اعتراض: میں نے دعا مانگی چھوڑ دی ، میں دعائیں کرکرکے تھک گیا ہوں۔

12

میں نے دعا کرنا چھوڑ دی کیونکہ میں خدا سے دعایں کر کر کے تھک گیا مگر کسی ایک کا بھی جواب نہیں آیا، خدا نہ ہوا کوئی بلیک ہول ہو گیا ۔

تبصرہ:
مسائل وجوہات : غلط نظریہ/ بے عملی /معجزے چاہنا/غلط طریقہ کار /جائز اسباب کواختیار نا کرنا:

ہم فرض کرتے ہیں کہ (اللہ نہ کرٓے کہ ایسا ہو ) پاکستان میں صومالییہ جیسا قحظ آ جاتا ہے، بچے بھوک سے بلک بلک کر ہلاک ہو رہے ہوتے ہیں، مائیں اپنی جھولیان اٹھا اٹھا کر دعائیں مانگ رہی ہیں کہ اے اللہ ہمارے اوپر رحم فرما، بظاہر انکہ دعائین قبول نہیں ہو رہی ہیں، بھوک اور وحشت ویسے ہی ناچ رہی ہے، خدا کے منکر، باغی اور گمراہ قسم کے فلسفی منہ پھاڑ پھاڑ کر اللہ پر تنقید کر رہے ہیں کہ یہ سارا قصور اللہ کا ہے۔
ہم جائزہ لیتے ہیں تو پاکستان میں قحط اور افلاس کی بنیادی اور کامن وجویات کیا تھیں (انفرادی وجویات مختلف ہو سکتیں ہیں) تو پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی عدم دستیابی ہے، اور اسکا ضیاع نظر آتا ہے،، دریا، وسائل ، موسم ، قابل کاشت زمینیں ، افرادی قوت موجود تھی لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا، مناسب انتظامات نہیں کیے گئے جس سے قحط آگیا ، لوگ بھوک اور افلاس سے دھڑا دھڑ مر نے لگ گئے۔
اب اللہ ان معصوم بچون اور عورتون کی پکار اور ملحدوں کے طعنے سن کر فرشتون کو حکم دیتا کہ جاو اور پاکستان مین 6-7 بڑے بڑے ڈیم بناو ، فرشتے حکم بجا لاتے ہین راتوں رات ڈیم بن جاتے ہیں، پاکستان میں پانی کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے، جب انڈیا والے، چائینہ والے اور دوسرے ممالک والے یہ ماجرا دیکھتے ہیں تو شدئد حیران ہوتے ہیں اور خدا کے ماننے والے خدا سے شدید گلہ کرتے ہیں کہ ہم نے کئ سالوں کی محنت اور کثیر سرمائے سے ڈیم بنائے اور اپنے مسائل پر قابو پایا اور تم نے بغیر محنت کے پاکستانیوں کو نواز دیا، یہ کیسا انصاف ہے، ؟؟؟
اس سے ملتے جلتے اقدامات خدا دنیا میں اور جگہوں پر بھی کر تا ہے،
مثال کے طور پر ہر غریب کو نوٹوں سے بھرا ہو بیگ دے دیا، امیر محنت کش دیکھتے رہ گئے ۔۔۔
ہر بیمار آدمی کو بغیر دوائ اور ڈاکٹر کے تندرست کر دیا،بے عمل لوگوں کے مسائل حل کر دئے، سارے میڈیکل کالج، انڈسٹریاں اور ہسپتال بند ہوگئے ۔۔۔
جس نے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے ، فورا قبول کر لی، اسباب کی ضرورت ہی نہیں رہی، جس چیز کی ضرورت محسوس ہوئی دعا کی چیز حاضر ہوگئی ، ، ،
ایک صاحب یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ میری بیٹی کے لیئے کوئ نیک اور اچھا رشتہ دلوادے۔ لیکن وہ رشتے کے لیئے کسی کو گھر میں نہیں آنے دیتا، جو آتا ہے اسکو ٹکا سا جواب دے دیتے ہے ، انکی نظر میں “اچھا” رشتہ شائد پیسوں والا ہے، جب وہ سب کو ریجکٹ کر دیتے ہیں تو پھر اللہ کو “آڑے ہاتھوں” لیتے ہیں کہ خدا انکی سنتا نہیں ہے،
ایک اور صاحب ہیں وہ ہر وقت یہ دعا کرتے ہین کہ اے اللہ مین اعلئ تعلیم یافتہ ہوں مجھے اچھی نوکری دے دےیا کاروبار دے دے، لیکن گھر سے باہر نہیں نکلتے یا کوئ زیادہ کوشش نہیں کرتے بس ٹوٹل پورا کرتے ہیں،کمپٹیشن کو نہیں سمجھتے ، 2-3 جگہوں پر اپلائ کرتے ہیں لیکن ملازمت نہیں ملتی، 1-2 جگہوں سے آفر آتی ہے لیکن ٹھکرا دیتے ہیں کہ یہ انکے لیول کی نہیں ہے ، اسکے بعد خدا سے گلہ کرتےہیں، کہ خدا انکی دعا نہیں سنتا۔ ۔
ایک اور صاحب کے پڑوسی کے گھر پر کچھ لوگ حملہ کر دیتے ہیں(فلسطین کی مثال لے لیں) ، گھروں کو آگ لگا دیتے ہیں، بچوں کو بھوڑوں کو مار تے ہیں، عورتوں کی عزت لوٹ لیتے ہیں، ان صاحب کے گھر میں اسلحہ بھی ہے، پیسہ بھی، لیکن یہ کجھ نہیں کرتے، مکان کی چھت پر چڑھ جاتے ہیں، انکا تماشہ دیکھتے ہیں، دل ہی دل میں ان ظالموں کو گالیوں سے نوازتے ہیں، نیچے آ کرگھر والوں کے سامنے افسوس کرتے ہیں، مذمت کرتے ہیں، اسکے بعد مصلا ڈال کر اللہ سے گڑگڑا کر دعا مانگتے ہیں کہ یااللہ ہمارے پڑوسیو ں کی “”غیبی”” مدد فرما۔ دشمن کو زیر کر دے، نیست و نابود کر دے، ۔۔۔
اپنی دعا کا اثر دیکھنے کے لیئے دوبارہ چھت پر جاتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ منظر پہلے سے بھی زیادہ خوفناک ہو چکا تھا، مایوس ہو کر نیچے آتے ہیں ، کمپیوٹر آن کرتے ہیں، اور فیس بک آن کرکے اپنے اور اللہ کے رشتے اور تعلق کو ان الفاط میں سرعام رسوا کرتے ہیں “”””””
میں نے دعا کرنا چھوڑ دی کیونکہ میں خدا سے دعا کر کر کے تھک گیا مگر کسی ایک کا بھی جواب نہیں آیا، خدا نہ ہوا کوئی بلیک ہول ہو گیا ۔۔ ۔ ۔

دعا کو دعا ہے سمجھا جائے اور اسکا مذاق نہ اڑایا جائے، دعا ضرور قبول ہوتی ہے لیکن اسکی کچھ شرائط بھی ہیں اور CRITERIA بھی، اللہ تعالی نے اس دنیا کو دار الاسباب بنایا ہے، اور بہت سارے اسباب میں سے ایک دعا کو بھی رکھا ہے۔۔
جہاں تک دعا کی قبولیت کا مسئلہ ہے تو ایک بات واضح رہنی چاہئے کہ اللہ غیب ہے، اور غیب پر ایمان ہی کا مطالبہ کرتا ہے، لہذا اس کی مدد، اس کی تائید، اس کی رحمت، اور دعا کی قبولیت سب غیب کے پردوں میں چھپی آتی ہے،۔۔ وہ اسباب مہیا فرماتا ہے، آسانیاں پیدا فرماتا ہے، اسباب میں تاثیر ڈالتا ہے۔۔ یہی نہیں، جہاں اسباب واقعتا مکمل طور پر کٹ چکے ہوں، وہاں بلا سبب بھی مدد فرماتا ہے، مگر مدد کے لئے خود نہیں چلا آتا۔۔ غیب کے پردوں میں رہ کر ہی مدد فرماتا ہے۔۔
غرض دعا اسباب کی دنیا سے الگ کوئی چیز نہیں، نہ دیگر اسباب سے بے نیاز کرتی ہے، یہ من جملہ اسباب میں سے ایک سبب ہے، جو دوسرے اسباب کے ساتھ مل کر موثر ہوتی ہے۔
اس دنیا میں بھی ایسا ہم بہت دیکھتے ہیں کہ آدمی سبب اختیار کرتا ہے، محنت کرتا ہے مگر کامیابی اسے نہیں مل پاتی، اب اگر کوئی کہے کہ میں نے تو محنت کی، جی جان سے محنت کی لیکن مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا، اس کا مطلب یہ ہے کہ محنت وحنت کوئی چیز نہیں، محنت نہ ہوئی بلیک ہول ہوگئی۔ تو ظاہر ہے کہ ہم ایسے شخص کی عقل پر ماتم کرنے کے سوا کیا کرسکتے ہیں؟؟
ہم دعا کرتے ہیں ہماری دعائیں پوری ہوتی ہیں ۔ ہم ہی کیا دنیا کے کڑوڑوں انسان شروع دن سے خدا سے مانگتے آرہے ہیں اگر یہ ایسی ہی کوئی بے فائدہ چیز ہوتی یا دعا سے کوئی فائدہ نہ ملتا ہوتا تو وہ کیوں مانگتے؟؟ یہ مجرب بات ہے لوگ ہمیشہ سے اس کا تجربہ کرتے چلے آرہے ہیں، تو جس کی دعا (اس کے زعم وخیال میں) قبول نہیں ہوتی اس کا یہ کہنا کہ دعا ہی سرے سے قبول نہیں ہوتی، ایک باطل دعوی ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *