اعتراض:مسلمانوں کے نزدیک عورت ناقص العقل ہے۔

3

ایک صحیح حدیث کو لے کر سیکولرلبرل ملحدین کی طرف سے یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت کو ناقص العقل و دین سمجھا جاتا ہے۔۔ پہلے حدیث اور پھر اسکی تشریح پیش کی جاتی ہے۔
حدیث:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا : اے عورتوں کی جماعت ! صدقہ کرو ، کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ، ایسا کیوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ، باوجود عقل اور دین میں ناقص ہونے کے ، میں نے تم سے زیادہ کسی کو بھی ایک عقلمند اور تجربہ کار آدمی کو دیوانہ بنا دینے والا نہیں دیکھا۔
عورتوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ہمارے دین اور ہماری عقل میں نقصان کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی ، مرد کی گواہی سے نصف نہیں ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کی عقل کا نقصان ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوچھا : کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت حائضہ ہو تو نہ نماز پڑھ سکتی ہے ، نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟ عورتوں نے کہا : ایسا ہی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : یہی اس کے دین کا نقصان ہے.
(صحيح بخاري ، كتاب الحیض ، باب : ترك الحائض الصوم ، حدیث : 305 )
تبصرہ :
اس حدیث کو سمجھنے میں بنیادی غلطی یہ کی جاتی ہے کہ اس میں ناقص سے اردو والا ناقص مراد لے لیا جاتا ہے جس کا مطلب نقص اور عیب دار ہونا ہے.. جبکہ یہاں عربی والا ناقص مراد ہے جس کا مطلب مقدار میں کم ہونا ہے ۔ دونوں کے مطالب میں فرق کیفیت اور کمیت (مقدار) کا ہے۔
یوں حدیث کے مطابق ناقصات الدین سے مراد یہ ہے کہ عورت کے بعض ایام ایسے آتے ہیں کہ جس میں وہ دین پر عمل نہیں کرسکتی، نماز اور روزے نہیں رکھتی اس طرح اس کے دینی عمل میں کمی رہ جاتی ہے۔
اسی طرح عقل کے ناقص کی وضاحت میں فرمایا کہ خدا نے دو عورتوں کی گواہی کو ایک مرد کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے ۔اس سے بھی کمیت مراد ہے نہ کہ کیفیت… کیونکہ دو آدھے ایک کامل صحیح کے برابر تو ہوسکتے ہیں لیکن دو آدھے عیب دار ایک صحیح کے مساوی نہیں ہوسکتے.۔!
عورت کی گواہی آدھی کے متعلق وضاحت پہلے ان تحاریر میں پیش کی جاچکی ہے۔
مزید عقل کی دو قسمیں ہیں: ۱:․․․عقل شرعی، ۲:․․․عقل عرفی۔عورتوں میں عقل عرفی بہت اعلی درجے کی ہے۔ شریعت نے عورتوں کے ناقصات العقل سے مراد عقل شرعی ہے، عقل عرفی عورتوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے، خود حدیث میں اس کا ذکر ہے کہ یہ عورتیں ہوشیار مرد کو بھی بوتل میں اتارنے والیاں ہیں، گھر میں بھی اس کی حکومت چلتی ہے اور باہر بھی اس کی حکومت چلتی ہے۔ ۔۔عقل شرعی کی کمی ہوتی ہے، اور عقل شرعی کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نتائج کو نہ سوچے، جب آدمی نتیجے پر غور نہیں کرتا تو اسے نقصان ہوتا ہے، جیسے عورت یہ کہتی ہے کہ فلاں موقع آرہا ہے اور اس پر ہمیں اتنا خرچ کرنا ہے، ختنے میں اتنا خرچ کرنا ہے، شادی میں اتنا خرچ کرنا اور منگنی میں اتنا خرچ کرنا ہے، اور فلاں رسم اس طرح ہونا چاہئے، تو شوہر اور باپ کے مال کو انہی چیزوں میں اڑاتی ہیں، اس معنیٰ میں ان کو ناقصات العقل کہا گیا ہے کہ نتائج کو وہ نہیں سوچتیں۔

سیکولر لبرل اور ملحدین اس حدیث کو لے کر مذہبی لوگوں کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ وہ عورت کو ناقص العقل سمجھتے ہیں’ خود یہ ‘ایجوکیٹڈ’ سیکولر لبرل عورت کی کتنی قدر کرتی ھے اور انکی محافل میں عورت کو کیسے کیسے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور کیسی نظروں سے دیکھا بلکہ گھورا جاتا ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ مذہبی لوگوں کے ہاں عورت کا تقدس ہے، اہمیت ہے اسکو اپنی عزت سمجھا جاتا ہے ، عورت کی نیلامی نہیں کی جاتی، بھرے ہالوں میں نچوا نچوا کے پامال نہیں کیا جاتا، یوں نوچ نوچ کھانے والی گدھ بن کر شب وروز تاڑا نہیں جاتا۔۔۔

روشن خیال لوگو! تمھارے سیاہ کرتوت کتنے بتا پاؤں گا۔ قطار در قطار لپکتے آرھے۔ پر قلم شرماگیا ہے۔ تم عورت کو ھر طرح عریاں کرنے سے نہ ھچکچائے ۔۔ یہ قلم عیاں کو مزید بیاں کرنے سے ڈگمگاگیا ہے۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *