ایمان اور عقل-افراط و تفریط کا جائزہ

11108666_1650259008544058_299877312923292861_n

دین کا فطرتاََ بمطابق عقل ہونا ( یا دونوں کا باہم مطابق ہونا) ایک الگ چیز ہے، اور کسی کی طرف سے دین کا مدارعقل پر ہونے کا دعوٰی ایک بالکل اور بات ۔ اول الذکر سے دوسرا قطعاََ لازم نہیں آتا۔ جو چیز پہلے کہی گئی اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ دین انسان ہی کے لئے نازل ہوا ہے ، اور انسان کا مکلف ہونا اس کے صاحب ِعقل ہونے کی وجہ سے ہے، اسلئے دین اور عقل میں ایک نہایت خاص اور گہرا تعلق ہی۔۔۔۔ اس طرح سے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے بنے ہیں اور دونوں میں کا ہر ایک ، دوسرے کی موجودگی میں ہی کارآمد ہے۔ چنانچہ دین کو قبول کرنے اور اس پر چلنے میں ، ہر جگہ اصل کردار عقل کا ہی ہے۔
جبکہ آخر الذکر بات کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ دین کی جو بات عقل کے مطابق ہو گی وہی قابلِ قبول ہو گے، ورنہ نہیں۔ یا یہ کہ جو بات عقل کے مطابق ہو گی وہی دین ہو گے، ورنہ نہیں۔ پہلی بات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عقل اور دین دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔ جبکہ دوسری بات سے یہ نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ عقل ہی مآخذِ دین ہے۔ ( فلاسفہ اور معتزلہ کا مشہور مذہب)۔
لہٰذا یہ اندیشہ کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ دین و شریعت میں از اول تا آخر عقل کا کردار سراہنے سے دین پر عقل کی بالادستی اور اس کا حَکَم ہونا لازم آتا ہے۔ پھر اس اندیشے کی بنیاد پر عقل کا کردار ہی معطل قرار دینا ( بطور خاص ایمان لانے اور دین قبول کرنے کے معاملے میں) بناءالفاسد علی الفاسد کی ایک مثال ہے اور اس معاملے کی ایک دوسری انتہا۔
دین کا عقل کے مطابق ہونے سے ہماری مراد اہواءاور خواہشات کے مطابق ہونا نہیں ہے۔ کیونکہ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ عقل میں صرف اہواءو خواہشات ہی پائی جائیں اور وہ فطری سلامتی سے بالکل ہی محروم ہو۔ نہ عقل کا دین کے تابع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دین کی ہدایت کا سِرا پانے کے لئے اب عقل کو کوئی کردار ادا کرنا ضروری ہی نہیں۔ (”پیدائشی مسلمانوں“ کو ویسے یہ دین اس مرحلے سے گزرے بغیر ہی مل جایا کرتا ہے! اسی لئے ”دین قبول کرنے میں عقل کے کردار“ پر ان کو ایک اچنبھا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔)
چنانچہ عقل کا دین کے تابع ہونا اور دین کا عقل کے مطابق ہونا دو باتیں ہیں جو اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں، اور جن میں باہم کوئی ٹکراوء ، تصادم یا منافات نہیں ہے۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہ دو باتیں دراصل ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ کیوں کہ عقل دین کے تابع اسی لئے تو ہے کہ وہ اس کے عین مطابق ہے۔ یہ مطابقت نہ ہو تو عقل کے پاس اس اتباع کی ”وجہ“ ہی کیا ہو؟!! وہ عقل ہی کیا جو کسی کی یونہی تابعداری کر جایا کرے؟!
عقل اور دین کے درمیان دُوری اور عدم ِتعلق کا منہج دراصل فلسفیانہ طریقہء تفکیر کے ردِعمل میں سامنے آنے والے ایک مفروضہ (Pre-assumption) کا پیدا کردہ ہے جو بعض دینی حلقوں کی جانب سے اسلام کے عقائد و ایمانیات کی بابت بطور اصل الاصول اختیار کر لیا گیا ہے۔ یہ مفروضہ کچھ یوں ہے کہ، عقائد اور ایمانیات مکمل طور پر عقل و سمجھ سے ماورا ءہوتی ہیں، اور لہٰذا غیر محتاج دلیل ہوتی ہیں۔
اگرچہ واضح طور پر اور براہ راست یہ مفروضہ اسطرح پیش نہیں کیا جاتا ، لیکن جو کچھ بھی عقل و دین کے باہمی تعلق ( بلکہ عدم تعلق!) کے حوالے سے متذکرہ حلقوں کی طرف سے خیال آرائی کی جاتی ہے، اسکی روشنی میں یہ مفروضہ بطور ” مسلّمہ“ پس ِپردہ صاف طور پر کارفرما دیکھا جاسکتا ہے۔
مثال کے طور پر یہ کہنا کہ ایمان و تسلیم کبھی دلیل سے پیدا نہیں ہو سکتے بلکہ خود دلیل کی بنیاد ایمان و تسلیم ہوتی ہے۔ لہٰذا کسی کو دلیل کی بنیاد پر مسلمان نہیں کہا جا سکتا ۔ اور یہ کہ، موجودہ سائنسی حقائق و مسلمات (Existing Scientific Facts) اور دین میں مطابقت اور ہم آہنگی ثابت کرنا، دین کو عقل کے تابع کرنے کے مترادف ہے کیونکہ سائنس خود عقل کے تابع ہے۔۔۔۔ ، یہ سب یسے ”شگوفے“ ہیں جو اسی مذکورہ بالا مفروضہ کے شجر سے ہی پھوٹ سکتے ہیں۔ ان دونوں نظریات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دین کے عقائد پر ایمان ، عقل کے راستے سے گزر کر کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ پس لازم ہوا کہ ایمان عقل سے ماوراءکوئی شے ہے ، جس میں عقل کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا۔! انسان کو چاہیے کہ دین کی دعوت پہنچتے ہی عقل کو فوراََ ” بالائے طاق“ رکھ دیا کرے، تاکہ ا یمان قبول کرنے میں حائل ”سب سے بڑی رکاوٹ “دور ہو سکی!!!
یعنی جو چیز در حقیقت جس چیز کو حاصل کرنے اور اسے اپنائے رکھنے کے لئے بنائی گئی ہے، اسی کا نہ ہونا ان کے یہاں اس مقصد کے حصول کے لئے لازمی ہی!!
چنانچہ دنیا کے عرصہء حیات میں اب انسانی عقل کا کردار (بطور آزمائش) اس کا ترک اور عدم ِاستعمال ٹھہرا !! یہ تو واقعی بڑی آزمائش ہے!!!
یہی نہیں بلکہ آگے چل کر یہی ترکِ عقل، ترکِ دنیا کا بھی مقدمہ بن جاتا ہے (سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کی مخالفت کی صورت میں۔) اور اسکو ایک باقاعدہ شرعی حیثیت بلکہ ” فرضیت“ حاصل ہو جاتی ہی! گویا تمام تر زہدو تقویٰ ایک عقل کو ترک کر دینے کا نام ہے!!!
جو عقل دین میں اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے پر تیار نہ ہو ، وہ پھر اسی لائق ہے کہ دنیا میں بھی عاجز و درماندہ ہی رہے۔
تقویٰ و زہد بہرحال کفرانِ نعمت سے قطعاً ہٹ کر کوئی اور ہی چیز ہے ۔ عقل کو ”عقلی طور پر “ چھوڑ دینے سے بڑھ کر کفران نعمت بھلا اور کیا ہوسکتا ہے ؟!
چنانچہ سائنسی مطالعہء کائنات کی مخالفت کی وجہ جہاں ترکِ عقل کا ”تقاضا“ ہے، جو کہ ایمان و تسلیم کی”شرط“ ہے !وہیں دنیاوی و سائل و ذرائع پر کنٹرول اور سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال کی ممانعت اسی ترکِ عقل سے لازم ٹھہرتی ہے، جو پھر زہدوتقویٰ کی بنیاد ہے !! گویا، معاذاللہ اسلام کا دینی پہلو بھی عقل سے خالی اور دنیا وی پہلو بھی عقل سے محروم !
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *