اسلام مساوات نہیں عدل و انصاف کا دین ہے۔۔!!

1

مغربی و مشرقی مفکرین نے مساوات کی ایک غیر معقول اصطلاح متعارف کروائی ہے کہ انسانوں کے درمیان زندگی کے ہر شعبے ميں مساوات ہونى چاہيے پھر مخالفین اسلام نے اس اصول کو لے کر اسلام پر بھی اعتراضات کیے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا نظریہ مساوات كا نہیں بلکہ عدل و انصاف كا ہے۔.!!
مساوات كا تقاضا ہے كہ ہر انسان کو مابين ہر جگہ برابر ٹھہرایا جائے اس سے یہ مساوات بعض جگہ ظلم بن جاتی ہے ۔ کئی لوگوں نے یہ نعرہ لگایا کہ مرد و عورت كے مابين كونسا فرق ہے ؟ انہوں نے مرد و عورت كو برابر كر ديا ہے، حتى كہ كيمونسٹ تو يہاں تك كہتے ہيں كہ حاكم اور محكوم كے مابين كونسا فرق ہے ؟ يہ ممكن ہى نہيں كہ كوئى ايك دوسرے پر تسلط رکھے اور حكمرانى كرے، حتى كہ والد اور بيٹا بھى، والد كو اپنے بيٹے پر بھى تسلط اور طاقت نہيں ہے، اسى طرح آگے بڑھے اور سماج کی ہر ترتیب کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ۔۔۔
دوسری طرف عدل كا معنى ہے كہ ہر مستحق كو اس كا حق دينا جس كا وہ مستحق ہے۔ اسى ليے قرآن مجيد ميں كبھى يہ لفظ نہيں آئے كہ اللہ تعالى تمہيں مساوات يعنى برابرى كرنے كا حكم ديتا ہے بلکہ :
{ اللہ تعالى تمہيں عدل و انصاف كا حكم ديا ہے } النحل ( 91 ).
{ اور جب تم لوگوں ميں كے درميان فيصلہ كرو تو عدل و انصاف كے ساتھ فيصلہ كرو }النساء ( 58 ).

اورقرآن مجيد ميں اكثر مساوات كى نفى کی گئی .
{ كہہ ديجئے كيا وہ لوگ جو جانتے ہيں اور جو لوگ نہيں جانتے برابر ہيں ؟}الزمر ( 9 ).
{ كہہ ديجئے كيا اندھا اور ديكھنے والا برابر ہو سكتے ہيں؟ يا كيا اندھيرے اور روشنى برابر ہو سكتے ہيں ؟}الرعد ( 16 ).
{ تم ميں سے جس نے فتح سے پہلے خرچ كيا اور جھاد كيا برابر نہيں، يہ ان لوگوں سے زيادہ درجے والے ہيں جنہوں نے اس كے بعد خرچ كيا اور جہاد كيا }الحديد ( 10 ).

مرد و عورت کا معاملہ بھی یہی ہے اسلام انکے مابين مساوات اور برابرى نہيں انصاف کرتا ہے ۔ اگر مساوات و برابرى كى جائے تو ان ميں ايك پر ظلم ہوگا۔. دونوں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ، کمزوریاں ، صلاحیتیں ہیں انہی کی بناء پر ان میں حقوق و فرائض کی بھی تقسیم ہے۔۔ شریعت کی نظر میں بحثیت انسان مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اكثر شريعت اسلاميہ كے احكام مرد و عورت پر برابر لاگو ہوتے ، عورت بھى مرد كى طرح ہى وضوء ،غسل كرتى ، مرد كى طرح روزہ ركھتى ، زكاۃ ادا كرتى حج كرتى ، خريد و فروخت ، صدقہ كرتى ہے ۔ جہاں دونوں جنسوں ميں فرق آيا ہے ، وہاں اسلام عورت كى فطری صلاحیتوں اور كمزورى كو بھی دیکھتے ہوئے ذمہ داریاں لاگو کرتا ہے ، مثلا مردوں پر اپنے بیوی بچوں کی کفالت فرض ہے اسی طرح جہاد فرض ہے، ليكن عورتوں پر نا کمانے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے اور نا مسلمانوں کے لیے جہاد و قتال کے لیے نکلنے کی۔۔ یہاں مساوات سے عورت پر ظلم ہوتا ، اسی طرح باقی معاملات میں بھی عدل کے تقاضے کے تحت اک کو دوسرے پر فوقیت دی گئی.
مستفاد: اسلام کیو اے ڈاٹ کام

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *