یہ حقیقت سے فرار نہیں ہوسکتا۔۔!

11412208_1644426075794018_7365541712715894437_nاس نے پوچھا، قران کریم میں جو آفاق و انفس کی نشانیاں اور براہین، وجود و قدرت باری تعالی کی طرف اشارہ کرتے ہیں وہ دل کو اپیل کرتے ہیں. ذہن کی گتھیاں بھی سلجھتی ہیں اور دل میں اطمینان بھی سرایت کرتا ہے …. مگر یہ جو آخرت کے تذکرے ہیں، ہمیشگی کی زندگی اور نعمتوں بھری جنتوں میں کبھی نہ ختم ہونے والے عیش و آرام کے بیان ہیں، یہ عقل انسانی کو کیسے سمجھ آئیں؟
ایک مسکراہٹ تھی جو دل میں اٹھنے والی بیقرار لہر کا پیغام بر بن گئی. وہ جو دل کے نہاں خانوں میں چپکے سے پلتے پلتے ایک سوچ گھنا درخت بن گئی ہے، کیا اس کی ایک جھلک دکھلا دی جاے؟
انسانی عقل ہو سکتا ہے کہ اس کو سمجھ نہ پائے مگر انسانی ذھن اور روح کی بیکراں وسعتوں میں ہمیشہ سے پرفیکشن کی مضطرب جستجو موجود رہی ہے، اور انسانی تخلیقات میں اسی جستجو کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے.
ہماری یہ زندگی نقائص اور مجبوریوں کی زنجیروں میں بندھی رہی ہے، مگر انسانی لاشعور نے ان پر کبھی تکیہ یا سمجھوتہ نہیں کیا بلکہ اپنی تخلیقی اور تخیلاتی صلاحیتوں کو کام میں لا کر محدود کر دینے والے افق کے اس پار پرواز کی ہمیشہ کوشش کی ہے.
انسان کہانی کہنا اور سننا پسند کرتا ہے. اور کہانی کیا ہے؟
کہانی جس کا انسان سے ازل کا ساتھ ہے. یہ کہانی انسان کی قوت تخلیق، تخیلاتی پرواز، ان دیکھے کی جستجو اور اپنی مرضی کا جہاں خود تعمیر کرنے کی چھپی خواہش کا خوبصورت اظہار نہیں تو اور کیا ہے.
انسانی ذھن نے ایسی دنیائیں تخلیق کیں، جہاں حسین و جمیل لوگ رہتے ہیں، چاندنی راتوں میں گھنے درختوں سے پریاں اتر کر اتی ہیں اور پھولوں سے لدی جھاڑیوں تلے اگنے والی کھمبیوں میں چھپے بونوں اور بکرے اور گھوڑے نما انسانوں کے ساتھ رقص کرتی ہیں. نارنجی صدری پہنے رابن کے سینے میں ظالم جادوگرنی کا تیر لگ بھی جاے، تو درویش کے معجزاتی عرق کے چند قطروں سے وہ مرنے کے بعد بھی جی اٹھتا ہے. جہاں درختوں پر ایسے لذیذ پھل لگتے ہیں جن کو کھانے سے کبهی بھوک نہیں لگتی، پلک جھپکتے لذیذ ترین کھانوں سے سجے خوان ظاہر ہو جاتے ہیں. جہاں محبت اور اخلاص کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے اور ظالم اور جابر محبت سے محروم ہوکر مایوسی سے مر جاتا ہے. جہاں کہانی کے اختتام پر سب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں.
یہ زندگی کی محدودیت اور مجبوری کی طرف سے عدم اطمینان اور کمال کے حصول کی چھپی خواہش نہیں تو اور کیا تھا جس نے میرے بابا اور ماما کو شجر ممنوعہ کھانے پر اکسایا تھا.
یہی خواہش تھی جس نے انسان سے کہیں متوازی دنیائیں اور کہیں ہائی فنتیسی کی صورت بالکل نئے جہاں تعمیر کروایے.اسی خواہش نے انسان سے لازوال کتھائیں کہلوائیں، اسی نے دیومالائیں لکھوائیں. آج اس عقل و خرد اور “حقیقت پرستی ” کی دنیا میں بھی ہیری پوٹر ، لارڈ آف دا رنگز اور ڈزنی کی کہانیاں بیسٹ سیلرزھیں. اور یہی ہے جو عقل پرستوں سے “سائنس فکشن” کے نام پر اسی قسم کے دوسرے جہاں تعمیر کرواتا ہے.
انسانی داستانوں ، دیومالاؤں اور کتھاؤں اور شاعری کی صورت “مبالغہ آرائیوں”کا یہ سارا مجموعہ نرا “حقیقت سے فرار ” نہیں ہو سکتا. جبکہ حقیقت خود کیا ہے ؟ ڈبے میں بند شرودں گر کی بےچاری بلی.
ہمارے خیال میں انسانی تخلیقات کا یہ پورا حیرت کدہ گواہ ہے کہ انسان کو کسی اور جہاں کی جستجو ہے. جو اس کے لاشعور میں بسی اسی حسین دنیا کی جھلک یا ذائقہ ہے ،جہاں چند روزہ قیام کے بعد اسے اذن سفر ملا تھا.
ایسے میں اس کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہو گی کہ بالآخر اسے معلوم ہو کہ یہی دنیا اول و آخر ہے. اور تم کو اپنی ساری حسرتیں اور خواہشات لے کر یہیں مر کھپ جانا ہے.
اور اگر میرے جیسی، آنکھیں میچ کر خرگوش کے بل سے ایلس کے حیرت کدہ میں گھس جانے کے خواب دیکھنے والی کو آنکھیں کھولنے پر یہ معلوم ہو کہ جھلملاتے ستاروں سے سجی ایک مکمل اور حسین دنیا اس بے پناہ عجیب اور خود فرشتوں کو حیران کر دینے والے انسان کی حقیقی منزل ہے، تو کیسا ہو؟
تحریر جویریہ سعید

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *