ایمان بالغیب اورعقل -لوگوں کے تین گروہ

10307394_1650259191877373_3054635160224453977_n

دین اور اسلام کی اصطلاح میں ایمان یقینا کسی ایسی چیز کا نام ہے جو اس مادی دنیا سے پرے اور ماوراءکسی ہستی اور جہان سے متعلق ہے۔ اس دنیا اور کائنات کے اندر اندر چیزوں کی پہچان اور ان کا ادراک ان معنوں میں ایمان ہرگز نہیں ۔ بلکہ یہ مشاہدہ کہلاتا ہے ۔ لہٰذا ایسی چیز کو ماننا جس کا مشاہدہ نہ ہوسکتا ہو اور جو بظاہر محسوس نہ ہوسکتی ہو،ایمان کہلاتا ہے۔
”ایمان بالغیب “ بھی اس کو انہی معنوں میں کہا جاتاہے۔ اس بات کو مزید گہرائی میں جا کر یوں کہا جاسکتا ہے کہ انسان صرف ان چیزوں کا مشاہدہ کرسکتا جو اس کے حواس(senses) کے دائرہء کار میں آتی ہیں۔ رہ گئے وہ امور جو انسان کے حواس کے دائرہء کار میں نہیں آتے اور لہٰذا قابل مشاہدہ نہیں تو ان کی بابت آراءرکھنے میں ایک طرف تو فلاسفہء مغرب ہیں جو یا تو سرے سے ایسے امور کے پائے جانے کے انکاری ہیں اور یا پھر ان امور کو انسانی عقل و فہم کے ادراک میں آجانے سے قطعاً ماوراءاور ناقابل ِرسائی قرار دیتے ہیں۔ اب چونکہ یہ فلاسفہ وحی، پیغمبر اور کسی بھی قسم کے فرستادہء خداوندی کو تسلیم نہیں کرتے لہٰذا ان امور کا اعتراف محض ایک ایسے عالم کا اثبات ہے جہاں ”حقیقت“ جاری و ساری ہوتی ہے اور جو ”عالم ِمظاہر “ سے قطعاً الگ ایک جہان ہوتا ہے۔ البتہ یہ عالم کیا ہے، اسکی تفصیلات و جزئیات کیا ہیں اور ان تک رسائی کیسے حاصل کی جا سکتی ہی۔۔۔۔یہ گروہِ فلاسفہ ان سوالات کے جوابات دینے والے کسی بھی ذریعہ علم کا انکاری ہے۔
دوسری طرف وہ گروہ ہے جو عالم ِمادی و طبیعی کے علاوہ عوالم اورعوامل پر بھی یقین رکھتا ہے اور ان کو ایک نظام (system) کی صورت میں بہ تفصیل پیش بھی کرتا ہے۔ لیکن اس غیر مادی نظام کی حقیقت اور اس کے اجزاءکے باہمی تعلق کی نوعیت کو ”بوجوہ“ انسانی عقل سے بالاتر گردانتا ہے ، لہٰذا اس نظام کی تمام تر تفصیلات کو جوں کاتوں ”بلا سوچے سمجھے “ قبول کرلینا ہی ”ایمان و تسلیم “ کا تقاضہ سمجھتا ہے۔ مذکورہ اقدارِ مشترکہ کے باوصف اس دوسرے گروہ کے لوگ مزید گروہوں میں تقسیم پائے جاسکتے ہیں:

1. اول وہ لوگ جو اپنے عقائد اپنی دیومالا (Mythology)سے اخذ کرتے ہیں اور یوں ان کی ایمانیات اور دیومالا میں برائے نام فرق پایا جاتا ہو ۔ مثلاً قدیم اہل ِیونان اور اہل ِہند کی دیو مالا اور عقائد کا مطالعہ کیا جائے تو دونوں ایک ہی تصویر کے دورخ نظر آئیں گے۔ اب دیومالا چونکہ ایک فوق الفطرت دنیا کا احوال ہے، جسے اگر جادو نگری (wonder land)سے تعبیر کیا جائے تو زیادہ قرین قیاس ہوگا، تو لہٰذا اس میں کسی بھی وقت کچھ بھی ممکن ہوتا ہے۔ چنانچہ بہت سے دیومالائی واقعات اور کرداروں میں جا بجا عقلی تناقضات پائے جاتے ہیں ، جن کی دیومالا کے اندر سمانے کی پوری گنجائش ہوتی ہے ۔ کیونکہ دیومالا کسی عقلی یا منطقی ضابطے کے تحت نہیں ہوتی ۔ یہ تناقضات پھر وہاں سے عقائد میں درآتے ہیں ۔ جس کے الزام سے بچنے کے لیے دیومالا اور ان عقائد کو ہی ماورائے عقل فرض کرلیا جاتا ہے ۔ گویا مافوق الفطرت سے مافوق العقل ہونالازم آنے کا کلیہ ”عقلی طور پر“ اختراع کر لیا جاتا ہے ۔

2. دوسرے وہ لوگ جو کسی آسمانی شریعت اور پیغمبر و وحی وغیرہ پر یقین رکھتے ہوں لیکن دین میں تحریف ہوجانے کی وجہ سے عقائد و احکام حد درجہ مسخ ہوچکے ہوں ۔ اور معاملہ یہ صورت اختیار کرچکا ہو کہ عقائد پر ایمان رکھتے ہیں تو عقل ہاتھ سے جاتی ہے اور اگر عقل اختیار کرتے ہیں تو ایمان جاتا رہتا ہے ۔ جیسا کہ عیسائیت اور یہودیت کے عقائدہیں ۔ عیسائیت میں خدا کا بیٹا اور بیوی ہونے کا تصوّر اس قدر غیر منطقی اور متناقض ِعقل ہے کہ اس عقلی قضیہ (یعنی یہ کہ کسی چیز کے اندر تناقض کا ہونا ایک عقلی معاملہ ہی) سے ”عقلاً“ جان چھڑانے کے لیے عقائد کو ہی عقل سے ماوراءقرار دے دیا گیا ۔ تاکہ نہ رہے بانس ، نہ بجے بانسری۔

3. تیسرے وہ لوگ جو ایسی روحانیت کے قائل ہوں جس میں قلبی وارداتوں یا وجدان کی صورت میں احوال ، کیفیات اور حقائق منکشف یا القا ہوتے ہوں ، اور اس میں عقل کا کوئی عمل دخل نہ ہو ۔ لہٰذا دین اور اس کے حقائق بس ایک روحانیت سے زیادہ کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں ، جس کا کام مادے کی نفی کرنا ہو نہ کہ اس کی تکمیل کرنا ۔ چنانچہ دین کو محض ایک روحانی چیز سمجھ کر اور عقل کو صرف ایک مادی چیز خیال کرکے دونوں کی راہوں کو الگ رکھنا خود اس دین کی بقا کے لیے ضروری خیال کیا جاتا ہو۔ !!
اس تیسری قسم میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو وحی ، پیغمبر اور رسالت و آخرت پر تو ایمان رکھتے ہیں ۔ لیکن روحانیت کے ”شدید تقاضوں “ کے تحت عقل کو اس کے بہت سے ضروری کاموں سے، کہ جن کے لیے وہ عطا کی گئی ہے، فارغ کر بیٹھتے ہیں ۔ اب چونکہ وحی اور نبوّت کا کسب بذریعہ عقل نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ یہ ایک خالص وہبی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ عالم ِغیب کے تمام برگزیدہ حقائق اورو قائع صرف وحی کے ذریعے ہی بزبان ِنبوّت معلوم ہو سکتے ہیں اس لیے ان لوگوں کو خیال گزرا کہ عقل اور وحی دو ایسی الگ الگ چیزیں ہیں جن کو آپس میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ اب جو چیز عقل کی گھڑنت سے وجود میں نہیں آئی ہے وہ لازماً عقل سے ماوراء ہی کوئی شے ہونی چاہیے!! لہٰذا عقل کا کام بس صرف سرنگوں ہوناہے نہ کہ وحی اور نبوّت کو پہچاننا ، یا اس کے ذریعے سے معلوم شدہ غیبی امور میں ربط و ضبط اور نظم تلاش کرنا، کیونکہ یہ اس کے بس کی بات ہی نہیں ہے !۔ مزید یہ کہ اس سے زیادہ غلط بات یہ ہے کہ مادی حقائق (جو کہ انسان کو مشاہدے اور عقل سے حاصل ہوتے ہیں ) اور روحانی یا غیبی حقائق (جو بذریعہ وحی معلوم ہوتے ہیں ) کے درمیان ربط اور تعلق تلاش کیا جائے !!۔ اور غلط ترین بات یہ ہے کہ مادی حقائق کو غیبی حقائق پر ایمان لانے کی بنیاد یا حوالے کا نقطہ (point of reference) بنایا جائے !!!

وحی اور نبوّت بلاشک و شبہ ایسی چیز نہیں جو عقل کے ذریعے کسب کرلی جائیں۔ لیکن اس سے یہ کہاں لازم آگیا کہ وحی کے دستیاب ہونے کے بعد اب اس کی پہچان اور حقانیت کی معرفت حاصل کرنا بھی عقل کے بس کی بات نہیں ؟ آخر ایمان لانے کا عمل پہچان کے بغیر کیسے ہو سکتا ہے ؟ اور پہچان کا کام عقل کے بغیر کیونکر ؟؟
چنانچہ نہ تو حواس سے ماوراء ہونے کا مطلب لازمی طور پر عقل سے ماوراءہونا ہے اور نہ عالم ِغیب کی تفصیلات کا کسب بذریعہ عقل نہ ہوسکنے سے ہی یہ مطلب نکلتا ہے۔ اگر کسی چیز تک عقل خود سے نہیں پہنچ سکتی (یعنی صرف ان معنو ں میں وہ ماورائے عقل ہے ) تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اب وہ عقل کی سمجھ میں ہی نہیں آسکتی اور عقل کے مطابق نہیں ہوسکتی ۔
چنانچہ عالم ِغیب کی تفصیلات پر ایمان رکھنا، ایمان بالغیب، حواس کے نارَسا ہونے کے حوالے سے ہے نہ کہ عقل کے۔ کیونکہ عقل حو اس کے راستے سے نہ سہی ، وحی کی بتائی گئی تفصیلات کے ذریعے اس عالَم تک بہر حال رسائی حاصل کرلیتی ہے ، جس کی پھر اپنی معقولیت ، نظم و ضبط ، جامعیت اور دنیائے مادہ سے اس کا ربط و تعلق عقل کو سرِ تسلیم خم کرنے پر آمادہ کرتے ہیں ۔ عالم ِغیب کو پہچاننے اور قبول کرنے میں عقل کا یہ کردار نہ ہو تو ابدی حقائق کی متلاشی ، انسان کی پیاسی فطرت دین حق ، دین محرّف اور دیومالا کی ایمانیات میں پھر کیسے فرق روا رکھ سکے ؟ اور ان تینوں میں سے کسی کو قبول کرنے اور کسی کو ردکرنے کی پھر اس کے پاس بنیاد کیا ہو؟؟

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *