مسئلہ ناموس رسالت-ایک اینتھروپالوجسٹ کے ساتھ بحث

format

اعتراض:

السلام و علیکم !!! بعض لوگ موجودہ حالات کے تناضر میں یہ بات کرتے ہیں کہ وہ عورت جو( نبی صلی اللہ علیہ وسلم )پر کوڑا پھینکتی تھی اسے ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم )نے گستاخی کی سزا کیوں نہیں دی؟؟؟

جب عملی گستاخ کو سزا نہیں ۔تو پھر قولی گستاخ کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے ۔ کچرا پھینکنے والی عورت واحد نہ تھی ۔بلکہ شاتم کیلئے کوئی سزا خاص کر قتل کرنا ہے ہی نہیں ۔ آپ ؐنے عبداللہ بن ابی کے قتل کی اجازت نہیں دی ۔جبکہ خود انکے فرذند اور عمر فاروق ؒ نے اسکی اجاذت طلب بھی کی ۔ اسی طرح ابو لہب اور اسکی عورت ہندہ ۔ بلکہ سارے اہل مکہ تو اعلانیہ شاتم تھے کسی کو سزا نہ دی گئی ۔ اہل طائف کیلئے تو جبرائیل ؑ سزاء کی پیشگی اجازت لیکر آئے تھے ۔مگر آپ ؐ نے نہ صرف منع کیا بلکہ ان کے لئے دعا بھی کی ۔ آج سارے اہل طائف مسلمان ہے ۔

جواب:

چند چیزوں کی وضاحت انتہائی ضروری ہے ………

کیا ایک اسلامی ریاست میں توہین رسالت قانونی اعتبار سے کوئی جرم ہے ہے یا نہیں ؟

یہاں دو امور الگ الگ ہیں

  1. پہلی وہ کیفیت جب آپ دعوت اسلامی کے ابتدائی دور میں ہوں اور ایک ابتدائی اسلامی معاشرت کی تشکیل ہونے جا رہی ہو چونکہ یہ دین کا ابتدائی دور ہے اور اس دور میں آپ کے پاس کوئی بھی قوت موجود نہ تھی اسلئے الله کے رسول علیہ سلام نے درگزر سے کام لیا ایسے تمام واقعات مکے کے ابتدائی دور سے متعلق ہیں …….
  2. دوسری وہ کیفیت ہے جب اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آ چکا ہو اور شریعت کا قانون نافذ ہو اس کیفیت میں ریاست کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ریاست کے اور مسلمانوں کے حکمران اور ان کے مذہبی پیشوا کی ناموس کی حفاظت قوت کے ساتھ کرے …..

کچھ تاریخی حوالے قرآن کریم کی آیت کی تشریح کے ساتھ

.﴿وَإِن نَكَثوا أَيمـٰنَهُم مِن بَعدِ عَهدِهِم وَطَعَنوا فى دينِكُم فَقـٰتِلوا أَئِمَّةَ الكُفرِ‌ إِنَّهُم لا أَيمـٰنَ لَهُم لَعَلَّهُم يَنتَهونَ ١٢ أَلا تُقـٰتِلونَ قَومًا نَكَثوا أَيمـٰنَهُم وَهَمّوا بِإِخر‌اجِ الرَّ‌سولِ وَهُم بَدَءوكُم أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ أَتَخشَونَهُم فَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشَوهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ١٣ قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُر‌كُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ‌ قَومٍ مُؤمِنينَ ١٤ وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم وَيَتوبُ اللَّهُ عَلىٰ مَن يَشاءُ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ ١٥ ﴾…. التوبة

”اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے سرداروں سے قتال کرو۔ بے شک ان لوگوں کی کوئی قسمیں نہیں تاکہ وہ باز آجائیں۔ کیا تم ان لوگوں سے نہیں لڑوگے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اوررسولﷺکو نکالنے کا ارادہ کیا اور اُنہوں نے ہی پہلی بار تم سے ابتدا کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو تو اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔ ان سے قتال کرو، اللہ اِنہیں تمہارے ہاتھوں سے عذاب دے گا اور اُنہیں رسوا کرے گا او ران کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور مؤمنوں کے سینوں کو شفا دے گا او ران کے دلوں کا غصہ دور کرے گا اور اللہ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے اور کمال حکمت والا ہے۔”

یہاں وَطَعَنوا فى دينِكُم کے الفاظ میں انتہائی وضاحت کے ساتھ حکم ربی بیان کر دیا گیا ہے

کعب بن مالک بیان کرتے ہیں :

”کعب بن اشرف یہودی شاعر تھا اور رسول اللہﷺکی شان میں بکواس کرتا تھا۔ اور اپنے شعروں میں قریش کے کافروں کو آپﷺکے خلاف بھڑکاتا تھا۔ رسول اللہﷺمدینہ طیبہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ملے جلے لوگ تھے۔ ان میں وہ مسلمان بھی تھے جنہیں رسول اللہﷺکی دعوت نے جمع کردیا تھا اور ان میں مشرکین بھی تھے جو بت پوجتے تھے اور اُن میں یہودی بھی تھے جو ہتھیاروں اورقلعوں کے مالک تھے اور وہ اوس و خزرج قبائل کے حلیف تھے۔ رسول اللہﷺ کی جب مدینہ تشریف آوری ہوئی تو آپﷺنے سب لوگوں کی اصلاح کا ارادہ فرمایا۔ایک آدمی مسلمان ہوتا تو اس کا باپ مشرک ہوتا۔ کوئی دوسرا مسلمان ہوتا تو اس کابھائی مشرک ہوتا اور رسول اللہﷺ کی آمد مبارک پرمشرکین اور یہودانِ مدینہ آپﷺ کو اور آپ کے صحابہ کرام کو شدید قسم کی اذیت سے دوچار کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپﷺاور مسلمانوں کو اس پر صبر و تحمل اور ان سے درگزر کرنے کا حکم دیا۔

انہی کے بارے اللہ جل شانہ کا فرمان نازل ہوا۔ ”اور یقیناً تم ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اوران لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا، ضرور بہت سی اِیذا سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلا شبہ یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔ ”

اور انہی لوگوں کے بارے میں اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی ”بہت سارے اہل کتاب چاہتے ہیں، کاش وہ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد پھر کافر بنا دیں اپنے دلوں کے حسد کی وجہ سے، اس کے بعد کہ ان کے لئے حق خوب واضح ہوچکا سو تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری طرح قدرت والا ہے۔”

جب کعب بن اشرف رسول اللہﷺاور مسلمانوں کو اذیت دینے سے باز نہ آیا تو رسول اللہﷺنے سعد بن معاذ کو حکم دیا کہ اس کے قتل کے لئے لشکر روا نہ کرو۔

”( دلائل النبوة للبیہقي :3‎ ‎‎/197 واللفظ له، سنن أبوداود (3000) الترمذي بحوالہ فتح الباري شرح صحیح البخاري:9‎ ‎‎/96)

اسی طرح امام ابن ابی حاتم رازی نے اُسامہ بن زیدسےمختصراً یہی روایت بیان کی ہے:

”نبی اکرمﷺ اور آپ کے صحابہ کرام مشرکوں اور یہود و نصاریٰ سے اللہ کے حکم کے مطابق عفو و درگزر کرتے اوران کی تکالیف پر صبر کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور آپ یقیناً ان لوگوں سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور اُن لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ، ایذا اور تکلیف دہ باتیں سنو گے۔”اُسامہ نے کہا: رسول اللہﷺ ان سے عفو و درگزر سے کام لیتے تھے جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا، یہاں تک کہ ان کے بارے اللہ نے اجازت دے دی۔”

( تفسیر ابن أبی حاتم الرازي:3‎ ‎‎/834(4618) تفسیر ابن کثیر:2‎ ‎‎/160)

امام ابن کثیر فرماتے ہیں: وهٰذا إسناد صحیح یہ سند صحیح ہے۔

تفسیر ابن کثیر میں حتی أذن الله فیهم کے بعد یہ الفاظ ہیں:«بالقتل فقتل اللہ به من قتل من صنادید قریش» ”یہاں تک کہ اللہ نے ان کےمتعلق قتل کی اجازت دے دی پھر قریش کے سرداروں میں سے جن کو قتل کرنا تھا، اللہ نے قتل کردیا۔”

ان احادیث ِصحیحہ میں حتی أذن الله فیهم یہاں تک کہ ان کے متعلق اللہ نے اجازت دے دی، سے مراد قتال کی اجازت ہے۔

٭ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: «قوله: (حتی أذن اللہ فیھم) أي في قتالھم أي فترك العفو عنهم»

”حدیث میں حتی أذن الله فیهم سے مراد ان کے ساتھ عفو و درگزر کو ترک کرکے قتال کرنے کی اجازت مراد ہے ۔”( فتح الباري:10‎ ‎‎/20)

٭شیخ الاسلام زکریا انصاری رقم طراز ہیں:

” اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو ان کفار یہود و نصاری اور مشرکین کے بارے میں قتال کی اجازت دے دی تو آپﷺ نے ان کے ساتھ معافی و درگزر کو ترک کردیا۔”( تحفة الباري بشرح صحیح البخاري :5‎ ‎‎/48)

کعب کے  قتل کا سب سے قوی سبب آپ ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور سب و شتم اور آپ کی ہجو میں اشعار کہنا ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں اس پر مفصل کلام کیا ہے۔ کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء رضی اللہ عنہم چونکہ سب قبیلہ اوس کے تھے، اس لئے قبیلہ خزرج کو یہ خیال ہوا کہ قبیلہ اوس نے تو رسول اللہ ﷺ کے ایک جانی دشمن اور بارگاہ رسالت کے ایک گستاخ اور دریدہ دہن کعب بن اشرف کو قتل کر کے سعادت اور شرف حاصل کر لیا ،لہذا ہم کو بھی چاہیے کہ بارگاہ نبوت کے دوسرے گستاخ اور دریدہ دہن ابو رافع کو قتل کر کے دارین کی عزت و رفعت حاصل کریں، چنانچہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ابو رافع کے قتل کی اجازت چاہی۔آپ نے اجازت دی۔

عبد اللہ بن عتیک،مسعود بن سنان، عبد اللہ بن انیس،ابو قتادہ حارث بن ربعی اور خزاعی بن اسود رضی اللہ عنہم کو اس کے قتل کے لئے روانہ فرمایا اور عبد اللہ عتیک کو ان کا امیر بنایا اور یہ تاکید فرمائی کہ کسی بچہ اور عورت کو ہرگز قتل نہ کریں۔(ملخصاً سیرت المصطفیٰﷺاز مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ)

اس موذی کو بھی ان صحابہ کرام نے عجیب تدبیر سے اس کے قلعے میں گھس کر واصل جہنم کیا اور نبی کریم ﷺ سے دعا پائی۔

اسی طرح

عمیر بن اُمیہ کی ایک بہن تھی اور عمیرجب نبی کریمﷺ کی طرف نکلتے تو وہ اُنہیں رسول اللہﷺکے بارے اذیت دیتی اور نبی کریمﷺ کو گالیاں بکتی اور وہ مشرکہ تھی۔ اُنہوں نے ایک دن تلوار اُٹھائی پھر اس بہن کے پاس آئے، اسے تلوار کا وار کرکے قتل کردیا۔ اس کے بیٹے اُٹھے، اُنہوں نے چیخ و پکار کی اور کہنے لگے کہ ہمیں معلوم ہے، کس نے اسے قتل کیا ہے؟ کیا ہمیں امن و امان دے کرقتل کیا گیا ہے؟ اور اس قوم کے آباء و اجداد اور مائیں مشرک ہیں۔ جب عمیر کو یہ خوف لاحق ہوا کہ وہ اپنی ماں کے بدلے میں کسی کو ناجائز قتل کردیں گے تو وہ نبی کریمﷺکے پاس گئے اور آپ کوخبر دی تو آپﷺنے فرمایا: «أقتلت أختك»کیا تم نے اپنی بہن کوقتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہاں۔آپﷺنے کہا: «ولم؟» تم نے اسے کیوں قتل کیا تو اُنہوں نے کہا: «إنها کانت تؤذینی فیك» ”یہ مجھے آپ کے بارے میں تکلیف دیتی تھی۔” تو نبی ﷺنےاس کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا تو اُنہوں نے کسی اور کو قاتل بنایا۔ پھر آپﷺنے ان کو خبر دی اور اس کا خون رائیگاں قراردیا تو اُنہوں نے کہا: ہم نے سنا اور مان لیا۔”

( المعجم الکبیر17‎ ‎‎/64(124)، مجمع الزوائد:6‎ ‎‎/398 (10570)، أسد الغابة:4‎ ‎‎/273، الإصابة:4‎‎ ‎/590)

ایک بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کے تمام اقوام میں اپنی مذہبی سیاسی سماجی اور ثقافتی علامات کی حفاظت کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے ……دور جدید میں بھی ایسی قانون سازی ہر ملک میں موجود ہے ہتک عزت کا قانون دنیا کی ہر مملکت میں لاگو ہے جس کے مطابق خاص شخصیات تو چھوڑ کسی عام آدمی کی تذلیل بھی قانونی اعتبار سے شدید جرم ہے …………آپ کیا چاہتے ہیں وہ آپ کے نبی کی شان میں شدید گستاخی کرتے چلے جائیں اور آپ اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرتے چلے جائیں اور آخر کار نبی کی ناموس ایک مذاق بن کر رہ جاوے ….اگر ایسا ہی رویہ تاریخ اسلامی میں اختیار کیا جاتا تو آج دنیا میں اسلام اور الله کے رسول کی کوئی وقعت ہی باقی نہ رہتی ……

اب الله کے رسول کی شخصیت معروف ہے اور پوری دنیا اس بات سے اچھی طرح واقف ہے ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی عقیدت ہی نہیں بلکہ ان کا دین بھی الله کے رسول کی شخصیت سے منسلک ہے اور انکی محبت ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ اور آج مسلمانوں کی دنیا میں تعداد انکے وسائل اور انکی حکومتیں اس بات کی واضح علامت ہیں کہ وہ بے قوت نہیں ہیں ……

سو ایسے میں اس دور کے احکامات لاگو کرنا کہ جب اسلام کی ابتدا تھی اور آپ انتہائی بے قوت تھے انتہائی کم عقلی اور دانش سے دور بات ہے …..

عبداللہ بن ابی کو سزا کیوں نہیں دی گئی ؟

عبدللہ بن ابی سلول یا عبدللہ بن ابی کے قتل کی اجازت نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ منافق تھا اور خود کو مسلمان کہلواتا تھا اور اس نے کبھی بھی کھلی گستاخی نہیں کی تو جب کوئی جرم ہی ثابت نہیں ہو تو الله کے رسول علیہ سلام سزا کیسے دیتے سو آپ کی یہ مثال غیر متعلق ہے …..

فتح مکّہ کے موقع پر شاتمین کو تہ تیغ کیا گیا اور یہ تاریخی سچائی ہے معافی صرف ان کو مل سکی جو تائب ہوکر الله کے رسول علیہ سلام کے سامنے حاضر ہوے اصول یہ ہے کہ اسلام اپنے سے پہلے تمام گناہوں کو معاف کروا دیتا ہے …….

توہین رسول ﷺاسلامی شریعت میں اتنا سنگین جرم ہے کہ اسکی مرتکب عورت بھی قابل معافی نہیں۔ چنانچہ آپﷺ نے ابن خطل کی مذکورہ دو لونڈیوں کے علاوہ دو اور عورتوں کے بارے میں بھی جو آپﷺ کے حق میں بدزبانی کی مرتکب تھیں، قتل کا حکم جاری کیا تھا‘ اس طرح مدینہ میں ایک نابینا صحابی کی ایک چہیتی اور خدمت گزار لونڈی جس سے انکے بقول انکے موتیوں جیسے دو بیٹے بھی تھے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور بدزبانی کا ارتکاب کیا کرتی تھی۔ یہ نابینا صحابی اسے منع کرتے مگر وہ باز نہ آتی۔ ایک شب وہ بدزبانی کررہی تھی کہ انہوں نے اسکا پیٹ چاک کردیا۔ جب یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپﷺ نے فرمایا لوگو! گواہ رہو اس خون کا کوئی تاوان یا بدلہ نہیں ہے۔ (ابوداﺅد، نسائی)

جب حضرت عمرؓ نے گستاخ رسول ﷺ کے نابینا قاتل کے بارے میں پیارسے کہا دیکھو اس نابینا نے کتنا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا، اسے اعمیٰ (نابینا) نہ کہو، بصیر و بینا کہو کہ اسکی بصیرت و غیرت ایمانی زندہ و تابندہ ہے۔

اور جب ایک اور گستاخ ملعونہ اسماء بنت مروان کو اسکے ایک اپنے رشتہ دار غیرت مند صحابی نے قتل کیا تو آپﷺ نے فرمایا لوگو! اگر تم کسی ایسے شخص کی زیارت کرنا چاہتے ہو جو اللہ اور اسکے رسولﷺ کی نصرت و امداد کرنیوالا ہے تو میرے اس جانثارکو دیکھ لو۔ یہ غیرت مند صحابی عمیر بن عدیؓ جب اس ملعونہ کے قتل سے فارغ ہوئے تو انکے قبیلہ کے بعض سرکردہ افراد نے ان سے پوچھا تھا کہ تم نے یہ قتل کیا ہے؟ انہوں نے بلاتامل کہا، ہاں اور اگر تم سب گستاخی کا وہ جرم کرو جو اس نے کیا تھا تو تم سب کو بھی قتل کردوں گا۔ (الصارم)

حضور انورﷺ مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو شہرنور میں ایک بوڑھا جس کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور نام اس کا ابو عفک تھا۔ اس نے انتہائی دشمنی کا اظہار کیا۔ لوگوں کووہ حضورﷺ کے خلاف بھڑکاتا، نظمیں لکھتا جن میں اپنی بدباطنی کا اظہار کرتا۔ جب حارث بن سوید کو موت کی سزا سنائی گئی تو اس ملعون نے ایک نظم لکھی جس میں حضورﷺ کو گالیاں بکیں۔ حضورﷺ نے جب اس کی گستاخیاں سنیں تو فرمایا:

’’تم میں سے کون ہے جو اس غلیظ اور بدکردار آدمی کو ختم کردے‘‘

سالم بن عمیر نے اپنی خدمات پیش کیں۔ وہ ابو عفک کے پاس گئے دراں حالیکہ وہ سورہا تھا۔ سالم نے اس کے جگر میں تلوار زور سے کھبو دی۔ ابو عفک چیخا اور آنجہانی ہوگیا۔(کتاب المغازی، للواقدی، سریۃ قتل ابی عفک، 163/1)

میں نے نبی کی زندگی سے ایسے واقعات نقل کر دئیے ہیں جہاں خود الله کے رسول نے گستاخوں کے قتل کا حکم دیا اور کہیں انکے قتل کی تحسین فرمائی ……….

جس کو نبی خود معاف فرمادے:

دوسری بات اصول یہ ہے کہ وہ شخصیت جس کی شان میں گستاخی کی جاوے اسے یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے گستاخ کی خود معاف کر دے لیکن بطور امتی ناموس رسالت کی حفاظت ہمارے ذمے ہے اور اس ذمے داری کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش ہم پر فرض ہے ….

چونکہ الله کے رسول کے دور میں اصحاب رسول رض آپ کے ظاہری حکم کے پابند تھے اسلئے انہوں نے کبھی ازخود کاروائی نہ کی لیکن الله کے رسول علیہ سلام کی منشاء یہی رہی کہ گستاخان کو معاف نہ کیا جاوے جس کی ایک واضح مثال اس واقعے میں ملتی ہے

عبد اللہ بن ابی سرح کے قتل سے متعلق ذکر کردہ حدیث : سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ جب فتح مکہ کا دن تھا کہ رسول اللہ نے سب لوگوں کو امن دیا سواے چار مردوں اور دو عورتوں کے اور ان کا نام لیا،تو ابن ابی سرح حضرت عثمان بن عفان کے پاس چھپ گئے۔ جب رسول اللہ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان نے ابن ابی سرح کو آپ کے سامنے لا کھڑا کیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! عبد اللہ سے بیعت کریں،آپ نے اپنا سر اُٹھاکر اس کی طرف دیکھا اور بیعت نہ کی،تین بار ایسا ہی کیا ۔تین بار کے بعد بیعت کرلی پھر اپنے صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ کیا تم میں کوئی بھی عقلمند نہیں ہے جو اُٹھتا اوراس کو مار دیتاکہ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ اس کی بیعت سے کھینچ لیا اور بیعت نہ کی۔صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول !ہمیں آپ کے دل کا حال معلوم نہیں تھا،اگر آپ آنکھ سے اشارہ کر دیتے (تو ہم مار دیتے)۔ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ رسول کے لئے لائق نہیں کہ وہ چورآنکھوں سے اشارہ کرے. (سنن ابو داؤد:۲۳۳۴)

دوسری بات تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ الله کے رسول علیہ سلام کے بعد خلافت راشدہ اور اس کے بعد کے ادوار میں کبھی بھی گستاخان رسول کو معاف نہیں کیا گیا ………..

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا الله کے رسول کے بعد تمام اصحاب معاذاللہ ، الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کے حکم سے پھر کر اسلام سے دور ہوگئے تھے جو کہ روافض کا عقیدہ ہے ……..اور کیا چودہ سو سال سے پوری امت نے ہی اس مسلے کو غلط سمجھا اور آج آپ ایسے جدت پسند اسلام کی حقیقی تعلیمات کی کو درست سمجھ پاۓ ہیں ……

کیا ایسی فکر اسلام کی جڑیں کھودنے کے مترادف نہیں۔ کچھ احمقوں نے طے کر دیا ھے کہ وہ نبی کریم ص کی توہین کے معاملے کو کبھی مسلم غیرت کا مسئلہ نہیں بنائیں گے بلکہ مغرب کے سامنے وہ مسلمانوں کو اس حوالے سے ” نکّو ” بنانے کی پوری کرتے رہیں گے کہ جی ایسے کاموں سے مسلمانوں کی بدنامی ہوتی ہے۔۔

ایک ملحد اینتھروپالوجسٹ کا کمنٹ

کسی کی زبردستی عزت نہیں کرائی جا سکتی ۔ جن لوگوں کو اختلاف ہوتا ہے ان کا اختلاف رائے کا حق ہونا چاہیے۔۔۔ کسی کو کوئی حق نہیں کہ کسی کی جان لے ، نبی کی حرمت یہ ہونی چاہیے کہ اس کے نام پہ خون خرابہ نہ ہو۔ اگر اس کے نام پہ گستاخی کی سزائیں دی گئیں تو اس سے نبی کی حرمت نہیں بڑھتی بلکہ کم ہوتی ہے ۔ پہلے اگر دو چار گالیاں دینے والے ہوتے ہیں تو بٰعد میں ہزاروں ہو جاتے ہیں ۔ اور یہی کام ہورہا ہے آجکل چارلی ہیبڈ و اپنی اشاعت کی وجہ سے کافی بدنام تھا اور مشکل سے کچھ ہزار کاپی بک پاتی تھی اس کی۔ قتل کے واقعے کے بعد ساری دنیا میں اسے عزت افزائی ملی اور اب کئی ہزار میں اس کی کاپیاں بکتی ہیں ۔ بلکہ اس واقعے کے بعد اس نے نبی کی تصویر والی اگلی اشاعت کی تھی وہ کئی لاکھ کاپیاں بکی تھیں۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ شدت اور نفرت سے کام لینا چھوڑ دیں ۔ اسی میں ان کی بھی اورنبی کی بھی حرمت ہو گی۔ اور اسلام کے بارے میں بھی لوگ اچھا سوچنا شروع کریں گے ۔ جو برا بھلا کہنے والے ہوتے ہیں انھیں بولنے دیں جو بولنا ہے ۔آخر کب تک بولیں گے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کے علاوہ کوئی بھی دوسری قوم جذباتی روحانی اور فکری اعتبار سے اسی طرح اپنی نبی سے جڑی ہوئی ہے جیسے مسلمان جڑے ہوے ہیں اور کیا کبھی مسلمانوں کی جانب سے کسی دوسری قوم کی معتبر شخصیت کی شان میں کوئی گستاخی ہوئی ہے ……

یہاں دو امور ہیں

  1. پہلا قانونی . :جیسا کہ میں نے اوپر بھی عرض کی قدیم یا جدید مہذب دنیا میں دوسروں کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچانا قانونی طور پر جرم ہے اب چاہے وہ کوئی شخص ہو شخصیت ہو نظریہ ہو یا علامت …

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی ملک کی پارلیمنٹ میں داخل ہو کر اجلاس کے دوران پیشاب کرنا شروع کر دے یا کوئی مزار قائد جا کر گالیاں لکھ دے یا ملک کی کسی معروف شخصیت کے جھوٹے عریاں خاکے بنا کر کسی بھی معروف اخبار میں چسپاں کر دے یا اس سے بھی کمتر چیزوں پر آجائیں ہتک عزت کے قانون تحت تو اتنی چھوٹی اور مضحکہ خیز چیزیں آ جاتی ہیں کہ عقل حیران ہوتی ہے …….اس ماحول میں اگر مسلمان ” ناموس رسالت ” کے مجرم کی کوئی قانونی سزا مقرر کرتے ہیں تو اس میں کون سی قباحت ہے .

  1. دوسرا جذباتی :. یہ فطرت انسانی ہے اگر کوئی آپ کی محبوب چیز شخصیت یا نظریے کے خلاف مسلسل تضحیک آمیز گفتگو کرے اور گفتگو بھی بلا دلیل ہو مقصود صرف مذاق اڑانا ہو تو کیا آپ کو غصہ آئے گا یا نہیں ……یہاں ہر کسی کے بھڑک اٹھنے کی حد مختلف ہو سکتی ہے ….

کسی کو اس بات پر شدید غصہ آ سکتا ہے کہ اس کے پسندیدہ اداکار کی برائی کیوں ہوئی …..

کوئی اپنی سیاسی فکر کے خلاف بات پر بھڑک سکتا ہے ………

کسی کو اگر غلیظ گالیاں دیں تو وہ آپے سے باہر ہو جاوے گا ……..

کسی پر جھوٹی الزام تراشی کریں تو اسے انتہائی غصہ آوے گا ……

کسی کے گھر کی خواتین کو چھیڑیں تو وہ مرنے مارنے پر تل جاۓ گا …….

مسلمانوں کی برداشت کی آخری حد انکی رسول صل الله علیہ وسلم کی ناموس ہے .

اب آپ کیا یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے رسول سے محبت کرنا چھوڑ دیں ……؟

دیکھئے جہاں بھی محبت اور محبت بھی شدید ہوگی وہاں شدید جذباتی تعلق بھی ہوگا اور جہاں معاملہ جذبات کا ہو وہاں عقل کے بھاشن نہیں چلتے وہاں عموم اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں ..یہ چار پانچ ، دس بیس ، سو دو سو ، ہزار دو ہزار ، لاکھ دو لاکھ کا نہیں بلکہ کروڑوں سے بھی بڑھا ہوا معاملہ ہے جب آپ کسی کے اہم ترین قلبی مرجع پر ہاتھ ڈا لینگے تو لوگ اپنے غم کا اظہار بھی کرینگے اور اس اظہار کو کسی بھی طریقے سے روکنا ممکن نہیں ……..

یہاں ایک اور چیز کی وضاحت کر دوں…..

مسلمانوں نے دلیل کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا کبھی کوئی قتل کوئی خون صرف اس بنیاد پر نہیں ہوا کہ کسی نے اسلام پر فلاں اعتراض کر دیا ہے ……فن مناظرہ اور علم الکلام مسلمانوں کی ایجاد ہیں منطق مسلمانوں کا ہتھیار رہا ہے …کسی کو اسلام پر اعتراض ہے گفتگو کرے دلائل پیش کرے اپنے اعتراضات کو سامنے لاۓ الله کے کرم سے مسلمانوں کے پاس ایسے اہل علم کی کمی نہیں کہ انھیں شافی جواب دیکر لاجواب کر سکیں ….

لیکن کسی کو گالی دی جاوے اس کا ٹھٹھا اڑایا جاۓ اس کی تضحیک کی جائے اور پھر وہ اپنا رد عمل ظاہر کرے بلکہ ظاہر کرے کیا اس سے فطرت انسانی کے تحت اظہار ہو جائے تو تمام بھاشن بھی اسے ہی سنائے جاویں واہ جناب واہ یہ کون سی نرالی منطق ہے سمجھ سے باہر ہے …….

ایک اور بات کی وضاحت کر دوں کہ آج دنیا میں کوئی بھی اسلامی حکومت موجود نہیں ورنہ یہ معاملہ عوامی احتجاج کا نہیں بلکہ ریاست کی سطح پر شدید ترین کاروائی کا تھا …..جب امریکہ عافیہ صدیقی کو لے جاکر سزا دے سکتا ہے تو ہم کیوں چارلی ہیبڈو کے کرتا دھرتا بدمعاشوں کو سر عام نہیں لٹکا سکتے ……

شکریہ تفصیلی جواب کے لیے۔۔۔۔ میرا مطابق ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا آزادی رائے کا حق رکھتی ہے ۔ آپ کی اس بات سے میرا اختلاف ہے کہ مسلمان باقی مذاہب کی شخصیات کی عزت کرتے ہیں ۔ مسلماں صرف دینی ابراہیمی میں گزرے اور بیان کیِئے گئے نبیوں کی عزت کرتے ہیں ، ورنہ ہندوں کے خداوں کا تمسخر، مززا قادیانی کو گا لم گلوچ اور کسی مخالف فرقے کے پیشوا کا وہ جو حال کرتے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ بت شکنی ہمارے ہاں عام رہی ہے ۔ہمیں سکول کی کتابوں میں بت شکنی کا درس دیا گیا ہے

اگر کسی بچے کو بچپن سے یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ تمہارے لیِئے نبی پاک ہر چیز سے افضل ہونے چاہییں اور ان کی حرمت پہ آنچ نہیں آنے دینی چاہیئے تو بچہ بڑا ہو کر محبت کے جزبے میں سرشار کسی کے ساتھ کچھ بھی کردے تو اس کا عمل جائز نہیں سمجھا جا سکتا ۔ اور میرا کہنا ہی یہی ہے کہ تعلیم و تربیت میں وہ عنصر ڈالا جائے کہ محبت اپنی جگہ قائم رہے لیکں مخالفت میں قتل تک کی بات نہ ہو۔

آپ نے کہا کہ اکثر لوگ اپنے محبوب اداکار کی مخالفت میں کچھ نہیں سن سکتے ۔ اگر وہ نہیں سن سکتے اور قتل تک نوبت آ جاتی ہے تو پھر بھی ان کے قتل کے اقدام کو جائز نہیں قرا ر دیا جا سکتا ۔ ایک مہذب معاشرے کی نشانی یہ ہے کہ بندہ آپ سے شعوری طور پہ اختلاف رکھتا ہے اور آپ کے نظرے کو برا بھلا بھی کہتا ہے تو آپ فراخ دلی کا ثبوت دیں اور اس کو خدا حافظ بول کے اپنی راہ لیں نہ کہ اس طرح کے معاملات میں قتل کی سزا تجویز کر دیں ۔جب بھی کوئی شخصیت ، نظریہ یا شے پبلک ہو جاتی ہے تو اس پہ ہزار طرح کی انگلیاں اٹھتی ہیں ۔ اور برداشت ہی وہ عمل ہے کہ جس میں بڑھائی ہے ، یا پھر اٹھتی انگلیوں کو دلیل سے روکنے کی کوشش کی جائے ۔

آپ نے یہ بات بھی بولی ہے کہ اختلاف رائے پہ کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا ۔ سلمان رشدی نے گالیاں نہیں نکالی تھیں، ایک کتاب لکھی تھی جو اختلافی تھی ۔ چارلی ہیبڈو نے محض کارٹوں نہیں بنائے تھے ہر تصویر میں مسلمانون کی شدت پسندی اوران کی تعلیمات کے عسکری عنصر کی طرف نشاندہی تھی ۔ فنون لطیفہ نظریہ سازی اور پیغام رسانی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس کی کئی شکلیں ہوتی ہیں دنیا ہر شکل کو اختیار کرکے اپنا پیغام پہنچاتی ہے اور مسلمانوں کو اس دنیا کے ساتھ چلنا پڑے گا ، ورنہ وہ سماجی گھٹن کا شکار رہیں گے ۔ اور اگر عزت ہی کرنی ہے تو پہلے نبی کے بعد آنے والے کئی نبیوں کی عزت کریں پھر شاید ان کی بات میں وزن بھی ہو ۔

چند چیزوں کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے ……

پہلی بات مجھے آپ کی اس بات سے اختلاف ہے کہ اسلام غیر مسلم شخصیات کی تضحیک کی اجازت دیتا ہے کیونکہ قرآن تو ان کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکتا ہے …..

دوسری بات اپنی محبوب شخصیت سے محبت کرنا اور اسکی محبت میں جذباتی ہونا عین فطرت انسانی ہے اس سے مفر ممکن ہی نہیں یہاں تک کہ انسان روبوٹ ہی بن جاوے …….

تیسری بات چارلی ہیبڈو کے کیری کیچر یا رشدی کا بدنام زمانہ ناول اگر تضحیک نہیں تو اور کیا ہے جناب من میں کافی عرصے سے لکھ رہا ہوں اور مزاح میرا خاص موضوع ہے اسی طرح کیسے شخصیات کے خاکوں میں تحریر یا تصویر سے مزاح کا رنگ بھرا جاتا ہے اس سے بھی خوب واقف ہوں سو گزارش یہ ہے کہ اصحاب فن سے رجوع کیجئے تاکہ آپ پر حقیقت واضح ہو سکے ……..

آپنے کہا تھا کہ مسلمان عزت کرتے ہیں ۔ تو میں نے اسی کا جواب دیا تھا اگر آپ پہلے کہہ دیتے کہ قرآن کیا کہتا ہے تو میں کوئی اور بات کرتا ۔ مجھے یہ بتا دیجے کہ قرآن کی دوسرے کے خداوں کو برا بھلا نہ کہنے والی آیت فتح مکہ سے پہلے آئی تھی یا بعد میں ۔

محبوب شخصیت کی تضحیک پہ جزباتی ہو جاتا فطری ہے لیکن قتل کرنا نہیں ۔ آپ کی دلیل کو سامنے رکھتے ہوئے تو تمام انسانوں کو اپنی محبوب چیز کی تضحیک پہ قتل کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے ۔

اور جس تحریر کو آپ بدنام زمانہ کہہ رہے ہیں وہ بیسٹ سیلر رہی ہے اور کئی ایوارڈ حاصل کَے ہیں اس نے۔ فنون لطیفہ کو جن لوگوں نے پروان چڑھایا ہے وہ تہذیب کے مراحل سے گزرتے ہوئے آج یہاں تک پہنچے ہیں۔۔۔۔ اگر فنون لطیفہ کو آج مسلماانوں کے ہاں سپرد کر دیا جائے تو شاید کچھ عرصے بعد بولنے کی بھی ایک کتاب شائع کی جائے کہ جس میں ہر انسان کو کیا بولنا ہے کیا نہیں کے مضامین وقواعد ہوں۔ اختلاف رائے کسی بھی طریقے سے کیا جائے اسے تضحیک کہہ کر اس کا منہ نہیں بند کیا جا سکتا ۔

محترم میرے خیال میں آپ کچھ معاملات میں غلط فہمیوں کا شکار ہیں کوشش یہ ہے کہ آپ کو تصویر کا دوسرا رخ دکھایا جاوے …..

قرآن کی دوسرے کے خداوں کو برا بھلا نہ کہنے والی آیت فتح مکہ سے پہلے آئی تھی یا بعد میں ۔ “

جناب من یہ سوال ہی غیر متعلق ہے کہ آیت پہلے نازل ہوئی تھی یا بعد میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ اصول قرآن کریم میں موجود ہے اور کیا یہ اصول اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے یا نہیں …… ؟

تو اس کا جواب صاف اور واضح ہے جی بالکل ہے۔ اب اگر کبھی کہیں کسی زمانے میں کسی مسلمان نے اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے تو یہ اس شخص کی ذاتی غلطی ہے ناکہ اسلام کی ….

دوسری بات مذہب مسیحیت یا یہودیت دونوں کے مرجع حضرت مسیح یا حضرت موسی علیہ اسلام کے نزدیک بھی معتبر ہیں تو انکی تضحیک و تذلیل کا تو سوال ہی پیدہ نہیں ہوتا …….اب لیتے ہیں دوسرے نکتے کو جو آپ نے پیش کیا

” محبوب شخصیت کی تضحیک پہ جزباتی ہو جاتا فطری ہے لیکن قتل کرنا نہیں ۔ آپ کی دلیل کو سامنے رکھتے ہوئے تو تمام انسانوں کو اپنی محبوب چیز کی تضحیک پہ قتل کرنے کی اجازت دے دینی چاہیے “

یہاں اپ سے سوال یہ ہے کہ اسلام نے کہاں اجازت دی کہ ہر اس شخص کو قتل کر دیا جاوے اور یہ اختیار ہر خاص و عام کو حاصل ہو کہ وہ ہر اس شخص کو قتل کر دے جو اسلام کا گستاخ ہو …..تاریخ انسانی کا مطالعہ کیجئے مسلمانوں نے ہزاروں سال دنیا پر حکومت کی ہے اگر ایسا ہی ہے تو اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوتی جبکہ ایسا نہیں ہے ………دوسری بات یہ اختیار عام آدمی کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے کہ وہ ایسے شخص کو سزا دے اور یہ کوئی انوکھا قانون اسلامی ریاست کا نہیں بلکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں بلاس فیمی کا قانون موجود ہے …..بلکہ اسلامی ریاست کا قانون تشکیل ہی اسلئے دیا گیا ہے کہ ہر جذباتی شخص کسی کو گستاخ کہ کر قتل نہ کردے بلکہ یہ کام ریاست کرے انصاف کے اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوے ……جیساکہ عرض کی یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیت چیز یا نظریے کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے اور فطرت انسانی کسی بھاشن سے تبدیل نہیں ہو سکتی سو اسی لیے اسلام نے اس معاملے پر قانون سازی کر دی …….

جہاں تک بات ہے بیسٹ سیلر کی تو جناب من شاید آپ کا حقیقی ادب سے کوئی تعلق نہیں ورنہ آپ ایسی بات نہ کہتے ……اس وقت سب سے زیادہ بکنے والا شاعر وصی شاہ ہے تو کیا ہم بھی اس کو بڑا شاعر مان لیں محترم ماہرین فن اور شعر ا کے نزدیک وہ شاعر ہی نہیں ہے ……معروف تحریر اور ادبی تحریر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ، ایک ایسی فاحشہ جو ننگی ہو کر دنیا کے سامنے آ جاوے معروف تو وہ بھی ہوتی ہے شہرت اس کو بھی مل جاتی ہے لیکن حقیقی اداکارہ کون ہے اس کا تعلق شہرت سے نہیں قابلیت سے ہے …….

اب یہی کلیہ تمام فنون لطیفہ پر لاگو ہوگا …..

کیا جسٹن بیبر پٹھانے خان سے بڑا گائیک ہے …….لیکن بیبر کی دنیا عاشق ہے جسے موسیقی کی میم سے بھی واقفیت نہیں جبکہ پٹھانے خان جیسے استاد سے کتنے لوگ واقف ہونگے….

پھر آپ نے اپنے اگلے نکتے میں جو امر منکشف کیا ہے معذرت کے ساتھ اس سے زیادہ بچگانہ بات میں نے پہلے کبھی نہیں سنی .

” اگر فنون لطیفہ کو آج مسلماانوں کے ہاں سپرد کر دیا جائے تو شاید کچھ عرصے بعد بولنے کی بھی ایک کتاب شائع کی جائے کہ جس میں ہر انسان کو کیا بولنا ہے کیا نہیں کے مضامین وقواعد ہوں۔ “

جناب من جب آپ کا محبوب یورپ اپنے تاریک دور سے گزر رہا تھا اس وقت مسلمان فنون لطیفہ کے عروج پر تھے اسلام تو نازل ہی ایسی قوم پر ہوا تھا جہاں کا ہر دوسرا شخص شاعر و ادیب اور فصاحت و بلاغت کا ماہر تھا حماسہ ، متنبی ، إمرؤ القيس جیسے بلغاء کا رنگ جوان تھا ….

اسلام وہ واحد دین ہے جس کے پیغمبر علیہ سلام نے مسجد کے منبر سے ایک شاعر کو اپنے فن کے اظہار کا موقع دیا …..جب آپ کا یورپ پتھر کے دور میں تھا اس وقت مامون الرشید کے ” بیت الحکمت ” میں یونانی علوم و فلسفے کا عربی میں ترجمہ ہو رہا تھا …….میکیا ولی کی (The Prince) سے پہلے ہی ابن خلدون اپنا ” مقدمہ ” لکھ چکا تھا …….

جدید عمرانیات ، معاشیات ، سیاسیات ، اور فلسفے سے مسلمانوں نے دنیا کو متعارف کروایا ہے ……اگر ابن رشد نہ آتا تو آج مغرب فلسفے کے مبادیات سے ہی ناواقف ہوتا .۔۔معذرت کے ساتھ علم الکلام اور منطق مسلمانوں کے دور میں پروان چڑھے ہیں سو ہمیں یہ بتلانا کہ ادب کیا ہے سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے …..

آپ کے لیِے یہ معنی نہیں رکھتا ہوگا کہ فتح مکہ پہلے ہوا یا بعد میں ۔ ان لوگوں کے لیئے بہت اہمیت رکھتا ہے جو معاملات کو ہر نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ فتخ مکہ والے دن بت شکنی ہوئی تھی میرا سوال ہے کیا وہ قرآن کی آیت کی نفی تھی یا آُپ کے پاس اس کے بارے میں کوئی بہتر استدلال ہے ۔

دنیا میں کوئی ایسا حالیہ مروجہ قا نون بتا دیں کہ جہاں بلیس فیمی پہ موت کی سزا ہو ۔ علاوہ اسلامی ممالک کے ۔ سلمان رشدی کی کتاب پہ آپ بیسٹ سیلر کو لے بیٹھے اور کئی اد بی ایوارڈز کا ذکر تک نہیں کیا ؟؟

اورشیطانی آیات ناول میں کہیں کوئی گالی لکھی ہوئی دکھا دیں ۔ میں نے شروع سے ہی یہ مدعا بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر آپ نے حق رائے دہی پر پابندی لگائی تو مقدس ہستیوں پہ ہر طرح کی تنقید کے دروازے بند ہو جائیں گے ۔ اور شیطانی آیات ایک بہترین تنقید کی کتاب ہے ۔ آُ پ کے لیے نہیں ہوگی ۔ اس پہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ اس میں کوئی تضحیک کا پہلو مجھے بتا دیں ۔

منطق مسلمانوں کے دور میں پروان چڑھا۔یہ بالکل علیحدہ موضوع ہے اور اس پہ کسی دن ٹائم نکال کے آپ کے گروپ میں آپ کے فیڈبیک کے لیے پوسٹ کروں گا۔ المعتزلة کے دروازے بند کرکے اپنی من چاہی منطق ابھارنے کی کوشش کرنا منطق پروان چڑھانے کے برابر نہیں ۔ منطق آج جہاں پہ ہے وہ ہر لحاظ سے ارسطو کی بنیادوں پہ کھڑی ہے ۔ مسلمانوں نے تو المعتزلة کے دروازے کے دروزے اپنے لیے بند کر دے تھے ۔ فارابی اور سینا کو تو الحاد سے تشبہہ دی تھی محترم غزالی نے ۔ اور غزالی کے کیا کہنے کہ کپڑا جلنے کے عمل پہ اس کی منطق کی کہ کسی طبعی خصو صیت کی وجہ سے کپڑا جلنے کے عمل کو بیان کرنا خدا کے ہاتھ باندھنے کے مترادف ہے ۔ مسلمانوں کے اندر اگر اچھے نامور پیدا ہوئے تو اسلام کی وجہ سے نہیں ہوئے ۔ بلکہ وقت کے علماء نے ان پہ کیچڑ ہی اچھالا ۔ مامون الرشید کا دارالحکمہ کہ جہاں عقل کا بول بالا تھا جاہلیت کے سمندر میں بہہ گیا تھا ۔ ۔اور خاکوں پہ قتل وغارت بہت نئی پیداورار ہے ورنہ مسلمان حکمرانوں کے درباروں میں نبی محمد کی تصویر کشی ملتی ہے ۔ یہ تصویروں پہ ہیجا نی کیفیت کا شکار ہو جانا مقابلتہ ایک جدید عمل ہے ۔

محترم جب بھی دو افراد کے مابین مکالمہ ہو تو مناسب ہے کہ ہر دو فریق اپنی فکر کے حوالے سے دوسرے پر واضح ہیں اور ان کی تحریر تلبیس و تدلیس سے پاک ہو تاکہ دلائل مناسب انداز سے ایک دوسرے کے سامنے رکھے جا سکیں یہ ضروری نہیں کہ مقابل آپ کی دلیل تسلیم ہی کر لیں لیکن یہ ضروری ہے کہ مقابل کا صحیح موقف ضرور واضح طور پر سامنے ہو….اب کچھ بات آپ کے اشکالات یا پھر اختلافات پر کر لیتے ہیں …

” آپ کے لیِے یہ معنی نہیں رکھتا ہوگا کہ فتح مکہ پہلے ہوا یا بعد میں ۔ ان لوگوں کے لیئے بہت اہمیت رکھتا ہے جو معاملات کو ہر نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ فتخ مکہ والے دن بت شکنی ہوئی تھی میرا سوال ہے کیا وہ قرآن کی آیت کی نفی تھی یا آُپ کے پاس اس کے بارے میں کوئی بہتر استدلال ہے “

جیسا کہ میں نے عرض کی تھی یہ حکم فتح مکہ سے پہلے نازل ہوا تھا یا بعد میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اب یہ ایک اصول کے طور پر تسلیم شدہ ہے ……یہاں آپ کے سوال سے چند احتمالات پیدہ ہوتے ہیں پہلے ان کی وضاحت ضروری ہے …….

اپنے سوال کو واضح کیجئے

١. آپ کیا سمجھتے ہیں کہ چونکہ فتح مکہ کے موقع پر بت شکنی ہوئی تھی تو یہ قرآن کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی اب کیا آپ کا اشکال یہ ہے کہ نبی کریم صل الله علیہ وسلم نے از خود معاذاللہ قرآنی حکم کی خلاف ورزی کی …… ؟

٢. یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ ایسا عمل ہوا جو قرآن کے حکم کے خلاف دکھائی دیتا ہے تو کیا یہ آیت معاذاللہ بعد میں شامل کی گئی ……. ؟

٣ . یا آپ کے نزدیک ہر دو عمل قرآن کے حکم کے مطابق ہی تھے سو دین اور خاص کر دین اسلام معاذاللہ دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے ….. ؟

٤. یا آپ کے خیال میں کتب تاریخ و حدیث میں موجود یہ واقعہ ہی درست نہیں …….. ؟

اگر آپ کے سوال کی نوعیت واضح ہو کہ آپ کے سوال کا تناظر کیا ہے تو جواب دینے میں آسانی ہوگی .

“دنیا میں کوئی ایسا حالیہ مروجہ قا نون بتا دیں کہ جہاں بلیس فیمی پہ موت کی سزا ہو ۔ علاوہ اسلامی ممالک کے ۔ سلمان رشدی کی کتاب پہ آپ بیسٹ سیلر کو لے بیٹھے اور کئی ادبی ایوارڈز کا ذکر تک نہیں کیا ؟؟”

محترم اس کتاب کا تو نام ہی طنزیہ اور تضحیک آمیز ہے تو آگے اور کیا عرض کروں ……

جہاں تک بات ہے ایوارڈز کی تو مغرب کی اخلاقیات اور آپ کی اخلاقیات میں فرق ہے وہاں تو ہم جنس پرستی کے حوالے سے لکھے گئے ناولز کو بھی ایوارڈ مل جاتا ہے تو کیا یہ ہمارے لیے بھی اصول بن جاوے گا؟ حال ہی میں ناولز کی ایک سیریز کو ایوارڈ ملا جس پر مووی بھی بنی یعنی (Fifty Shades of Grey) ناول کا ہیرو (BDSM) کا شوقین ہے یعنی (BDSM is a variety of erotic practices involving dominance and submission, roleplaying, restraint, and other interpersonal dynamics.)

جنسی اذیت پسندی سے لطف اندوز ہونے والی بیماری آج ویسٹ میں انتہائی مقبول ہے جیساکہ ایک زمانے میں (Naturism) عریانیت پسندی یا ہپی ازم پر لکھے گئے ناولز کو ایوارڈز ملے ……دوسری بات آپ نے اکثر یہ پڑھا ہوگا کہ اس فلم ناول افسانے یا ڈرامے کے کرداروں سے حقیقی دنیا میں مطابقت اتفاقی ہوگی کیونکہ یہ قانون کے خلاف ہے …..تو یہاں ایک ایسی جیتی جاگتی شخصیت جو کروڑوں افراد کے لیے مرجع اور انکے ایمان کا حصہ ہے ان سے متعلق فکشن لکھنا کیسے درست ہوا اور مغرب نے کیونکر رشدی کو سپورٹ کی ………؟

معاملہ یہ ہے کہ کمیونزم کی بطور نظام ذلت آمیز شکست کے بعد دنیا میں جو نظام چلا وہ کپیٹل ازم ہے اور اس نظام میں مذھب اور مذہبی اقدار کی کوئی حیثیت نہیں اور اگر کوئی چیز مذہب کے خلاف جاتی بھی ہے تو وہ اسے قبول کر لیتے ہیں سو انکی لا مذہبی اور لادینی اخلاقیات کے نزدیک ، عریانیت یا ہم جنس پرستی یا بلاسفیمی کوئی جرم نہیں ہے لیکن مذہبی اخلاقیات کے نزدیک یہ شدید جرائم میں سے ہیں …..اب آپ اگر مذہبی ہیں تو رشدی کی تحریر آپ کے نزدیک قابل اعتراض ہوگی اور اگر آپ مذہب پر یقین نہیں رکھتے تو نہیں ہوگی …….

جہاں تک آپ نے بات کی معتزلہ کی تو حقیقت یہ ہے کہ صحیح عقیدہ مسلمانوں کی جانب سے ان پر کیا مظالم ہوتے معاملہ ہی اس کے بر عکس ہوا چونکہ آپ کی تاریخی معلومات کمزور دکھائی دیتی ہیں اسلئے کچھ عرض کر دوں …….

امام احمد بن حنبل کی زندگی میں ابتلا کا ایک ایسا دور آیا تھا جس نے ان کی عظمت کردار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ اس ابتلا کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کے سامنے یہ سوال آیاکہ اللہ کے کلمات مخلوق ہیں یا غیرمخلوق ؟ اولاً اس کا جواب یہ دیا گیا کہ وہ مخلوق نہیں ہیں۔اس پر انھوں نے کہا کہ تمھارا قرآن عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا کلمہ کہتا ہے ، لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام قرآن کے مطابق غیر مخلوق قرار پائے ۔ یعنی ان کے بارے میں الوہیت کا وہ عقیدہ جو عیسائیوں میں رائج ہے ،وہ قرآن کے مطابق بالکل درست عقیدہ ہے۔ اس الجھن کے سامنے آنے کے بعد حکومت نے یہ موقف سختی سے اپنا لیا کہ قرآن مخلوق ہے، یعنی اللہ کے سبھی کلمات مخلوق ہیں۔ حکومت نے یہ کوشش بھی کی کہ اسی رائے کو سب علماے امت کی تصویب حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس کی خاطر پہلے علما کو قائل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ کئی علما نے یہ موقف اختیار کر لیا۔ جن علما نے بغیر کسی شرعی دلیل کے اس موقف کو ماننے سے انکار کر دیا، ان پر پھر خوب ظلم و ستم ڈھایا گیاتاکہ وہ خلق قرآن کے قائل ہو جائیں۔

امام احمد کو اسی رائے کا قائل کرنے کے لیے طرموس سے قید و بند کی حالت میں بغداد لایا گیا ۔ ان کے پیروں میں کئی بھاری بیڑیاں پہنا کر انھیں داخل زنداں کیا گیا۔ پھر ان کو جب سزا کے لیے معتصم باللہ کے سامنے پیش کیا گیا تو پہلے درباری علما نے اور خود معتصم نے بھی ان کو عقیدۂ خلق قرآن اختیار کرنے کی دعوت دی ۔اس مقصد کے لیے درباری علما نے ان سے مناظرہ بھی کیا۔ آپ اپنے مخالفین کی ساری دلیلوں کے جواب میں ایک ہی بات کہتے تھے کہ تم اپنی بات کے حق میں کتاب و سنت کی کوئی دلیل پیش کرو تو میں مان لوں گا۔ ان کی یہ استقامت دیکھ کر، جسے درباری علما ان کی طرف سے ہٹ دھرمی کا رویہ قرار دیتے تھے، خلیفہ معتصم باللہ نے ان کو کوڑے لگانے کا فیصلہ کیا اور اس نے جلادوں کو یہ حکم دیا کہ وہ امام احمد کو کوڑے لگائیں۔

امام احمد خود بیان کرتے ہیں کہ معتصم باللہ کے حکم پر کئی جلادوں نے مجھے کوڑے لگائے۔ ہر جلاد مجھے دو کوڑے پوری قوت سے لگاتا اور پیچھے ہٹ جاتا پھر نیا جلاد آتا۔ اس طرح مجھے بہت سے کوڑے لگائے گئے۔ ہر کوڑے پر مجھے غشی طاری ہوجاتی تھی۔ جب کوڑے لگانے بند کر دیے جاتے تو میں ہوش میں آجاتا اور دیکھتا کہ معتصم باللہ میرے پاس موجود ہے اور کہہ رہا ہے کہ احمد تم لوگوں کی بات کیوں نہیں مان لیتے۔ دوسرے حاضرین ان سے مخاطب ہو کر کہتے کہ خلیفہ تم سے درخواست کر رہے ہیں اور تم ان کی بات ٹھکرا رہے ہو۔ امام احمد کہتے ہیں کہ میرے کان میں ان کی باتیں پڑ رہی تھیں، مگر میں کسی بات پر دھیان نہ دیتا تھا ۔ میرا اصرار صرف اس قدرتھا کہ میرے سامنے اللہ کی کتاب یا اس کے رسول کی سنت سے کوئی دلیل پیش کرو، میں تمھاری بات تبھی مان سکتا ہوں۔ اس پر مجھے زدوکوب کیا جاتا، بالآخر مار کی شدت سے میرے ہوش و حواس بجا نہ رہے اور تکلیف کا احساس تک ختم ہو گیا۔ اس سے خلیفہ خوف زدہ ہو گیا اور اس نے میری رہائی کافرمان جاری کر دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس فرمان کے جاری ہونے تک جلاد مجھے کل اسی کوڑے اپنے پورے زور و قوت کے ساتھ لگا چکے تھے۔ بہرحال، اس کے بعد مجھے رہا کر دیا گیا۔ امام صاحب کو اس ابتلا کے دوران میں ۲۸ سے ۳۰ مہینے تک قید و بند اور محن و مشقت میں گزارنے پڑے۔

تو معتزلہ کی جانب سے اہل سنت مسلمانوں پر شدید مظالم ہوے ناکہ مسلمانوں کی جانب سے ….معتزلہ کو تلوار سے نہیں بلکہ دلیل کے زور سے زیر کیا گیا …..

دوسری طرف یہی معاملہ فلسفے کا ہوا مسلمانوں کو فلسفے سے اختلاف نہیں تھا بلکہ جب فلسفے نے الہیات میں دخل دینا شروع کیا اور الله کے وجود پر ہی اعتراضات اٹھانے شروع کیے تو فلسفیوں کو قتل نہیں کیا گیا بلکہ انکو دلیل سے بے دلیل کیا گیا …..

امام غزالی رح نے ” تہافت الفلاسفہ ” لکھی ناکہ کوئی تلوار بردار فورس بنائی …..پھر فلسفے کو زندہ بھی ایک مسلم فقیہ ابن رشد نے رکھا ……

میری دلیل اب بھی وہیں ہے شعر و شاعری اور علم و ادب میں مسلمانوں کے کمالات سے انکار اسی صورت میں ممکن ہے کہ نگاہوں پر تعصب کی عینک ہو ……

جہاں تک بات ہے کیری کیچرز کی تو ان کے تضحیک آمیز ہونے میں کوئی ابہام ہی موجود نہیں دوسری طرف جہاں تک تصویر کا معاملہ ہے تو تمام امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی علیہ سلام کی تصویر کشی ناجائز ہے تو یہ بات مغرب کو سمجھنی ہوگی کے مسلمانوں کے مذہبی عقائد کا خیال رکھیں ورنہ فساد کا ذمہ ان کے سر ہوگا ناکہ مسلمانوں کے ……..

پھر آپ نے سوال کیا کہ کس ملک میں بلاس فیمی پر سزاے موت ہے ………؟

پہلی بات یہ آپ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ سزا ہے ……اب جزا و سزا کے اصول اور ان کی شدت میں فرق اختلافی ہو سکتا ہے ……حال ہی میں یورپ میں دو ہیکرز کو دو دو بار عمر قید کی سزا دی گئی چونکہ یورپی ممالک میں سزاے موت پر پابندی ہے سو یہ وہاں کی شدید ترین سزا ہے …….ہر سال امریکہ میں میکسیکنز کو سرحدی قانون کی خلاف ورزی پر جان سے مار دیا جاتا ہے یعنی ان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی ناقابل معافی جرم ……….

ایسا ہی معاملہ اسلام کا ہے نبی کی شان میں گستاخی جرم عظیم ہے اور اس کی سزا ان کے نزدیک موت ہے ……اب مسلمان اپنا قانون بنانے کا اور اسے نافذ کرنے کا مکمل حق رکھتے ہیں جیساکہ اوپر کی مثالوں میں یورپ اور امریکہ کو حاصل ہے ………

دوسرا میرے مطالعے پہ آپکی رائے کی میں قدر کرتا ہوں لیکن میں آپ کی طرح judgmental بنے بغیر بتا نا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے کہا تھا کہ منطق مسلمانوں کی ایجاد ہے تو میرا خیال تھا آپ معتزلہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔ کیونکہ اگر مسلمانوں میں منطق کا کہیں بول بالا ہوا ہے تو انھی سے ہوا ہے ۔ اگر آپ اس بات سے انکار کرتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ بلکہ اچھی بات ہے آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ معتزلہ کا منطق سے کوئی تعلق نہیں ۔ اب اگر آ پ یہ بتا دیں کہ منطق مسلمانوں کے ہاں کیسے ایجاد ہوئی تو میرے علم میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

تیسرا یہ کہ fifty shades of grey آپ کی نظر میں اہمیت نہیں رکھتی ہوگی ۔ ناول کو بے انتہا مقبولیت ملنے کے بعد ہی فلم بنی تھی ۔ اگر محض مووی کے پورن ہونے پہ اسے ایوارڈ مل جاتے تو روز ہزاروں کےحساب سے بننے والی پورن فلمیں ٹاپ ٹین میں ہوتیں ۔ آُپ کی مرضی کا ادب اب ہر جگہ پہ نہیں چل سکتا ۔ دنیا جنسیات میں بھی آرٹ دیکھتی ہے ۔ اب مسلمان اسے کسی اور نظر سے دیکھیں تو باقی دنیا کیا کرے پھر ۔۔۔

اور آخری بات یہ کہ آُ پ نے کہا کہ مسلمانوں کے لیے نبی عظیم ہیں اور ان کی مرضی وہ حرمت کے لیے جیسا بھی قانوں بنائیں ۔ اور میرے خیال سے بات کا آغاز بھی یہاں سے ہوا تھا جب میں نے کہا تھا کہ کسی کی زبردستی عزت نہیں کرائی جا سکتی ۔ آپ نے جو قانوں بنانا ہے بنائیں ۔ باقی معاشرے کو آپ کے قانوں پہ تنقید کرنے کا حق ہے اور ایک مرے ہوئے انسان کی وجہ سے جیتے جاگتے انسان کی جان لی جائے گی تو اس سے مرے ہوئے انسان کی کتنی قدر ہو گی اس کا حال آُ پ کی آنکھوں کے سامنے ہے ۔ ہم انساں جو محض تیس ہزار سال پہلے ایک دوسرے کا گوشت کھاتے تھے آج جانوروں سے انسیت بڑھا رہے ہیں ۔ انھیں بھی اپنے ساتھ کھلا پلا اور سلا رہے ہیں ۔ یہ تہزینی مراحل سے گزرنا انسانی فطرت ہے ۔ ایسے میں اگر مسلماں کسی مرے ہوئے انساں کو جیتے جاگتے انسان پہ فوقیت دیتے ہیں تو وہ اس انسان کی عزت خود گنوا رہےہیں ۔ ایک بندہ ماریں گے ہزار منہ اور کھلیں گے ۔ پہلے اگر کوئی ایک گالی دیتا تھا پھر ہزار اور دیتے ہیں ۔ اور کسی کو کوئی بیماری نہیں کہ خواہ مخواہ میں اٹھ کے اسلام پہ تنقید کرتا ہے ۔ اسلام لاکھ برائیوں اور تضادات کا مجموعہ ہے ۔ اسی لیِئے لوگ بولتے ہیں

پہلی بات تو یہ کہ سوال سے سوال نکال کر نتائج تک نہیں پہنچا جا سکتا . آپ سے سوالات پوچھنے کا مقصود بحث کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے ورنہ بات سے بات نکالنا کون سا مشکل ہے ………جہاں تک بات ہے معتزلہ کی تو آپ کے سوال کا جواب میں دے چکا ہوں اور اس بات سے انکار تاریخ سے انکار ہوگا کہ منطق کو عروج مسلمانوں کے دور میں ہی حاصل ہوا۔ ………..(fifty shades of grey ) کی بات سمجھانے کو واسطے کی تھی اور یہ پورن نہیں ہے بلکہ جنسی تشدد (BDSM) سے لطف اندوز ہونے سے متعلق ہے ………

جہاں تک آپ نے فرمایا مرے ہوے انسان ………..محترم وہ انسان ایک نظریہ عقیدہ اور ایمان کامل کے حاصل ہونے کے لوازم میں سے ہیں یہی بات آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔…….

مخالف فریق نے اسکے بعد کوئی کمنٹ نہیں کیا۔

فیس بک تبصرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *