جرائم کے خاتمے کا اسلامی طریقہ کار

5

اسلام نے جرائم کو جڑ سے اکھاڑ ڈالنے کے لیے جو منصوبہ پیش کیا اس کا خلاصہ یہ ہے :
1. سب سے پہلے وہ انسان کو خدائے تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے اور کی دعوت دیتا ہے اور نفس کی پاکیزگی کا ایک نظام پیش کرتا ہے جس کے ہوتے ہوئے انسان کے دل اور دماغ سے جرم اور گناہ کا تصور بھی نہیں پیدا ہوتا۔
2. اس کے بعد وہ ایک ایسا سماج قائم کرتا ہے جس میں رہ کر انسان اپنی بنیادی ضرورتیں اور خواہشات جائز ذرائع سے پوری کرسکتا ہے اور اسے ان ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ناجائز اور مجرمانہ وسائل اختیار نہیں کرنے پڑتے ۔
3. جب پہلے دو طریقوں سے ارتکاب جرائم کو روکنا ممکن نہیں ہوسکتا تو پھر انہیں روکنے کے لیے حکومت کی مشینری کو حرکت دینے کی ہدایت کرتا ہے۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جرائم کی سخت سزائیں نافذکرنے سے پہلے اسلام، اسلامی ریاست کے ارباب اختیار کو عوام کے مذہب و مسلک اور رنگ و نسل سے بے نیاز ہوکر ان کے لیے ایسے وسائل بہم پہنچانے کا حکم دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ خوراک، لباس، گھر اور تعلیم حاصل کرسکیں تا کہ وہ جائز ضرورتوں کے پورا ہونے کے بعد ناجائز وسائل نہ اختیار کرسکیں۔ اس کے علاوہ اسلام حکومت کو اس بات کا بھی ذمہ دار قرار دیتا ہے کہ دولت سمٹ کر چند افراد ہی کے ہاتھوں میں نہ چلی جائے ۔
اسلامی سزاؤں کے نفاذ کے لیے ان شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ خلیفۂ دوم حضرت عمرؓ نے قحط سالی کے زمانہ میں چوری کی سزا کے طور پر ہاتھ کاٹ دینے کی سزا کو ملتوی کر دیا تھا اور ایک دوسرے موقع پر آپ نے سرقہ کا ارتکاب کرنے والے غلاموں کو اس بنا پر ہاتھ کاٹنے کی سزانہیں دی تھی کہ شہادتوں سے یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ ان کے آقاؤں کی کنجوسی اور سخت گیری کے باعث وہ لوگ اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے قابل بھی نہیں رہے تھے۔ اور ایسی حالت کو پہنچ گئے تھے کہ ان کے لیے حرام مال کو کھانا بھی جائز ہوگیا تھا۔ اسی طرح اسلام نے جہاں شادی شدہ مرد اور عورتوں کے لیے سنگساری کی سزا تجویز کی ہے وہاں غیر شادی شدہ لوگوں کومحض کوڑوں کی سزا دینا کافی سمجھا ہے۔
اسلام نے کچھ اس طرح نظام معاشرت کو مرتب کیا ہے کہ ریاست س بات کی ذمہ دار ہوتی ہے کہ وہ عوام کو زندگی کے وسائل فراہم کرے اور عوام کو ضروریات زندگی سے بے نیاز کردے۔ اتنی آسانیاں پیدا کرنے کے باوجود بھی اگر کوئی شخض چوری کرتا ہے یا دوسروں کے مال پر غاصبانہ قبضہ جماتا ہے، یا دھوکہ کے سے روپیہ حاصل کرتا ہے تو بجا طور پر اس بات کا مستحق ہے کہ اُسے سخت سزا دی جائے۔
مثلا اسلام نے انسانی فطرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر صاحب استطاعت شخض کو چار شادیوں تک کی اجازت دی ہے اور موقع دیا ہے کہ اگر وہ ایک عورت سے مطمئن نہیں ہے تو ایک سے زیادہ عورتوں سے شادی کرسکتا ہے لیکن اس سہولیت کے باوجود بھی اگر وہ زنا کاری کا مرتکب ہوتا ہے تو واقعی وہ سخت سزا کا مستوجب ہے اور ان حالات میں اسلام کی مقرر کردہ سزاؤں کو نہ تو سخت کہا جاسکتا ہے اور نہ غیر مہذب۔

خلاصہ یہ کہ اسلام نے صرف سخت سزائیں دینے پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ سزاؤں کے نفاذ سے پہلے اس نے ایک ایسا معاشرتی نظام بھی قائم کرنے پر زور دیا ہے جس میں جرائم کے ارتکاب کی گنجائش ہی باقی نہ رہے ۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی شخض کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو معاشرہ کو انحطاط اور بداخلاقی سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلام نے بجا طور پر عبرت انگیز سزائیں مقرر کی ہیں تاکہ ان عبرت انگیزسزاؤں کو دیکھ کر دوسرے لوگ گناہ کے راستے پر چلنے سے باز رہ سکیں۔

دنیا کی تمام مہذب حکومتوں اور سوسائٹیوں میں جرم اور گناہ کو روکنے کے ضوابط موجود ہیں لیکن ان میں اور اسلام کے نظام جرم و سزا میں جو زبردست فرق موجود ہے وہ اس بات سے بخوبی سمجھ میں آسکتا ہے کہ متحدہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں آج سے چند سال پہلے صرف ایک سال کے اندر محض بڑی نوعیت کے تقریباً پانچ لاکھ جرائم کا ارتکاب کیا گیا تھا ، کیا جرائم کی اس تعداد کے پیش نظر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ امریکہ میں جرائم کو روکنے اور مجرموں کو سزا دینے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے؟
متحدہ امریکہ میں ان جرائم کو روکنے کے لیے قانون تو ضرور ہے لیکن اول تو جرم اور سزا سے متعلق غیر اسلامی قوانین میں جرائم کے بنیادی محرکات کے انسداد کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ دوئم کسی جرم کے ارتکاب میں کامیاب ہوجاتے کے بعد مجرم کو جو فائدہ پہنچتا ہے اور اس کے وحشیانہ جذبات کو جو سکون حاصل ہوتا ہے چونکہ جرم کی سزا اس فائدہ اور سکون کے مقابلہ میں کم ہوتی ہے اس لیے وہ اول ارتکاب جرم کے بعد بچ نکلنے کی کوشش کرتا ہے ، دوسرے اگر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب نہیں ہوتا تو وہ اس سزا کو آسانی کے ساتھ برداشت کرلیتا ہے اس طرح ان قوانین اور ضابطوں سے جرائم کی رفتار میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ یہی صورت حال ہمارے یہاں بھی ہے۔ یہاں جرائم پیشہ لوگ جرائم کرنے سے اس لیے باز نہیں آتے کیونکہ انہیں اس بات کا پورا اندازہ ہے کہ عدالتوں میں مقدمات بہت لمبے کھنچتے ہیں اور اس لمبے عرصہ میں مقدمات دائرکرنے والے افسران کا تبادلہ ہوجاتا ہے اس طرح مجرم کو بری ہونے میں آسانی ہوتی ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *