی مزاحمت کو اپنی پشت پر لانے کا انتظام رکھتی ہو، تو کسی ’’تحریک‘‘ کی غیرموجودگی میں یہ ’سوشل‘ خامہ فرسائی ایک خانہ پُری ہے۔ بس یہ کہہ لیں کہ نہ ہونے سے بہتر ہے۔ اللہ ہمیں معاف فرمائے اور ادائے فرض کی توفیق دے۔

شیخ حامد کمال الدین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*

    Forgot Password