دنیا میں ظلم،ناانصافی کی مذہبی توجیہہ اور ملحدین

11350493_1644122179157741_4254315350194589370_n

ملحدین میں بہت بڑی اکثریت ایسے لوگوں کی دیکھی ہے جو نہ منطق کے باریک نکات سے واقفیت رکھتے ہیں اور نہ گہری فلسفیانہ باتیں ان سے ہضم ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ انٹیلیجنٹ ڈیزائن کی بحثوں کو یک لخت ٹھکرا دیتے ہیں۔
آپ انہیں سمجھانے کی کوشش کیجیے کہ میاں دیکھو یہ پر کشش کیاریاں، پھول پتیاں اور کائنات کا ایک منظم طریقے سے چلنا اور جانداروں کی میکانیت کا ایک عمدہ طریقے سے چلتے رہنا وغیرہ۔۔ سب کچھ ایک خدا کی گواہی دیتا ہے۔ بتاؤ ایسا نظم و ضبط کیسے اپنے آپ اتفاق سے وجود میں آسکتا ہے؟
اب ایک عام “مقلد ملحد” اس بات کا جواب تو کیا دے، وہ آجاتا ہے اس بحث پر کہ اگر ان سب کو خدا نے بنایا ہے تو خدا کو کس نے بنایا ہے؟
اب آپ اسے لاکھ دلیلیں دیں کہ بھائی خدا کی تعریف ہی اس طرح نہیں کی گئی ہے کہ اس پر بھی بننا لازم آئے۔ وہ تو ہمیشہ سے ہے۔
پھر وہ بازی پلٹ کر اس بات پر آجائے گا کہ بھائی اگر خدا کو کوئی بنانے والا نہیں ہے تو پھر کائنات کو بنانے والے کی کیا ضرورت ہے؟
اب آپ یہ کہہ دیجیے کہ بھائی آپ کی سائنس ہی کہہ چکی ہے کہ کائنات ہمیشہ سے نہیں ہے۔ یہ ایک خاص وقت میں وجود میں آئی ہے۔
لیکن نہیں میاں! “مقلد ملحدین” پھر آپ کے نبی کو گالیاں دیں گے۔ اور یہ کہیں گے کہ اگر خدا ہے تو دنیا میں ظلم کیوں ہو رہا ہے؟
معصوم بچیوں کی عزت کیوں لٹ رہی ہے؟
فاقے اور تنگ دستی کیوں ہے؟
ارے بھائی ان سب باتوں کا جواب ایک ہزار مرتبہ دیا جاچکا ہے۔ اول تو یہ کہ بغیر مذہب کے آپ اخلاقی اقدار کی پامالی کو “بُرا” کہنے کے ہی حقدار نہیں ہیں۔ لیکن اگر آپ اس میں مذہب کی پیروی پر مجبور ہیں تو کم از مذہبی توجیہہ کو بھی تو مانیں کہ ظلم و ستم اور فاقے اور تنگ دستی کی وجہ کیا ہے؟ جواب اس کا کبھی کوئی نہیں آتا۔
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں؟
ملحدین کی دلیلیں بھی انہی کی طرح کمال کی ہوتی ہیں۔ اوپر  میں نے ایک اصطلاح “مقلد ملحد” وضع کی تھی (گو کہ یہ کوئی پہلی اصطلاح نہیں تھی، کیونکہ میں اصطلاحات وضع کرنے کا عادی ہوگیا ہوں)۔ یہ پوسٹ ایک خاتون نے اپنی دیوار پر لگائی ہے۔ اس پوسٹ اور اسی طرح کی سیکڑوں پوسٹیں اور مباحث میں نے دیکھے اور شرکت کی جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خدا کے وجود کے انکار میں ملحدین کی اکثریت کا وجود عقل اور دلیل سے زیادہ “جذبات اور مایوسی” ہے۔
ہمارے ایک بہت ہی عزیز دوست جو کہ “مذہبی مشکک” (ایسا مشکک جس کی کشش انکارِ خدا سے زیادہ اقرارِ خدا کی جانب ہو) ہیں۔ ایک بار فرما رہے تھے کہ ایسا ملحد جس کا الحاد تشکیک سے ہو کر نہ گزرا ہو در حقیقت وہ ملحد کے نام پر دھبہ ہوتا ہے۔ فیس بک پر ان دھبوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جنہوں نے خدا کو ماننے سے اس لیے انکار نہیں کیا کہ اس کی غیر موجودگی انکے عقلی اور علمی قضایا کا لازمی نتیجہ تھی۔ بلکہ ان ملحدین کی ضد اس باپ جیسی ہے جس کا جوان بیٹا اس سے زبان درازی کرے تو وہ کہتا ہے “آج سے میرا کوئی بیٹا نہیں! میں سمجھوں گا کہ میں ہمیشہ سے بے اولاد تھا”۔ اب بتائیے اس تصویر میں لکھی بات میں ایسا کونسا نکتہ ہے جس سے خدا کا غیر موجود ہونا ثابت ہو جائے؟
ایک عورت کی عزت چلی گئی یہ واقعی قابلِ افسوس بات ہے۔ لیکن ملحدین کو جب یہ بات سمجھائی جائے تو ان کی سمجھ میں نہیں آتی کہ بھئی!!! ایک چیز ہوتی ہے رضا۔ اور دوسری ہے مشئیت۔
اب خدا تعالی کی رضا تو یہی ہے کہ اخلاقی قوانین جو مذہب نے نافذ کیے ہیں ان پر عمل کیا جائے۔ دوسری ہے مشئیت۔ جس سے مراد یہ ہے کہ ان اخلاقی قوانین کے خلاف چلنے کی بھی “آزادی” انسان کے پاس ہے۔ ٹھیک اسی طرح، جیسے ایک سڑک پر کیچڑ پڑی ہو تو آپ کو اختیار ہے آپ اس کیچڑ میں نہائیں یا اس سے بچ بچا کر آگے اپنی منزل کی طرف بڑھ جائیں۔ اب اگر کوئی کیچڑ میں زبردستی لیٹ کر یہ رونا شروع کردے کہ دیکھو!! میں کیچڑ میں پڑا ہوں۔ اس کا مطلب ہے خدا موجود نہیں ہے۔ اگر وہ موجود ہوتا تو مجھے کیچڑ میں لیٹنے سے بچا لیتا!!! تو ایسے شخص کو سلام کرکے آگے بڑھ جانا ہی بہتر ہے۔
پھر اخلاقی قوانین کے توڑنے پر جس (دوسرے)شخص کو نقصان پہنچ رہا ہے، اللہ کے یہاں اس کا اجر موجود ہے۔ تو ایک خدا پرست مسلمان کو اس بات سے رنجیدہ ہونے کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی کہ معصوموں پر ظلم ہورہا ہے یا بے گناہوں کی عزت اور عصمت پر وار کیا جارہا ہے۔ انکی عقل اس بات کو تسلیم نہیں کر پاتی کہ اگر ہر گناہ گار موقع واردات پر پکڑنا خدا کی ذات کو مقصود ہوتا تو اختیار اور ارادہ جیسی چیزیں ہی بے معنی تھیں۔ اس کا جواب قران کریم میں بہت خوبصورت انداز سے دیا گیا ہے:
“”اگر اللہ لوگوں کو اُن کی زیادتی پر ان کی فوراً پکڑ کرتا تو زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا لیکن وہ سب کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیتا ہے۔””
حیرت تو اس بات کی ہے کہ ایک لا دین آدمی اخلاقی قوانین کی پامالی کو “غلط” کن بنیادوں پر کہتا ہے؟ اور پھر اسے روکنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ ارے اگر کسی کی عزت لٹ گئی تو تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ یہ زنا وغیرہ کے عمل کو غلط یا گناہ کہنا تو مذہبیوں کا کام ہے۔!

تحریر مزمل شیخ بسمل

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *