اعتراض:اسلام میں عورت کو آزادی کیوں نہیں؟

8

تاریخ کا مطالعہ کریں یہ واضح ہوگا کہ اسلام نے عورت کو تمام مذاہب / سماج سے بڑھ کر آزادی اور تقدس دیا ۔ اگر معترضین کے نزدیک آزادی کا مفہوم وہ ہے جو مغرب نے عورت کو دی ہے ۔۔۔اسکو ہم آزادی نہیں کہتے۔ مغرب میں عورت کی حالت پر غور کیا جائے تو یہ کھل کے واضح ہوگا کہ مغرب نے عورت کو آزادی نہیں دی بلکہ اسکو استعمال کیا ہے۔۔۔ اسکو آزادی کے ان جذباتی نعروں کے بہانے سرمایہ دارانہ نظام کی ایک اہم پراڈکٹ بنایا ہے ،۔۔
اسکی فطری کمزوریاں اور ذمہ داریاں آج بھی اسی طرح موجود ہیں ،آزادی کا لالی پاپ دکھا کے انکے ساتھ مرد کی ذمہ داریاں بھی اسے سونپ دی گئی ہیں ۔۔ وہ عورت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مرد بھی ہے جبکہ اس معاشرے کے مرد صرف مرد ہیں ۔۔۔!
دور حاضر میں یورپ و امریکہ اور دوسرے صنعتی ممالک میں عورت ایک ایسی گری پڑی مخلوق ہے جو صرف اور صرف تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔۔
وہ اشتہاری کمپنیوں کا جز ء لا ینفک ہے ، بلکہ حالت یہاں تک جا پہنچی ہے کہ اس کے کپڑے تک اتروا دیئے گئے ہیں ، اسکا جسم دکھلا کے اپنی چیزیں بیچی جاتی ہیں۔۔
فحش رسائل و اخبارات میں کی ہیجان انگیز عریاں تصاویر کو مارکیٹنگ کا وسیلہ کہا جاتا ہے
دس فیصد عزت کی نوکریوں کو چھوڑ کر وہ عام طور پر آفس کی رونق ، گھر سے باہر بھی مردوں کے دل بہلانے کے لیے ایک ماڈل/ ایک کال گرل /ریسپشنسٹ/سیل گرل ہے ، گاہکوں کو متوجہ کرنے والی ایک منافع بخش جنس ہے ۔۔۔ ہر جگہ وہ اپنی خوبروئی ، دلفریب ادا اور شیریں آواز سے لوگوں کی ہوس نگاہ کا مرکز ہے ۔۔
یہی نہیں مس ورلڈ، مس یونیورس اور مس ارتھ کے انتخابی مراحل میں عورت کے ساتھ کیا کھلواڑ نہیں ہوتا ۔۔۔
نیز فلموں میں اداکاری کے نام پر اور انٹرنیٹ کے مخصوص سائٹ پر اس کی عریانیت کے کون سے رسوا کن مناظر ہیں جو پیش نہیں کئے جاتے۔۔۔۔
اگر یہی عورت کی آزادی اور اس کی عزت و تکریم اور اس کے حقوق پانے کی علامت ہے تو انسانیت کو اپنے پیمانہ عزت و آنر پر نظر ثانی کرنی چاہئے ۔
پھر یہ سب معاملہ عورت کے ساتھ اس وقت تک رکھا جاتا ہے جب تک اس میں مردوں کی کشش ، ابھرتی جوانی کی بہار ، دل ربا دوشیزگی کا جوبن اور شباب و کباب کی رونق رہتی ہے ، لیکن جب اس کے جوبن میں پژ مردگی آ جاتی ہے، اس کی کشش میں گھن لگ جاتا ہے ، بازاروں میں اس کی قیمت لگنا بند ہو جاتا ہے، اس کے ڈیمانڈ کو دیمک چاٹ جاتی ہے اور اس کی ساری مادی چمک دمک ماند پڑ جاتی ہے تو یہ معاشرہ اس سے منہ موڑ لیتا ہے ،وہ ادارے جہاں اس نے جوہر کمال دکھائے تھے اس کو چھوڑ دینے میں عافیت سمجھتے ہیں اور وہ اکیلی یا تو اپنے گھر میں کسمپرسی کی زندگی گزارتی ہے یا پھر پاگل خانوں میں۔

یہ ہے آزادی نسواں کی موجودہ کڑوی حقیقت اور یہ ہے اس کا حتمی برا انجام ۔
پھر اس کا اثر صرف عورت تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے وہ تمام شعبے اس سے متاثر ہوئے ہیں جنکا وہ لازمی جزو تھی۔ ایک مغربی مصنف یوں رقم طراز ہے:
“وہ نظام جس میں عورت کے میدان عمل میں اترنے اور کارخانوں میں کام کرنے کو ضروری قرار دیا گیا، اس سے ملک کو چاہے کتنی بھی دولت و ثروت مہیا ہو جائے، مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس سے گھریلو زندگی کی عمارت زمیں بوس ہو کر رہ جاتی ہے، کیونکہ اس نظام نے گھر کے ڈھانچہ پر حملہ کر کے خاندانی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور معاشرتی تعلقات و روابط کے سلسلہ کو درہم برہم کر دیا ہے”۔

فطرت سے بغاوت کی وجہ سے عورت کی خاندانی ، ازدواجی زندگی سخت تباہی کا شکار ہے ۔۔۔ وہ ظاہری طور پر خوش، خوبصورت لیکن نفسیاتی طور پر ایک بحران کا شکار ہے۔۔ اپنی ذات میں وہ بالکل تنہا اور بے سہار اہے۔۔ کیا یہ آزادی ہے؟ کہاں یہ بازاری حیثیت اور کہاں ایک بہن ، ایک بیٹی ، ماں ، پوپھی ، خالہ، دادی ، نانی کی مقدس حیثیت اور احترام ۔۔
کیا کبھی کبھی اپنی مرضی سے ناچ گا اور گھوم پھر لینے کی آزادی کے عوض اس سے یہ کم قیمت لی گئی ہے ؟؟؟

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *