ایمان کوئی جبری چیز نہیں ہے۔۔

2

کیا عقل کی تکمیل اور رہنمائی اس(عقل ) سے عدم ِمطابقت اور اختلاف و تضاد رکھتے ہوئے یا
عقل کی فطرت کو نظر انداز کرتے ہوئے ہو سکتی ہے؟
پھر وہ رہنمائی ہی کیا ہوئی ؟
کیا کسی راستہ بھٹکے ہوئے یا منزل کی تلاش میں نکلے ہوئے کی رہنمائی جبراََ کی جاسکتی ہے؟
وہ ذات کہ جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو عقل کی نعمت سے سرفراز کی۔۔۔۔ وہ ذات انسان کو خوب جانتی ہے۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ( ق – 16)
”ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ،اور ا س کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں وہ ہم ہی جانتے ہیں۔“
اس ذات نے پھر اپنے پاس سے اپنی اس مخلوق کے لئے ہدیت و رہنمائی نازل فرمائے۔ خلاق العلیم اور حکیم و خبیر کی ذات سے بعید اور شان سے فِرو تر ہے کہ وہ دو چیزوں کو خالص ایک دوسرے کے لئے بنائے اور دونوں(راہنمائی اور عقل ) میں پھر بھی عدمِ مطابقت اور تضاد یا اختلاف پایا جائے۔۔۔!

چنانچہ دین پرایمان لانے اور اس کو من و عن تسلیم کرنے سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس کو بغیر سمجھے بوجھے ، اس کی حقانیت کی دلالت کو بغیر جانے اور اس پر غور کیے بغیر ”بس“ مان لیا جائے!! ایمان کوئی جبری چیز نہیں ہے۔۔۔۔ نہ خارجی طور پر، نہ داخلی طور پر۔

معاذ اللہ دین کوئی اس لیے تھوڑی یا ہے کہ وہ عقل کو چاروں شانے چت کر کے شکستِ فاش سے دوچار کر دے۔ جیسا کہ بعض مکتبہ ہائے فکر کی اپروچ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دین میں اور عقل میں خدا واسطے کا بیر ہے! اور جب تک عقل کو چاروں کھونٹ باندھ کے اور اس کی مشکیں کَس کے بالکل ہی عاجز و درماندہ ( بلکہ” ذلیل و خوار“) نہ کر دیا جائے تب تک دین کا حَکَم ہونا اور عقل پہ اس کا بالا دَست ہونا متحقق نہیں ہو سکتا..!!

اس طرح کی ضرورت ان مذاہب کو پڑتی ہے جن میں تحریف ہو چکی ہو اور عقائد و احکام حد درجہ مسخ ہو چکے ہوں۔ جیسا کہ عیسائی ایمانیات کی بنیا د یہ ہے کہ وہ ایمانیات کو ماورائے عقل کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تصوّر ِالٰہ اس قدر غیر منطقی و متضادِ عقل ہے کہ اس کو ”سمجھانے“ کے لئے ان کے پاس واحد حل یہی ہے۔

دین کا عقل سے ٹکرؤ یا تصادم تو خیر کیا ثابت ہونے والی چیز ہے، دین کی سب سے بڑی مؤ ید اور اس سے ہم آہنگ چیز خود عقل ہی ہے۔ دین کو واجب التسلیم ماننے کے باوجوداُس کا خلافِ عقل یا ماورائے عقل ہونا، اگر عقل سے ثابت ہو سکتا ہے تو سب سے پہلے خود یہی بات دین اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔
ورنہ دین میں کہاں آیا ہے کہ وہ خلافِ عقل ہے؟ ؟ان(لوگوں ) کے نزدیک دین جس چیز کے خلاف اور ماوراءہے( یعنی عقل) ،خود اسی کے ذریعے وہ دین کا اس کے خلاف ہونا” ثابت “ کرتے ہیں!!! سبحان اللہ و بحمدہ۔

چنانچہ دین کی آمد کا مقصد قطعاََ یہ نہیں ہے کہ عقل کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔ نہ دین کو تسلیم کرنے میں عقل کے زیر ہوجانے کو ماننا ہی تسلیم کا لازمی تقاضہ ہے۔ دو چیزوں میں ”باہمی اتفاق“ اور ”قبولیت “ کے نتیجے میں بھی تو تسلیم کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔۔ چنانچہ عقل کا دین کے ماتحت ہونے کے تقاضے سے نہ تو اس کا عدم استعمال لازم آتا ہے نہ غیرفعال ہو جانا۔، البتہ اس کے استعمال کی کچھ جہتیں متعین ہوجانا ضرور لازم آتا ہے۔
اب یہ جو ”اتفاق “ اور ”قبولیت“ ہے ، یہ مجرد تسلیم برائے تسلیم سے بڑھ کر کوئی چیز ہے۔ اس میں عقل کا انبساط ہے نہ کہ انقباض ۔ صدر کا ا نشراح ہے نہ کہ ضیق۔ دل کا اطمینان ہے نہ کہ تشویش ۔ اور فکر کی بالیدگی ہے نہ کہ پژمردگے۔ اور یہی دین کی آمد کا مقصودبھی ہے کہ عقل اس کے ساتھ اتصال کی بدولت جِلا اور افزائش پائے ، نہ کہ خود نقصان میں پڑجائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عقل کے نقصان میں تو خود دین کا نقصان ہے۔

بلاشبہ دین میں ایک کشش ، ایک جاذبیت ، اور ایک تاءثیر ہے۔ عقل کو جب دین کی معنی آفرینی سے صحیح معنوں میں اتصال کا موقع ملتا ہے تو وہاں وہ اپنے لیے ایک زبردست ہم آہنگی ، مطابقت اور اتفاق پاتی ہے۔ چنانچہ اس کے پاس سوائے ایک بے ساختہ قبولیت کے کوئی دوسراراستہ ہی نہیں رہتا۔ ان معنوں میں بے شک یہ عقل کی تسلیم ہے جو کہ دراصل مطلوب ہے۔۔
اور ایک وہ تسلیم ہے جس میں عقل کا کوئی قابل ِذکر کردار ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ بے چاری تو ایک طرف ” محو ِ تماشائے لبِ بام“ ہوتی ہے۔۔۔
ایسی تسلیم جسکی بنیاد میں ”اتفاق“ اور ”قبولیت “جیسی عقلی شراکت نہیں پائی جاتی ، وہ پھر تشکیک کے چند جھٹکوں سے زمین بوس بھی ہو جاتی ہے، اور یا پھر اس میں ملاوٹ کی آمیزش ہو جاتی ہے، اگرچہ ظاہراً دعوائے تسلیم برقرار ہی رہے۔۔۔!!!!

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *