اعتراض: ناممکن چیزوں کے متعلق دعاؤں کا قبول نا ہوناخداکی غیر موجودگی کی دلیل ہے

9

اعتراض : یہ دعا کیوں قبول نہیں ہوتی کہ سورج مغرب سے نکلے، ممکن چیزوں کے متعلق ہی دعائیں کیوں قبول ہوتی ہیں؟ کائنات کا اپنے قوانین سے انحراف نہ کرنا اور ناممکن چیزوں کے متعلق دعاؤں کا قبول نا ہونا خدا کی غیر موجودگی کی دلیل ہے۔
جواب
بہت سے لوگ خدا سے ایسے مطالبات کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر خدا قادر مطلق ہے تو کائنات اپنے قوانین سے انحراف کیوں نہیں کرتی؟
اس کی سیدھی سی وجہ بذات خود کائنات میں موجود اس کے برتاؤ کاتعیین (Designation) ہے۔
دیکھنا تو یہ چاہیے کہ کائنات اپنے اصولوں پر اس مضبوطی سے کاربند کیوں ہے؟ یہ ایک ایسی مسٹری ہے جو ابھی تک حضرتِ انسان کی گرفت میں نہیں آسکی۔ جدید ریاضیاتی منطق کی رو سے بھی کائنات کی مطابقت (consistency) بذاتِ خود ایک “سپر سسٹم” کی موجودگی کی علامت ہے۔ اگر مظاہر میں مطابقت نہ پائی جائے تو ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ان مظاہر کی عدم مطابقت کسی سپر سسٹم کی عدم موجودگی کی علامت ہے۔۔۔۔ معترض بھی اس کو مان رہے ہیں کہ مظاہر میں مطابقت پائی جاتی ہے۔ اس لیے منطقی طور پر ان مظاہر سے وجود میں آنے والے بدیہی قضایا کو عقلی طور پر ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ان کے ماخذات کا اس سسٹم سے باہر ہونا ناگزیر ہے۔۔۔۔ گویا اس سے تو خدا کا قضیہ اور مضبوط ہوتا۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کہ دعا کا اثر کائنات کو اپنے قوانین سے منحرف کیوں نہیں کرتا؟ اگر دعا کی ماہیت کو سمجھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دعا “مادی محالات” کو ممکن نہیں بناتی۔ بلکہ مادی ممکنات کے قوانین میں رہتے ہوئے تجریدی سبب (Abstract Cause) کا کردار ادا کرتی ہے۔
در اصل صاحبِ پوسٹ کا مطالبہ یہ ہے کہ دعا کے اثرات کچھ اس طرح ہونے چاہیے ہیں:
1۔ ایک آدمی اڑتے جہاز سے کودتے ہوئے دعا کرتا ہے اے خدا مجھے بچا لینا۔ اور اچانک وہاں کوئی جہاز کی طرف ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور آدمی واپس اڑ کر جہاز میں پہنچ جاتا ہے۔
2۔ ایک بچہ جس نے پورے سال کوئی محنت نہیں کی، امتحان گاہ میں جا کر دعا کرتا ہے اے خدا مجھے پاس کروا دے۔ اور دعا کے اثرات کی وجہ سے اچانک سارے سوالات کے جوابات اس کی انگلیاں غیر ارادی طور پر لکھنا شروع کردیتی ہیں۔
اب ظاہر ہے کہ اگر اس طرح کی مسلسل بے ضبطی اور بے ربطی رونما ہونے لگے تو کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہو کر یک لخت بکھر جائے گا۔ اور نہ صرف یہ کہ حضرتِ انسان کے لیے مظاہر کی پیشنگوئی کسی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ بلکہ ہم اپنے قدم اٹھا کر آگے بڑھانے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ کیونکہ کسی وقت زمین پر کشش ثقل زیادہ ہورہی ہوگی، کسی وقت کم ہوگی۔ کبھی ایسا ہوگا کہ کوئی انسان اڑتا ہوا ہمارے سر پر سے گزر رہا ہے۔ دوسرا کسی کو بد دعا دے رہا ہے کہ اے خدا اسکی شکل بندر میں تبدیل کردے۔ ایسا بھی ہوگا کہ آپ کبھی صبح اٹھ کر شیشہ دیکھیں تو آپ کو آئینہ میں اپنی تصویر سیدھی نظر آنے کی بجائے الٹی نظر آنے لگے۔
گویا اگر کوئی یہ امید کرتا ہے کہ دعا سے کائنات کے اصولوں کو انحراف کرنا ضروری ہے تو یہ امید انتہائی سطحی اور غیر مدبرانہ فہم کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ سب قوانین انسان کی ضرورت کے مطابق ہیں، اب آپ کہیں کے سورج اتنا دور نہیں ہونا چاہیے یا اس سے بھی دور ہونا چاہیے تو یقیننا یہ انسان کے لئے نقصان کا باعث ہے۔۔
آپ کہیں کہ مرد و عورت کے ملاپ سے بچہ پیدا نہ ہو بلکہ مرد کے مرد سے ملاپ سے بھی ہو جائے۔۔۔
انسان بچے سے جوان پھر بوڑھا نہ ہو ۔۔۔
آپ کہیں میں گھر بیٹھا رہوں اور ساری دنیا کی دولت میرے قدموں میں آگرے۔۔۔۔
انسان کو خوراک کی ضرورت نہ ہو خود ہی پیٹ بھر جائے، ۔۔۔
عورت مرد بن جائے اور مرد عورت ۔۔۔
یاد رکھیں کہ اللہ انسانوں کی ڈکٹیشن اور مرضی پر نہیں چلتا ، وہ قدیر کے ساتھ مدبر اور حکیم بھی ہے۔ اس لیے یہ بچگانہ امید اور کوشش فضول ہوگی۔ ایسا کرنا اس کے لیے ناممکن نہیں ہے لیکن یہ دنیا اس قسم کے شغل میلے کے لیئے نہیں بنی ۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *